وجود

... loading ...

وجود

مصنوعی مٹھاس، کینسر کا حقیقی سبب، نئی تحقیق

منگل 18 جولائی 2023 مصنوعی مٹھاس، کینسر کا حقیقی سبب، نئی تحقیق

دنیا بھر میں جامع پیمانے پر استعمال کی جانیوالی مصنوعی مٹھاس اسپرٹیم، حقیقی کینسر کا سبب نکلی۔ تازہ تحقیق میں سائنسی و تحقیقی ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ ایسپرٹیم دنیا بھر میں مصنوعی مٹھاسوں میں سے ایک ہے جس کا استعمال ڈائٹ مشروبات اور چیونگ گم وغیرہ میں بہت زیادہ کیا جاتا ہے اور کولا مشروبات سمیت چائے، بیکری آئٹمز سمیت مٹھائیوں میں شوگر فری مٹھاس کے طور پر اس کا استعمال عام ہے لیکن سائنسی تحقیق کے نتیجہ میں اب اسپرٹیم کے استعمال اور افادیت کی بجائے ضرر رسانی پر سوالیہ نشان اٹھ کھڑا ہوگیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مصنوعی مٹھاس کے استعمال سے ٹائپ 2 ذیابیطس، قلبی امراض اور کم عمری میں موت کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ سائنسی تحقیق کی بنیاد پر اپنی ایک رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت یاڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ وہ دنیا میں سب سے عام مصنوعی مٹھاسوں میں سے ایک ایسپرٹیم (Aspartame)کو ایسا پروڈکٹ قرار دے رہا ہے جو ممکنہ طور پر انسانوں میں سرطان کا باعث بن رہی ہے۔

امریکی میڈیائی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایسپرٹیم دنیا بھر میں مصنوعی مٹھاسوں میں سے ایک ہے جس کا استعمال ڈائٹ مشروبات اور چیونگ گم وغیرہ میں بکثرت کیا جاتا ہے اور اس وقت عالمی ریٹنگز کے مطابق اس کینسر کا سبب بننے والے کیمیائی مصنوعی مٹھاس والے مادے کو کم از کم 600 اقسام کی مٹھائیوں، کولا، مشروبات، بیکری آئٹمز اور دیگر اشیا میں کیا جاتا ہے اور چینی کی نسبت 200 گنا زیادہ میٹھے مادے کو ٹنوں کے حساب سے استعمال کیا جارہا ہے۔ قارئین جرات کیلئے یاد دلاتے چلیں کہ ایک جانب عالمی ادارہ صحت نے اسپرٹیم کے مسلسل استعمال سے خبر دار کیا ہے تو دوسری جانب امریکی فوڈ اتھارٹی نے ایک بیان میں اس جائزہ یا انتباہی رپورٹ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسپرٹیم کو مناسب مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے کینسر کے خطرات نہیں ہوتے۔ عالمی خبری ایجنسی روئٹرز کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ آئی اے آر سی کی جانب سے 14 جولائی کو اسپارٹیم کو کینسر کا خطرہ بڑھانے والا ممکنہ جز قرار دیا جاچکا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی غذائی اجزا کے حوالے سے قائم ماہرین کی کمیٹی کی سفارشات 14 جولائی کو جاری کی گئی تھیں جس کے بعد دنیا بھر میں کارگزار مصنوعی مٹھاس استعمال کرنیوالی کمپنیوں کی پروڈکٹس کی فروخت اور استعمال کا تناسب گر جانے کا خدشہ ظاہر ہوگیا ہے۔ اپنی انتباہی رپورٹ میں محتاط رویہ اپنانے والے عالمی ادارہ صحت یا ڈبلیو ایچ او کے نیوٹریشن اینڈ فوڈ سیفٹی ڈائریکٹر فرانسسکو برانکا نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم کمپنیوں کو اپنی مصنوعات میں ایسپرٹیم کا استعمال واپس لینے کا مشورہ نہیں دے رہے ہیں اور نہ ہی ہم صارفین کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ مکمل طور پر ان کا استعمال بند کر دیں۔انہوں نے کہا کہ ہم بس اعتدال برتنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔فرانسسکو برانکا نے جنیوا میں پریس کانفرنس کے دوران ایسپرٹیم کے حوالے سے دستیاب شواہد کے دو جائزوں کے نتائج پیش کیے جن سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ایسپرٹیم کا مسلسل استعمال کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ قارئین کی دلچسپی اور آگاہی کیلئے یاد دلاتے چلیں کہ اسپارٹیم ایسی مٹھاس ہے جس میں کم کیلوریز پائی جاتی ہیں، جو عام چینی سے 200 گنا زیادہ میٹھا ہوتا ہے۔یہ کولڈ ڈرنک، ڈائیٹ ڈرنکس،چیونگم اور بعض اوقات دہی میں بھی شامل ہوتا ہے، جن مصنوعات میں اسپارٹیم سب سے زیادہ اور عام پایا جاتا ہے ان میں ڈائٹ کوک، کوک زیرو، پیپسی میکس اور سیون اپ فری شامل ہیں لیکن ابھی تک یہ سویٹنر تقریباً 600 مصنوعات میں موجود ہے۔

سویٹنر کو کئی دہائیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے اور فوڈ سیفٹی کے اداروں نے اس کی منظوری بھی دی ہے لیکن اب ان مصنوعات میں استعمال ہونے والے اجزا پر تنازع شروع ہوگیا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے زیرتحت کام کرنے والے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر اسپارٹیم اور کینسر کے بارے میں ایک ہزار 300 مطالعات کا جائزہ لے چکا ہے۔۔یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب مئی 2023 میں عالمی ادارہ صحت نے مصنوعی مٹھاس کو مضر صحت قرار دیا تھا۔یاد رہے کہ لاکھوں لوگ روزانہ کافی، ڈائٹ سوڈا اور کھانے کی اشیا میں مصنوعی مٹھاس کا استعمال کرتے ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ چینی کے استعمال سے وزن میں اضافہ ہوتا ہے اس لیے مصنوعی مٹھاس کو چینی کا بہترین متبادل مانا جاتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر برائے غذائیت اور فوڈ سیفٹی فرانسسکو برانکا نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی چینی کی جگہ مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے سے صحت پر طویل مدتی فوائد نہیں پہنچتے اور وزن بھی کم نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا تھا کہ لوگ اگر چینی کا استعمال کم کرنا چاہتے ہیں یا متبادل ڈھونڈ رہے ہیں تو انہیں پھل استعمال کرنے چاہیے جس میں قدرتی مٹھاس شامل ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کینسر ریسرچ ونگ ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ کوکا کولا ڈائٹ سے لے کر مارس ایکسٹرا کی چیونگ گم اور سنیپل کمپنی کے بعض مشروبات میں استعمال ہونے والی ایسپرٹیم نامی مصنوعی مٹھاس کو جولائی میں آئی اے آر سی کی طرف سے پہلی بار ممکنہ طور پر انسانوں کے لیے سرطان کا سبب بننے والی پراڈکٹ کے طور پر درج کیا جائے گا۔اگر چہ کہ انٹرنیشنل سویٹینرز ایسوسی ایشن آئی ایس اے نے کہا کہ ایسپرٹیم کی گروپ 2B کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے جس میں کمچی کورین اچار اور دیگر سبزیوں والے اچار بھی شامل ہیں۔آئی ایس اے کے سربراہ فرانسس ہنٹ ووڈ نے کہا:جے ای سی ایف اے نے ایک مکمل، جامع اور سائنسی طور پر سخت جائزہ لینے کے بعد ایک بار پھر ایسپرٹیم کو محفوظ قرار دیا ہے۔لیکن صارفین کی تنظیم فوڈ واچ کی منیجر کیملی ڈوریوز اس سے متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر سرطان پیدا کرنے والی میٹھاس کی ہمارے کھانے پینے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ڈبلیو ایچ او پہلے ہی خبر دار کرچکی ہے کہ مصنوعی مٹھاس وزن کم کرنے میں مدد نہیں کرتیں اور صحت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارے نے نام نہاد شوگر فری میٹھا استعمال کرنے کے خلاف ہدایات جاری کیں تھیں۔برانکا سے پوچھا گیا کہ اسپارٹیم اور کینسر کے درمیان براہ راست تعلق کی تصدیق کی روشنی میں صارفین کو اب کیا کرنا چاہیے تو انہوں نے کہا کہ تیسرے آپشن پر غور کیا جانا چاہیے جو کہ پانی پینا ہے اور میٹھی مصنوعات کے استعمال کو مکمل طور پر محدود کرنا ہی بہتر حکمت عملی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے کئی متبادل ہیں جن میں شوگر فری یا سوئٹنرز شامل نہیں ہیں اور یہ وہ مصنوعات ہیں جنہیں صارفین کو ترجیح دینی چاہیے۔


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر