وجود

... loading ...

وجود
وجود

عمران خان کا آرمی چیف کو خط لکھنے کا فیصلہ

منگل 14 مئی 2024 عمران خان کا آرمی چیف کو خط لکھنے کا فیصلہ

ملکی حالات پر آرمی چیف کو خط لکھوں گا، شیر افضل کو کئی مرتبہ سمجھایا پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی نہ کرے، جون اور جولائی میں ان سے ملک سنبھالا نہیں جائے گا، ملک میں جنگل کا قانون ہے ، جنگل کا بادشاہ سب کچھ چلا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل میںمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ عمران خان نے کہا کہ شیر افضل مروت نے پارٹی کیلئے زبردست کام کیا، اسے کئی مرتبہ سمجھایا پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی نہ کرے ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعت میں دائرے کے اندر رہ کر کام کرنا ہوتا ہے ، جنگ باہر والوں سے ہوتی ہے پارٹی میں لڑائی نہیں ہوتی، لیکن شیر افضل ہر دوسرے دن کسی نہ کسی پارٹی لیڈر پر چڑھائی کر دیتا تھا، کوئی پارٹی ڈسپلن میں رہے تو ٹھیک خلاف ورزی کرے تو پورس کا ہاتھی بن جاتا ہے ۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ سعودی وفد کے دورہ کے موقع پر شیر افضل مروت نے متنازع بیان دیا، جبکہ محمد بن سلمان نے میرے کہنے پر دو مرتبہ او آئی سی کانفرنس کروائی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ شیر افضل مروت نے پارٹی کے لئے بہت کام کیا لیکن ان کو پارٹی پالیسی کی بار بار خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے ، وہ اب بھی پارٹی پالیسی کے مطابق چلے تو کوئی ایشو نہیں ہے ، اسے نوٹس جاری کیا ہے جواب دینگے تو ٹھیک ہے ۔شیر افضل مروت سے جیل میں ملاقات سے متعلق سوال کا جواب دینے سے بانی پی ٹی آئی نے گریز کیا۔ عمران خان نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ معاہدہ کو خفیہ رکھنا پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور نیشنل کرائم ایجنسی کی ڈیمانڈ تھی، برطانیہ میں پیسے منی لانڈرنگ نہیں بلکہ مشکوک ٹرانزیکشن کی وجہ سے پکڑے گئے تھے ، سول عدالت میں کیس چلتا تو مزید پانچ سال تک پیسے پاکستان نہ آ سکتے ، بیرون ملک عدالتوں میں مختلف کیسوں میں پاکستان کے پہلے ہی 100 ملین ڈالر ضائع ہو چکے ، 190 ملین پائونڈ سے متعلق انکوائری نیب میں بند کی جاچکی تھی جو دو سال بعد دوبارہ کھولی گئی، سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جو 35 ارب روپے آئے اس پر 13 ارب کا منافع بھی بن چکا ہے ، بنجر زمین پر القادر ٹرسٹ یونیورسٹی بنائی جو بچوں کو مفت تعلیم دے رہی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے توشہ خانہ سے 6 لاکھ روپے میں بلٹ پروف گاڑی خریدی اس کو بری کرنے کا سوچا جا رہا ہے ، زرداری نے توشہ خانہ سے تین گاڑیاں لیں وہ عدالت سے استثنیٰ مانگ رہا ہے ، حسن شریف نے 18 ارب روپے کی پراپرٹی بیچی اس پر کوئی بات نہیں کر رہا، مجھ پر توشہ خانہ کا چوتھا کیس چلانے جا رہے ہیں، زرداری اور نواز شریف کی طرح ملک سے باہر نہیں جاؤں گا ، انکے تو محلات بیرون ملک ہیں وہاں شاپنگ بھی کرنی ہوتی ہے ۔عمران خان نے زور دیا کہ ملکی حالات پر آرمی چیف کو خط لکھوں گا، پبلک مینڈیٹ کے مطابق حکومت بنانی پڑے گی اس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، ملک کی ٹیکس کلیکشن 13.3 ٹریلین ہے ، 9.3 ٹریلین ہم نے قرضوں کے سود کی مد میں ادا کرنے ہوتے ہیں، اس طرح سے 24کروڑ آبادی کا ملک کیسے چلے گا، ملک کی آمدنی میں اضافہ ہو نہیں رہا سرمایہ کاری کیلئے کوئی تیار نہیں، بجٹ سے پہلے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا تنخواہ دار طبقہ سڑکوں پر ہوگا۔بے گناہی ثابت کرنے کے لیے شہزاد اکبر اور فرح گوگی کو عدالت میں بلانے سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ فرح گوگی سے صرف تین ملاقاتیں ہوئی ہیں ،اس کا تعلق بشری بی بی سے تھا، ان حالات میں شہزاد اکبر آیا تو اس کو ائیرپورٹ سے اٹھا لیا جائے گا، ملک میں جنگل کا قانون ہے ، جنگل کا بادشاہ سب کچھ چلا رہا ہے ۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر تشویش ہے ، ملک میں جمہوریت ختم ہوچکی ہے ، پہلے کشمیر اور پھر گلگت بلتستان میں ہماری حکومتیں گرائی گئیں، پہلے گلگت اور اب کشمیر میں لوگ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوچکے ہیں، پیش گوئی کررہا ہوں جون اور جولائی میں ان سے ملک سنبھالا نہیں جائے گا، بجٹ میں ٹیکسز، گیس و بجلی کے بلز میں اضافے پر تنخواہ دار طبقہ باہر آجائے گا۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کوفیہ فلسطینی مزاحمت کی علامت ہے ! وجود جمعرات 30 مئی 2024
کوفیہ فلسطینی مزاحمت کی علامت ہے !

امن دستوں کا عالمی دن۔پاک فوج کا کردار وجود جمعرات 30 مئی 2024
امن دستوں کا عالمی دن۔پاک فوج کا کردار

وسعت افلاک میں تکبیرِمسلسل وجود جمعرات 30 مئی 2024
وسعت افلاک میں تکبیرِمسلسل

چائے پانی وجود بدھ 29 مئی 2024
چائے پانی

دلی والے : ہاتھ میں جھاڑو دل میں کیا؟ وجود بدھ 29 مئی 2024
دلی والے : ہاتھ میں جھاڑو دل میں کیا؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر