وجود

... loading ...

وجود

دھاندلی ہوئی کہ دھاندلہ

پیر 12 فروری 2024 دھاندلی ہوئی کہ دھاندلہ

میری بات/روہیل اکبر
آخر کار پی ٹی آئی کے امیدواروں نے میدان مار لیا وہ بھی واضح اکثریت سے حالانکہ انہیں دبانے کی ،مارنے کی،گرفتار کرنے کی ،ذہنی اور جسمانی اذیت دینے کی کی بھر پور کوشش کی گئی اور الیکشن کے آخر میں دھاندلی نہیں بلکہ دھاندلہ سے ہرانے کی کوشش بھی کی گئی لیکن اسکے باوجود عوام باہر نکلے اور اپنے ووٹ کی طاقت سے بتادیا کہ انہیں کپتان کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے۔ خیبر پختونخواہ کے لوگوں نے اپنی جرأت اور بہادری کو ثابت کردیااور ووٹوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو موقع نہیں دیا۔ خاص کر لوٹوں کا جو حشر کیا وہ انکی آنے والی نسلوں کو بھی یاد رہے گا لیکن پنجاب اور سندھ میں جو عوام کے ووٹوں پر ڈاکے ڈالے گئے اور جس طرح کی وڈیو منظر عام پر آرہی ہیں وہ انتہائی قابل مذمت ہیں کہ کس طرح رزلٹ تبدیل کیے گئے۔ لاہور میں یاسمین راشد نے میاں نواز شریف کو ہرادیالیکن جادوئی چھڑی نے اس نتیجہ کو تبدیل کردیا۔ اسی طرح سیالکوٹ میں خواجہ آصف کا نتیجہ تبدیل کیا گیا وہ تو اس طرح کی ہیرا پھیریوں کے ماہر ہیں اور اس بات کا اظہار ہمارے سابق سپہ سالار بھی کرچکے ہیںکہ پچھلے الیکشن میں وہ ہار گئے اور پھر خواجہ صاحب نے فون کرکے اپنی ہار کو جیت میں کیسے تبدیل کروایا؟ اسی طرح پنجاب اور سندھ میں کیا کیاگیا ؟یہ صورتحال ملک کے لیے خوشگوار نہیںہوگی بلکہ اس سے ملک میں انارکی پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ویسے سوچنے کی بات ہے کہ اگر اسی طرح دھاندلی کرنی تھی تو پھر اتنے پیسے ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی جبکہ میاں نواز شریف صاحب نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ساڈی گل ہوگئی ہے اور الیکشن کمیشن کی طرف سے سرکاری ملازمین کے ساتھ جو کیا وہ بھی نہیں ہونا تھا۔ اس بات کا تو میں بھی چشم دید گواہ ہوں کہ لاہور کی ایک نکر سے دوسری نکر پر ملازمین کی ڈیوٹیاں لگائی گئی اور اوپر سے موبائل سروس بند کرکے انہیں پریشانیوں میں دھکیل دیا۔ بسوں اور ویگنوں میں خواتین اپنی ڈیوٹی کی جگہ پر پہنچی تو واپسی پر رات 12بجے انہیں کوئی سواری بھی نہیں ملی اور اوپر سے یہ حکم تھا کہ کوئی بھی رزلٹ لیکر خود سے آر او دفتر نہیں جائیگا بلکہ فوجی گاڑی آئے گی جو انہیں لیکر جائیگی ۔یوں خواتین گھر والوں سے دور بے بس رہی جنہوں نے رات گزارنے کے لیے لوگوں کے گھروں کے دروازوں پر دستک دی۔ الیکشن کمیشن اگر ان کی ڈیوٹیاں ان کے گھر کے قریب لگادیتا تو اس سے کیا فرق پڑنا تھا لیکن دوردراز کے علاقوں میں ڈیوٹیاں لگا کر انہیں بھی ذلیل وخوار کیا گیااور اوپر سے ووٹروں کے حقوق پر جو ڈاکہ ڈالا گیا اسے بھی تاریخ یاد رکھے گی اگر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کے امیدواروں نے پورے ملک میں کلین سویپ کیا ۔لاہور میں نواز شریف ،مریم نواز شریف ،حمزہ شہباز شریف،عطا تارڑ،عون چوہدری اور علیم خان کو زبردستی جتوایا گیا کیونکہ فارم 45کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار جیت چکے تھے جبکہ فارم47میں انہیں ہرادیا گیا۔ اس بار لوگوں کا جوش خروش بھی زیادہ تھا جو الیکشن کے بعد بھی جاری ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آزاد جیتنے والے افراد پیسے کے لالچ میں پیپلز پارٹی یا ن لیگ میں شامل ہوجائیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ یہ سب وہ لوگ ہیں جو مشکل ترین وقت میں بھی پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے اور پارٹی نے انہیں نامزد کرتے وقت بھی ضرور دیکھا ہوگا کہ مشکل وقت میں یہ لوگ کہاں تھے؟ خاص کر میں خراج تحسین پیش کرونگا ڈی پی او ڈیرہ غازیخان احمد محی الدین کا جنہوں نے شدید دبائو میں بھی اپنا فرض نبھایا اور کسی بھی ایسی دونمبری کا حصہ بننے سے انکار کردیا جس کی بدولت کسی اور کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا جاتا۔ کاش اسی طرح کی بہادری ہمارے دوسرے پولیس افسران بھی دکھاجاتے تو پاکستان کی سمت درست ہوجانی تھی اور چوروں ،ڈاکوئوں سے قوم کی جان بھی چھوٹ جانی تھی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا بلکہ رہی بات الیکشن نتائج تبدیل ہونے کی اس حوالہ سے تمام متاثرہ فریقین عدالتوں میں پہنچ چکے ہیں۔ امید ہے کہ دوبارہ گنتی کے دوران انہیں انکا حق مل جائیگا ۔
اسلام آباد سے فارم45میں جیتنے والے سید محمد علی بھی اپنا سارا ریکارڈلیکر عدالت کے دروازے پر دستک دینے پہنچ چکے ہیں۔ ویسے تو پاکستان میں الیکشن میں دھاندلی کی تاریخ کوئی نئی نہیں بلکہ قیام پاکستان کے بعد ہی اسکی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ محترمہ فاطمہ جناح کو ہروایا گیا اس وقت عوامی شعور بھی اتنا نہیں تھا جتنا اب ہوچکا ہے۔ اس کے بعد سے لیکر اب تک انتخابات میں دھاندلی رکنے کا نام نہیں لے رہی اور جودھاندلی کے اس کھیل میں ملوث ہیں وہ بھی عوام کے سامنے بے نقاب ہوتے جارہے ہیں۔ اس بار اگر پھر پی ڈی ایم طرز کی حکومت بنی تو آنے والے دور میں ہر پاکستانی اپنے کپڑے بیچنے پر مجبور ہوجائیگا ۔مہنگائی جن بے قابو ہو جائیگا ۔غریب خودکشیاں شروع کردیگا اور بے روزگاری میںبے انتہا اضافہ ہوجائیگا ۔غیر ملکی قرضہ حد سے تجاوز کرجائیگا اور ملک میں ڈیفالٹ کی بازگشت سنائی دینا شروع ہوجائیگی۔ اس لیے اب ملک کے بڑوں کو چاہیے کہ پی ڈی ایم طرز کے تجربے کو دوبارہ نہ دھرایاجائے بلکہ انہیں حکومت بنانے کی آزادی دی جائے جنہوں نے میدان مارا ہے۔ اگرعوامی امنگوں کے مطابق حکومت نہ بنی تو پھر ملکی حالات خراب ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی حالات بھی خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوجائیگا ۔اس وقت عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار واضح اکثریت حاصل کرچکے ہیں۔ اگر انہیں ڈنڈے کے زور پر ہانکنے کی کوشش کی گئی تو عوامی رد عمل سامنے آسکتا ہے۔ کیونکہ خیبر پختونخواہ میں تو پی ٹی آئی کی حکومت بننے جارہی ہے اور وہاں کے لوگوں کا جوش و جذبہ بھی قابل ستائش ہے جنہوں نے مشکل وقت میں نہ صرف پارٹی کا ساتھ دیا بلکہ اسے الیکشن میں سرخرو بھی کردیا۔ ویسے تو یہی صورتحال پورے ملک کی تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کے پی کے والوں نے اپنے ووٹ پر نہ صرف پہرہ دیا بلکہ اسکی حفاظت بھی کی جبکہ دوسرے صوبوں کے لوگوں نے ووٹ تو دیدیا لیکن اس پر پہرہ نہ دے سکے ۔جس کی وجہ سے راتوں رات نتیجے تبدیل کردیے گئے۔ اب بھی عدالتوں سے امید ہے کہ وہ سب کے ساتھ پورا پورا انصاف کریگی کہ الیکشن منصفانہ ہوئے ہیں یا پھر دھاندلی ہوئی کہ دھاندلہ ۔


متعلقہ خبریں


مضامین
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات وجود بدھ 21 فروری 2024
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات

تشکیل سے پہلے نئی حکومت کا خاتمہ وجود بدھ 21 فروری 2024
تشکیل سے پہلے نئی حکومت کا خاتمہ

سمجھوتہ ایکسپریس : متاثرین 17 سال سے انصاف کے متلاشی وجود بدھ 21 فروری 2024
سمجھوتہ ایکسپریس : متاثرین 17 سال سے انصاف کے متلاشی

یہ کمپنی نہیں چلے گی!! وجود منگل 20 فروری 2024
یہ کمپنی نہیں چلے گی!!

امریکی جنگی مافیااورعالمی امن وجود منگل 20 فروری 2024
امریکی جنگی مافیااورعالمی امن

اشتہار

تجزیے
پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف وجود پیر 19 فروری 2024
پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف

گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم وجود جمعرات 11 جنوری 2024
گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم

سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا وجود جمعرات 11 جنوری 2024
سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا

اشتہار

دین و تاریخ
دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب

حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں وجود منگل 06 فروری 2024
حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر