وجود

... loading ...

وجود

سندھ اسمبلی، اویس قادر شاہ اسپیکر، انتھونی نوید ڈپٹی اسپیکر منتخب، فرائض سنبھال لیے

پیر 26 فروری 2024 سندھ اسمبلی، اویس قادر شاہ اسپیکر، انتھونی نوید ڈپٹی اسپیکر منتخب، فرائض سنبھال لیے

پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار اویس قادر شاہ اسپیکر جبکہ انتھونی نوید ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی منتخب ہوگئے، پی ٹی آئی کے اراکین نے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں 147 مجموعی ووٹ کاسٹ ہوئے جبکہ 9 آزاد اور ایک جماعت اسلامی کے رکن نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔اویس قادر شاہ 111 ووٹوں کے ساتھ اسپیکر سندھ اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ ان کی مخالف صوفیہ سعید شاہ نے 36 ووٹ حاصل کیے۔انتھونی نوید بھی 111 ووٹ لے کر ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے جبکہ ان کے حریف ایم کیو ایم کے امیدوار راشد خان 36 ووٹ لے سکے ۔اویس قادر شاہ نے حلف اٹھانے کے بعد نشست سنبھالی ۔اتوارکو بھی سندھ اسمبلی کے باہرسیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اوراطراف کی سڑکوں کو کنٹینرلگاکربندکردیاگیاتھا۔اتوارکواسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس 19 منٹ تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے تمام اراکین کو انتخاب کا طریقہ کار بتایا، جس کے بعد اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے کیا گیا، ارکان کو حروف تہجی کی بنیاد پر پکارا گیا اور ارکان سندھ اسمبلی نے اسی ترتیب سے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے 9آزاد اراکین اور ایک جماعت اسلامی کے رکن نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور انتخاب کا بائیکاٹ کردیا، آزاد ارکان نے نام پکارنے پر ووٹ کاسٹ نہیں کیے۔مذکورہ اراکین نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کسی کی حمایت نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی امیدوار کو ووٹ دیں گے۔سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر کے انتخاب کے لیے آخری ووٹ آغا سراج درانی نے کاسٹ کیا جس کے بعد گنتی کا عمل شروع کیا گیا ۔ اسپیکر کے انتخاب میں 147 مجموعی ووٹ کاسٹ ہوئے۔ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد گنتی کی گئی اور اسپیکر آغا سراج درانی نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پیپلزپارٹی کے سید اویس قادر شاہ سندھ اسمبلی کے 12ویں اسپیکر منتخب ہوگئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے اویس قادر شاہ نے 111 اور ان کی مخالف امیدوار ایم کیو ایم کی صوفیہ سعید شاہ نے 36 ووٹ حاصل کیے۔اویس قادر شاہ حلف اٹھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو ایوان میںزندہ ہے بھٹوزندہ ہے، بھٹو زندہ باد کے نعرے گونجنے لگے، اس کے بعد اویس قادر شاہ نے سندھی زبان میں اسپیکر سندھ اسمبلی کا حلف اٹھا لیا، آغا سراج درانی نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔اویس قادر شاہ تیسری مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ حلف اٹھانے کے بعد اویس قادر شاہ نے اسپیکر سندھ اسمبلی کی کرسی سنبھال لی۔ایم کیو ایم کی صوفیہ سعید شاہ نے نو منتخب اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ کو مبارکباد دی۔اویس قادر شاہ نے حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ بلاول بھٹو، آصف زرداری اور فریال تالپور کا شکر گزار ہوں، پیپلزپارٹی کو کامیاب کروانے کے لیے سندھ کی عوام کا شکر گزار ہوں، اس عہدے کو غیر جانبدار رہ کر فرائض انجام دوں گا۔انہوں نے کہ سکھر سے پہلی بار سندھ اسمبلی کا اسپیکر بنا ہے، یہ میرے خاندان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے، سندھ اسمبلی نے قرارداد پاکستان پاس کی، پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمدعلی جناح بیٹھے، قیام پاکستان کے بعد قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس بھی اسی اسمبلی میں ہوا، لیاقت علی خان نے بھی قومی پرچم اسی اسمبلی میں لہرایا۔انہوں نے کہا کہ میرے لیے اس اسمبلی کا اسپیکر بننا بہت بڑا اعزاز ہے، تمام ممبران کو ساتھ لے کر چلوں گا، ماضی میں جو کچھ ہوا اسے بھول کر نئی شروعات کریں۔قبل ازیں سنی اتحاد کونسل کے 9 اور جماعت اسلامی کے ایک رکن سندھ اسمبلی نے حلف اٹھا لیا۔اجلاس کے آغاز پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے 9 آزاد اراکین اور جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق سمیت 10 ارکان نے سندھ اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا، جس کے نتیجے میں حلف اٹھانے والے ارکان کی مجموعی تعداد 157 ہوگئی۔اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے نومنتخب اراکین سے حلف لیا جبکہ جی ڈی اے کے 3 اراکین اتوارکوبھی غیر حاضر رہے۔پی پی کی جانب سے نامزد اسپیکر اویس قادر شاہ نے پی ٹی آئی آزاد ارکان سے ملاقات کی جس میں انہوں نے پی ٹی آئی ارکان کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ بہتر ماحول میں ایوان میں رہیں گے۔دوران اجلاس پی ٹی آئی آزاد ارکان نے ایوان میں بولنے کی کوشش تو اسپیکر آغا سراج درانی نے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی اور اسپیکر وڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ شروع کرا دی۔جانے والے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے پینل آف چیئر کا اعلان کر دیا۔اعلان کردہ پینل آف چیئر میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما شرجیل انعام میمن، سعید غنی، ندا کھوڑو اور علی خورشیدی شامل تھے۔اعلان کردہ پینل آف چیئر اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی غیر موجودگی میں ایوان کی کارروائی چلائے گا۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے نامزد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی بہتری کیلیے ہم سب بہترکردار ادا کریں گے، انتخابی مہم کے دوران ہمارے 12 کارکنان شہید ہوئے، آج اسمبلی کا حلف اٹھانے والوں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں مشکل وقت گزرا ہے، دہشت گردی نے دوبارہ جنم لیا، آنے والی حکومت کے لیے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چیلنج ہوگا، بہادر افواج نے دہشت گردی کا مقابلے کرتے ہوئے شہادتیں پیش کیں۔اتوارکوپی ٹی آئی کے اراکین نعرے لگاتے ہوئے سندھ اسمبلی پہنچے۔اتوارکو بھی اسمبلی کے اطراف کی سڑکیں کنٹینرز لگا کر بند کردی گئی تھیں جبکہ پریس کلب سے فوراہ چوک جانے والی سڑک بھی کنٹینر لگا کر بند کی گئی تھی۔آئی آئی چندریگر روڈ سے شاہین کمپلیکس جانے والی سڑک کے اطراف بھی کنٹینرز لگائے گئے تھے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز سندھ اسمبلی کے 168 نومنتخب ارکان میں سے 147 نے حلف اٹھایا تھا، سندھ اسمبلی میں حلف لینے والوں میں 112 ارکان کا پاکستان پیپلز پارٹی جبکہ 36 کا تعلق ایم کیو ایم پاکستان سے تھا۔اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے سندھی، اردو اور انگریزی زبان میں ارکان سے حلف لیا جبکہ 13 ارکان سندھ اسمبلی نے حلف نہیں اٹھایا۔حلف نہ اٹھانے والوں میں سنی اتحاد کونسل، جی ڈی اے اور جماعت اسلامی کے ارکان شامل تھے۔دادو سے منتخب رکن سندھ اسمبلی عزیز جونیجوکے انتقال پر ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، پی ایس 139 سے حافظ نعیم کا نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں کیا گیا۔اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے 3 مخصوص نشستوں پر بھی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔


متعلقہ خبریں


18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

مضامین
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

ایران کا آخری کارڈ وجود اتوار 29 مارچ 2026
ایران کا آخری کارڈ

ولن کے نئے بیانئے کا انتظار وجود اتوار 29 مارچ 2026
ولن کے نئے بیانئے کا انتظار

ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر