وجود

... loading ...

وجود
وجود

بدنام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر کی ڈائریکٹر اسکول کے طور پر تعیناتی

پیر 22 مئی 2023 بدنام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر کی ڈائریکٹر اسکول کے طور پر تعیناتی

غیر قانونی بھرتیوں میں ملوث، خواتین کو ہراساں کرنے والے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر یار محمد بلیدی کو ڈائریکٹر اسکول کراچی سیکنڈری مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ ان کی تقرری ڈائریکٹر اسکول کراچی سیکنڈری فرناز ریاض کی جگہ کی گئی ہے جو 2ماہ بعد12 جولائی کو ریٹائر ہوجائیں گی اور یار محمد بلیدی ان کی جگہ چارج سنبھالیں گے۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن کی تاریخ میں ایسا نوٹیفکیشن پہلی بار جاری کیا گیا ہے کہ2ماہ قبل ہی ڈائریکٹر بنانے کا نوٹیفکیشن جاری ہوگیا۔ دلچسپ امر یہ ہے یار محمد بلیدی کو خود چند ہفتے قبل محکمہ تعلیم نے آئی بی اے سکھر ٹیسٹ اساتذہ کی بھرتیوں میں فی ٹیچر2 لاکھ روپے رشوت وصول کرنے کے الزام میں خط دے رکھا ہے اور بھرتیوں کی تمام تفصیلات مانگ رکھی ہیں تاہم اس کے باوجود انھیں 2ماہ قبل ہی ڈائریکٹر اسکول مقرر کردیا گیا۔ محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق انھوں نے ایک صوبائی وزیر کی قریبی عزیزہ کو ٹیسٹ میں کم نمبر ہونے کے باوجود ٹیچر بھرتی کرلیا تھا۔ یاد رہے کہ 19 گریڈ سے 20 گریڈ میں ترقی پانے والے ڈی او ایسٹ (سیکنڈری) یار محمد بلیدی کا تبادلہ رواں سال 14 مارچ کو ہوا تھا اور ان کی جگہ گریڈ 19کی افسر شاہانہ پروین کو لگایا گیا تھا جس کا نوٹیفکیشن چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر سہیل راجپوت نے جاری کیا تھا جبکہ یار محمد بلیدی کا تبادلہ کورنگی کے کمپری ہنسیو اسکول میں کیا گیا۔ تاہم، بلیدی نے چارج چھوڑنے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ ڈائریکٹر سیکنڈری بننے کے خواہشمند تھے۔ وزیر تعلیم سعید غنی کے دور میں یار محمد بلیدی کا تبادلہ سانگھڑ سے کراچی کرتے ہوئے انہیں ڈی او ایسٹ مقرر کیا گیا تھا جس کے بعد گلشن اقبال کے علاقے شانتی نگر میں اربوں روپے کی زمین پر واقع سرکاری اسکول کی جگہ لینڈ مافیا کو دینے کا اسکینڈل سامنے آیا تھا۔ اس اسکینڈل میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسکول کی حدود میں سامنے والے علاقے کی زمین لینڈ مافیا کو دیدی گئی جس نے وہاں رہائشی فلیٹس تعمیر کر دیئے اور اسکول کو پیچھے منتقل کر دیا۔ بلیدی کے دور میں اساتذہ کی بھرتیوں اور ترقیوں کے حوالے سے بھی سنگین بے قاعدگیاں سامنے آئیں تھیں لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں
ہوئی تھی۔ اسی طرح21 اکتوبر 2022 ء کو یار محمد بلیدی کی جانب سے ٹیسٹ میں ناکام ہونے والے امیدوار کو زبردستی بھرتی کرنے کیلئے خاتون ڈائریکٹر کو ہراساں کرنے کاالزام بھی سامنے آیاتھا۔ چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر سہیل راجپوت نے بتایا کہ بلیدی کی تقرری کی سفارش محکمہ اسکول ایجوکیشن نے کی تھی اور ہم نے محکمہ کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ان کی تقرری کردی کیوں کہ محکمہ اپنے افسران کو بہتر جانتا ہے تاہم پھر بھی ہم اس تقرری کا جائزہ لیں گے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ایک ایسے افسر کو جس پر سنگین الزامات ہوں ان الزامات کی تفتیش کے بعد ان سے بری کئے جانے سے قبل اس طرح کی عنایات تعلیم جیسے شعبے کے ساتھ کھلواڑ سے کم کچھ نہیں ہے،صوبائی وزیر تعلیم کا فرض ہے کہ وہ ان الزامات کی غیر جابندارانہ تحقیقات کرائیں اور تحقیقات مکمل ہونے سے قبل انھیں محکمہ تعلیم کے کسی بھی عہدے پرفائز کرنے سے گریز کیاجائے۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کوفیہ فلسطینی مزاحمت کی علامت ہے ! وجود جمعرات 30 مئی 2024
کوفیہ فلسطینی مزاحمت کی علامت ہے !

امن دستوں کا عالمی دن۔پاک فوج کا کردار وجود جمعرات 30 مئی 2024
امن دستوں کا عالمی دن۔پاک فوج کا کردار

وسعت افلاک میں تکبیرِمسلسل وجود جمعرات 30 مئی 2024
وسعت افلاک میں تکبیرِمسلسل

چائے پانی وجود بدھ 29 مئی 2024
چائے پانی

دلی والے : ہاتھ میں جھاڑو دل میں کیا؟ وجود بدھ 29 مئی 2024
دلی والے : ہاتھ میں جھاڑو دل میں کیا؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر