وجود

... loading ...

وجود
وجود

یوم ِ تکبیر ،کریڈٹ کی مصنوعی موت

منگل 28 مئی 2024 یوم ِ تکبیر ،کریڈٹ کی مصنوعی موت

کٹہرا /ایم آر ملک

یہ حقیقت ہے کہ تاریخ کی تختی سے کریڈٹ کو مصنوعی موت سے نہیں مٹایا جاسکتا ،وہ شخص جو چاغی میں بٹن دبانے کا روادار نہ تھا وہ اب یوم تکبیر کے کریڈٹ کا خواہاں ہے ۔
بھٹو اسلامی تاریخ کا روشن استعارہ تھا اور رہے گا ،عرصہ پہلے میاں برادران کے ایک حواری نے کہا تھا کہ ایٹمی پروگرام کا ارتقاء یحییٰ خان کے مرہونِ منت ہے وہی یحییٰ خان جس نے حب ا لوطنی ہندو بنیئے کے ہاتھوں بیچ کر وطن عزیز کو دو لخت کیا۔ معرکہ حق و باطل کے دوران جو شراب و کباب کی محفل میں طائوس و رباب اول کا پرچار کرتا رہا
اور بھٹو !
بخدا وہ وطن عزیز کی بقاء اور دفاع کی خاطر قانون کی کمزور ترین دفعہ 109کے تحت تختہ دار پر چڑھ کر ہمیشہ کیلئے امر ہوا۔ ہالینڈ میں مقیم ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے فخرِایشیا کی درخواست پر مستقل طور پر پاکستان رہ کر نیو کلیئر پروگرام شروع کرنے کا باقاعدہ فیصلہ کیا۔ 18مئی 1974 بھارت نے پہلا ایٹمی دھماکہ کیا اور چند گھنٹے بعد اعلیٰ افسران کے ہنگامی اجلاس میں اُس نے یہ تاریخی الفاظ کہے ”ہندو نے بم بنا لیا ہے اب ہمیں بھی بم بنانا ہو گا، خواہ ہمیں گھاس پر ہی کیوں نہ گزارہ کرنا پڑے ”۔ اور اُسے جب اپنے عزم کی تکمیل کی جھلک نظر آئی تو فطری خوشی اور جذبات سے مغلوب بھٹو نے میز پر مکا مارا اور یہ تاریخی الفاظ اُ س کی زبان سے نکلے
”I will see Hindu Basterds now”
یہودیت ہمیشہ مسلمانوں کی ترقی سے خائف رہی۔ یہودیت کے پروردہ ہنری کسنجر نے اپنا زہر اُگلا۔ ”بھٹو تم نے جس پروگرام کی ابتدا کی اِ س کی سزا بڑی کڑی ہے ”۔ بھٹو نے اسمبلی فلور پر یہ باور کرایا کہ سفید ہاتھی میری جان کے در پے ہے ۔ڈاکٹر اے کیو خان نے تعمیر وطن کیلئے اپنا کام تیزی سے شروع کر دیا۔ بھٹو کا یہ کارنامہ جو دفاع ِ وطن کیلئے تھا اور اُس قوم پرست کے ذہن میں یہ خناس سمایا ہوا تھا کہ میری قوم احساس کمتری سے نکلے ،یہودی لابی کی نظروں میں کھٹکتا رہا اور بالآ خر اس لابی نے اپنے پلان کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے ذریعے اُس کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔ استعماری طاقت کے ایک آلہ کار نام نہاد ” مرد ِ مومن مردِ حق ”نے تیسری دنیا کے لیڈر کیلئے ایک متنازع مقدمہ میں متنازع سزائے موت تجویز کی۔
ڈاکٹر قدیر خان نے استعماری طاقتوں کے آلہ کار کو لکھا ”یقینا بھٹو صاحب سے کچھ غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن پاکستان کی سلامتی کیلئے اُن کی بے پناہ خدمات کو سامنے رکھا جائے اور اُنہیں سزائے موت نہ دی جائے ”۔ مگر جب کوئی دشمن وطن کے اشارہ ٔابرو کا پابند ہو اُس کا ایجنٹ بن کر کام کر رہا ہو تو اُسے تعمیل ِحکم کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔ ضیا ء نے یہی کچھ کیا کہ ایٹمی پروگرام کے معمار کو پھانسی دیدی۔ بھٹو نے دوران ِ حراست اپنی بائیو گرافی میں لکھا ”اگر مجھے قتل کیا گیا تو دنیا کی تاریخ بدل جائیگی اور یہی ہوا پوری دنیا میں مسلمان زیر عتاب آگئے۔ نائن الیون کے خود ساختہ واقعے کے بعد مسلمان دہشت گرد ٹھہرے۔ اُس نے ایک موقع پر کہا تھا کہ عربوں کی معدنی دولت ،تیل کا پیسہ ورلڈ بنک میں پڑا ہے اور یہی پیسہ غریب اور ترقی پزیر مسلمان ممالک کو سود پر دے کر استعماری طاقتیں ان غریب اور ترقی پزیر ممالک کو معاشی طور پر دیوالیہ کر کے اُن کی غلامی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔
بھٹو پاکستان ہی نہیں مسلم اُمہ کا درد رکھتا تھا۔ پاسبان ِ حرم فیصل شہید اور ذوالفقار علی بھٹو مسلم دھرتی پر ورلڈ بنک کے خواہاں تھے۔ مذکورہ جرائم کی سزائیں بڑی کڑی تھیں ایک کو گولی لگی اور دوسرا دار پر چڑھا ۔میاں نواز شریف نے اپنے دورِ اقتدار میں مسلم سربراہوں کا ناکام اجلاس طلب کیا تو کرنل معمر قذافی شہید کو بھی دعوت نامہ بھیجا۔ بھٹو کے ساتھی نے جواب میں لکھا ”مجھے 1974میں ایسی ہی ایک مسلم سربراہوں کی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ ملا تھا اور میں نے لاہور میںہونے والی اس کانفرنس میں واقعی اسلامی قوتوں کو اکٹھے ہوتے دیکھا تھا لیکن بعد میں ایک ڈکٹیٹر نے اُس شخص کو جس نے ساری مسلمان قوم کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی تھی پھانسی پر لٹکا دیا میں آج تک اِس سانحہ کے غم سے باہر نہیں آسکا۔ اِس لیے میرے واسطے اس اجلاس میں شرکت کرنا مشکل ہے ”۔
معمار پاکستان کا نام ایٹمی پاکستان کے کریڈٹ کی تختی سے مٹا کر تاریخ کو مسخ کرنے والے آج یہ بھول رہے ہیں کہ تاریخ ہمیشہ سچ اور جھوٹ کے درمیان ایک امتیاز کا نام ہے۔ فخرِ ایشیا کی بیٹی نے ایک موقع پر کہا تھا ”سچائی ،اصولوں اور عوام کی خاطر لڑنے والوں کے مقدر کا فیصلہ عدالتیں نہیں بلکہ عوام اور تاریخ کیا کرتے ہیں ۔تاریخ نے حسین کو شہید اکبر اور اُنہیں باغی قرار دینے والوں کو ملعون ِ اکبر قرار دیا۔ تاریخ نے سرور شہید اور منصور ابن ِ حلاج کو کافر قرار دیکر شہید کرانے والے فتویٰ فروش قاضیوں کو اُن کے غلط فیصلوں سمیت حرف ِ غلط کی طرح مٹا دیا مگر سرور شہید اور منصور شہید کے نام مسیحائی ،حق پرستی ، اور صبرو استقامت کے تاریخی حوالے بن کر تا قیامت زندہ رہیں گے۔ شاہ عنایت شہید کو مظلوم ہاریوں کی بات کرنے کے جرم میں دار پر چڑھانے والے حکمرانوں پر سندھ کے عوام آج بھی تھو تھو کرتے ہیں جبکہ عنایت شہید دار پر چڑھ کر امر ہوگئے ۔
کیا شریف خاندان کی قربانیاں بھٹو خاندان کی قر بانیوں کا عشر عشیر بھی ہیں۔ بھٹواور اس کا خاندان قوم پرستی کے جرم کا شکار ہوا ،شاہنواز کی پراسرار موت سے لیکر محترمہ بے نظیر کی موت تک عالمی سازش نظر آتی ہے ۔مگر ان ساری اموات کا پس منظر پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے۔ کیا شریف برادران کے ایک بھی فرد کی قربانی بھٹوز کی قربانیو ں کا بدل ہیں ۔میاں نواز شریف جو آج ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کی گواہی تاریخ کے اوراق پر ثبت رہے گی کہ اس نے تو ایٹمی دھماکے کرنے سے گریز کیا ،امریکی خوف اس کی حب الوطنی کو نگل گیا ،کئی روز کی سوچ و بچار کے بعد جب ڈاکٹر قدیر نے اپنی قربانی کا ضیاع ہو تے دیکھا تو نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے ادارہ سے رجوع کیا ۔
کریڈٹ کبھی مصنوعی موت نہیں مرتا اور نہ ہی اسے مصنوعی موت سے مارا جاسکتا ہے۔ اس کا اعتراف سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد مر حوم نے ایک بار یوم تحفظ پاکستان کی ایک ریلی سے دوران خطاب کراچی میںاِن الفاظ میں کیا تھا ”ایٹمی پروگرام کا کریڈٹ بھٹو کو جاتا ہے ” ۔


متعلقہ خبریں


مضامین
عمررسیدہ افراد خصوصی توجہ کے منتظر وجود هفته 15 جون 2024
عمررسیدہ افراد خصوصی توجہ کے منتظر

دورۂ چین سے توقعات اور حقیقت پسندی! وجود هفته 15 جون 2024
دورۂ چین سے توقعات اور حقیقت پسندی!

رات کاآخری پہر وجود هفته 15 جون 2024
رات کاآخری پہر

''را'' کی بلوچستان میں دہشت گردی وجود هفته 15 جون 2024
''را'' کی بلوچستان میں دہشت گردی

بجٹ اور میراثی وجود جمعه 14 جون 2024
بجٹ اور میراثی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر