وجود

... loading ...

وجود
وجود

سیاسی کھچ۔ڑی۔۔

بدھ 28 فروری 2024 سیاسی کھچ۔ڑی۔۔

علی عمران جونیئر
دوستو،ایک سروے کے مطابق ہردس میں سے چھ پاکستان بہتر مستقبل کیلئے پرامید ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آئندہ دس سال میں ملک بہت ترقی کرے گا،57 فیصد کو اگلے دس سال میں ملک میں بہت زیادہ ترقی کا یقین، 29 فیصد پاکستانی آنے والی نسلوں کی خوشحالی کیلئے دعاگو، 47 فیصد ناامید ہیں۔ اس بات کا پتہ گیلپ پاکستان کے سروے سے چلا، جس میں ایک ہزار سے زائد افراد نے ملک بھر سے حصہ لیا۔یہ سروے 3سے 18جنوری 2024 کے درمیان کیا گیا۔ سروے میں 57فیصد پاکستانیوں نے آئندہ دس سال میں ملک میں بہت زیادہ ترقی ہونے کے یقین کا اظہا رکیا ہے۔ البتہ 33فیصد مایوس نظر آئے اور کہا کہ آئندہ دس سال میں کم ترقی ہوگی،10فیصد نے اس سوال کا کوئی جوا ب نہیں دیا۔ گیلپ پاکستان نے عوام سے یہ بھی پوچھا کہ کیا ہماری آنے والی نسل زیادہ خوشحال ہوگی؟جواب میں 29فیصد نے آنے والی نسلوں کی خوشحالی کے لیے دعا کی اور پرامید دکھائی دیے،البتہ 47فیصد نے ناامید ی کا اظہار کیا اور کہا آنے والی نسلیں کم خوشحال ہوں گی،13فیصد نے کوئی فرق نہیں ہونے کا بتایا کہ جیسے حالات ابھی ہیں مستقبل میں بھی ویسے ہی ہوں گے،11فیصد نے اس سوال کا کوئی جواب دینے سے گریز کیا۔اتفاق دیکھئے کہ گیلپ والوں نے یہ سروے الیکشن سے بہت پہلے کیا۔ویسے بھی بطور صحافی اب ہمیں کسی سروے پر یقین نہیں رہا، کیوں کہ سروے والوں کی مرضی ہے وہ جو چاہے نتائج دیں، یہ لوگ جنگل کے بادشاہ ہوتے ہیں، انڈا دیں یا بچہ۔۔ یہ ان کی اپنی ”چوائس” ہوتا ہے۔
آٹھ فروری کو ملک بھر میں ”جنرل” الیکشن ہوگئے۔۔اسی حوالے سے ہمیں چیک ادب سے ترجمہ شدہ ایک دلچسپ مگر مختصر کہانی یاد آرہی ہے۔۔کسی جنگل میں ایک خرگوش کی اسامی نکلی۔ ایک بے روزگار اور حالات کے مارے ریچھ نے بھی اس کیلئے درخواست جمع کرا دی۔اتفاق سے کسی خرگوش نے درخواست نہیں دی تو اسی ریچھ کو ہی خرگوش تسلیم کرتے ہوئے ملازمت دے ی گئی۔ملازمت کرتے ہوئے ایک دن ریچھ نے محسوس کیا کہ جنگل میں ریچھ کی ایک اسامی پر ایک خرگوش کام کر رہا ہے اور اسے ریچھ کا مشاہرہ اور ریچھ کی مراعات مل رہی ہیں۔ ریچھ کو اس نا انصافی پر بہت غصہ آیا کہ وہ اپنے قد کاٹھ اور جثے کے ساتھ بمشکل خرگوش کا مشاہرہ اور مراعات پا رہا ہے جبکہ ایک چھوٹا سا خرگوش اس کی جگہ ریچھ ہونے کا دعویدار بن کر مزے کر رہا ہے۔ ریچھ نے اپنے دوستوں اور واقف کاروں سے اپنے ساتھ ہونے والے اس ظلم و زیادتی کے خلاف باتیں کیں، سب دوستوں اور بہی خواہوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ فوراً اس ظلم کے خلاف جا کر قانونی کارروائی کرے۔ریچھ نے اسی وقت جنگل کے ڈائریکٹر کے پاس جا کر شکایت کی، ڈائریکٹر صاحب کو کچھ نہ سوجھی، کوئی جواب نہ بن پڑنے پر اس نے شکایت والی فائل جنگل انتظامیہ کو بھجوا دی۔ انتظامیہ نے اپنی جان چھڑوانے کیلئے چند سینئر چیتوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی۔ کمیٹی نے خرگوش کو نوٹس بھجوا دیا کہ وہ اصالتاً حاضر ہو کر اپنی صفائی پیش کرے اور ثابت کرے کہ وہ ایک ریچھ ہے۔دوسرے دن خرگوش نے کمیٹی کے سامنے پیش کر اپنے سارے کاغذات اور ڈگریاں پیش کر کے ثابت کر دیا کہ وہ دراصل ایک ریچھ ہے۔کمیٹی نے ریچھ سے غلط دعویٰ دائر کرنے پر پوچھا کہ کیا وہ ثابت کر سکتا ہے کہ وہ خرگوش ہے؟ مجبوراً ریچھ کو اپنے تیار کردہ کاغذات پیش کر کے ثابت کرنا پڑا کہ وہ ایک خرگوش ہے۔کمیٹی نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ۔۔ سچ یہ ہے کہ خرگوش ہی ریچھ ہے اور ریچھ ہی دراصل خرگوش ہے۔ اس لیے کسی بھی ردو بدل کے بغیر دونوں فریقین اپنی اپنی نوکریوں پر بحال اپنے اپنے فرائض سر انجام دیتے رہیں گے۔ ریچھ نے کسی قسم کے اعتراض کے بغیر فوراً ہی کمیٹی کا فیصلہ تسلیم کر لیا اور واپسی کی راہ لی۔ریچھ کے دوستوں نے کسی چوں و چراں کے بغیر اتنی بزدلی سے فیصلہ تسلیم کرنے کا سبب پوچھا تو ریچھ نے کہا۔۔میں بھلا چیتوں پر مشتمل اس کمیٹی کے خلاف کیسے کوئی بات کر سکتا تھا اور میں کیونکر ان کا فیصلہ قبول نہ کرتا کیونکہ کمیٹی کے سارے ارکان چیتے در اصل” گدھے” تھے، جبکہ ان کے پاس یہ ثابت کرنے کیلئے کہ وہ چیتے ہیں باقاعدہ ڈگریاں اور کاغذات بھی تھے۔
الیکشن اور جمہوریت کی خوب صورت تشریح اس واقعہ سے مزید اچھی طرح سمجھ لیں گے ۔۔حاجی شکور کے بڑے بیٹے کا کہنا ہے کہ ان کا جمہوریت سے ایمان 1988 میں ہی اُٹھ گیا تھا جب ہماری اسکول سے چھٹیاں ہوئی تھی تو رات کو کھانے کی میز پر ابو نے پوچھا تھا ،بتاؤ بچو چھٹیوں میں دادا کے گھر جانا ہے یا نانا کے گھر؟؟ تو ہم سب بچوں نے ہم آواز ہو کر نعرہ لگایا دادا کے گھر۔ لیکن امی کا موقف صرف نانا کے گھر تھا۔ چونکہ اکثریت زیادہ تھی اس لیے ابو نے دادا کے گھر جانے کا اعلان کیا۔ ہم دادا کے گھر جانے کی خوشی دل میں دبا کر سو گئے ۔ اگلی صبح امی نے تولیے سے گیلے بال خشک کرتے ہوئے زیر لب مسکراتے ہوئے کہا سب بچے جلدی جلدی نہا کر کپڑے بدل لو ،ہم نانا کے گھر جا رہے ہیں۔ میں نے حیرت سے منہ پھاڑ کے ابوکی طرف دیکھا تو وہ نظریں چرا کر اخبار پڑھنے کی اداکاری کرنے لگے۔بس میں اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ جمہوریت میں فیصلے عوام کی اُمنگوں کے مطابق نہیں بلکہ بند کمروں میں اس وقت ہوتے ہیں جب عوام سو رہی ہوتی ہے۔۔۔روزانہ ہاسٹل کینٹین میں ناشتے میں کھچڑی کھا کر پریشان طلباء نے ہاسٹل وارڈن سے شکایت کی اور ناشتہ میں دوسری چیز دینے کا مطالبہ کیا۔وہاں 100 میں سے صرف 20 طالب علم ہی ایسے تھے جن کو کھچڑی پسند تھی اور وہ طلباء چاہتے تھے کہ روزانہ کھچڑی ہی بنائی جائے۔ جبکہ باقی کے 80 طلباء تبدیلی چاہتے تھے۔وارڈن نے تمام طلباء کو ناشتے کے لئے ووٹنگ کرنے کو کہا۔اب وہ 20 طلباء جنہیں کھچڑی پسند تھی ان سب نے کھچڑی کے لیے ووٹ دیا۔باقی کے 80 افراد میں کوئی ہم آہنگی نہیں تھی۔ مزید کوئی بات چیت بھی نہیں تھی اور اپنی عقل اور ضمیر سے کچھ فیصلہ بھی نہیں کیا۔ نہ آپس میں کوئی صلاح مشورہ کیا اور ہر ایک نے اپنی اپنی پسند کے مطابق ووٹ دیا۔ ووٹنگ کا نتیجہ کچھ ایسا آیا ۔20 کھچڑی۔۔ 18 انڈہ پراٹھا ۔۔ 16 پراٹھا چائے ۔۔ 14 روٹی سالن ۔۔ 12روٹی مکھن۔۔ 10 نوڈلزاور دس نے سبزی کے لئے ووٹ دیا۔اب کیا ہوا، اس کینٹن میں آج بھی وہ 80 طلباء ہر روز کھچڑی کھاتے ہیں۔ پاکستان کے انتخابات کچھ ایسی ہی مثال ہے۔۔سیاسی کھچ ڑی پک چکی، اب ہم اور آپ نے اگلے پانچ سال شاید یہی کھانا ہے۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔اگر چپل الٹی پڑی ہوئی ہے،اور آپ سکون سے بیٹھے ہیں تو آپ پاکستانی نہیں ہو سکتے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
مسلمان کب بیدارہوں گے ؟ وجود جمعه 19 اپریل 2024
مسلمان کب بیدارہوں گے ؟

عام آدمی پارٹی کا سیاسی بحران وجود جمعه 19 اپریل 2024
عام آدمی پارٹی کا سیاسی بحران

مودی سرکار کے ہاتھوں اقلیتوں کا قتل عام وجود جمعه 19 اپریل 2024
مودی سرکار کے ہاتھوں اقلیتوں کا قتل عام

وائرل زدہ معاشرہ وجود جمعرات 18 اپریل 2024
وائرل زدہ معاشرہ

ملکہ ہانس اور وارث شاہ وجود جمعرات 18 اپریل 2024
ملکہ ہانس اور وارث شاہ

اشتہار

تجزیے
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے! وجود جمعه 23 فروری 2024
گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر