وجود

... loading ...

وجود
وجود

خاندان اور موسمیاتی تبدیلیاں

بدھ 15 مئی 2024 خاندان اور موسمیاتی تبدیلیاں

ڈاکٹر جمشید نظر

حال ہی میں امریکہ کے خلائی تحقیقی ادارے ناسا کی جانب سے سورج میں ہونے والے دھماکوں کی تصاویرشیئر کی گئیں ہیں ۔عالمی میڈیا میں ناسا کی جاری کردہ تصاویر کے بارے میں رپورٹ کیاگیا کہ گذشتہ جمعہ اور ہفتہ کے روز سورج پرزوردار دھماکوں کے بعد سورج سے شدید سنہری شعاعیں نمودار ہوئیں اورپھر برقی مقناطیسی توانائی کی لہروں کا رخ زمین کی جانب ہوا ۔اس صورتحال کو دیکھ کر نہ صرف سائنس دان اور ماہرین فلکیات حیران و پریشان ہیں بلکہ سورج میں دھماکوں کی تصاویر نے سوشل میڈیا صارفین کو خوف میں مبتلا کردیا ہے۔سوشل میڈیا صارفین نے اس پر تبصرے کرنا شروع کردیئے ہیں کچھ کا کہنا ہے کہ قیامت نزدیک آرہی ہے اس لئے ایسا ہورہا ہے کچھ کا خیال ہے کہ انسان نے قدرت کے نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑکی جس کے نتیجہ میں یہ سب ہورہا ہے۔بہرحال خدشہ ہے کہ سورج میں ہونے والے دھماکے اور زمین کی جانب بڑھتی برقی لہریں کرہ ارض اور اس پر بسنے والے جانداروں کے لئے مشکلات پیدا کرسکتی ہیں ۔سائنس دانوں نے مشاہدہ کیا ہے کہ ان مقناطیسی لہروں کے جاری رہنے سے سیٹلائٹ ،مواصلات اور ریڈیو ٹرانسمیشن سسٹم میں خرابی ہوسکتی ہے ۔ناسا نے مارچ میں رپورٹ کیا تھا کہ سورج کی سطح پر دوسرا بڑا سوراخ نمودار ہوا جو زمین سے 20گنا بڑا ہے اس سوراخ سے 1.8ملین میل فی گھنٹہ کی رفتار سے شمسی لہریں زمین کی جانب بڑھ رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں آسمان کا رنگ کبھی سبز تو کبھی سرخ دیکھا گیا۔برقی شعاعوں کے باعث آسمان کے بدلتے رنگوں کو ”انوار قطبی” یا” ارورا” کہتے ہیں۔
سورج ،چانداورخلاء میں موجود دیگر سیاروں کی خطرناک شعاعوں سے زمین اور زمین پر بسنے والے جانداروں کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص فلٹر تخلیق کررکھا ہے جسے اوزون کی تہہ کہتے ہیں جو زمین کی سطح سے تقریباً 19 کلو میٹر اوپر اور 48 کلو میٹر کی بلندی تک پائی جاتی ہے یہ فضائی غلاف ایک طرح سے زمین کاگارڈ ہے جو سورج سے نکلنے والی الٹرا وائلٹ شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتا ہے اگر سورج سے نکلنے والی یہ خطرناک شعاعیں برائے راست زمین پر پہنچ جائیں توجانداروں کو موت کے منہ تک پہچا سکتی ہیں۔اوزون کی تہہ سورج سے نکلنے والی نہایت خطرناک شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی فلٹر کرلیتی ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوپاتا کہ ہم کس آفات سے بچ گئے ہیں خدانخواستہ جس دن یہ فلٹرختم ہوگیا اسی دن زمین پر بسنے والے جانداروں کی زندگی بھی ختم ہوجائے گی۔
موسمیاتی تبدیلیوں اور انسان کی پیدا کردہ آلودگیوں کی وجہ سے یہ فلٹر(اوزون کی تہہ) روزبروز خراب ہوتا جارہا ہے اسی وجہ سے اقوام متحدہ کے زیراہتمام جتنے بھی عالمی دن منائے جارہے ہیں ان سب کا تھیم موسمیاتی تبدیلیوں کی مناسبت سے رکھا گیا ہے جیسے خاندانوں کا عالمی دن جو ہر سال 15 مئی کو منایا جاتا ہے اس کا تھیم ”خاندان اورموسمیاتی تبدیلیاں ”رکھا گیا ہے۔اس دن کے لئے سبز رنگ کے گول دائرے کی شکل کاایک خاص لوگو بنایا گیا ہے جس کے بیچ میں سرخ رنگ سے دل اور گھر بنا ہوا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ خاندان دنیا کے مرکز میں ہے اور خاندان کے اندر ہی محبت بستی ہے۔آپ کو اس بات پر حیرت ہوگی کہ آج کے مغرب زدہ انفرادی رہن سہن کے ماحول میں اقوام متحدہ ایک ایسا عالمی دن منارہا ہے جو مشترکہ خاندانی نظام کو فروغ دے رہا ہے ۔اگر آپ اقوام متحدہ کے منائے جانے والے عالمی دنوں کا جائزہ لیں توآپ کو پتہ چلے گا کہ بیشتر عالمی دن اسلام کے اصولوں کی عکاسی کررہے ہیں۔شکر ہے کہ ہمارے معاشرے میں خاندانی نظام موجودہے اور خاندان کے افراد ایک دوسرے کے دکھ درد میں شامل رہتے ہیں۔خاندانوں کے عالمی دن کے موقع پر ہر فرد کو چاہیے کہ وہ اپنے خاندان کو جوڑے رکھے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے باہمی جدوجہد کرے۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کوفیہ فلسطینی مزاحمت کی علامت ہے ! وجود جمعرات 30 مئی 2024
کوفیہ فلسطینی مزاحمت کی علامت ہے !

امن دستوں کا عالمی دن۔پاک فوج کا کردار وجود جمعرات 30 مئی 2024
امن دستوں کا عالمی دن۔پاک فوج کا کردار

وسعت افلاک میں تکبیرِمسلسل وجود جمعرات 30 مئی 2024
وسعت افلاک میں تکبیرِمسلسل

چائے پانی وجود بدھ 29 مئی 2024
چائے پانی

دلی والے : ہاتھ میں جھاڑو دل میں کیا؟ وجود بدھ 29 مئی 2024
دلی والے : ہاتھ میں جھاڑو دل میں کیا؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر