وجود

... loading ...

وجود

عام انتخابات اور صدرکی تجویز

هفته 16 ستمبر 2023 عام انتخابات اور صدرکی تجویز

حمیداللہ بھٹی

جمہورکو اقتدار میں شامل کرنے کا ذریعہ انتخابات ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ نو اگست کو قومی اسمبلی تحلیل ہوئی مگر ابھی تک اِدارے آئندہ عام انتخابات کے لیے کسی تاریخ کا تعین نہیں کرسکے۔ جب بھی کسی تاریخ کے تعین کی بات ہوتی ہے تو کچھ عناصررخنہ ڈالنے آدھمکتے ہیں۔ الیکشن عمل سے فرارمیں شکست کا خوف کارفرماہوسکتاہے۔ اسی بناپر متوحش عناصر حیلے بہانے سے التوا چاہتے ہیں حالانکہ بلاسبب التوا جمہوریت کی خدمت نہیں۔ صدرِ مملکت عارف علوی نے چھ نومبر کو ایک ہی دن قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرانے کی تجویز دی ہے۔ بظاہر اِس تجویز کو الیکشن کمیشن کی طرف سے قبول کیاجانا محال ہے۔ اِس اندازے کی وجہ یہ ہے کہ صدر کی دعوت کے باوجود جس اِدارے کا سربراہ ملاقات کرنے سے انکاری ہو، وہ کسی تجویز کی بھی پزیرائی نہیں کر سکتا۔ قومی امور پر نگاہ رکھنے والے مکاتبِ فکر صدر کی طرف سے ملاقات کی دعوت ٹھکرائے جانے پر ہنوز حیران ہیں۔ حالانکہ امریکی اور برطانوی سفیروں سے چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ نے بخوشی ملاقاتیں کیں اور تجاویز سُن کر عملدرآمد کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی جس پرسنجیدہ فکر لوگوں نے ملک کی آزادی وخودمختاری کے حوالے سے سوالات اُٹھائے۔ ملک کے مخدوش معاشی حالات سیاسی استحکام کے متقاضی ہیں لیکن اہم ترین اِداروں نے ایک دوسرے کی عزت وتوقیر سے کھیلنا شروع کررکھاہے اور ایک قسم کی ضد پرمبنی پالیسی رائج نظر آتی ہے۔ اب تو عام کہا جانے لگا ہے کہ جس اِدارے کی ذمہ داری ملک میں آزادانہ و منصفانہ الیکشن کا نعقاد یقینی بنانا ہے، وہ آئینی دفعات کا سہارا لے کر تاخیری حربوں کی کوشش میں مصروف ہے۔ ظاہر ہے ایسے طرزِ عمل کو ناتو آئین وقانون کے مطابق کہا جا سکتا ہے نہ ہی تحسین کی جا سکتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آئینی حدودکے اندررہ کر انتخابات کویقینی بنائے فرائض سے فرارکے لیے مصنوعی ہتھکنڈوں پر انحصار صائب طرزِ عمل نہیں ۔
صدر نے دو ہفتوںکے دوران الیکشن کمیشن کو دو خطوط ارسال کیے ہیں مگر جواب میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنانے کی بجائے یہ باور کرانے پرزورہے کہ اپنے کام سے کام رکھیں ہمیں سمجھانے کی ضرورت نہیں۔ ہوناتو یہ چاہیے کہ اگر آنے والی کوئی تجویز قبول نہیں تو کسی مناسب دن کااعلان کرتے ہوئے سب کے منہ بند کردیے جائیں لیکن الیکشن کمیشن تاریخ کا اعلان اپنا اختیارسمجھتاہے مگر یہی اختیار استعمال کرنے سے بھی پس و پیش سے کام لے رہا ہے۔ صدر سے ملاقات پر آمادہ وتیار نہ ہونے والے اِدارے کے سربراہ کاعالمی طاقتوں کے سفیروں سے ملنا اور انتخابی عمل کے بابت یقین دہانیاں کرانا کم سے کم الفاظ میں ملک کے اعلیٰ ترین آئینی منصب کی توہین ہے۔ اگر ایسی روش پر دیگر اِدارے بھی چل پڑے تو ملک میں سیاسی بحران بڑھنے کے ساتھ آئینی بحران کا امکان بڑھ جائے گا۔حالات کا تقاضا ہے کہ ہوش مندی اور سنجیدہ فکری کا مظاہرہ کیا جائے تاخیری حربے نہیں ذمہ داریوں کی ادائیگی ہی مستحسن ہے۔ اِدارے ذہن میں رکھیں اختیارات کی جنگ کہیں ملک کوکمزورجمہوریت سے بھی محروم نہ کر دے۔ صدرنے عام انتخابات بارے تاریخ تجویز کرتے ہوئے اِس معاملے میں مزید رہنمائی کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ قبل ازیں صدر کے خط میں چیف الیکشن کمشنر نے وزارتِ قانون سے رائے طلب کی جس نے تاریخ کے تعین کا اختیار الیکشن کمیشن کاحق قرار دیا۔مگر عدالت سے آئین سے متجاوز کسی حربے کو پزیرائی نہیں مل سکتی۔ اب تو پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی جیسی جماعتیں الیکشن کمیشن کے طرزِ عمل پر تنقید کرنے لگی ہیں۔ بظاہرایسا محسوس ہوتا ہے کوئی جواز پیش کرنے یا سیاسی جماعتوں کو مطمئن کرنے کی بجائے مطالبات، تنقید اورالزام تراشی کو پائے حقارت سے ٹھکرایا جا رہا ہے۔ حالانکہ اگر سنجیدگی ،دانش اور حکمت سے کام لیا جائے تو انتخابی تاریخ کے تعین کا مسئلہ ایسا نہیں جو حل نہ ہو سکے ۔
سپریم کورٹ ملک میںآئین و قانون کی تشریح کا سب سے بڑا اِدارہ ہے سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صد ر عابد زبیری کی طرف سے دیے گئے الوداعی عشایئے سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس عمرعطابندیال غیرمبہم الفاظ میںکہہ چکے ہیں کہ نوے روز میں الیکشن کے انعقادکا آئین میں واضح حکم ہے تو پھر باربار تکرارکیوں کی جارہی ہے؟اُن کی سربراہی میں ایک بینچ نے پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے الیکشن کرانے کی تاریخ دی لیکن حکومت اور الیکشن کمیشن نے جس طرح عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہونے دیا،اُسے کسی صورت قابل تعریف یا قابل رشک نہیں کہا جا سکتا۔ اب بھی ایک بارپھر معاملہ عدلیہ کی طرف جا سکتا ہے کیونکہ عام انتخابات کے التوا بارے الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کا موقف یکساں ہے ۔نگران وزیرِ اعظم انوارالحق کاکڑ ایک ٹی وی سے گفتگو کے دوران برملا کہہ چکے ہیں کہ الیکشن کمیشن تیاریاں مکمل کرنے کے بعد ملک میں عام انتخابات کی حتمی تاریخ دے گا۔ اِس حوالے سے جنوری کے وسط یا اختتام پر کوئی دن رکھا جا سکتا ہے صدر کی تجویز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے الیکشن تاریخ کی تجویز دی ہے جبکہ انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا اختیار الیکشن کمیشن کاہے جس سے کوئی ابہام نہیں رہا کہ پی ڈی ایم کی حکومت کی طرح اب نگران حکومت بھی الیکشن کے التوا میں الیکشن کمیشن کے ساتھ ہے۔ ظاہرہے اِن حالات میںصدر کی تجویز کے قبول کیے جانے کا امکان نہیں اور چھ نومبر کی تجویز دینے کا عمل بھی ایک اور لاحاصل سعی تک محدودرہ سکتاہے۔
حیران کُن امر یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اورنگران حکومت کی طرح ن لیگ بھی الیکشن کے التوا پر متفق ہے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ا سپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن نے نگران وزیرِ اعظم کے سیکریٹری توقیر شاہ کوایک مراسلہ بھیجاہے کہ ایسا تاثر دیاجارہاہے جیسے نگران حکومت سابق حکومت کا تسلسل ہے ۔مراسلے میں وفاقی کابینہ میں سیاسی افراد کی شمولیت پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے لیکن مراسلہ ارسا ل کرتے ہوئے اِس حقیقت کو فراموش کردیا گیا ہے کہ شہباز شریف کی وزارتِ عظمیٰ میں اُن کے ساتھ توقیر شاہ بطورپرنسپل سیکریٹری کام کرتے رہے اور شہبازشریف کی سفارش پر ہی اب تک اپنے عہدے پرموجودہیں۔ ایسے اقدمات پر ہی نگران حکومت کوجانبداراور سابق حکومت کا تسلسل کہنے کے جواز ملتے ہیں مگر الیکشن کمیشن اِس حوالے سے کسی قسم کی ہدایات جاری کرنے یا ایکشن لینے پر آمادہ نہیں جس سے تمام مکاتب فکر یہ پیغام لیتے ہیں کہ جو بھی ہورہا ہے اُس میں الیکشن کمیشن کی مرضی و منشا شامل ہے۔
اِس میں کوئی ابہام نہیں رہا کہ کچھ جماعتیں فوری طورپر انتخابات کا خطرہ مول لینے کوتیارنہیں کیونکہ ناقص کارکردگی کی بناپر انھیں عام انتخابات میں عوامی عتاب کاخدشہ ہے ۔یہ معیشت کے نام پرکچھ عرصہ انتخابی عمل کا التواچاہتی ہیں جن میں سرفہرست ن لیگ ہے ۔یہ سوچ جمہوری نہیں اگر ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرنا اور جمہور کو قومی معاملات میں شامل رکھناہے تو آئین کے مطابق انتخابی عمل مکمل کرنا ہوگا لیکن حالات سے ایسے اِشارے ملتے ہیں کہ آئین کی پاسداری کی بجائے مخصوص چہروں کو روکنے کے لیے انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے۔ جمہوریت پسند ہونے کی دعویدارکچھ سیاسی جماعتوں کا ایسے عمل کی حوصلہ افزائی کرنا ایسے خدشات کو تقویت دیتا ہے کہ ملک میں عام انتخابات اگلے برس تک معرضِ التوا میں ڈالے جا سکتے ہیں۔ اسی لیے بعید از قیاس نہیں کہ صدر کی طرف سے عام انتخابات کے بارے میں تجویز کی گئی چھ نومبرکی تاریخ پر عملدرآمدکی نوبت ہی نہ آئے۔

 


متعلقہ خبریں


مضامین
بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے! وجود جمعه 19 جولائی 2024
بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے!

نیلسن منڈیلا ۔قیدی سے صدر بننے تک کا سفر وجود جمعه 19 جولائی 2024
نیلسن منڈیلا ۔قیدی سے صدر بننے تک کا سفر

سیکرٹ سروس کے منصوبے خاک میں مل گئے ! وجود جمعه 19 جولائی 2024
سیکرٹ سروس کے منصوبے خاک میں مل گئے !

معرکۂ کرب و بلا جاری ہے!!! وجود بدھ 17 جولائی 2024
معرکۂ کرب و بلا جاری ہے!!!

عوام کی طاقت کے سامنے وجود بدھ 17 جولائی 2024
عوام کی طاقت کے سامنے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں وجود پیر 08 جولائی 2024
امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں

رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر