وجود

... loading ...

وجود

نیب ترامیم کالعدم قرار، نیب مقدمات پرانی پوزیشن پر بحال

جمعه 15 ستمبر 2023 نیب ترامیم کالعدم قرار، نیب مقدمات پرانی پوزیشن پر بحال

سپریم کورٹ آف پاکستان نے دو، ایک کی اکثریت سے نیب آرڈیننس 1999میں 2022 میں پی ڈی ایم حکومت کے دور میں ہونے والی ترامیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام نیب مقدمات پرانی پوزیشن پر بحال کردیے۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ نیب عدالتیں قانون کے مطابق نیب ریفرنسز کا فیصلہ کریں۔ عدالت نے قراردیا ہے کہ نیب عدالتیں جتنے بھی ریفرنس دائرہ اختیار نہ ہونے کی وجہ سے واپس کیے گئے تھے انہیں ایک ہفتے کے اندر پرانی سطح پر بحال کریں۔ عدالت کی جانب سے مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا۔ جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ فیصلہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پڑھ کر سنایا۔ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سید منصور علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 2022 نیب میں نیب قانون میں ہونے والی کے خلاف دائر درخواست منظور کرتے ہوئے نیب ترامیم کی 10 میں سے 9 شقوں کو کالعدم قرار دے دیا جبکہ جسٹس سید منصور علی شاہ کی جانب سے اختلافی نوٹ بھی لکھا گیا ہے۔ عدالت کی جانب سے جمعہ کے روز ایک پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں بتایا گیا تھا کہ نیب ترامیم کے خلاف چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ دن سوا بارہ بجے فیصلہ سنائے گا۔ تاہم چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ پورے 1 بجے کمرہ عدالت میں داخل ہوا اور فیصلے کا آپریٹو حصہ پڑھ کر سنایا۔ چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فیصلہ دو، ایک کی اکثریت سے سنایا جا رہا ہے، جسٹس سید منصور علی شاہ نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں عوامی عہدوں پر موجود شخصیات کے خلاف کیسز بحال کر دیے جبکہ نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت دے دی گئی۔ سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قرار دی ہیں ، عدالت نے نیب کو 7 دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بے نامی کی تعریف سے متعلق نیب ترمیم اور آمدن سے زائد اثاثوں کی تعریف تبدیل کرنے کی شق بھی کالعدم قرار دے دی گئی، سپریم کورٹ نے مقدمہ ثابت کرنے کا بوجھ نیب پر ڈالنے کی شق بھی کالعدم قرار دے دی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 500 ملین کی حد تک کے ریفرنس نیب دائرہ کار سے خارج قرار دینے کی شق کالعدم قرار دی جاتی ہے تاہم عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں سروس آف پاکستان کے خلاف ریفرنس فائل کرنے کی شق بحال رکھی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کالعدم قرار دی گئی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کارروائی کرے، آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی، پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔فیصلے میں احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیے گئے ہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کیے جاتے ہیں، عوامی عہدوں کے ریفرنس ختم ہونے سے متعلق نیب ترامیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن 14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔ عدالت نے 50 کروڑ کی حد سے کم ہونے پر ختم ہونے والے تمام مقدمات بحال کردیے اور کہا کہ تمام ختم انکوائریز، کیسز بحال کیے جاتے ہیں، تمام کیسز نیب عدالتوں اور احتساب عدالتوں میں دوبارہ مقرر کیے جائیں۔ عدالت نے نیب کو 7 دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں کو بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں، احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے، نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں۔ فیصلہ سنائے جانے کے وقت صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد شاہد زبیری، ایڈیشل اٹارنی جنرل چوہدری عامر رحمان، اسپیشل پراسیکیوٹر نیب ستار محمد اعوان، پی ٹی آئی وکلاء شعیب احمد شاہین، توفیق آصف، نعیم حیدر پنجوتھا کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ جبکہ وکلاء اورصحافیوں کی بھی تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی۔ یاد رہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 2022 میں ہونے والی نیب ترامیم کے خلاف درخواست دائر کی تھی، سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر 53 سماعتیں کیں۔ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے 5 ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا اور اس حوالے سے جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا ریٹائرمنٹ سے پہلے اس اہم کیس کا شارٹ اینڈ سویٹ آرڈرسنا کر جاؤں گا۔واضح رہے کہ جون 2022 میں چیئرمین پی ٹی آئی نے قومی احتساب بیورو(نیب) آرڈیننس میں نیشنل اکانٹیبلٹی بیورو (سیکنڈ امینڈمنٹ) ایکٹ 2022 کے تحت کی گئی ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ فیصلے سے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے جعلی اکاؤنٹ کیسز واپس احتساب عدالت کو منتقل ہو جائیں گے اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا ایل این جی کیس اسپیشل جج سینٹرل سے احتساب عدالت کو واپس منتقل ہوگا۔ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، سابق صدر آصف زرداری اورسابق وزیر اعظم مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کا توشہ خانہ کیس واپس احتساب عدالت کو منتقل ہوگا جبکہ سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے خلاف نیب ریفرنس بھی واپس احتساب عدالت کو منتقل ہوگا۔ سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹرسلیم مانڈوی والا کے خلاف کڈنی ہل ریفرنس اور سابق وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس واپس احتساب عدالت کو منتقل ہوگا۔ سابق وزیراعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاؤر کیسز بھی بحال ہوں گے۔ نیب ترامیم کیس میں چیف جسٹس پاکستان کے پوچھے گئے سوال کا جواب حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے 9 ستمبر کو جمع کروایا تھا۔ تحریری جواب پانچ صفحات پر مشتمل تھا۔ چیف جسٹس پاکستان نے عدالتی معاون کے ذریعے سوال بھجوایا تھا۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کے خلاف کیس میں فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز دی تھی۔


متعلقہ خبریں


ایڈہاک ججز کی تعیناتی مسترد، تحریک انصاف کاسپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان وجود - جمعه 19 جولائی 2024

پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے ایڈہاک ججز کی تعیناتی کو مسترد کردیا ہے ۔چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تعیناتی بدنیتی پر مبنی ہے ۔ ایڈہاک ججز کی تعیناتی کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیج رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد اپن...

ایڈہاک ججز کی تعیناتی مسترد، تحریک انصاف کاسپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

پاک فوج دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں میشہ آگے رہی ہے، آرمی چیف وجود - جمعه 19 جولائی 2024

پاک فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی 97ویں تقریب میں چینی سفیر نے کہا کہ کوئی بھی طاقت پاکستان اور چین کی دوستی اور دونوں افواج کے درمیان پائے جانے والے بھائی چارے کو ختم نہیں کرسکتی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان میں ک...

پاک فوج دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں میشہ آگے رہی ہے، آرمی چیف

غزہ میںوحشی اسرائیل کا جنگی جنون کم نہ ہو سکا، 80سے زائد فلسطینی شہید وجود - جمعه 19 جولائی 2024

ہزاروں معصوم فلسطینیوں کو شہید کرنے کے باوجود وحشی اسرائیل کا جنگی جنون کم نہ ہو سکا، غزہ میں فضائی حملوں کے نتیجے میں 24 گھنٹوں میں بچوں سمیت مزید 80 سے زائد شہری شہید ہو گئے ہیں۔دوسری جانب حماس کے جنگجوؤں نے بھی اسرائیلی حملوں کے جواب میں مارٹر گولوں اور بارودی سرنگوں سے صیہونی...

غزہ میںوحشی اسرائیل کا جنگی جنون کم نہ ہو سکا، 80سے زائد فلسطینی شہید

اٹارنی جنرل کی صنم جاوید کو دوبارہ گرفتار نہ کرنے کی یقین دہانی وجود - جمعه 19 جولائی 2024

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما صنم جاوید کی گرفتاری غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کی درخواست نمٹا دی۔پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کی رہائی سے متعلق درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی۔دوران سماعت اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان نے عدالت کو بتایا ...

اٹارنی جنرل کی صنم جاوید کو دوبارہ گرفتار نہ کرنے کی یقین دہانی

کراچی میں ہیٹ ویو کی لہر ، وکیلوں نے کالا کوٹ پہننے سے استثنیٰ مانگ لیا وجود - جمعه 19 جولائی 2024

شہر میں ہیٹ ویو کی لہر کے پیش نظر کراچی بار ایسوسی ایشن نے کالا کوٹ پہننے سے استثنیٰ مانگ لیا۔بار ایسوسی ایشن نے سیشنز ججز کو خط لکھ دیاجنرل سیکریٹری کراچی بار کے مطابق موسم کی شدت کی وجہ سے وکلاء کو دس روز کیلئے کالا کوٹ پہننے سے استثنیٰ دیاجائے کراچی ان دنوں غیر معمولی ہیٹ وے ک...

کراچی میں ہیٹ ویو کی لہر ، وکیلوں نے کالا کوٹ پہننے سے استثنیٰ مانگ لیا

آئندہ ماہ بجلی صارفین کو ایک یونٹ 70روپے کا پڑے گا وجود - جمعه 19 جولائی 2024

حکومت نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کیا گیا اضافہ اور نئے فکس چارجز بجلی کے نئے بلوں میں شامل کرلیے ۔ آئندہ ماہ نئے ٹیرف پر مکمل منتقلی اور نئے ٹیکسز کے بعد صارفین کو بجلی کا ایک یونٹ مجموعی طور پر ستر روپے کا پڑے گا۔ بجلی صارفین کو موصول ہونے والے نئے بلوں میں نان پیک آور کا یونٹ پ...

آئندہ ماہ بجلی صارفین کو ایک یونٹ 70روپے کا پڑے گا

بنوں ،ڈی آئی خان میں دہشت گرد حملے(10 فوجی جوان،5 شہری شہید، 13 دہشتگرد ہلاک) وجود - بدھ 17 جولائی 2024

دہشت گردوں کے گروہ نے بارود سے بھری گاڑی بنوںچھاؤنی کی دیوار سے ٹکرا دی، ملحقہ انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچا،چھاؤنی میں داخل ہونے کی کوشش کو سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ناکام بنا دیاڈی آئی خان میں دہشت گردوں کاہیلتھ مرکز کری شموزئی پر حملہ، عملے پر اندھا دھند فائرنگسے دو لیڈی ...

بنوں ،ڈی آئی خان میں دہشت گرد حملے(10 فوجی جوان،5 شہری شہید، 13 دہشتگرد ہلاک)

بنوں چھاؤنی پر خودکش حملہ 8جوان شہید، 10دہشت گرد ہلاک وجود - بدھ 17 جولائی 2024

بنوں چھاؤنی پر خودکش حملے میں پاک فوج کے 8جوان شہید ہو گئے جب کہ جوابی کارروائی میں 10دہشت گرد مارے گئے ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 15 جولائی کی صبح 10 دہشت گردوں کے ایک گروہ نے بنوں چھاونی پر حملہ کیا اور چھاونی میں داخل ہونے کی کوشش کی، جسے سکیورٹی فور...

بنوں چھاؤنی پر خودکش حملہ 8جوان شہید، 10دہشت گرد ہلاک

مسقط میں مجلس پر حملہ، فائرنگ سے 4 پاکستانیوں سمیت 9 افراد جاں بحق وجود - بدھ 17 جولائی 2024

عمان کے دارالحکومت میں مسجد میں فائرنگ کے واقعے میں 4پاکستانیوں سمیت 9افراد جاں بحق اور 30سے زائد زخمی ہوگئے ۔عرب میڈیا کے مطابق فائرنگ کا واقعہ عمان کی الوادی الکبیر کے علاقے میں واقع امام علی مسجد میں پیش آیا۔ فائرنگ کے وقت مسجد میں 700سے زائد افراد موجود تھے ۔مقامی میڈیا کا ک...

مسقط میں مجلس پر حملہ، فائرنگ سے 4 پاکستانیوں سمیت 9 افراد جاں بحق

ڈی آئی خان میں ہیلتھ مرکز پر حملہ، پانچ شہری ، دو جوان شہید، تین دہشت گرد ہلاک وجود - بدھ 17 جولائی 2024

ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں کے ہیلتھ مرکز پر حملے میں پانچ شہری اور سپاہی شہید ہوگئے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں رورل ہیلتھ سینٹر کری شموزئی پر بزدلانہ حملہ کیا، دہشت گردوں نے رورل ہیلتھ سینٹر کے عملے پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے دو لیڈ...

ڈی آئی خان میں ہیلتھ مرکز پر حملہ، پانچ شہری ، دو جوان شہید، تین دہشت گرد ہلاک

کسی کو پر تشدد احتجاج کا نہیں کہا، 9مئی واقعات کی آزادانہ تحقیقات نہیں ہوئی، عمران خان وجود - منگل 16 جولائی 2024

بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ میں نے 9مئی کا واقعہ نہیں کروایا، میرا ان واقعات سے تعلق نہیں۔انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف 9مئی کے مقدمات کی سماعت کے دوران 12 مقدمات میں عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی حاضری ویڈیو ل...

کسی کو پر تشدد احتجاج کا نہیں کہا، 9مئی واقعات کی آزادانہ تحقیقات نہیں ہوئی، عمران خان

70فیصد فیڈرلوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ،30فیصد فیڈر پر چوری کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ وجود - منگل 16 جولائی 2024

سندھ ہائیکورٹ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے سے متعلق کے الیکٹرک نے جواب جمع کرادیا سندھ ہائی کورٹ میں ہیٹ ویو میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے سے متعلق جماعت اسلامی کی درخواست پر سماعت ہوئی دوران سماعت کے الیکٹرک جواب کے مطابق کراچی میں ہمارے ستر فیصد فیڈرز لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں...

70فیصد فیڈرلوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ،30فیصد فیڈر پر چوری کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ

مضامین
بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے! وجود جمعه 19 جولائی 2024
بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے!

نیلسن منڈیلا ۔قیدی سے صدر بننے تک کا سفر وجود جمعه 19 جولائی 2024
نیلسن منڈیلا ۔قیدی سے صدر بننے تک کا سفر

سیکرٹ سروس کے منصوبے خاک میں مل گئے ! وجود جمعه 19 جولائی 2024
سیکرٹ سروس کے منصوبے خاک میں مل گئے !

معرکۂ کرب و بلا جاری ہے!!! وجود بدھ 17 جولائی 2024
معرکۂ کرب و بلا جاری ہے!!!

عوام کی طاقت کے سامنے وجود بدھ 17 جولائی 2024
عوام کی طاقت کے سامنے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں وجود پیر 08 جولائی 2024
امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں

رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر