وجود

... loading ...

وجود
وجود

عمرانی انقلاب کی ناکامی

پیر 29 مئی 2023 عمرانی انقلاب کی ناکامی

 

راؤ محمد شاہد اقبال

جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنے والوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ اگر اُن کا کوئی پسندیدہ خواب ٹوٹ بھی جائے تب بھی وہ بدستور محو خواب ہی رہتے ہیں اور اپنے اَدھ اَدھورے، ٹوٹے ہوئے خواب کی بکھری کرچیاں جوڑنے کے لئے خود کو ایک نئے خواب میں غرق کرلیتے ہیں ۔یاد رہے کہ ایسے لوگ چاہیں بھی تو کبھی حقیقت کادرست ادراک نہیں کرسکتے ،کیونکہ اِن کی ذہنی و نفسیاتی سطح اتنی معمولی اور پست ہوتی ہے کہ جس پر حقیقت جیسی عظیم الشان شئے کا نزول سرے سے ممکن ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا، خواب و خیال کی غیر حقیقی دنیا میں بسنے والوں کا سامنا اگر بدقسمتی سے کبھی ناقابل تردید مجسم حقیقت سے ہوجائے تو پھر وہی کچھ دیکھنے کو ملتا ہے ،جو آج کل پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور جملہ کارکنان کے ساتھ ملاحظہ کے لیئے دستیاب ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی شکست و ریخت کے مناظر دیکھ کر ہر سیاسی ذہن میں یہ سوال کلبلارہا ہے کہ کیا ایک سیاسی جماعت اپنی ساخت کے اعتبار سے اتنی بوسیدہ اور بودی بھی ثابت ہوسکتی ہے کہ صرف چار دن بادِ مخالف چلنے سے ہی ریزہ ریزہ ہوکر نیست و نابود جائے ؟۔مذکورہ سوال کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اگر واقعی پاکستان تحریک انصاف کوئی سیاسی نظریہ،اُصول یا مقصد رکھنے والی ایک جماعت ہوتی تو یقینا اُس کے بکھرنے میں کم ازکم اِتنا وقت تو ضرور لگتا کہ جتنا وقت اِس کے بننے اور بن کر اقتدار تک پہنچنے میں میں لگا تھا۔مگر چونکہ پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ سے ہی منظم جماعت کے بجائے منتشر اور بکھرے ہوئے ہجوم کا صرف ایک پراگندہ خواب ہی تو تھی ۔لہٰذا، تحریک انصاف بالکل ویسے ہی اچانک ٹوٹ پھوٹ کاشکارہو گئی جیسا کہ اکثر اوقات ڈراؤنے خواب یک لخت ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔
یہاں ہونا تو یہ چاہیے تھا مذکورہ دہشت ناک خواب کے ٹوٹ جانے کے بعد خواب دکھانے والا اور خواب دیکھنے والے یعنی عمران خان اوراُس کے گمراہ پیروکار حقیقت کی دنیا میں واپس آکر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرکے خودکو سزا وجزا کے لیئے ریاستی اداروں کے سامنے رضاکارانہ طور پر پیش کردیتے ۔ مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ وطن ِ عزیز کے ہزاروں معصوم نوجوانوں کو ریاست مخالف احتجاج اور انتشار کی آگ کا ایندھن بنا کر بھی عمران خان کے اقتدار کی ہوس بدستور قائم و دائم ہے اور موصوف ابھی بھی زمان پارک میں بیٹھ کر کسی ایسے سنہری موقع کی تاک میں ہے ، جس کا فائدہ اُٹھا کر ریاست کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکے ۔
9 مئی کی بغاوت ناکامی سے دوچار ہوجانے کے بعد عمران خان کی جانب سے اَب یہ تاویل پیش کرنا کہ ”حلف دیتا ہوں کہ تشدد اور توڑ پھوڑ کا کبھی نہیں کہا”۔ ایک ایسا فرسودہ بیانیہ ہے جس پر اُن کے بے دام ذہنی غلام توضرور فی الفور، ایمان لے آئیں گے۔ مگر جو شخص ذرہ برابر بھی عقل و شعور رکھتا ہے ، وہ بخوبی جانتا ہے کہ عمران خان کی تمام سیاست ہی تخریب، یاوہ گوئی ، الزام تراشی ،انتشار ،تشدد اوربلیک میلنگ کے گرد گھومتی رہی ہے۔ حیران کن بات تو یہ ہے کہ عمران خان کی پاکستان دشمن ریشہ دوانیوں کے بارے میں حکیم محمد سعید شہید 1996 میں اپنی کتاب ”جاپان کہانی” کے صفحہ نمبر 14 پر بہت پہلے ہی اپنی قوم کو خبردار کرتے ہوئے لکھ چکے تھے کہ ” نوجوانو! تم نے دیکھا کہ اَب امریکا نے عربوں کو یہودیوں کی غلامی میں دینا شروع کردیا ہے۔ اَب جہاں امریکا ہے ، وہاں یہودی اس کے ساتھ ہیں ۔ کہنا چاہیئے کہ امریکا یہودیوں کی دولت سے آگے بڑھ رہا ہے اور نہایت خاموشی کے ساتھ یہودی نظام کو(دنیا بھر میں) رائج کرتا چلاجارہا ہے ۔ عرب ملکوں کے بعد دوسرے اسلامی ممالک بھی یہودیوں کی طاقت کو لوہا مان چکے ہیں ۔اس لیئے یہودی حکومت(روز بہ روز مضبوط سے مضبوط)تر ہوتی چلی جارہی ہے ۔اَب یہودی مدینہ کو یثرب بنانے کا تہیہ کرچکے ہیں ۔ اس کے بعد سارا عرب ڈوب مرے گا اور سارا عالم ِ اسلام (مکمل طور پر ) یہودیوں کے زیر اثر آجائے گا۔
پاکستان(میں اِس مقصد کے لیے) عمران خان کا انتخاب ہواہے ۔یہودی ٹیلی ویژن اورعالمی میڈیا نے عمران خان کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔ سی این این ،بی بی سی سب عمران خان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملارہے ہیں ۔ برطانیہ ،جس نے فلسطین کو تقسیم کرکے یہودی حکومت قائم کروائی تھی ۔وہ عمران خان کو(پوری طاقت کے ساتھ) آگے بڑھا رہا ہے اورکسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہورہی ہے۔ عمران خان کی شادی یہودیوں میں کروادی گئی ہے ۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ کو کروڑوں روپے دیئے جارہے ہیں تاکہ عمران خان کو خاص انسان(یعنی مسیحا) بنادیا جائے ۔نیزوزارتِ عظمی کے لیئے عمران خان کی راہیں (بڑی تیز رفتاری کے ساتھ )ہموار کی جارہی ہیں ۔ نوجوانو! کیا اَب پاکستان کی آئندہ حکومت یہودی الاصل ہوگی؟۔یہ سیلاب بڑی تیزی سے آ رہا ہے اور اس پر بند باندھنا بہت مشکل ہورہاہے۔ بہت جلد عمران خان کو ایوانِ وزیراعظم میں لے جا کر بٹھا دیا جائے گا اور یہ مہرہ(مکمل طور پر) یہودیوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ عظیم نوجوانو! عظیم پاکستان کی قسمت کایوں سودا(طے ) ہوا ہے۔ انا للہ و اناالیہ راجعون”۔
واضح رہے کہ حکیم محمد سعید شہید زیادہ تر مضامین اور کتب صرف بچوں اور نوجوانوں کے لیے لکھا کرتے تھے اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ وہ کبھی بھی اپنی تحریروں میں سیاست کو زیربحث نہیں لایا کرتے تھے۔ لیکن کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ اپنی تصنیف ‘ ‘جاپان کہانی ” میں انہوں نے پاکستانی بچوں اور نوجوانو! کو عمران خان کے پاکستان مخالف عزائم کے بارے میں آج سے 27 برس پہلے ہی آگاہی فراہم کرنا اپنی علمی ذمہ داری سمجھاتھا ۔شاید اُنہیں اندیشہ اور ڈر تھا کہ یہ ہی بچے کل بڑے ہوکر عمران خان کا آلہ کار بن کر پاکستان دشمنی پر نہ اُتر آئیں ۔ ہماری کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ حکیم محمد سعید شہید کی کتابیں پڑھ کر جوان ہونے والے بچے بھی اُن کی نصیحت اور تنبیہ کو یاد نہ رکھ سکے اور آج ملک کے ہزاروں نوجوان عمران خان کے جھوٹے سیاسی بیانیہ کا شکار ہوکر قید و بند کی ناقابل بیان اذیتیں برداشت کررہے ہیں ۔جبکہ عمران خان کی سفاکی اور بے حسی ملاحظہ ہو کہ وہ آج بھی زمان پارک میں بیٹھ کر یہ بیان دے رہا ہے کہ ”9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ کرنے والے ایجنسیوں کے ایجنٹ تھے”۔ یعنی عمران خان اپنی جان بچانے کے لیے اُن سادہ لوح نوجوانوں کو قبول کرنے سے بھی یکسر انکاری ہے ، جنہوں نے عمران خان کے جھوٹے بیانیہ پر ایمان لاکر وطن کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کی تھی۔کاش ! جو پاکستانی نوجوان ابھی بھی عمران خان کے خواب ِ غفلت میں غرق ہیں ،وہ اگلوں کا حشر نشر دیکھ کر بیدار ہوجائیں ۔وگرنہ عین ممکن ہے اگلی مرتبہ عمران خان اُنہیں بھی قربان کردے۔
٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
عمررسیدہ افراد خصوصی توجہ کے منتظر وجود هفته 15 جون 2024
عمررسیدہ افراد خصوصی توجہ کے منتظر

دورۂ چین سے توقعات اور حقیقت پسندی! وجود هفته 15 جون 2024
دورۂ چین سے توقعات اور حقیقت پسندی!

رات کاآخری پہر وجود هفته 15 جون 2024
رات کاآخری پہر

''را'' کی بلوچستان میں دہشت گردی وجود هفته 15 جون 2024
''را'' کی بلوچستان میں دہشت گردی

بجٹ اور میراثی وجود جمعه 14 جون 2024
بجٹ اور میراثی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر