وجود

... loading ...

وجود

آقاۖکی حیات مبارکہ کے آخری لمحات

جمعه 29 ستمبر 2023 آقاۖکی حیات مبارکہ کے آخری لمحات

سمیع اللہ ملک
وفات سے3روزقبل حضوراکرم ۖام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہاکے گھرتشریف فرماتھے،آپۖنے تمام ازواج مطہرات کوبلاکردریافت فرمایا”کیاتم سب مجھے اجازت دیتی ہوکہ بیماری کے یہ ایام میں عائشہ کے ہاں گزار لوں؟”سب نے بیک زبان کہا ”اے اللہ کے رسول آپ کواجازت ہے”۔پھراٹھناچاہالیکن اٹھ نہ پائے تو حضرت علی اور حضرت فضل بن عباس آگے بڑھے اورنبی ۖکوسہارے سے اٹھاکر سیدہ میمونہ کے حجرے سے سیدہ عائشہ کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضوراکرم ۖکواس(بیماری اورکمزوری کے)حال میں پہلی باردیکھاتوگھبراکرایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ رسول اللہۖ کو کیا ہوا؟صحابہ کی کثیر تعداد فوری طورپرمسجدمیں جمع ہوگئی۔آقاۖکاپسنہ شدت سے بہہ رہا تھا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ”میں نے اپنی زندگی میں کسی کااتناپسینہ بہتے نہیں دیکھا۔میں رسول اللہ ۖکے دست مبارک کو پکڑتی اوراسی کوچہرہ اقدس پرپھیرتی کیونکہ نبی ۖکا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اورپاکیزہ تھا۔حبیب خداۖسے بس یہی وردسنائی دے رہاتھاکہ ”لالہ لااللہ،بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں”۔
اسی اثنامیں مسجدکے اندرآنحضرتۖکے بار ے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کاشوربڑھنے لگا۔نبیۖنے دریافت فرمایا”یہ کیسی آوازیں ہیں؟” عرض کیاگیاکہ اے اللہ کے رسولۖ!تمام اصحابہ آپ کی حالت سے خوفزدہ ہیں۔ارشادفرمایا:مجھے ان کے پاس لے چلو۔اٹھنے کاارادہ فرمایالیکن اٹھ نہ سکے توآپ ۖپر7مشکیزے پانی کے بہائے گئے ،تب کہیں جاکرکچھ افاقہ ہواتوسہارے سے اٹھاکر منبرپرلایاگیا۔یہ میرے آقاۖکاآخری خطبہ اورآخری کلمات تھے:اے لوگو!شائدتمہیں میری موت کاخوف ہے۔سب نے سرجھکائے کہاکہ:جی ہاں،اے اللہ کے رسولۖ!
ارشادفرمایا:اے لوگو!تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیانہیں،تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض(کوثر)ہے،اللہ کی قسم گویاکہ میں یہیں سے اس(حوض کوثر کو)دیکھ رہاہوں۔اے لوگو!مجھے تم پرتنگدستی کاخوف نہیں بلکہ مجھے تم پردنیا(کی فراوانی)کا خوف ہے،کہ تم اس(کے معاملے)میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤجیساکہ تم سے پہلے(پچھلی امتوں )والے لگ گئے، اوریہ(دنیا)تمہیں بھی ہلاک کردے جیساکہ انہیں ہلاک کردیا۔اے لوگو:نمازکے معاملے میں اللہ سے ڈرواوراس کوتین مرتبہ دہرایاپھرفرمایا:اے لوگو! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتاہوں۔عہدکروکہ نمازکی پابندی کروگے،اوریہی بات بارباردہراتے رہے۔اے لوگو…… ایک بندے کواللہ نے اختیاردیاکہ دنیاکوچن لے یااسے چن لے جواللہ کے پاس ہے،تو اس نے اسے پسندکیا جواللہ کے پاس ہے۔اس جملے سے حضورۖکامقصدکوئی نہ سمجھا حالانکہ ان کی اپنی ذات مرادتھی جبکہ حضرت ابوبکر زاروقطاررونے لگے اوربلندآوازسے گریہ کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اورنبی اکرم ۖکی بات قطع کرکے پکارنے لگے: ہمارے ماں باپ،داداآپ پرقربان،ہمارے بچے آپ پرقربان،ہمارے مال ودولت آپ پرقربان……روتے ہوئے بارباریہی دہراتے رہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم(ناگواری سے)حضرت ابوبکرصدیق کی طرف دیکھنے لگے کہ انہوں نے نبی اکرمۖکی بات کیسے قطع کردی؟اس پرنبی کریمۖنے حضرت ابوبکرکا دفاع ان الفاظ میں فرمایا:اے لوگو!ابوبکرکوچھوڑدوکہ تم میں سے ایساکوئی نہیں کہ جس نے میرے ساتھ کوئی بھلائی کی ہواورمیں نے اس کا بدلہ نہ دے دیاہو،سوائے ابوبکرکے کہ اس کابدلہ میں نہیں دے سکا،اس کابدلہ میں نے اللہ جل شانہ پرچھوڑدیا۔مسجد(نبوی)میں کھلنے والے تمام دروازے بندکردیے جائیں،سوائے ابوبکرکے دروازے کے کہ جوکبھی بندنہ ہوگا۔
آخرمیں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کیلئے آخری دعاکے طورپرارشادفرمایا:اللہ تمہیں ٹھکانہ دے،تمہاری حفاظت کرے،تمہاری مدد کرے،تمہاری تائید کرے۔اورآخری بات جومنبرسے اترنے سے پہلے امت کومخاطب کرکے ارشادفرمائی:اے لوگو!قیامت تک آنے والے میرے ہرایک امتی کومیراسلام پہنچادینا۔پھرآنحضرتۖکودوبارہ سہارے سے اٹھاکرگھرلے جایاگیا۔
اسی اثنامیں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر خدمت اقدس میں حاضرہوئے اوران کے ہاتھ میں مسواک تھی،نبی اکرم ۖمسواک کودیکھنے لگے لیکن شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے چنانچہ سیدہ عائشہ حضوراکرمۖ کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اورانہوں نے حضرت عبدالرحمن سے مسواک لے کرنبی کریمۖکے دہن مبارک میں رکھ دی،لیکن حضورۖاسے استعمال نہ کرپائے توسیدہ عائشہ نے حضوراکرمۖسے مسواک لے کراپنے منہ سے نرم کی اورپھرحضورنبی کریمۖکولوٹادی تاکہ دہن مبارک اس سے تررہے۔فرماتی ہیں: آخری چیزجونبی اکرمۖکے پیٹ میںگئی وہ میرالعاب تھا،اوریہ اللہ تبارک وتعالی کامجھ پرفضل ہی تھاکہ اس نے وصال سے قبل میرااور نبی کریم ۖکالعاب دہن یکجاکردیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا مزید ارشادفرماتی ہیں:پھرآپۖکی بیٹی حضرت فاطمہ تشریف لائیں اورآتے ہی روپڑیں کہ نبی کریم ۖاٹھ نہ سکے،کیونکہ نبی کریم ۖکامعمول تھاکہ جب بھی فاطمہ تشریف لاتیں،حضوراکرم ۖان کے ماتھے پربوسہ دیتے تھے۔
حضورۖنے فرمایا:اے فاطمہ!قریب آجاؤ…..پھرحضورۖنے ان کے کان میں کوئی بات کہی توحضرت فاطمہ اورزیادہ رونے لگیں، انہیں اس طرح روتادیکھ کرحضورۖنے پھرفرمایا:اے فاطمہ!قریب آؤ…..دوبارہ ان کے کان میں کوئی بات ارشادفرمائی تووہ خوش ہوگئیں۔حضور اکرم ۖکے وصال کے بعدمیں نے سیدہ فاطمہ سے پوچھاکہ وہ کیا بات تھی جس پرآپ روئیں اورپھرخوشی کااظہارکیاتھا؟سیدہ فاطمہ کہنے لگیں کہ پہلی بار(جب میں قریب ہوئی)توفرمایا:فاطمہ!میں آج رات(اس دنیاسے)کوچ کرنے والاہوں جس پرمیں رودی،جب انہوں نے مجھے بے تحاشاروتے دیکھاتوفرمانے لگے،فاطمہ!میرے اہل خانہ میں سب سے پہلے تم مجھے آملوگی،جس پرمیں خوش ہوگئی۔سیدہ عائشہ فرماتی ہیں پھرآنحضرت ۖنے سب کوگھرسے باہرجانے کاحکم دیکرمجھے فرمایا:عائشہ!میرے قریب آجاؤ۔آنحضرت ۖنے اپنی زوج مطہرہ کے سینے پرٹیک لگائی اورہاتھ آسمان کی طرف بلند کرکے فرمانے لگے:مجھے وہ اعلیٰ وعمدہ رفاقت پسندہے۔میں اللہ کی،انبیا،صدیقین، شہدااور صالحین کی رفاقت کواختیارکرتاہوں۔صدیقہ عائشہ فرماتی ہیں”میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کوچن لیاہے۔
جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضرہوکرگویاہوئے:یارسول اللہ!ملک الموت دروازے پرکھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔آپ ۖنے فرمایا:جبریل!اسے آنے دو………ملک الموت نبی کریمۖکے گھرمیں داخل ہوئے اورکہا: السلام علیک یارسول اللہ!مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئے بھیجاہے کہ آپ دنیامیں ہی رہناچاہتے ہیں یااللہ سبحانہ وتعالی کے پاس جاناپسندکرتے ہیں؟نبی اکرمۖنے جواب میں فرمایاکہ مجھے اعلیٰ وعمدہ رفاقت پسند ہے اوردوبارہ اپنی اس خواہش کودہرایا:ملک الموت آنحضرت ۖکے سرہانے کھڑے ہوئے اورکہنے لگے:اے پاکیزہ روح!اے محمدبن عبداللہ کی روح………اللہ کی رضاو خوشنودی کی طرف روانہ ہو،راضی ہوجانے والے پروردگارکی طرف جوغضبناک نہیں!
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہافرماتی ہیں:پھرنبی کریم ۖ کاہاتھ نیچے آن رہا،اورسرمبارک میرے سینے پربھاری ہونے لگا،میں سمجھ گئی کہ آنحضرتۖکاوصال ہوگیا…….مجھے اورتوکچھ سمجھ نہیں آیا،میں اپنے حجرے سے نکلی اورمسجدکی طرف کادروازہ کھول کراندرسے کہا……”رسول اللہ کاوصال ہوگیا…….رسول اللہ کاوصال ہوگیا!”مسجد آہوں اورنالوں سے گونجنے لگی۔ادھرعلی کرم اللہ وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھرہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔ادھرعثمان بن عفان معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔اورسیدناعمر تلوار بلند کرکے کہنے لگے:خبردار!جوکسی نے کہاکہ رسول اللہۖوفات پاگئے ہیں،میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا….میرے آقاتواللہ تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی اپنے رب سے ملاقات کو گئے تھے،وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے!اب جووفات کی خبراڑائے گا،میں اسے قتل کرڈالوں گا۔اس موقع پر سب زیادہ ضبط،برداشت اورصبرکرنے والی شخصیت سیدناابوبکرصدیق کی تھی۔آپ حجرہ نبوی میں داخل ہوئے رحمت دوعالم ۖکے سینہ مبارک پرسررکھ کررودیے اورساتھ ہی کہہ رہے تھے:
وآآآخلیلاہ،وآآآصفیاہ،وآآآحبیباہ،وآآآنبیاہ…ہائے میرے پیارے دوست…ہائے میرے مخلص ساتھی…..ہائے میرے محبوب…..ہائے میرے نبی…..پھرآنحضرتۖکے ماتھے پر پربوسہ دیااورکہا:یا رسول اللہ!آپ پاکیزہ جیے اورپاکیزہ ہی دنیاسے رخصت ہوگئے۔سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ باہرآئے اورخطبہ دیا: جو شخص محمدۖکی عبادت کرتاہے سن رکھے کہ آنحضرتۖکاوصال ہوگیااورجواللہ کی عبادت کرتاہے وہ جان لے کہ اللہ تعالی شانہ کی ذات ہمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔یہ سنتے ہی سیدناعمررضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوارگرگئی۔عمر فرماتے ہیں:پھرمیں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگاجہاں اکیلابیٹھ کرروؤں!آنحضرت ۖکی تدفین کردی گئی۔ سیدہ فاطمہ فرماتی ہیں:تم نے کیسے گواراکرلیا کہ نبی اکرمۖکے چہرہ انورپرمٹی ڈالو؟پھرفرمانے لگیں:
یابتاہ،جاب ربادعاہ،یا بتاہ، جن الفردوس مواہ، یا بتاہ،ال جبریل ننعاہ…..ہائے میرے پیارے بابا جان!کہ اپنے رب کے بلاوے پرچل دیے،ہائے میرے پیارے باباجان،کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے،ہائے میرے پیارے باباجان،کہ ہم جبریل کوان کے آنے کی خبردیتے ہیں۔اللھم صل علی محمدکماتحب وترضا۔
عیدمیلادالنبی کااصل اوربہترین پیغام تویہ ہے کہ ہم اپنے آقاۖ کی زندگی،ان کی تعلیمات اوررحمتوں کویادکریں۔اس موقع پران کی سنتوں اورمعاشرتی اقوال کواپنی زندگیوں کا اوڑھنابچھونابنانے کاعہدکریں کہ ہم ان کے انعامات اوررہنمااصولوں کواپناکراپنی باقی ماندہ زندگی گزاریں گے۔ہم سب اس دن کے حوالے سے یہ عزم کریں کہ ہم سیرت النبی کی روشنی سے اس دنیاکی ظلمتوں کودور کریں گے۔عیدمیلادالنبی کاتقاضا ہے کہ ہم دنیابھرمیں اپنے کردارسے امن،اخوت اورمحبت کااستعارہ بن کریہ پیغام دیں کہ ہمارے آقا ۖنے اپنے آخری سانسوں میں بھی دنیاکی فلاح،عورتوں کی بھلائی اورحفاظت کاحکم دیاہے،ظلم وجبرکے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوارکاسبق دیاہے تاکہ دنیامیں سب کوجینے کا حق مل سکے اورانسانیت بلاجبرواکراہ کے آشتی ومحبت کے ساتھ ایک دوسرے کے حقوق اداکریں۔
عیدمیلادالنبی کے موقع پرہمیں پیغامبرِاسلامۖکی شان وشوکت کویادکرنے کاعظیم موقع ملتاہے۔ان کی عالمی اخلاقی اورانسانی حقوق کواپنے زندگیوں میں منتقل کرنے کی تحریک کادن ہے کہ ہم ان کے پیغام کودنیاکے ہرکونے تک پہنچانے کاوعدہ کرتے ہیں تاکہ دنیاسیرت النبی کی روشنی اوررحمت کوچھوسکے۔اس موقع پرہمیں اپنی زندگیوں کودوسروں کی مدد اورخدمت کیلئے وقف کرنے کاعزم کرناچاہئے۔ہمیں اپنے گھروں،اجتماعات میں امن،اخوت اورمحبت کوفروغ دینے کیلئے پہلے خوداپنی زندگی کوتبدیل کرنے کی محنت کرنی ہوگی تاکہ ہم اپنے آقاۖکے پیغامات کوعملی شکل دے کردوسروں کوبتاسکیں جوپیغامبرِاسلام نے ہمیں دیے ہیں۔
ہمارے آقاۖکاسب سے بڑامعجزہ توقرآن مجیدہے جس کی من وعن حفاظت کی ذمہ داری خودرب کریم نے روزِ قیامت تک کیلئے اپنے ذمے لے رکھی ہے،اس کے بعد ہمارے آقاکی زندگی کی سیرت کے تمام لمحات بھی ہمارے پاس محفوظ ہیں۔قرآن میں ہمیں آیت الکرسی جیسی عظیم آیت رب کریم کی طاقت اورکمال کی تعریف سے آشناکرتی ہے اورایک پیغام دیتی ہے کہ اللہ کی ذات میں کمال اورقدرت ہے جوکہ عالمی امن کی اہمیت کوبنیاداوراہمیت کوظاہرکیاگیاہے اوراسی پیغام کومیرے آقانے اپنے امتیوں کیلئے چھوڑا ہے ۔
میں نے سوچا کیوں نہ جشن عید میلاد النبی کے فضائل کوپڑھ لوں لہذا میں نے بطورطالب علم اپنے شیوخ الحدیث سے صحاح الستہ کے علاوہ دیگراحادیث کی کتب کامطالعہ کیا، احادیث کے بعد فقہ کی کتابوں میں جشن عیدمیلاد النبی کاعنوان تلاش کیا،چاروں خلفائے راشدین،تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین،تابعین وتبع تابعین،چاروں ائمہ کرام، امام مالک کی فقہی کتاب”ا لمدونہ الکبری،امام شافعی کی مشہورزمانہ فقہی کتاب”الامم”فقہ حنفی کی سب سے مستند کتاب ہدایہ،قدوری،فتاوی عالمگیری،کنزالدفائق،فتاوی شامی،بدائع الصنائع،ان تمام کتب میں عیدین کاتوتذکرہ ہے لیکن عیدمیلادالنبی کاکوئی عنوان نہیں۔گزشتہ صدی کے تمام امتِ مسلمہ کے مستندعلمائے احناف وفقہا کی کسی بھی کتاب یاتقریرمیں عیدمیلادالنبی کی سندنہیں ملی،توپھریہ مروجہ جشن آیاکہاں سے؟عیدمیلادالنبی کابہترین پیغام تویہ ہے کہ گھراورمسجد،تمام تعلیمی اداروں،منڈیوں اورتھانے،چھاؤنی،عدلیہ اورپارلیمنٹ، ایوانِ وزارت وصدارت اورتمام سفارت خانوں کواپنے آقاۖکی تعلیم کے مطابق چلایاجائے جسے ہم اپناہادی برحق مان چکے ہیں۔یہی عیدمیلادالنبی کااصل پیغام ہے اور ہمارے آقاکی خوشنودی ان کے بتائے ہوئے راستے سے ہی مل سکتی ہے۔
۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
مدینے کی اسلامی فلاحی ریاست ، غزہ میں نسل کشی وجود هفته 09 دسمبر 2023
مدینے کی اسلامی فلاحی ریاست ، غزہ میں نسل کشی

خطرے کی گھنٹی وجود هفته 09 دسمبر 2023
خطرے کی گھنٹی

بدلہ نہیں بدلاؤ وجود جمعه 08 دسمبر 2023
بدلہ نہیں بدلاؤ

پنو اور نجر پر 'ہنگامہ ہے کیوں برپا'؟ وجود جمعه 08 دسمبر 2023
پنو اور نجر پر 'ہنگامہ ہے کیوں برپا'؟

جنگ بندی کے بعد اہل غزہ کا قتل عام وجود جمعه 08 دسمبر 2023
جنگ بندی کے بعد اہل غزہ کا قتل عام

اشتہار

تجزیے
غزہ موت وزیست کی کشمکش میں وجود بدھ 25 اکتوبر 2023
غزہ موت وزیست کی کشمکش میں

فلسطینیوں کے خلاف سفاکانہ کارروائیاں اور مغربی ممالک کا مجرمانہ کردار وجود بدھ 18 اکتوبر 2023
فلسطینیوں کے خلاف سفاکانہ کارروائیاں اور مغربی ممالک کا مجرمانہ کردار

متوسط طبقہ ختم ہو رہا ہے، کچھ فکر کریں!! وجود هفته 23 ستمبر 2023
متوسط طبقہ ختم ہو رہا ہے، کچھ فکر کریں!!

اشتہار

دین و تاریخ
مسجد اقصیٰ کی فضیلت وجود جمعه 20 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ کی فضیلت

اسلام اور طہارت وجود منگل 17 اکتوبر 2023
اسلام اور طہارت

حضور سرور کونین،تاجدار مدینہ،خاتم النبیین حضرت محمدﷺکی سیرت طیبہ وجود جمعه 29 ستمبر 2023
حضور سرور کونین،تاجدار مدینہ،خاتم النبیین حضرت محمدﷺکی سیرت طیبہ
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات

مودی اور احمد آباد اسٹیڈیم کو دھماکے سے اڑانے کی دھمکی وجود هفته 07 اکتوبر 2023
مودی اور احمد آباد اسٹیڈیم کو دھماکے سے اڑانے کی دھمکی

بھارت کی سیکم ریاست میں سیلاب ،23 فوجی لاپتا وجود بدھ 04 اکتوبر 2023
بھارت کی سیکم ریاست میں سیلاب ،23 فوجی لاپتا
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
بھاری بھرکم آواز کے مالک عزیز میاں قوال کی 23 ویں برسی آج منائی جائے گی وجود بدھ 06 دسمبر 2023
بھاری بھرکم آواز  کے مالک عزیز میاں قوال کی 23 ویں برسی آج منائی جائے گی

ملی نغموں کے خالق نامور شاعر جمیل الدین عالی کی آٹھویں برسی آج منائی جائے گی وجود جمعرات 23 نومبر 2023
ملی نغموں کے خالق نامور شاعر جمیل الدین عالی کی آٹھویں برسی آج منائی جائے گی

دنیا کی 100 با اثر خواتین کی فہرست جاری، 2 پاکستانی بھی شامل وجود بدھ 22 نومبر 2023
دنیا کی 100 با اثر خواتین کی فہرست جاری، 2 پاکستانی بھی شامل
ادبیات
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر

فیصل آباد کے ریٹائرڈ ایس ایچ او بچوں کی 3500 کتابوں کے مصنف بن گئے وجود پیر 11 ستمبر 2023
فیصل آباد کے ریٹائرڈ ایس ایچ او بچوں کی 3500 کتابوں کے مصنف بن گئے