وجود

... loading ...

وجود

آسمانی بجلی کا قہر لاکھوں بھارتیوں کو بھسم کرچکا

جمعرات 07 ستمبر 2023 آسمانی بجلی کا قہر لاکھوں بھارتیوں کو بھسم کرچکا

رشی ملہوترا

٭بھارت کی جنوبی اور جنوب مشرقی ریاستوں کو آسمانی بجلی نے اپنا ہدف بنایا ہوا ہے جس سے دو برس میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 5,000 ہزار سے زیادہ ہے
٭ ریاست اڑیسہ میں گزشتہ سے پیوستہ شب اکسٹھ ہزار 61,000 بار آسمانی بجلی گری جس سے پوری ریاست میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے
٭انڈیا میں ہر سال 2500 سے زیادہ افراد آسمانی بجلی گرنے سے اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں، 1967 سے 2019 کے درمیان آسمانی بجلی گرنے سے ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو ئے

ایک ہی رات میں بھارتی ریاست پر آسمانی بجلی گرنے کا عالمی ریکارڈ بن گیا۔ ریاست اڑیسہ میں گزشتہ سے پیوستہ شب اکسٹھ ہزار 61,000 بار آسمانی بجلی گری جس سے پوری ریاست میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اکسٹھ ہزار بار بجلی گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 27 ہوچکی ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں بتائی جاتی ہے، ہلاک ہونیوالوں میں سینکڑوں مویشی بھی شامل ہیں، تباہ ہونے والی عمارات بھی آسمانی بجلی کی زد میں آئی ہیں جبکہ آزادی کے بعد سے تا حال آسمانی بجلی کا قہر لاکھوں بھارتی انسانوں اور مویشیوں کو بھسم کرچکا ہے۔

حکومتی اداروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی جنوبی اور جنوب مشرقی ریاستوں کو آسمانی بجلی نے اپنا ہدف بنایا ہوا ہے جس سے دو برس میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 5,000 ہزار سے زیادہ ہے۔ بجلی کمپنی کے ایک اعلیٰ عہدیدار مسٹر ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ اگرچہ مون سون کے موسم کے دوران انڈیا کے مشرقی حصے میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بہت عام ہیں لیکن ایک ہی دن میں اتنا زیادہ بجلی گرنا غیرمعمولی ہے جس سے نمٹنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان بنایا جارہا ہے۔ ریاست اڑیسہ میں مختلف مقامات پر دو گھنٹوں کے دوران حیران کن طور پر 61 ہزار مرتبہ آسمانی بجلی کی گراوٹ ریکارڈ کا حصہ بنائی گئی ہے جس سے معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں۔ اڑیسہ اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ہفتے کو دارالحکومت بھونیشور کے آس پاس کے علاقوں میں دوپہر کے بعد گرج چمک کے ساتھ ہونے والی بارش کے دوران مسلسل بجلی چمکتی رہی۔اتھارٹی کے مطابق شام پانچ بجے تک بادلوں میں کم از کم 36597 بار بجلی کا چمکنا ریکارڈ کیا گیا جب کہ بادل سے زمین پر 25753 مرتبہ بجلی گری۔دو یا دو سے زیادہ بادلوں کے الگ الگ ٹکڑوں کے درمیان پیدا ہونے والی بجلی کو ’بادل سے بادل بجلی‘ کہا جاتا ہے جب کہ بادل سے زمین تک بجلی کے فوراً پہنچنے کو بادل سے زمین پر بجلی کہتے ہیں۔اتھارٹی نے مزید بتایا ہے کہ آسمانی بجلی گرنے سے درجنوں مویشی بھی موت کے منہ میں چلے گئے۔

بھارتی محکمہ موسمیات نے اڑیسہ اسٹیٹ میں شدید موسمی حالات کی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔آسمانی بجلی گرنے کی وجہ خلیج بنگال کے اوپر موجود سمندری طوفان کا سبب بننے والا بگولہ ہے۔ اگلے 24 گھنٹے میں خلیج کے ہوا کے انتہائی کم دباؤ والے علاقے میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی شائع کردہ ایک تحقیق کے مطابق درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہونے پر آسمانی بجلی گرنے کی شرح میں 12 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ تازہ تحقیق کے نتائج سے علم ہوتا ہے کہ رواں صدی کے آخر تک سمندر کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے آسمانی بجلی گرنے کے ہلاکت خیز واقعات میں 50 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس سال فروری میں جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں 43 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بجلی کے گرنے کا دورانیہ عام طور پر ایک سیکنڈ سے کم ہوتا ہے۔ ایک عام آسمانی بجلی کی چمک تقریباً 300 ملین وولٹ اور 30000 ایمپئر ہوتی، جو کہ اپنی زد میں آنے والی کسی بھی جاندار شے کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔انڈیا میں ہر سال 2500 سے زیادہ افراد آسمانی بجلی گرنے سے اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1967 سے 2019 کے درمیان ملک میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔زمین پر گرنے والی آسمانی بجلی اپنے ارد گرد کی ہوا کو سورج کی سطح کے درجہئ حرارت سے پانچ گنا زیادہ گرم کر سکتی ہے۔یاد رہے کہ بھارتی محکمہ موسمیات نے تین سال قبل آسمانی بجلی کی پیش گوئی کرنے والے نظام کا آغاز کیا تھا، تاہم اب موبائل ایپس کے ذریعے بھی بجلی گرنے کو ٹریک کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں کو ریڈیو، ٹی وی اور میگا فون اور رضاکاروں کے ذریعے اس حوالے سے خبردار کیا جاتا ہے اور اڑیسہ میں اکسٹھ ہزار بار بجلی کی گراوٹ کو بھی مخصوص موبائل سوفٹ ویئر کی مدد سے ٹریس اور ریکارڈ کیا گیا ہے۔

عالمی تنظیم کلائمیٹ ریزیلیئنٹ آبزرونگ سسٹمز پروموشن کونسل کی ایک تحقیق کے مطابق انڈیا میں اپریل 2020 اور مارچ 2021 کے درمیان بجلی گرنے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں وہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 34 فیصد افزونی کو ظاہر کرتے ہیں۔ دلچسپ لیکن افسوسناک بات یہ بھی ہے اگرچہ بجلی گرنے کے زیادہ تر واقعات بھارت کی نصف درجن ریاستوں میں ریکارڈ کیے گئے ہیں لیکن 70 فیصد اموات ملک کی تین ریاستوں اڈیشہ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال میں ہوئیں۔ تحقیق کے مطابق کھیتوں میں کام کرنے والے مرد آسمانی بجلی کا سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔ لائٹننگ ریزیلیئنٹ انڈیا نامی مہم کے زیر اہتمام کی گئی تحقیق کے مطابق، انڈیا میں آسمانی بجلی کے متاثرین کی اکثریت دیہات میں رہتی ہے اور ان کی موت اونچے درختوں کے نیچے پناہ لینے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ قبائلی لوگ جو کھیتی باڑی کرتے ہیں، مچھلیاں پکڑنے، روزی روٹی اور چارہ لانے کے لیے باہر نکلتے ہیں، وہ خاص طور پر اس کی زد میں آتے ہیں۔ اس مہم کی وجہ سے کچھ ریاستوں میں آسمانی بجلی گرنے سے ہونے والی اموات میں 60 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی لیکن اس وقت بھی آسمانی بجلی کا قہر ہر سال ڈھائی ہزار بھارتیوں کی زندگی کے چراغ گل کردیتا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مزاحمت اب بھرپور ہوگی ،سہیل آفریدی کا جمعہ کو احتجاج کا اعلان، وفاق کو سخت وارننگ وجود - جمعرات 21 مئی 2026

اپنے تمام ایم پی ایز کو ہر شہر میں احتجاج کی ہدایت کرتا ہوں، ہمارا رویہ آنے والے منگل کو مزید سخت ہوگا، پورا پاکستان دیکھے گا پی ٹی آئی ایک مٹھی ہو کر میدان میں نکل رہی ہے،وزیراعلیٰ پولیس نے اسلام آباد میں منتخب نمائندوں کو روکنے کیلئے فائرنگ کی،وقت نے ثابت کر دیا سائفر معامل...

مزاحمت اب بھرپور ہوگی ،سہیل آفریدی کا جمعہ کو احتجاج کا اعلان، وفاق کو سخت وارننگ

عمران خان کے مقدمات عید بعد مقرر کرانے کی یقین دہانی وجود - جمعرات 21 مئی 2026

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے متعلقہ افسران کو بلا کر ہدایات دے دیں مجھے یقین دلایا ہے کہ مقدمات عید کے بعد لگ جائیں گے، سلمان اکرم راجا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے عمران خان کے مقدمات عید کے بعد مقرر کرانے کی یقین دہانی کرا دی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلم...

عمران خان کے مقدمات عید بعد مقرر کرانے کی یقین دہانی

انمول پنکی کے کسٹمرز میں 881 اہم شخصیات شامل تھیں، قائمہ کمیٹی میں انکشاف وجود - جمعرات 21 مئی 2026

نجی کمپنیوں کے مالک، سی ای اوز، پارٹی بوائز، سیاستدان، بیوروکریٹ شامل ہیں شوبز کی بیشتر شخصیات کے نام، نمبرز اور گھر کے پتے حاصل کرلیے گئے ہیں ،ذرائع قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ انمول پنکی کے کسٹمرز میں 881 اہم شخصیات شامل تھیں۔نجی کمپنیوں کے مالک، سی ای ا...

انمول پنکی کے کسٹمرز میں 881 اہم شخصیات شامل تھیں، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

وزیراعظم کی ایم کیو ایم کوبجٹ میں ترقیاتی پیکیج پر غور کی یقین دہانی وجود - جمعرات 21 مئی 2026

متحدہ قومی موومنٹ قیادت کی شہباز شریف سے ملاقات ،کسی بھی آئینی ترمیم پر بات نہیں ہوئی،ذرائع آئندہ بجٹ میں ٹیکس ریلیف پر بات کی،کراچی پیکیج اور کے فور پر گفتگو کی، اندرونی کہانی سامنے آگئیں متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) قیادت کی وزیراعظم سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ...

وزیراعظم کی ایم کیو ایم کوبجٹ میں ترقیاتی پیکیج پر غور کی یقین دہانی

پاکستان کی ترقی کو دہشت گردی سے نہیں روکاجاسکتا، فیلڈ مارشل وجود - بدھ 20 مئی 2026

پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کی پیشرفت روکنے کی کوششیں ناکام ہوں گی، عوام کی ثابت قدم حمایت سے مسلح افواج دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں بلوچستان میں امن و استحکام اور ریاستی رٹ برقرار رکھنے کیلئے افسران اور جوانوں کے بلند حوصلے، آپریشنل تیاری اور پیشہ و...

پاکستان کی ترقی کو دہشت گردی سے نہیں روکاجاسکتا، فیلڈ مارشل

انمول پنکی کو عدالت میں پروٹوکول دینے والے افسران پر شکنجہ سخت وجود - بدھ 20 مئی 2026

انکوائری کے دوران عدالت میںپیشی کے وقت پنکی کو موبائل فون دینے کا انکشاف سیکیورٹی میں کئی خامیاں سامنے آئیں ، ملزمہ کو غیر معمولی سہولتیں فراہم کی گئیں،رپورٹ کوکین گینگ کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی عدالت میں پہلی پیشی کے دوران غیر معمولی پروٹوکول دیئے جانے کے معاملے پر کراچی پ...

انمول پنکی کو عدالت میں پروٹوکول دینے والے افسران پر شکنجہ سخت

ہماری خودمختاری کے نگہبان اپنے محافظوں پر فخر، وزیراعظم وجود - بدھ 20 مئی 2026

نظم و ضبط، قیادت اور پیشہ ورانہ تربیت کی درخشاں روایات کا امین ہے،شہباز شریف ایران، امریکا جنگ نے خطے کو غیریقینی صورتحال، معاشی چیلنجز سے دوچار کر دیا،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے محافظوں پر فخر ہے، جو ہماری خودمختاری کے نگہبان ہیں۔کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئ...

ہماری خودمختاری کے نگہبان اپنے محافظوں پر فخر، وزیراعظم

شمالی وزیرستان میں آپریشن، 22 دہشت گرد مارے گئے وجود - بدھ 20 مئی 2026

سکیورٹی فورسز کا خورج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ضلع شیوا میں کامیاب کارروائی انڈین ا سپانسرڈشرپسندوں سے فائرنگ کا تبادلہ، اسلحہ ، گولہ بارود برآمد،آئی ایس پی آر سکیورٹی فورسز کے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران 22 خوارج جہنم واصل ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئ...

شمالی وزیرستان میں آپریشن، 22 دہشت گرد مارے گئے

ایران پر نئے حملے کی تیاری، امریکی طیارے اسلحہ لے کر اسرائیل پہنچ گئے وجود - منگل 19 مئی 2026

امریکا ایران جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگے،امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی ایران جنگ دوبارہ چھڑنے کے امکان پر گفتگو ، ٹرمپ اس ہفتے قومی سلامتی ٹیم سے مشاورت کریں گے پینٹاگون نے ایران میں اہداف کا چنا ئوکرلیا، توانائی اور انفرااسٹرکچر سمیت مزید اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بن...

ایران پر نئے حملے کی تیاری، امریکی طیارے اسلحہ لے کر اسرائیل پہنچ گئے

مولانا فضل الرحمان کا ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ وجود - منگل 19 مئی 2026

عالمی حالات کو جواز بناکر مہنگائی، عام آدمی 2 وقت کی روٹی سے محروم ہوگیا، سیاستدانوں کی کمپرومائز پالیسیوں نے جمہوریت کو کمزور کیا،22 مئی کو ملکگیرمہنگائی کیخلاف احتجاجی تحریک شروعہوگی حکمران امن و امان کے قیام میں سنجیدہ نہیں،ملک میں باغیانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے،مسلح گروہ فوجی...

مولانا فضل الرحمان کا ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ

انمول پنکی کی جوڈیشل کمپلیکس میں پھر ہنگامہ آرائی وشور شرابا وجود - منگل 19 مئی 2026

تفتیشی افسر پر تشدد، دھمکیوں اور زبردستی مخصوص افراد کے نام لینے کیلئے دبائو ڈالنے کے سنگین الزامات عائد کردیئے میڈیا نمائندوں کے کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی ،صحافیوں کو دھکیل کر ملزمہ کے قریب آنے سے روکنے کی کوشش منشیات اور قتل کے مقدمات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی نے...

انمول پنکی کی جوڈیشل کمپلیکس میں پھر ہنگامہ آرائی وشور شرابا

اسرائیلی بحریہ کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا،100 سے زائد رضاکار گرفتار وجود - منگل 19 مئی 2026

فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی بھی شامل، غزہ کو امداد پہنچانے کا ایک پرامن مشن ہے اسرائیلی فورسز نے گرفتارکرلیا،وطن واپس لانا پاکستان کی ذمے داری ہے،سعدایدھی غزہ کے لیے روانہ ہونے والے امدادی مشن میں شامل پاکستان کے سماجی کارکن سعد ایدھی سمیت متعدد بین الاقوامی کارکنوں کو اسرائ...

اسرائیلی بحریہ کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا،100 سے زائد رضاکار گرفتار

مضامین
خاموش لوگ اندر ہی اند مر جاتے ہیں! وجود جمعرات 21 مئی 2026
خاموش لوگ اندر ہی اند مر جاتے ہیں!

اِسے دانش کہیں یاحماقت ؟ وجود جمعرات 21 مئی 2026
اِسے دانش کہیں یاحماقت ؟

کشمیری رہنماجھوٹے مقدمات میں گرفتار وجود جمعرات 21 مئی 2026
کشمیری رہنماجھوٹے مقدمات میں گرفتار

ایک زندگی اورچاہیے !! وجود جمعرات 21 مئی 2026
ایک زندگی اورچاہیے !!

پاکستان میں آلودگی کے مسائل اور ہماری ذمہ داری وجود بدھ 20 مئی 2026
پاکستان میں آلودگی کے مسائل اور ہماری ذمہ داری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر