وجود

... loading ...

وجود

بندے کو وجہ تو پتا چلے کہ اسے کیوں نکالا گیا، نوازشریف

هفته 27 جنوری 2024 بندے کو وجہ تو پتا چلے کہ اسے کیوں نکالا گیا، نوازشریف

قائد مسلم لیگ ن اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ اللہ تعالی نے حکومت دی تو منشور پر پورا عمل کریں گے۔پارٹی کا انتخابی منشور پیش کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف کا کہنا تھا کہ یہ منشور بہت محنت سے تیار ہوا ہے، عرفان صدیقی، مریم اورنگزیب اور دیگر کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں، اللہ نے حکومت دی تو منشور پر پورا عمل کریں گے۔ منشور پیش کرنے کے دوران نوازشریف آبدیدہ ہوگئے، مریم نواز کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں، نوازشریف نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 2008 سے 2013 تک پیپلزپارٹی کی حکومت تھی، پیپلزپارٹی کی حکومت کے ساتھ بہت مسائل تھے، ماضی کی زیادتیوں کو فراموش کر کے مستقبل کی منصوبہ بندی کیلئے آیا ہوں، انتخابات لڑنے کی بھرپور تیاری کر رہے ہیں، ہماری توجہ انتقام نہیں ملکی ترقی کی سیاست پر مرکوز ہے۔انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر ہم سب نے دستخط کئے تھے، اللہ تعالی نے موقع دیا تو منشور پر انشا اللہ عمل کریں گے، اپوزیشن میں آئے تو وہ کام نہیں کریں گے جو انہوں نے کیا۔ قائد ن لیگ کا کہنا تھا کہ طاہر القادری کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے لانگ مارچ کیا گیا، طاہر القادری کا پاکستان سے کیا تعلق ہے؟ سابق وزیراعظم نے کہا کہ میثاق جمہوریت کی بہت خلاف ورزیاں ہوئیں لیکن برداشت کیا، ہمارے خلاف ہر قسم کی انتقامی کارروائی کی گئی، کچھ لوگوں کا منشور ہی دھرنا اور احتجاج کرنا ہے انہوں نے کہا کہ یہ ہے ہمارا منشور ہے، 2018 میں اگر آر ٹی ایس بند نہ ہوتا تو پنجاب کی طرح مرکز میں بھی ہماری حکومت ہوتی۔ نواز شریف نے کہا کہ آنا فانا حکومت سے نکال دینا تکلیف دہ ہوتا ہے بندے کو وجہ تو پتا چلے کہ اسے کیوں نکالا گیا، اسے یہ تو پتا ہونا چاہیے کہ غلطی کیا ہوئی؟ میں آج یہ باتیں کرنے نہیں آیا منشور پر بات کروں گا، سابقہ حکمران کی جگہ ہوتا میں ایسا کبھی نہ کرتا جو اس نے کیا، ایک بار 2008 تا 2013 پی پی کی حکومت رہی جس میں ہمیں پی پی سے ججز کے معاملے پر کچھ اختلافات تھے، سب نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کیے اور اس شخص نے بھی کیے جو سابق حکمران رہا، پی پی نے وعدہ کرنے کے باوجود عمل نہیں کیا جس پر ہمیں لانگ مارچ کرنا پڑا۔نواز شریف نے کہا کہ لانگ مارچ کا مقصد گوجرانوالہ میں ہی پورا ہوگیا تھا کیوں کہ ججز بحال ہوگئے تھے لوگوں نے کہا کہ مارچ کو اسلام آباد لے جائیں اور شہباز حکومت بحال کرائیں لیکن میں نے منع کردیا ہم نے اصول پر عمل کیا، چارٹر آف ڈیموکریسی کی بہت خلاف ورزی ہوئی مگر ہم نے برداشت کیا۔ قائد مسلم لیگ (ن)نے کہا کہ ایک صحافی کے سوال پر کہا کہ میں اپوزیشن لیڈر ہوں میں اس حکومت کو ختم کرنے کے لیے لانگ مارچ کیوں کروں؟ اسے مدت پوری کرنی چاہیے، بعد میں ہم نے مل کر عمران خان کے دھرنوں کا مقابلہ کیا، یہ کیسی سیاست ہے کہ مینڈیٹ والی حکومت کے خلاف دھرنے دیں ہم اس کے قائل نہیں، طاہر القادری کا پاکستان کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں وہ بھی دھرنا دینے آئے، جسٹس ناصر الملک نے فیصلہ دیا کہ 35 پنکچر والی بات درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ بعد میں عمران خان سے بات ہوئی تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ بنی گالا سے سڑک بنادیں سو ہم نے بنادی اگر یہ بات وہ پہلے کہہ دیتے تو ہم سڑک پہلے بنادیتے اس میں مجھے بلانے والی کیا بات تھی؟نواز شریف نے کہا کہ ہم اگر اپوزیشن میں آئے تو وہ کام کبھی نہیں کریں گے جو انہوں نے کہا، یہ ہمارا منشور ہے، ایک بار مولانا فضل الرحمان نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ ہم حکومت بنالیں جس پر میں نے انہیں منع کیا کہ عددی اعتبار سے وہ ہم سے زیادہ ہیں اصولا ان کی حکومت بننی چاہیے اور انہوں نے میرا مشورہ مانا۔ان کا کہنا تھا کہ آرٹی ایس کیسے بند ہوا اس بحث میں نہیں جانا چاہتا لیکن اگر وہ بند نہ ہوتا تو پنجاب کی طرح مرکز میں بھی ہماری حکومت ہوتی۔کوئٹہ میں ہزارہ برادی کے دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے دھرنے والوں سے ملنے کا مطالبہ مسترد کردیا جن کے 150 بندے مارے گئے اور اسے مظاہرین کی بلیک میلنگ قرار دیا کسی سیاست دان میں ایسا سخت دل نہیں دیکھا، انہوں نے کہا کہ ملک بہت زیادہ مسائل میں گِھرا ہوا ہے، بغیر رکاوٹ ہمیں کام کرنے دیا جاتا تو آج ملک ترقی کرچکا ہوتا، ہمیں کام کرنے دیا جاتا تو ملک میں آج مختلف صورتحال ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر کہا جاتا تھا کہ نواز شریف کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں، ملک انتہائی مشکلات میں تھا، میں کیسے مسکراتا؟ میں کچھ کہتا نہیں تھا کہ سمجھا جانا چاہیے تھا کہ میں کیوں نہیں مسکراتا۔انہوں نے کہا کہ 2017 میں میرے چہرے پر مسکراہٹ آئی کیونکہ مسائل حل ہو رہے تھے، 2017 میں مہنگائی نہیں تھی۔ نواز شریف نے کہا کہ شہبازشریف نے 16 ماہ کی حکومت میں ملک کو بچایا، ہم نے ملک بچایا لیکن اس کی قیمت چکائی، پاکستان کے ساتھ حادثہ نہ ہوتا تو آج عام بندہ کی زندگی کتنی آسان ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مولانا کے ساتھ مل کر خیبرپختونخوا میں حکومت نہیں بنائی، اب افسوس ہوتا ہے کہ انہیں آنے نہیں دینا چاہیے تھا، ہم نے خود اپنے پاوں پر کلہاڑی ماری ہے۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج وجود - جمعه 13 فروری 2026

اپوزیشن کی سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی،ہم سینوں پر گولیاں کھائیں گے،عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، معاملات نہ سدھرے تو سڑکوں پر آئیں گیگولیاں بھی کھائیں گے،راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک آنکھ کی 85 فیصد ب...

عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت وجود - جمعه 13 فروری 2026

عمران اندھا ہو گا تو بہت سے لوگ اندھے ہوں گے(جنید اکبر)ہمارے پاس آپشنز ہیں غور کیا جا رہا ہے(سہیل آفریدی)ہم توقع کرتے ہیں عمران خان کو فی الفور جیل سے رہا کیا جائیگا، سلمان اکرم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے بانی چیٔرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تش...

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت

آزاد کشمیر صدارتی انتخاب،نون لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے وجود - جمعه 13 فروری 2026

تختِ مظفرآباد کیلئے سیاسی بساط بچھ گئی، امیدواروں کے ناموں پر پراسرار خاموشی،اگلا صدر اور ڈپٹی اسپیکر پیپلز پارٹی سے ہی ہوں گے، آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت اجلاس میں دو ٹوک فیصلہ 30 روز کے اندر صدارتی انتخاب کا عمل مکمل کیا جانا ضروری ہے،نون لیگ اپنا صدر لائے گی(راجا فاروق حی...

آزاد کشمیر صدارتی انتخاب،نون لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی اچانک ختم ہونے کا انکشاف وجود - جمعه 13 فروری 2026

تین ماہ سے دائیںآنکھ کی بیماری کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، بانی چیئرمین کی عدالتی معاون سے ملاقات دو سال سے دانتوں کا معائنہ نہیں کرایا گیا، باقاعدگی سے بلڈ ٹیسٹ بھی نہیں کیے جا رہے، رپورٹ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت بارے رپورٹ میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں، اس حوالے س...

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی اچانک ختم ہونے کا انکشاف

کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن ٹیم کا چھاپہ وجود - جمعه 13 فروری 2026

ریکارڈ روم کاتالا لگا ہونے پر افسران کا اظہاربرہمی،تالا توڑ کر مطلوبہ دستاویزات لے گئے ریکارڈ میں گڑ بڑ کی شکایات پر تحقیقات جاری ہیں، ریٹائرڈ افسر سے رابطہ کرنے کی کوششیں کراچی میں کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل ٹیم نے چھاپہ مارا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایف ...

کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن ٹیم کا چھاپہ

اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی وجود - جمعه 13 فروری 2026

نیتن یاہوکی صدر ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات ،ایران کے معاملے پر گفتگو کی ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے مطابق بورڈ عارضی انتظامی امور کی نگرانی کرے گا،رپورٹ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس اقدام میں...

اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ وجود - جمعرات 12 فروری 2026

فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی وجود - جمعرات 12 فروری 2026

خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع وجود - جمعرات 12 فروری 2026

سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا وجود - جمعرات 12 فروری 2026

ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے وجود - جمعرات 12 فروری 2026

دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو وجود - جمعرات 12 فروری 2026

شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو

مضامین
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری وجود جمعه 13 فروری 2026
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری

ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت وجود جمعه 13 فروری 2026
ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت

ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے! وجود جمعه 13 فروری 2026
ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے!

پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ وجود جمعه 13 فروری 2026
پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ

پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات وجود جمعرات 12 فروری 2026
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر