وجود

... loading ...

وجود
وجود

قوم کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

اتوار 17 ستمبر 2023 قوم کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

ریاض احمدچودھری

سپریم کورٹ کی جانب سے نیب ترامیم کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلے کو مختلف سیاسی جماعتوں اور عوام نے خوش آئند قراردیتے ہوئے کہا کہ 16 ماہ پی ڈی ایم جماعتوں نے خود کو قانون کے دائرے سے باہر نکالا،ان کے خلاف کیسز کھلنا بہت ضروری اور اچھی بات ہے۔کرپٹ لیڈروں کی جگہ جیل میں ہے اور تب ہی پاکستان ترقی کر سکتا ہے۔ امید ہے کہ نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ تمام جماعتیں مل کر بھی پاکستان کو ٹھیک نہیں کر سکتیں۔ 16 ماہ میں پی ڈی ایم نے صرف قرضے لیے اور عیاشیاں کیں۔16 ماہ میں نیب ترامیم کر کے بڑی بڑی شخصیات کے کیسز ختم کرائے گئے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بنچ نے نیب ترامیم کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست کو قابل سماعت قرار دیا اورکچھ شقیں کالعدم قرار دیدیںجس کے بعد مختلف سیاستدانوں کے خلاف نیب کے مقدمات بحال ہوگئے ہیں۔سپریم کورٹ نے پلی بارگین سے متعلق ترامیم کالعدم قرار دیتے ہوئے ہوئے نیب کو7 دن میں ریکارڈ متعلقہ عدالتوں کو بھیجنے کاحکم دیا ہے کہ کرپشن کیسز جہاں تھے7 دن میں وہیں سے شروع کیے جائیں۔اس موقع پر سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکلاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں جس نے مجھ سے ملک اور انصاف کی خدمت لی، اللہ کے لئے اپنا فریضہ ادا کیا۔ ہمارا فریضہ ہے کہ سب کو تحمل سے سنیں۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ نیب ترامیم آرٹیکل 9 ، 14 ، 24 اور 25 متصادم ہیں۔ پارلیمنٹ نے ترامیم کے ذریعے 50 کروڑ سے کم کرپشن معاف کرکے عدلیہ کا اختیار استعمال کیا۔ این آر او کیس میں بھی عدالت کا موقف تھا کہ کیسز عدلیہ ہی ختم کر سکتی ہے۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیب قانون میں کرپشن کی حد 50 کروڑ تک کرنا عوامی نمائندوں کو معافی دینے کے مترادف ہے۔ معافی کا اختیار صرف عدالت یا سزا کے بعد صدر مملکت کو ہے۔ پارلیمنٹ نے ترامیم کے ذریعے 50 کروڑ سے کم کی کرپشن معاف کرکے عدلیہ کا اختیار استعمال کیا اور 598 ریفرنسز میں سے صرف 54 ریفرنسز دیگر عدالتوں کومنتقل ہوئے۔ کرپشن کے بیشتر ملزمان کے اثاثے بیرون ملک موجود ہیں، آمدن سے زائد اثاثوں پر حساب نہ ہو تو عوام کا کرپشن کی نذر ہونے والا پیسہ ریکور نہیں ہوسکے گا۔
نیب کے قانون میں 27 ترامیم سے متعلق بل گذشتہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے مئی 2022 میں منظور کیا گیا تھا تاہم صدر عارف علوی نے اس بل پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت نے جون 2022 قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر اس کی منظوری دی تھی۔اس قانون سازی کے تحت بہت سے معاملات کو نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان ترامیم کو قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے آغاز سے نافذ سمجھا جائے گا۔پی ڈی ایم حکومت کے دور میں ہونے والی نیب ترامیم کے تحت 50 کروڑ سے کم کے کرپشن مقدمات پر نیب کا دائرہ اختیار ختم کردیا تھا۔پہلی نیب ترامیم کی دفعہ 2میں متعدد عوامی عہدوں کو نیب دائرہ اختیار سے باہر کیا گیا، دوسری نیب ترامیم کی دفعہ 3میں 50کروڑ سے کم مالیت کے ریفرنس نیب دائرہ اختیار سے باہر کیے گئے۔فیصلے میں کہا گیاکہ پہلی نیب ترامیم کی دفعہ 8میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کی شق 9اے فائیو میں نئے اجزا شامل کیے گئے، شق 9اے فائیو آمدن سے زائد اثاثہ جات کے جرم سے متعلق ہے۔ان ترامیم میں چیئرمین نیب اور بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل کی مدت ملازمت میں بھی ایک برس کی کمی کر کے اسے تین سال کر دیا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ نیب کا ڈپٹی چیئرمین، چیئرمین کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بیورو کا قائم مقام چیئرمین بنے گا۔ایک ترمیم کے تحت احتساب عدالتوں کے ججوں کے لیے بھی تین سال کی مدت بھی مقرر کی گئی تھی اور عدالتوں کو ایک سال کے اندر مقدمے کا فیصلہ کرنے کا پابند بھی بنایا گیا تھا۔ ترمیمی قانون کے تحت نیب کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ ملزم کی گرفتاری سے قبل اس کے خلاف شواہد کی دستیابی کو یقینی بنائے۔
ان ترامیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں متعدد سابق وزرائے اعظم سمیت ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کے کلیدی رہنما بھی شامل تھے۔سپریم کورٹ کی طرف سے نیب ترامیم کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد آصف علی زرداری کے جعلی اکاؤنٹ کیسز واپس احتساب عدالت کو منتقل ہو جائیں گے اور سابق وزیراعظم شاید خاقان عباسی کا ایل این جی کیس اسپیشل جج سینٹرل سے احتساب عدالت کو واپس منتقل ہوگا۔ نواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کا توشہ خانہ کیس واپس احتساب عدالت کو منتقل ہوگا جبکہ مراد علی شاہ کے خلاف نیب ریفرنس بھی واپس احتساب عدالت کو منتقل ہوگا۔ سلیم مانڈوی والا کے خلاف کڈنی ہل ریفرنس اور اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس واپس احتساب عدالت کو منتقل ہوگا۔سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور کیسز بھی بحال ہوں گے۔اسی طرح سابق وزیراعظم شوکت عزیز ، سابق وزیرخزانہ شوکت ترین کیخلاف مقدمات بھی دوبارہ کھل جائینگے۔لاہور کی احتساب عدالتوں میں متعدد کیسزبھی بحال ہوگئے ہیں جن میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس ، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کے خلاف پیرا گون ہاؤسنگ ریفرنس بھی بحال ہوگیا۔سپریم کورٹ میں نیب قانون میں تبدیلی سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست میں فرزانہ راجہ، یوسف رضا گیلانی، سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان بھی شامل، آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید اور انکے بیٹے بھی فائدہ اٹھانے والوں میں شامل، سابق وزیراعظم شوکت عزیز، ظفر گوندل، صادق عمرانی ، نواب اسلم رئیسانی، لشکری رعیسانی، اسفند یار کاکڑ کو بھی نیب ترامیم سے فائدہ پہنچا۔ اسی طرح سے ارباب عالمگیر، عاصمہ ارباب عالمگیر، شیر اعظم وزیر بھی نیب ترامیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔عدالتی فیصلے سے 450 سے زائدسابق ارکان پارلیمنٹ،حاضرسروس اورریٹائرافسران اورکچھ پرائیویٹ کاروباری حضرات نیب کے ریڈارپر آگئے ہیں ۔ تقریباً 1809 ریفرنسز، انوسٹی گیشنز،انکوائریاںاورشکایات دوبارہ کھل گئی ہیں۔ سپریم کورٹ نے تمام 700 ارب روپے کے ہزاروں کرپشن کیسز، انویسٹگیشن اور انکوائریاں دوبارہ کھولنے کا حکم دے دیا۔سابق7وزرائے اعظم ،14وزر اء اعلی، 78وزرا،176ایم پی اور114افسران کے کیس کھل گئے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کوفیہ فلسطینی مزاحمت کی علامت ہے ! وجود جمعرات 30 مئی 2024
کوفیہ فلسطینی مزاحمت کی علامت ہے !

امن دستوں کا عالمی دن۔پاک فوج کا کردار وجود جمعرات 30 مئی 2024
امن دستوں کا عالمی دن۔پاک فوج کا کردار

وسعت افلاک میں تکبیرِمسلسل وجود جمعرات 30 مئی 2024
وسعت افلاک میں تکبیرِمسلسل

چائے پانی وجود بدھ 29 مئی 2024
چائے پانی

دلی والے : ہاتھ میں جھاڑو دل میں کیا؟ وجود بدھ 29 مئی 2024
دلی والے : ہاتھ میں جھاڑو دل میں کیا؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر