وجود

... loading ...

وجود
وجود

مادیت کا فتنہ اور اس کاعلاج

جمعه 08 ستمبر 2023 مادیت کا فتنہ اور اس کاعلاج

علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ

آج کل دنیا طرح طرح کے فتنوں کی آما ج گاہ بنی ہوئی ہے، ان سب فتنوں میں ایک بنیادی اور بڑا فتنہ پیٹ کا ہے، شکم پروری وتن آسانی زندگی کا اہم ترین مقصد بن کر رہ گیا ہے، ہر شخص کا شوق یہ ہے کہ لقمہ تر اس کی لذت کام ودہن کا ذریعہ بنے اور یہ فتنہ اتنا عالم گیر ہے کہ بہت کم افراد اس سے بچ سکے ہیں، تاجر ہو یا ملازم، اسکول کا ٹیچر ہو یا کالج کا پروفیسر، دینی درس گاہ کا مدرّس ہو یا مسجد کا امام، اس آفت میں سب ہی مبتلا نظرآتے ہیں، ہاں! فرقِ مراتب ضرور ہے، زہد و قناعت، ورع و تقویٰ اور اِخلاص و اِیثار، جیسے اخلاق وفضائل اور ملکات کا نام ونشان نہیں ملتا، اسی کانتیجہ ہے کہ آج پورا عالم ساز و سامان کی فراوانی کے باوجود حرص وآز، طمع و لالچ اور زر طلبی وشکم پروری کی بھٹی میں جل رہا ہے او رکرب و اضطراب، بے چینی وبے اطمینانی او رحیرت وپریشانی کا دھواں چہار سمت پھیلا ہوا ہے۔
دراصل اس فتنہ جہاں سوز کا بنیادی سبب یہی ہے، جس کی نشان دہی رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی، آخرت کا یقین بے حد کمزور اور آخرت کی نعمتوں اور راحتوں کا تصور تقریباً ختم ہو چکا ہے، مادی نعمتیں اور ان کا تصور اس قدر غالب ہے کہ روحانی قدریں مضمحل ہو چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج انسانوں کی چھوٹائی، بڑائی، عزت و ذلت اور بلندی و پستی کی پیمائش ان اکرمکم عند اللّٰہ اتقاکم کے پیمانے سے نہیں ہوتی، بلکہ پیٹ اور جیب کے پیمانے سے ہوتی ہے، مادیت کے اس سیلاب میں پہلے ایمان و یقین رُخصت ہوا، پھر انسانی اخلاق ملیامیٹ ہوئے، پھر اسوہ نبوت سے وابستگی کمزور ہو کر اعمالِ صالحہ کی فضا ختم ہوئی، پھر معاشرت ومعاملات کی گاڑی لائن سے اتری، پھر سیاست وتمدن تباہ ہوا اور اب مادیت کا یہ طوفان انسانیت کو بہیمیت کے گڑھے میں دھکیل رہا ہے، انفرادی بے اصولی اور آوارگی وبے راہ روی اور بے رحمی وشقاوت کا وہ دور دورہ ہے کہ الامان والحفیظ
الغرض اس پیٹ کے فتنے نے ساری دنیا کی کایا پلٹ ڈالی ہے، دنیا بھر کے عُقلاء پیٹ کی فتنہ سامانی کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں وہ اس فتنہ کے ہول ناک نتائج کا تدارک بھی کرنا چاہتے ہیں، مگر صد حیف کہ علاج کے لیے ٹھیک وہی چیز تجویز کی جاتی ہے جو خود سبب مرض ہے، درحقیقت انبیا علیہم السلام ہی انسانیت کے نباض ہیں او رانھیں کا تجویز کردہ علاج اس مریض کے لیے کار گر ہوتا ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہول ناک مرض کی صحیح تشخیص بہت پہلے فرما دی تھی، چناں چہ ارشاد فرمایا:
واللہ لا الفقر أخشیٰ علیکم ولکن أخشیٰ علیکم أن تبسط علیکم الدنیا کما بسطت علی من کان قبلکم فتنافسوھا کما تنافسوھا فتھلککم کما اھلکتھم. (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب من یحذر من زہرۃ الدنیا والتنافس فیھا، ج:۲، ص:۱۵۹، ط: قدیمی. الصحیح لمسلم، کتاب الزہد ج:۲، ص:۷۰۴، ط: قدیمی)
بخدا! مجھے تم پر فقر کا اندیشہ قطعاً نہیں، بلکہ اندیشہ ہے کہ تم پر دنیا پھیلائی جائے، جیسا کہ تم سے پہلوں پر پھیلائی گئی، پھر تم پہلو ں کی طرح ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر اسے حاصل کرنے کی کوشش کرو، پھر اس نے جیسے ان کو برباد کیا، تمہیں بھی برباد کر ڈالے۔ (بخاری ومسلم)
لیجیے! یہ تھا وہ نقطۂ آغاز، جس سے اِنسانیت کا بگاڑ شروع ہوا، یعنی دنیا کو نفیس اور قیمتی چیز سمجھنا اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اس پر جھپٹنا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشخیص پر ہی اکتفا نہیں کیا،بلکہ اس کے لیے ایک جامع نسخہ شفا بھی تجویز فرمایا، جس کا ایک جزاعتقادی ہے اور دوسرا عملی۔
اعتقادی جزیہ ہے کہ اس حقیقت کو ہر موقع پر مستحضر رکھا جائے کہ اس دنیا میں ہم چند لمحوں کے مہمان ہیں، یہاں کی ہر راحت وآسائش بھی فانی ہے اور ہر تکلیف ومشقت بھی ختم ہونے والی ہے، یہاں کے لذائذ و شہوات، آخرت کی بیش بہا نعمتوں او رابدالآباد کی لازوال راحتوں کے مقابلہ میں کالعدم اور ہیچ ہیں۔ قرآن کریم اس اعتقاد کے لیے سراپا دعوت ہے اور سیکڑوں جگہ اس حقیقت کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سورۃ اعلیٰ میں نہایت بلیغ مختصر او رجامع الفاظ میں اس پر متنبہ فرمایا:بل توثرون الحیوٰۃ الدنیا والآخرۃ خیر و أبقی (کان کھول کر سن لو!کہ تم آخرت کو اہمیت نہیں دیتے) بلکہ دنیا کی زندگی کو (اس پر) ترجیح دیتے ہو؛ حالاں کہ آخرت (دنیا سے) بدر جہابہتر اور لازوال ہے۔ (سورہ اعلیٰ:۶۱، ۷۱)
اور عملی حصہ اس نسخہ کا یہ ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری میں مشغول ہوا جائے او ربطورِ پرہیز کے حرام او رمشتبہ چیزوں کو زہر سمجھ کران سے کلی پرہیز کیا جائے اور یہاں کے لذائذ وشہوات میں انہماک سے کنارہ کشی اختیار کی جائے، دنیا کا مال واسباب، زن و فرزند، خویش و اقربا اور قبیلہ و برادری کے سارے قصے زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت سمجھ کر صرف بقدرِ ضرورت ہی اختیار کیے جائیں، ان میں سے کسی چیز کو بھی دنیا میں عیش وعشرت اور لذت وتنعم کی زندگی گزارنے کے لیے اختیار نہ کیا جائے اور نہ یہاں کی عیش کوشی کو زندگی کا مقصد اور موضوع بنایا جائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:ایاک والتنعم فان عباد اللہ لیسوا بالمتنعمین (مشکاۃ المصابیح، کتاب الرقاق، باب فضل الفقراء ج:۲، ص:۹۴۴، ط: قدیمی) عیش وعشرت سے پرہیز کرو؛ کیوں کہ اللہ کے بندے عیش پرست نہیں ہوتے۔
تعجب ہے کہ اگر کسی ڈاکٹر کی رائے ہو کہ دودھ، گھی، گوشت، چاول وغیرہ کا استعمال مضر ہے تو اس کے مشورے او راشارے سے تمام نعمتیں ترک کی جاسکتی ہیں؛ لیکن خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح ارشادات اور وحی آسمانی کے صاف احکام پر ادنیٰ سے ادنیٰ لذت کا ترک کرنا گوارا نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل واصحاب کرام کی زندگی او رمعیارِ زِندگی کو اوّل سے آخر تک دیکھاجائے تو معلوم ہو گا کہ دنیا کی نعمتوں سے دل بستگی سراسرجنون ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قصہ مروی ہے کہ کچھ لوگوں پر ان کا گزر ہوا، جن کے سامنے بھنا ہوا گوشت رکھا تھا، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کھانے کی دعوت دی، آپ نے انکار کر دیا اور فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے کہ جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہ کھائی۔ (صحیح بخاری، کتاب الاطعمۃ، باب ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم واصحابہ یاکلون، ج:۲، ص:۵۱۸، ط: قدیمی) مہینوں پر مہینے گزر جاتے؛ مگر کاشانہ نبوت میں نہ رات کو چراغ جلتا، نہ دن کوچولہا گرم ہوتا، پانی او رکھجور پر گزر بسر ہوتی، وہ بھی کبھی میسر آتیں، کبھی نہیں، تین تین دن کا فاقہ ہوتا، کمر سیدھی رکھنے کے لیے پیٹ پر پتھر باندھے جاتے او راسی حالت میں جہاد وقتال کے معرکے ہوتے۔ الغرض زہد وقناعت، فقر وفاقہ، بلند ہمتی و جفاکشی اور دنیا کی آرائشوں سے بے رغبتی اورنفرت وبے زاری سیرتِ طیبہ کا طغرائے امتیاز تھی، اپنی حالت کا اس پاک زندگی سے مقابلہ کرنے کے بعد ہم میں سے ہر شخص کو شرم آنی چا ہیے۔ ہمارے یہاں سارا مسئلہ روٹی اور پیٹ کا ہے او روہاں یہ سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ زندگی بالقصد اختیار کی گئی تھی؛ تاکہ آئندہ نسلوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہو جائے، ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو آپ کو من جانب اللہ کیا کچھ نہ دیا جاسکتا تھا؟ مگر دنیا کا یہ سازوسامان، جس کے لیے ہم مرکھپ رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کی نظر میں اس قدر حقیر وذلیل ہے کہ وہ اپنے محبوب ومقرب بندوں کو اس سے آلودہ نہیں کرنا چاہتے، بعض انبیا علیہم السلام کو عظیم الشان سلطنت بھی دی گئی؛ مگر ان کے زہد و قناعت اور دنیا سے بے رغبتی اور بے زاری میں فرق نہیں آیا، ان کے پاس جو کچھ تھا، دوسروں کے لیے تھا، اپنے نفس کے لیے کچھ نہ تھا۔
الغرض یہ ہے فتنہ پیٹ کا صحیح علاج، جو انبیا علیہم السلام اوربالخصوص سید کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے تجویز فرمایا او راگر انسان پیٹ کی شہوت کے فتنہ سے بچ نکلے تو ان شاء اللہشہوتِ فرج کے فتنہ سے بھی محفوظ رہے گا کہ یہ خرمستی پیٹ بھرے آدمی کو ہی سوجھتی ہے، بھوکا آدمی اس کی آرزوکب کرے گا؟ ان ہی دو شہوتوں سے بچنے کا نام اِسلام کی اِصطلاح میں تقویٰ ہے، جس پر بڑی بڑی بشارتیں دی گئی ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح ضعیف مریض کو بقائے حیات کے لیے ہلکی پھلکی، معمولی غذا کا مشورہ دیا جاتا ہے او رزبان کے چسکے سے بچنے کی سخت تاکید کی جاتی ہے تاکہ مطلوبہ اعلیٰ صحت نصیب ہو، بس یہی حیثیت اِسلام کی نظر میں دنیا کی ہے۔ (بصائر و عبر جلد اوّل، ص: ۰۱۱ تا ۳۱۱)
٭٭٭


متعلقہ خبریں


برطانیہ بھی اپنی غلطیوں کا ازالہ کرے، سپریم کورٹ کا برطانوی ہائی کمشنر کے بلا چھیننے کے اعتراض پر خط وجود - جمعرات 30 مئی 2024

سپریم کورٹ آف پاکستان نے تحریک انصاف کو عام انتخابات میں بلے کے نشان سے محروم کرنے کے حوالے سے برطانوی ہائی کمشنر کے اعتراض کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے وہی کیا جو قانون کہتا ہے ۔اپریل میں ہونے والی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جی...

برطانیہ بھی اپنی غلطیوں کا ازالہ کرے، سپریم کورٹ کا برطانوی ہائی کمشنر کے بلا چھیننے کے اعتراض پر خط

القادر ٹرسٹ کیس، نیب کا بحریہ ٹاؤن کے دفتر پر چھاپہ، ریکارڈ حاصل کرنے میں ناکام وجود - جمعرات 30 مئی 2024

القادر ٹرسٹ کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے گزشتہ رات راولپنڈی میں بحریہ ٹاؤن کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا تھا تاہم نیب کو القادر ٹرسٹ کا ریکارڈ حاصل کرنے میں کامیابی نہیں مل سکی۔ تفصیلات کے مطابق نیب ذرائع نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کو نیب ریڈ کے حوالے سے پہلے سے مع...

القادر ٹرسٹ کیس، نیب کا بحریہ ٹاؤن کے دفتر پر چھاپہ، ریکارڈ حاصل کرنے میں ناکام

نواز شریف کو وہم ہو گیا ،ظہیر الاسلام سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، طاہر القادری وجود - جمعرات 30 مئی 2024

سربراہ منہاج القرآن ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ نواز شریف اپنی معلومات درست کریں ، میری کسی اسٹیبلشمنٹ آفیسر یاجنرل (ر) ظہیر الاسلام سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، نواز شریف دوسری بار الزام لگا رہے ہیں ،میں ان کے اس الزام کو جھوٹ اور تہمت قرار دیتا ہوں۔ ایک انٹر ویو میں ڈاکٹر طاہر...

نواز شریف کو وہم ہو گیا ،ظہیر الاسلام سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، طاہر القادری

میں وعدہ معاف گواہ نہیں بنوں گا جو چاہے مجھ پرظلم کرو، ملک ریاض کا ردعمل وجود - جمعرات 30 مئی 2024

اسلام آباد (بیورو رپورٹ)بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دفتر پر نیب کے چھاپے کے خلاف ملک ریاض کا ردعمل سامنے آگیا۔تفصیلات کے مطابق بحریہ ٹاؤن اسلام آباد کے مرکزی دفتر پر نیب کے چھاپے کے خلاف ملک ریاض نے ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا ہے ملک ریاض وعدہ معاف گواہ نہیں بنے گا ج...

میں وعدہ معاف گواہ نہیں بنوں گا جو چاہے مجھ پرظلم کرو، ملک ریاض کا ردعمل

صارفین کو ریلیف نہیں،کمپنیوں نے ڈبے والے دودھ کی قیمت بڑھا دی وجود - جمعرات 30 مئی 2024

ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی اور گزشتہ 7مہینے سے شرح تبادلہ مستحکم رہنے کے نتیجے میں ترسیل کی لاگت میں تنزلی کے باوجود بڑی کمپنیوں نے ڈبے کے دودھ کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق فوجی فوڈز لمیٹڈ نے نورپور کے فی لیٹر دودھ کے ڈبے کی قیمت 280روپے سے بڑھا کر 300ر...

صارفین کو ریلیف نہیں،کمپنیوں نے ڈبے والے دودھ کی قیمت بڑھا دی

ملکی اداروں،شخصیات کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف تحقیقات شروع وجود - بدھ 29 مئی 2024

ملکی اداروں اور شخصیات کیخلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا مہم چلانے والوں کیخلاف تحقیقات شروع کردی گئی۔ایف آئی اے نے سوشل میڈیا مہم چلانے والے افراد سے تحقیقات شروع کرتے ہوئے سوشل میڈیا مہم میں شامل افراد سے بیانات لینے کا مرحلہ بھی شروع کر دیا، راولپنڈی میں متعدد افراد سے ابتدائی پ...

ملکی اداروں،شخصیات کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف تحقیقات شروع

نواز شریف6سال بعد دوبارہ نون لیگ کے صدرمنتخب وجود - بدھ 29 مئی 2024

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے تقریباً6سال10ماہ بعد دوبارہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدارت سنبھال لی سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں نواز شریف کو 21فروری 2018کو پارٹی صدارت کے لئے بھی نااہل کر دیا گیا تھا ۔ اس سے قبل انہیںپانامہ کیس میں28جولائی2017 کو نا اہل کر دیا گیا تھا۔ نواز...

نواز شریف6سال بعد دوبارہ نون لیگ کے صدرمنتخب

مویشیوں کی فیس کے نام پر ہرسال دو ارب کا ٹیکہ، اینٹی کرپشن کی تحقیقات وجود - بدھ 29 مئی 2024

کراچی میں مویشیوں کی فیس کے نام پر عوام کو ہر سال ڈیڑھ سے دو ارب کا ٹیکہ لگانے کا انکشاف ہوا ہے ۔محکمہ اینٹی کرپشن نے مبینہ طور پر غیر قانونی ٹھیکہ دینے کے الزام پر تحقیقات شروع کردی ۔۔متاثرہ ٹھیکیدار کا کہنا ہے کہ ٹھیکے کی فراہمی میں قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے ۔ زیادہ بولی ل...

مویشیوں کی فیس کے نام پر ہرسال دو ارب کا ٹیکہ، اینٹی کرپشن کی تحقیقات

اسلامی ملکوں میں عیدالاضحی کی تاریخ میں اختلاف وجود - بدھ 29 مئی 2024

بین الاقوامی فلکیات مرکز نے توقع ظاہر کی ہے کہ اسلامی دنیا میں 2024کی عید الاضحی کی تاریخ مختلف ہوگی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مرکز نے بتایا کہ مختلف ممالک عید الاضحی کی تاریخ کا تعین چاند کے اپنے مقامی نقطہ نظر کی بنیاد پر کرتے ہیں اور چاند دیکھنے کے لیے دوسرے ملکوں پر انح...

اسلامی ملکوں میں عیدالاضحی کی تاریخ میں اختلاف

عوام نے ثاقب نثار کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ،نواز شریف وجود - بدھ 29 مئی 2024

مسلم لیگ (ن) کے قائد اور نومنتخب صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ آج ثاقب نثار کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔پارٹی کے جنرل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ثاقب نثار نے مجھے زندگی بھر کے لیے پارٹی کی صدارت سے ہٹایا، آج لوگوں نے ثاقب نثار کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں...

عوام نے ثاقب نثار کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ،نواز شریف

خیبرپختونخوامیں فورسز کی 3 کارروائیاں، 23 دہشت گرد ہلاک،7جوان شہید وجود - منگل 28 مئی 2024

خیبر پختون خوا میں سیکیورٹی فورسز کی 3 الگ الگ کارروائیوں میں 23 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 5 جوان بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے ۔پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 26 مئی کو خفیہ اطلاعات پر پشاور کے علاقے حسن خیل میں آپریشن کیا گیا تھا جس میں کیپٹ...

خیبرپختونخوامیں فورسز کی 3 کارروائیاں، 23 دہشت گرد ہلاک،7جوان شہید

ریاست لوگوں کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام ہو گئی ، پشاور ہائی کورٹ وجود - منگل 28 مئی 2024

لاپتا افراد سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دئیے ہیںکہ ریاست لوگوں کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے ۔ پیرکوحیات آباد سے الکوزی خاندان کے افراد کے لاپتا ہونے کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز انور نے کی جس میں حیات آباد سے 4بھائی ...

ریاست لوگوں کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام ہو گئی ، پشاور ہائی کورٹ

مضامین
کوفیہ فلسطینی مزاحمت کی علامت ہے ! وجود جمعرات 30 مئی 2024
کوفیہ فلسطینی مزاحمت کی علامت ہے !

امن دستوں کا عالمی دن۔پاک فوج کا کردار وجود جمعرات 30 مئی 2024
امن دستوں کا عالمی دن۔پاک فوج کا کردار

وسعت افلاک میں تکبیرِمسلسل وجود جمعرات 30 مئی 2024
وسعت افلاک میں تکبیرِمسلسل

چائے پانی وجود بدھ 29 مئی 2024
چائے پانی

دلی والے : ہاتھ میں جھاڑو دل میں کیا؟ وجود بدھ 29 مئی 2024
دلی والے : ہاتھ میں جھاڑو دل میں کیا؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر