وجود

... loading ...

وجود
وجود

چترال سمیت دیگر جگہوں پر افغانستان سے دہشتگرد حملے تشویشناک ہیں، پاکستان

جمعرات 14 ستمبر 2023 چترال سمیت دیگر جگہوں پر افغانستان سے دہشتگرد حملے تشویشناک ہیں، پاکستان

پاکستان نے ایک بار پھر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چترال سمیت دیگر مقامات پر افغانستان سے دہشتگرد حملے ہوئے، افغانستان کی قائم مقام حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے اقدامات یقینی بنائے، بھارت کے نقشے میں دکھائے گئے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کے زیر انتظام ہیں، کسی بھی نقشے میں مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھانا غیر قانونی ہے، ایسے کسی بھی نقشے کو قبول نہیں کیا جائے گا،وزیراعظم 22 ستمبر کو یو این جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے،سی پیک کی آفادیت دیکھنے کیلئے غیر ملکی سفرا کو خوش آمدید کہتے ہیں، آرمی چیف کا دورہ ترکیہ دونوں ممالک کے درمیان اعلی سطح کے رابطوں کے فروغ کیلئے ہے۔ترجمان دفترخارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ افغانستان کی قائم مقام حکومت سے تعلقات قائم کرنے اور اسے تسلیم کرنے کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن تبدیل نہیں ہوئی، افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ کو نیک نیتی سے معاونت دی ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ کو غلط استعمال کیا جا رہا ہے، پاکستان کو افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال پر کچھ تحفظات ہیں، پاکستان نے افغان حکام کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان نے افغان بھائیوں کو کھلے بازوں سے خوش آمدید کہا لیکن حکومت پاکستان نے اپنے قوانین پر عملدرامد کو بھی یقینی بنانا ہے، پاکستان حالات کا جائزہ لے کر ہی طورخم سرحد کھولنے کا فیصلہ کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاک افغان تجارت میں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان اس تجارت میں اضافے کے لیے سہولیات فراہم کر رہا ہے، افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے میں بھارت سے واہگہ کے ذریعے سڑک سے تجارت شامل نہیں ہے، افغانستان سے بعض چینلز کے ذریعے بات ہو رہی ہے مگر ابھی کوئی نتیجہ خیز بات نہیں ہوئی، پاکستان اور افغانستان کے بات چیت کے لیے سفارتخانے سمیت مختلف چینلز ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، چترال سمیت دیگر جگہوں پر افغانستان سے دہشتگردانہ حملے ہوئے، افغان عبوری حکومت یقینی بنائے کہ پاکستان کو افغان سر زمین سے خطرات درپیش نہ ہوں۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، کشمیر میں آئے روز اغوا، زیادتی اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے نقشے میں دکھائے گئے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کے زیر انتظام ہیں، کسی بھی نقشے میں مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھانا غیر قانونی ہے، ایسے کسی بھی نقشے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ 18 سے 23 ستمبر تک یو این جنرل اسمبلی کی بحث میں شرکت کریں گے، نگران وزیر خارجہ بھی ان کے ہمراہ ہوں گے، نگران وزیر اعظم اہم شخصیات اور تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے، تاہم نگران وزیراعظم کی پرواز کی تفصیل ابھی آنا باقی ہیں۔انہوںنے کہاکہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، جنرل اسمبلی کے خطاب میں وزیراعظم مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر اظہار خیال کریں گے اور اجلاس میں دیگر ممالک کے نمائندوں سے بھی بات چیت کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں ممتاز زہرا بلوچ نے کہاکہ بھارت اپنے اندرونی سیاسی معاملات میں پاکستان کو گھسیٹتا ہے، گوادر سی پیک سے متعلق اہم منصوبہ ہے، سی پیک کے تحت بین الاقوامی سرمایہ کاری کو ویلکم کیا، غیر ملکی سفرا اور شخصیات کو بھی اس منصوبے کی افادیت دیکھنے کے لیے خوش آمدید کہتے ہیں، متعلقہ سفارتخانوں سے امید کرتے ہیں کہ وہ بھی دیکھیں کہ کیا ان کی سرگرمیوں کا عوامی تاثر کیا ہے، انہیں چاہیے کہ وہ یہ بھی دیکھیں کہ کیا انکی سرگرمیوں ملک میں جمہوریت کے استحکام میں مدد دے رہی ہیں یا نہیں؟۔پاک فوج کے سربراہ کے حالیہ دورہ ترکیہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ آرمی چیف کا دورہ ترکیہ دونوں ممالک کے درمیان اعلی سطح کے رابطوں کے فروغ کے لیے ہے، دورے میں پاکستان اور ترکیہ میں دفاعی تعاون کے فروغ کی کوشش کی جا رہی ہے، دورے میں آرمی چیف ترکیہ کی مسلح افواج کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہاکہ کامن ویلتھ میں نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے مختلف وزرا کے ساتھ سائیڈ لائنز پر ملاقاتیں کیں، ملاقاتوں میں علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، تعلیم سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر بھی بحث کی گئی۔


متعلقہ خبریں


سندھ میں30 کھرب 56 ارب روپے کابجٹ پیش وجود - هفته 15 جون 2024

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آئندہ مالی سال 25-2024کیلئے30 کھرب 56 ارب روپے کا بجٹ ایوان میں پیش کردیا ہے،سندھ حکومت نے تنخواہوں میں 22 سے 30 فیصد ،پنشن میں 15 فیصد اضافے،کم از کم اجرت 37,000 روپے مقررکرنے اورسالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 959 ارب روپے کا اعلان کیاہے۔وزیراع...

سندھ میں30 کھرب 56 ارب روپے کابجٹ پیش

حکومت کے پاس اختیار ہی نہیں ، مذاکرات کیا کریں،عمران خان وجود - هفته 15 جون 2024

بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت سے کیا مذاکرات کریں ان کے پاس تو اختیار ہی نہیں، پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دینے والے ججز پر دباؤ ڈالا جارہا ہے ، بجٹ نے تنخواہ دار طبقے کی کمر توڑ دی، پارٹی میں گروپ بندی کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا سخت ایکشن لوں گا۔اڈیالہ جیل میں 19...

حکومت کے پاس اختیار ہی نہیں ، مذاکرات کیا کریں،عمران خان

صنعتوں کیلئے بجلی کی قیمت میں 10 روپے 69 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 15 جون 2024

وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت میں 10 روپے 69 پیسے کی کمی کا اعلان کردیا۔وزیراعظم آفس کے مطابق پرائم نسٹر شہباز شریف نے ملکی صنعت اور برآمدات میں بڑے اضافے کے لیے اہم قدم اٹھالیا۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت میں 1...

صنعتوں کیلئے بجلی کی قیمت میں 10 روپے 69 پیسے کمی کا اعلان

بجٹ میں کراچی نظرانداز، کوئی نئی میگا اسکیم نہیں رکھی گئی وجود - هفته 15 جون 2024

سندھ کے آئندہ بجٹ میں کراچی کے لیے کوئی نئی میگا اسکیم نہیں رکھی گئی، جاری اسکیموں کے لیے ایک ارب 38 کروڑروپے مختص کیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ و وزیرخزانہ سندھ مراد علی شاہ نے مالی سال 25-2024 کے لیے 3056 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا، بجٹ میں ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ل...

بجٹ میں کراچی نظرانداز، کوئی نئی میگا اسکیم نہیں رکھی گئی

سندھ حکومت ملکی و غیر ملکی 1341ارب روپے کی مقروض نکلی وجود - هفته 15 جون 2024

سندھ حکومت کے رواں مال سال کے دوران ملکی و غیر ملکی قرضوں کا حجم 1341ارب تک پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت پر ملکی و غیرملکی قرضوں میں مالی سال 2023-24کے دوران 26فیصد اضافہ ہوا، مجموعی (مقامی و غیرملکی) قرضوں کی مالیت ایک ہزار 57ارب روپے سے بڑھ کر ایک ہزار 3...

سندھ حکومت ملکی و غیر ملکی 1341ارب روپے کی مقروض نکلی

وفاقی بجٹ مسترد، جیولری ایکسپورٹرز کا کارخانے بیرون ملک منتقل کرنے پر غور وجود - هفته 15 جون 2024

جیولری ایکسپورٹرز نے وفاقی حکومت کے پیش کیے گئے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کارخانے بیرون ملک منتقل کرنے پر غور شروع کردیا۔ سونے کے زیورات کے ایکسپورٹرز نے بھی وفاقی بجٹ کو برآمدات کش قرار دے دیا ہے ۔ چیئرمین پاکستان جم اینڈ جیولری ٹریڈرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن حبیب الرحمن کے مطا...

وفاقی بجٹ مسترد، جیولری ایکسپورٹرز کا کارخانے بیرون ملک منتقل کرنے پر غور

عدلیہ سے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت جلد ختم ہو جائے گی، چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ وجود - هفته 15 جون 2024

چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان کا کہنا ہے جلد عدلیہ سے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ختم ہو جائے گی۔راولپنڈی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان کا کہنا تھا کہ ہماری عدالتوں میں آج بھی ہزاروں مقدمات التواکا شکار ہیں ، ایک نسل مقدمہ کرتی ہے اور...

عدلیہ سے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت جلد ختم ہو جائے گی، چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ

18کھرب 87ارب روپے سے زائد کا سالانہ وفاقی بجٹ پیش وجود - جمعرات 13 جون 2024

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اپوزیشن کے شدید احتجاج اور شور شرابے میں 18کھرب 87ارب روپے سے زائد کا سالانہ بجٹ 2024-25 پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ گریڈ ایک سے 16 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 25 فیصد اضافے ،سرکاری ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافے کی تجویزہے ،کم از کم تن...

18کھرب 87ارب روپے سے زائد کا سالانہ وفاقی بجٹ پیش

فائلرز اور نان فائلرز پر ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز وجود - جمعرات 13 جون 2024

اسلام آباد (کامرس ڈیسک)وفاقی بجٹ 2024 میں آئندہ مالی سال کیلئے فائلرز اور نان فائلرز کے ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز ہے ۔بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال پراپرٹی پر کیپٹل گین پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز دی گئی ہیبجٹ دستاویز کے مطابق فائلرز کی شرح میں 15 فیصد جبکہ نان فائلرز ک...

فائلرز اور نان فائلرز پر ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز

بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس چھوڑ کر گھر روانہ ہوگئے وجود - جمعرات 13 جون 2024

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس چھوڑ کر گھر روانہ ہوگئے ۔قومی اسمبلی میں صحافی کی جانب سے بلاول بھٹو سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ اجلاس میں شرکت کریں گے ، جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں تو گھر جارہا ہوں۔اس سے قبل پیپلزپارٹی کی...

بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس چھوڑ کر گھر روانہ ہوگئے

پیپلزپارٹی کو پھر وفاقی کابینہ کا حصہ بننے کی دعوت وجود - جمعرات 13 جون 2024

وزیراعظم شہباز شریف نے بجٹ کے بعد کابینہ میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں سے سینئر سیاسی رہنماؤں کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نئے کابینہ ارکان کی شمولیت کیلئے ورکنگ مکمل کرلی ہے اور انہوں نے ای...

پیپلزپارٹی کو پھر وفاقی کابینہ کا حصہ بننے کی دعوت

حکومتی اخراجات میں کمی،کمیٹی کی وزیراعظم کو ابتدائی رپورٹ پیش وجود - جمعرات 13 جون 2024

حکومتی اخراجات کم کرنے کے حوالے سے تشکیل کی گئی کمیٹی نے وزیراعظم کو ابتدائی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کچھ سرکاری اداروں کو بند کرنے ، کئی اداروں کو ضم کرنے اور کچھ اداروں کو صوبوں کے حوالے کرنے کی سفارش کی ہے ۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت حکومتی اخراجات اور حکومتی ڈھانچے کا ح...

حکومتی اخراجات میں کمی،کمیٹی کی وزیراعظم کو ابتدائی رپورٹ پیش

مضامین
عمررسیدہ افراد خصوصی توجہ کے منتظر وجود هفته 15 جون 2024
عمررسیدہ افراد خصوصی توجہ کے منتظر

دورۂ چین سے توقعات اور حقیقت پسندی! وجود هفته 15 جون 2024
دورۂ چین سے توقعات اور حقیقت پسندی!

رات کاآخری پہر وجود هفته 15 جون 2024
رات کاآخری پہر

''را'' کی بلوچستان میں دہشت گردی وجود هفته 15 جون 2024
''را'' کی بلوچستان میں دہشت گردی

بجٹ اور میراثی وجود جمعه 14 جون 2024
بجٹ اور میراثی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر