وجود

... loading ...

وجود

نا اہل حکمرانوں نے ملک کو ڈبو دیا

بدھ 13 ستمبر 2023 نا اہل حکمرانوں نے ملک کو ڈبو دیا

ریاض احمدچودھری

نااہل اور کرپٹ حکمرانوں نے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔آئین پاکستان کے مطابق کے یہاں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بن سکتا۔لیکن اس پر عمل نہیں ہو سکا۔کرپشن، سود، شراب نوشی،جواء ، فحاشی، ملاوٹ،حق تلفی، سفارش کونسی اخلاقی برائی ہے جو ہم میں موجود نہیں،ان سب کاموں میں اشرافیہ کی بڑی تعداد ملوث ہے،ان سب جرائم پر غریبوں کو سخت سزائیں ملتی ہیں لیکن بااثر طبقہ آسانی سے بچ نکلتا ہے۔جس جذبہ کی پاکستان بناتے وقت ضرورت تھی۔ اس سے زیادہ ضرورت آج ہے۔
ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہر دور میں حکمرانوں نے عوام کے ساتھ دھوکا کیا۔ معیشت سود، کرپشن اور قرضوں کے بدترین دباؤ میں، مگر حکمرانوں کی نا اہلی اور شاہ خرچیاں عروج پر ہیں۔ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی نے ملک کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا، صرف جماعت اسلامی ہی پاکستان کو قرآن و سنت کے نظام کی طاقت سے موجودہ بحرانوں اور مسائل سے نکال سکتی ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں مردہ لاشیں بن چکیں اور یہ لوگ عوام پر بوجھ ہیں۔ حکمران پروٹوکول، مراعات اور تنخواہیں لیتے ہیں، عوام کے لیے معاشی، سیاسی اور اخلاقی تباہی کے یہی ذمہ دار ہیں۔ بلوچستان اور گوادر کے لوگوں کو دیوار سے لگانا، ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ بدامنی اور معاشی بدحالی کی ذمہ داری کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں۔سابقہ حکمران جماعتوں نے کوئی وعدہ پورا نہیں کیا، ہر روزبنیادی ضروریات کی اشیا میں بے انتہا اضافہ سے عوام کے 14طبق روشن ہو گئے ہیں۔ جماعت اسلامی ہر طبقہ فکر کے افراد کے حقوق کے تحفظ اور استحصال کے خلاف آواز بلند کرتی ہے۔ ملک میں جاری بدترین مہنگائی نے لوگوں کو فاقوں پر مجبور کر دیا ہے۔ حکمرانوں نے لاکھوں نوجوانوں کو بے روزگار کر دیا، قومی معیشت ڈیفالٹ کر رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 6.7ارب ڈالر کی نچلی ترین سطح پر ہیں۔ سفید پوش طبقات گھر کا راشن تک افورڈ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔جناب لیاقت بلوچ نائب امیر جماعت اسلامی،نے لاہور ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل ہمیشہ اْن لوگوں کا ہوتا ہے جو ہر طرح کی غلامی کو پامال کرکے صرف اللہ تعالیٰ کی غلامی اور بندگی قبول کرلیں۔ جماعت اسلامی کے کارکنان پاکستان کی بحران در بحران کی صورتِ حال میں عزم و ہمت کے ساتھ عوام میں اْمید، بیداری اور جھوٹ، فریب و ظلم کے نظام سے نجات کے لیے حوصلہ پیدا کردیں۔ باطل ماحول نے عوام پر اخلاقی، تہذیبی، معاشرتی تباہی مسلط کردی ہے۔ کارکنان خوش خلقی، قرآن و سنت کے پیغام اور دلیل کے ساتھ عوام کو قائل کریں۔ عوام پریشان اور مایوس ہیں، عوام نجات دہندہ کی تلاش میں ہیں۔صرف جماعت اسلامی ہی ملک کو درپیش مسائل اور موجودہ بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔ پرکشش نعروں اور جھوٹے وعدو ں کے سوا نہ موجودہ سیاست دانوں کے پاس کچھ ہے نا سابق کے پاس کچھ تھا۔ ان حکمرانوں کے پاس مسائل کا کوئی حل نہیں، یہ صرف مفادات کے اسیر ہیں۔ قوم جماعت اسلامی کو موقع دے۔جماعت اسلامی کے قائدین امانت دار بھی اور با صلاحیت بھی اور جذبہ خدمت سے سرشار بھی۔ ہماری سیاست غریبوں ، مزدوروں ، کسانوں کی سیاست ہے۔ ہم بلوچستان کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ جب جماعت اسلامی کی حکومت آئے گی انصاف،تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتیں ہر شخص کو مفت مہیا کی جائیں گی۔انصاف سب کیلئے عام ہوگا۔کوئی بے روزگار نہیں ہوگا۔ سابق پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ ملاکنڈ، دیر لوئر، دیر اپر، راولپنڈی، رحیم یار خان، مظفرگڑھ او رلیہ کروڑ لعل عیسن میں جماعتِ اسلامی کے عظیم الشان اور تاریخ ساز عوامی جلسے ہوئے ہیں۔ کراچی میں عوامی مذمت کے متاثرکن اور نوجوانوں کے لیے ولولہ انگیز پروگرام ہورہے ہیں۔ ملک میں بحرانوں اور عدم استحکام کے ماحول میں بھی جماعتِ اسلامی ظلم وجبر، کرپشن اور لاقانونیت کے نظام کے خلاف عوامی بیداری کے چراغ روشن کررہی ہے۔ عوام نے سب کو آزما لیا، اب باری جماعتِ اسلامی کی ہے۔ جماعت اسلامی ہی بحرانوں سے نجات کا حل ہے۔ جماعت اسلامی نوجوانوں، کسانوں اور مزدوروں کے حقوق کی محافظ ہے۔ ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسلامی نظام کے نفاذ سے ہی ملک کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ پشاور میں گورنر ہاؤس کے باہر 18ـ19ـ20 ستمبر اور لاہور گورنر ہاؤس کے باہر 21ـ22ـ23 ستمبر کو مہنگائی، بجلی بحران اور جان لیوا تباہ کن اقتصادی بحران کے خلاف پْرامن عوامی احتجاج ہوگا۔ 02 ستمبر کی کامیاب ہڑتال کے بعد عوام کو ریلیف دِلانے کے لیے مسلسل احتجاج ناگزیر ہے۔


متعلقہ خبریں


مضامین
بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے! وجود جمعه 19 جولائی 2024
بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے!

نیلسن منڈیلا ۔قیدی سے صدر بننے تک کا سفر وجود جمعه 19 جولائی 2024
نیلسن منڈیلا ۔قیدی سے صدر بننے تک کا سفر

سیکرٹ سروس کے منصوبے خاک میں مل گئے ! وجود جمعه 19 جولائی 2024
سیکرٹ سروس کے منصوبے خاک میں مل گئے !

معرکۂ کرب و بلا جاری ہے!!! وجود بدھ 17 جولائی 2024
معرکۂ کرب و بلا جاری ہے!!!

عوام کی طاقت کے سامنے وجود بدھ 17 جولائی 2024
عوام کی طاقت کے سامنے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں وجود پیر 08 جولائی 2024
امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں

رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر