وجود

... loading ...

وجود

پاکستان میں غیر اعلانیہ مارشل لاء لگا ہوا ہے،عمران خان کا سپریم کورٹ ججزسے مکالمہ

جمعه 07 جون 2024 پاکستان میں غیر اعلانیہ مارشل لاء لگا ہوا ہے،عمران خان کا سپریم کورٹ ججزسے مکالمہ

سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بینچ نے بانی ٹی آئی کی درخواست پر نیب ترامیم کیس کی سماعت کی اور دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے نیب ترامیم کیس کی سماعت کی جس میں عمران خان اڈیالہ جیل سے بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہوئے ۔پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے فاروق ایچ نائیک بھی عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے اپنے دلائل دیے ۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جبکہ چیف جسٹس نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھوایا۔تحریری حکم نامے میں چیف جسٹس نے لکھوایا کہ کوئی بھی فریق تحریری جواب جمع کرانا چاہے تو کروا دے ، وہ مقدمہ تو ثالثی کے معاملے پر سپریم کورٹ آیا تھا، جواب میں لکھا کہ نیب نے پیسے اپنے پاس ہی رکھے ہیں، آپ ایک روپیہ بھی اپنے پاس کیسے رکھ سکتے ہیں، پراسیکیوٹر جنرل نیب کو کہیں خودپیش ہوں۔فاروق ایچ نائیک نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی دورمیں کوئی نیب کیس نہیں بنا، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پارٹی کی بات ہمارے سامنے نہ کریں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ وفاقی حکومت کیسے متاثر ہیں۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ نیب کی بجٹ رپورٹ کہاں ہے ؟ انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں؟عدالت نے تحریری حکم نامے میں نیب سے دس سالہ بجٹ کا ریکارڈ طلب کر لیا جبکہ قومی احتساب بیورو کے وکیل کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب مسترد کردیا۔ تحریری حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ کوئی بھی فریق سات دنوں میں جواب داخل کروانا چاہے تو کرواسکتا ہے ۔سماعت کا آغاز ہوا تو عدالتی معاون وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی کیس میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تفصیل سے بتا چکا ہوں، نیب ترامیم آرٹیکل 9،14،25 اور 24 کی خلاف ورزی ہیں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ صرف منتخب پبلک آفس ہولڈر پر نیب کا اختیار کیوں رکھا گیا، غیر منتخب پر کیوں نیب کا اختیار نہیں رکھا گیا؟ غیر منتخب افراد کو نیب قانون سے باہر رکھنا امتیازی سلوک ہے ، منتخب نمائندے کے پاس پبلک فنڈز تقسیم کرنے کا اختیار کہاں ہوتا ہے کوئی ایک مثال بتائیں، کرپشن منتخب نمائندے نہیں بلکہ پرنسپل اکاونٹنگ افسر کرتا ہے ۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کوئی منتخب نمائندہ یا وزیر متعلقہ سیکریٹری کی سمری کے بغیر کوئی منظوری نہیں دیتا، کیا کوئی سیکریٹری سمری میں لکھ دے کہ یہ چیز رولز کے خلاف ہے تو وزیر منظوری دے سکتا ہے ؟ اعلی حکام میں انکار کرنے کی جرات ہونی چاہیے ۔چیف جسٹس نے وکیل بانی پی ٹی آئی سے پوچھا کیا آپ سیاسی احتساب چاہتے ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں جیسا قانون پہلے تھا وہی برقرار رہے ۔وکیل بانی پی ٹی آئی خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ نیب ترامیم مخصوص افراد کے فائدے کیلئے تھیں، کیونکہ مخصوص سیاسی رہنما اس وقت سلاخوں کے پیچھے تھے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ وہی جماعت جس نے سپریم کورٹ میں قانون چیلنج کیا اسی نے ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کیا، شعیب شاہین نے قانون چیلنج کیا، حامد خان صاحب ان کے وکیل تھے ، ہائیکورٹ نے تو نوٹس بھی جاری کرلیا تھا، ہائیکورٹ جانا پھر سپریم کورٹ آنا، کیا اپنی مرضی سے خریداری کرنا مقصد تھا، نیب ترامیم اتنی خطرناک تھیں تو انہیں معطل کردیتے ، 53 سماعتوں تک ترامیم زندہ رہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے قانون کو معطل نہیں کیا جاسکتا، پارلیمنٹ کے قانون کو معطل کرنا پارلیمنٹ کی توہین ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ جب صاحب نے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا انہوں نے سپریم کورٹ کو کیوں نہیں بتایا، تنقید کرنا بڑا آسان ہوتا ہے ، ٹی وی پر بیٹھ کر شعیب شاہین باتیں کرتے ہیں ہمارے سامنے پیش ہوکر جواب دیں، باہر جاکر کیمرے پر گالیاں دیتے ہیں، گالیاں دینا تو آسان کام ہے ، اگر میں نے غلطی کی تو مجھ پر انگلی اٹھائیں، باہر جاکر بڑے شیر بنتے ہیں، سامنے آکر کوئی بات نہیں کرتا، اصولی مؤقف میں سیاست نہیں ہونی چاہیے ۔سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سماعت میں وقفہ کیا اور پھر دوبارہ سے سماعت شروع کی۔دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو بانی پی ٹی آئی ویڈیولنک پر عدالت میں حاضر ہوئے جس پر چیف جسٹس نے اُن سے استفسار کیا کہ کیا آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں، یہ سنتے ہی عمران خان نے بولنا شروع کیا اور کہا کہ میں کچھ وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔میں ایسا کوئی خطرناک آدمی نہیں، کیا آپ بتا سکتے ہیں کب پوائنٹ اسکورنگ کی؟انہوں نے چیف جسٹس سے مخاطب ہوکر پوچھا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں میں نے پوائنٹ اسکورنگ کی، آپ کے بیان سے لگتا ہے میں غیر ذمہ دار شخص ہوں کوئی غلط بات کردوں گا، میں ایسا کوئی خطرناک آدمی نہیں ہوں۔اس پر چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اُس درخواست پر فیصلہ ہوچکا ہے اور ججز اپنے فیصلوں کی خود وضاحت نہیں کرتے ، لہذا آپ صرف کیس پر رہیں اور بات کریں‘۔جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ خان صاحب آپ کو غیر ضروری ریلیف ملا ہے لہٰذا آپ صرف کیس پر بات کریں۔ جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے چیئرمین اور ممبران کا معاملہ ہائیکورٹ میں آیا تھا اور اس الیکشن کمشنر آپ نے خود لگایا تھا، 76 سالوں میں پارلیمنٹ کو نیچا دکھایا گیا۔عمران خان نے کہا کہ نیب کے اختیارات کم ہوں تو میرے لئے اچھا ہوگا، لوگوں کے اربوں ڈالر کے اثاثے بیرون ممالک ہیں ان کا کیا ہوگا؟اس بات پر جسٹس مندو خیل نے کہا کہ خان صاحب آپ جو باتیں کررہے ہیں مجھے خوفزدہ کررہی ہیں، حالات اتنے خطرناک ہیں تو اپنے ساتھی سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھ کر معاملات حل کریں، جب آگ لگی ہوتو یہ نہیں دیکھتے کہ پانی پاک ہے یا ناپاک، پہلے آپ آگ کو بجھائیں، اپنے گروپ کو لیڈ کریں، آپ ہماری طرف دیکھ رہے ہیں ہم آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، خدانخواستہ اس ملک کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار ہم نہیں سیاستدان ہوں گے ۔عمران خان نے کہا کہ اس وقت ملک معاشی بحران کا شکار ہے ، باہر سے ترسیلات زر آتی ہیں جبکہ اشرافیہ اپنا پیسہ ملک سے باہر بھیجتی ہے ۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ دو چیزوں کو مکس کررہے ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ہم سمجھتے ہیں آپ کا اس وقت جیل میں ہونا بدقسمتی ہے کیونکہ آپ ایک بڑی جماعت کے سربراہ ہیں آپ کے لاکھوں پیروکار ہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمارے ساتھ تو ظلم ہورہا ہے ، ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لاء لگا ہوا ہے اور میری آخری امید سپریم کورٹ ہی ہے ۔جسٹس مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ ہمیں تو اصل گلہ ہی سیاستدانوں سے ہے ، اگر ہم بھی خدانخواستہ فیل ہوگئے تو کیا ہوگا۔دوران سماعت عمران خان نے جب سائفر کیس کا حوالہ دینے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے انہیں بات کرنے سے روکا اور کہا کہ وہ مقدمات جو ہمارے سامنے آنے ہیں ان پر بات نہ کریں۔عمران خان نے چیف جسٹس کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست ہے مجھے پارلیمنٹ جانا چاہئے تھا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ جاکر ملیں اور بیٹھ کر بات کریں، یہ دشمن نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ کے معاملے پر ہم نے صدر اور الیکشن کمیشن کو آپس میں بات کرنے کی ہدایت کی کیونکہ ہم سیاسی بات کرنا نہیں چاہتے تھے اور آپ کو روکنا بھی نہیں چاہتے تھے تاکہ کوئی اعتراض نہ ہو۔چیف جسٹس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’سیاستدان آپس میں مل کر بیٹھیں اور مسائل کو حل کریں‘۔ اس پر پی پی کے وکیل نے بتایا کہ پیپلزپارٹی ہر جماعت کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہے ۔چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایمنسٹی اسکیم کیوں دی؟ اس پر عمران خان نے بتایا کہ ایمنسٹی اس لئے دی کہ معیشت بلیک تھی اسے ایک روٹ پر لانا تھا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب نے دس ارب ڈالر کی ریکوری دکھائی جو غلط ہے ، انہوں نے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ غلط دستاویزات دکھانے پر ہم آپ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نا کریں جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب نے اپنے جواب میں لکھا کہ اُس نے ریکور کی گئی رقم اپنے پاس رکھی، کس طرح ایک سرکاری ادارہ ایک روپیہ بھی بھی اپنے پاس رکھ سکتا ہے ؟ نیب کی بجٹ رپورٹ کہاں ہے ؟۔سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے نیب کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے دس سال کے بجٹ کا ریکارڈ طلب کرلیا۔ایک موقع پر جسٹس اطہر من اللہ نے بانی پی ٹی آئی کی گفتگو کے دوران ریمارکس دیے کہ پتہ نہیں آپ نے میرا اختلافی نوٹ پڑھا ہے یا نہیں، جس میں میں نے آپ کی حکومت کے تین سالوں کا حوالہ بھی دیا ہے ۔عمران خان کے جیل بھیجنے کے شکوے پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاستدان جیلوں میں جاتے ہیں تو ان میں پختگی آتی ہے ۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ نیب کورٹ کیسے چلتی ہے یہ میں نے جیل میں دیکھ لیا۔جسٹس امین الدین نے بانی پی ٹی آئی سے استفسار کیا کہ کون سی نیب ترامیم بنیادی حقوق سے متصادم ہیں؟ جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ نیب کو کون ٹھیک کرے گا۔عمران خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 700ارب ڈالر غریبوں کے اشرافیہ لوٹ رہی ہے ، پارلیمنٹ والوں نے تو خود کو بچانے کیلئے ترامیم کیں جبکہ توشہ خانہ کیس میں مجھے چودہ سال قید کی سزا ہوئی۔ اس پر جسٹس امین الدین نے عمران خان کو بات سے روکتے ہوئے کہا کہ آپ صرف متعلقہ کیس پر ہی بات کریں۔بانی پی ٹی آئی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نیب کی جانب سے دو کروڑ کی گھڑی تین ارب کی بتائی گئی، نیب چیئرمین سپریم کورٹ کو لگانا چاہئے ۔ اس پر جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آپ پارلیمنٹ میں جاکر ترمیم کرلیں کیونکہ پارلیمنٹ ہی یہ کام کرسکتی ہے ۔عمراں خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ چیئرمین نیب کی تقرری کا فیصلہ سیاستدانوں کی بجائے تھرڈ ایمپائر کرتا ہے ، برطانیہ میں مورل اتھارٹی اور عوامی نمائندوں کا احتساب ہے ، فارم 45 والی پارلیمنٹ ہی یہ کام کرسکتی ہے ۔ اس پر جسٹس جمال مندو خیل نے بانی پی ٹی آئی کو روکتے ہوئے کہا کہ وہ بات نہ کریں جو کیسز عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔عمران خان نے کہا کہ مجھے جیل میں دی گئی سہولیات اور جو نواز شریف کو سہولیات دی گئی تھیں انکا موازنہ کروا لیں۔ اس پر جسٹس مندو خیل نے کہا کہ نواز شریف تو اس وقت جیل میں نہیں جبکہ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم جوڈیشل افسر سے سرپرائیزنگ وزٹ کروا لیں گے ۔دلائل ختم ہونے کے بعد چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی سے معاونت پر اُن کا شکریہ ادا کیا جبکہ جواب میں عمران خان نے بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا شکریہ ادا کیا۔


متعلقہ خبریں


9 مئی ڈیجیٹل دہشت گردی کیس، عادل راجا، حیدر مہدی، وجاہت سعید، صابر شاکر و دیگر کو عمر قید کی سزا وجود - هفته 03 جنوری 2026

معید پیرزادہ ، سید اکبر حسین، شاہین صہبائی شامل، بھاری جرمانے عائد، عدالت نے ملزمان کو دیگر دفعات میں مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزائیں ، ملزمان کو مجموعی طور پر 15 لاکھ جرمانے کی سزا دوران سماعت پراسیکیوشن نے مجموعی طور پر24 گواہان کو عدالت میں پیش کیا ،پراسیکیوشن کی استدعا پر...

9 مئی ڈیجیٹل دہشت گردی کیس، عادل راجا، حیدر مہدی، وجاہت سعید، صابر شاکر و دیگر کو عمر قید کی سزا

خسارے کا شکار ریاستی اداروں کی نجکاری کی جائے گی، وزیر اعظم وجود - هفته 03 جنوری 2026

ریاستی اداروں کی نجکاری حکومتی معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے، شہباز شریف وزیراعظم نے کابینہ ارکان کو نئے سال کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے۔اعلامیہ ...

خسارے کا شکار ریاستی اداروں کی نجکاری کی جائے گی، وزیر اعظم

پاکستانیوں کی اوسط آمدنی 82ہزار ماہانہ ہوگئی، حکومتی سروے وجود - هفته 03 جنوری 2026

82فیصد لوگوں کے پاس اپنے گھر، 10.5فیصد کرایہ دار ہیں، گھریلو اخراجات 79ہزار ہوگئے ملک میں 7فیصد آبادی بیت الخلا (لیٹرین)جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے،ہائوس ہولڈ سروے حکومت کے ہائوس ہولڈ سروے کے مطابق پاکستانی شہریوں کی اوسط آمدن میں 97 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ماہانہ اوسطا آمدن...

پاکستانیوں کی اوسط آمدنی 82ہزار ماہانہ ہوگئی، حکومتی سروے

تجاوزات کیخلاف مہم، صدر میں 32 دکانیں و ہوٹل سر بمہر وجود - هفته 03 جنوری 2026

سربمہر املاک میں 19 ہوٹل اور الیکٹرانکس کی 13 دکانیں شامل ہیں،ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی فٹ پاتھ پر کرسیاں رکھنے والے ہوٹل سیل کیے ،تجاوزات کے خلاف مہم ساؤتھ میں جاری ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی کراچی جاوید نبی کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے صدر میں 32 دکانیں اور ہوٹل سربمہر کر دیے گئے ہیں...

تجاوزات کیخلاف مہم، صدر میں 32 دکانیں و ہوٹل سر بمہر

کراچی ،مائی کلاچی روڈ پر مین ہول سے 4لاشیں ملیں وجود - هفته 03 جنوری 2026

لاشیں دو خواتین ، ایک مرد اور ایک لڑکے کی ہیں،پولیس نے تفتیش شروع کردی ملزمان نے لاشیں مین ہول میں پھینکنے کے بعد اس پر پتھر ڈال دیے تھے،پولیس شہر قائد کے مائی کلاچی روڈ پر مین ہول سے چار لاشیں ملی ہیں، پولیس نے تفتیش شروع کردی۔تفصیلات کے مطابق مائی کلاچی روڈ پھاٹک کے قریب می...

کراچی ،مائی کلاچی روڈ پر مین ہول سے 4لاشیں ملیں

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکا کراچی اور سندھ کے دورے کا اعلان(عمران خان کا پیغام لے کر آرہا ہوں، سہیل آفریدی وجود - جمعه 02 جنوری 2026

اسٹریٹ موومنٹ کیلئے 9 جنوری کو کراچی اور سندھ والو تیاری پکڑو، تمام پارٹی کے دوستوں سے جمعہ کے دن ملاقات ہوگی، لوگو! یاد رکھو اب ہمارے لیے کوئی طارق بن زیاد یا محمد بن قاسم نہیں آئے گا ظالم کیخلاف کھڑا ہونا ہے،اب پوری قوم کو نکلنا ہوگا ان کی گولیاں ختم ہو جائیں ہمارے سینے ختم ن...

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکا کراچی اور سندھ کے دورے کا اعلان(عمران خان کا پیغام لے کر آرہا ہوں، سہیل آفریدی

امریکی تاریخ کا منفرد لمحہ،ظہران ممدانی قرآن پر حلف اٹھا کرمیئر بن گئے وجود - جمعه 02 جنوری 2026

ظہران ممدانی نے حلف برداری کے دوران اپنا ہاتھ قرآن پاک پر رکھا،غیر ملکی میڈیا نیویارک کے شہریوں کی خدمت ان کیلئے زندگی کا سب سے بڑا اعتمار ہے،خطاب امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک کے نو منتخب میٔرظہران ممدانی نے یکم جنوری 2026 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا اور وہ نیویارک کی تا...

امریکی تاریخ کا منفرد لمحہ،ظہران ممدانی قرآن پر حلف اٹھا کرمیئر بن گئے

نئے سال کی خوشیاں ماتم میں تبدیل،سوئٹزرلینڈ میں خوفناک دھماکا40 افراد ہلاک وجود - جمعه 02 جنوری 2026

علی الصبح تقریباً ڈیڑھ بجے ایک مشہوربار میں آگ لگنے سے تقریبا 100 افراد زخمی ہوئے نئے سال کی تقریبات جاری تھیں اور بڑی تعداد میں سیاح موجود تھے،ترجمان سوئس پولیس سوئٹزرلینڈ کے معروف اور لگژری اسکی ریزورٹ شہر کرانس مونٹانا میں ایک بار میں ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں...

نئے سال کی خوشیاں ماتم میں تبدیل،سوئٹزرلینڈ میں خوفناک دھماکا40 افراد ہلاک

سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر فضائی حملہ،متحدہ عرب امارات کا فوجی آپریشن بند،فوجی واپس بلانے کا اعلان وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

کارروائی یمن کے علیحدگی پسند گروہ کیلئے اسلحے کی کھیپ پہنچنے پر کی گئی،امارات کی جانب سے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت سعودی عرب کی قومی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ ہے،سعودی حکام یمن میں انسداد دہشتگردی کیلئے جاری اپنے باقی ماندہ آپریشن فوری طور پر ختم کررہے ہیں، واپسیشراکت دار...

سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر فضائی حملہ،متحدہ عرب امارات کا فوجی آپریشن بند،فوجی واپس بلانے کا اعلان

ایف بی آر اقدامات ، تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال،دھرنے کی دھمکی وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

پوائنٹ آف سیل کا کالا قانون واپس نہ لیا گیا تو 16 جنوری سے آغاز کرینگے، ملک بھر کے تمام چوراہے اور کشمیر ہائی وے کو بند کردیا جائے گا،وزیراعظم ہماری شکایات دور کریں، صدر آبپارہ چوک سے ایف بی آر دفتر تک احتجاجی ریلی،شرکاء کو پولیس کی بھاری نفری نے روک لیا، کرپشن کے خاتمہ کے ل...

ایف بی آر اقدامات ، تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال،دھرنے کی دھمکی

بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے ملک گیر عوامی ریفرنڈم ہوگا،حافظ نعیم وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

ریفرنڈم کے بعد پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کیخلاف صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے پاکستان اپنی فوج حماس اور فلسطینیوں کے مقابل کھڑی نہ کرے، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں پندرہ جنوری کو ملک گ...

بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے ملک گیر عوامی ریفرنڈم ہوگا،حافظ نعیم

یوٹیوبر رجب بٹ ، وکلا کی لڑائی ؛ سٹی کورٹ میں ہڑتال وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

مظاہرین کا ایم اے جناح روڈ پر دھرنا ، ایف آئی آر کو فوری واپس لینے کا مطالبہ جب تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں ہوتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا،احتجاجی وکلاء (رپورٹ:افتخار چوہدری)کراچی ایم اے جناح روڈ پر وکلاء کے احتجاج کے باعث شاہراہ کئی گھنٹوں سے بند ۔احتجاج یوٹیوبر رجب بٹ ک...

یوٹیوبر رجب بٹ ، وکلا کی لڑائی ؛ سٹی کورٹ میں ہڑتال

مضامین
صومالی لینڈ کی بطورایک آزاد ملک شناخت وجود هفته 03 جنوری 2026
صومالی لینڈ کی بطورایک آزاد ملک شناخت

دانشوری کی نامعقولیت وجود هفته 03 جنوری 2026
دانشوری کی نامعقولیت

کشمیر 'خاموش اور اُداس' ہے :کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف وجود جمعه 02 جنوری 2026
کشمیر 'خاموش اور اُداس' ہے :کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف

بھارت کی ریاستی دہشت گردی وجود جمعه 02 جنوری 2026
بھارت کی ریاستی دہشت گردی

شیطان باہر نہیں اندر ہو تا ہے ! وجود جمعه 02 جنوری 2026
شیطان باہر نہیں اندر ہو تا ہے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر