... loading ...
ایک اندازے کے مطابق اس سال رمضان المبار ک اور عید کے دوران صرف کراچی کے شہریوں نے جذبہ خدا ترسی کے تحت کم وبیش 10 کروڑ روپے ملک کے کم وسیلہ اور لاچار خاندانوں اور افراد کی امدادواعانت پر خرچ کئے اور اس رقم کا بڑا حصہ اندرون ملک سے آئے ہوئے پیشہ وربھکاری لے اڑے۔
یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ اس ملک میں دوسرے مافیاؤں کی طرح ”بھکاری مافیا“ بہت ہی منظم اور اثر و رسوخ والا ہے۔ بلکہ پورے ملک میں ایک چین ہے جس کا تعلق دوسرے ممالک سے بھی ہے۔ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ایک دو بار بھکاریوں کی یلغار کی خبر چھپی اور نشر ہوئی پھر ٹھنڈ ہو گئی حالانکہ حالات یہ ہیں کہ کراچی شہر کی کوئی بھی سڑک یا مصروف گزر گاہ اور چوراہا ایسا نہیں تھا،جہاں بھکاریوں کے غول کے غول موجود نہیں ہوتے تھے اور یہ حضرات گزرنے والوں خصوصاً اشارے پر کھڑے حضرات کی گاڑیوں کے شیشے بجا بجا کر ان کو متوجہ کرتے تھے۔ اگر جائزہ لیاجائے تو اندازہ ہوتاہے کہ یہ کام باقاعدہ منظم طریقے سے شفٹوں میں ہوتا ہے صبح سے دوپہر تک بچوں والی خواتین، وائپر والی لڑکیاں اور لڑکے اور کچھ بزرگ نما لوگ نظر آتے ہیں۔ دوپہر کے وقت ذرا صحت مند قسم کے بھکاری ہوتے ہیں اور شام کی شفٹ میں خواجہ سراؤں کے ساتھ بوڑھے افراد پائے جاتے ہیں۔ ان سب کے علاوہ بے شمار معذور ملیں گے جن کے بازو یا پاؤں خراب ہوتے ہیں اور احساس ہوتا ہے کہ پولیو کے باعث ان کا یہ حال ہواہے۔ حالانکہ حقیقت مختلف ہے ان کے علاوہ ایک ٹانگ یا ایک بازو کٹے ہوئے بھکاری بھی جابجا نظر آتے ہیں، رمضان المبارک شروع ہونے سے قبل ہی کراچی پر بھکاریوں کی یلغار کا سلسلہ شروع ہوگیاتھا۔ یہ سب اپنی جگہ آج کل ایک اور پریشانییہ تھی کہ گھر میں افطار سے کچھ دیر پہلے جو رمضان المبارک کے دوران انتہائی مصروفیت کا وقت ہوتا ہے ہر کوئی اپنی اپنی بساط کے مطابق تیاری میں مصروف ہوتا ہے کہ افطار تسلی سے کی جائے۔ گھر میں اس مصروفیت کے وقت اچانک گھنٹی بجتی تھی اہل خانہ کو خیال ہوتاتھا کہ شاید کوئی محلے دار ہو، جب دروازہ کھولا جاتا تو کوئی نہ کوئی بھکاری کھڑا پایا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا، ان لوگوں کو افطار کے وقت کا تو کجا کسی کی نماز یا گھر والوں کے آرام کا بھی کوئی احساس نہیں ہوتا تھا،عموماً یہ افراد ایسے دلدوز انداز سے فریاد کرتے ہیں کہ دل پسیج ہی جاتا ہے۔ گھروں کے چکر لگانے والوں میں ایسی خواتین بھی ہیں جو چھوٹے بچوں کو ساتھ لئے ہوتی اور ان کو یتیم ظاہر کر کے بھیک مانگتی تھیں۔ یوں یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتاتھا اور شاپنگ سینٹرز میں تو ان کی تعداد میں کسی بھی وقت کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ایک سے زیادہ بار یہ انکشاف ہو چکا کہ مافیا والے بچوں کے اغوا میں ملوث ہوتے ہیں۔ کراچی سے بچہ اغوا کر کے پشاور مافیا کے پاس بھیج دیا جاتا اور لاہور والا کراچی میں بک جاتا ہے یہ لوگ ان معصوم بچوں کو خود معذور بناتے اور ان کو مشین کا نام دیا جاتا ہے۔ ان سب کے درمیان سیاست دانوں کی طرح لڑائی نہیں ہوتی اور یہ علاقے بانٹ کر یہ دھندا کرتے ہیں جہاں تک شفٹوں کا تعلق ہے تو کسی بھی بڑے چوراہے پر کچھ وقت گزار کر دیکھ لیں کہ مافیا والے باقاعدہ گاڑیوں میں یہ ”مشینیں“ لا کر ٹھکانے پر بٹھاتے اور شفٹ پوری ہونے پر لے بھی جاتے ہیں۔اور یہ تمام کام ہماری معزز اور فرائض کی بجاآوری میں ہمہ وقت چوکس پولیس کے سامنے ہورہاہوتاہے،شاپنگ سینٹرز میں ان پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں ہٹی کٹی بھکاری عورتیں شاپنگ کیلئے آنے والی خواتین کے دوپٹے گھسیٹ رہی ہوتی تھیں لیکن کیا مجال کے فرائض کی انجام دہی میں مصروف پولیس اہلکار ان کو ٹوک دیں حالانکہ قانون کے مطابق بھیک مانگنا جرم ہے اور ان کو گرفتار کرکے سزا دی جانی چاہئے لیکن فرائض کی بجاآوری میں مصروف پولیس اہلکاروں کو چونکہ بھکاری مافیا کی جانب سے بھی مبینہ طورپر ایک معقول نذرانہ پیش کیاجاتاتھا، اس لیے یہ ان لوگوں کی حفاظت کو بھی اپنے فرائض کا ایک حصہ تصور کرتے ہوئے شاپنگ کیلئے آنے والوں کے بجائے ان ہٹے کٹے بھکاریوں کے تحفظ کا فرض انجام دیتے نظر آتے تھے،یہی وجہ ہے کہ پورے رمضان المبارک کے دوران شہریوں کو تنگ کرنے اور حقیقی معنوں میں مستحقین کا حق مارنے والی اس بھکاری مافیا کے کسی ایک فرد کو بھی اینٹی بیگری ایکٹ کے تحت گرفتار کرنے کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی جبکہ اسکوٹر پر بچوں کو شاپنگ کے لیے لے جانے والے سیکڑوں افراد کے چالان کرکے پولیس اپنا فرض پورا کرتی نظر آئی، ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر چالان کرنا کوئی غلط بات نہیں ہے لیکن اگر اس کے ساتھ ہی اگر اس بھکاری مافیا کے خلاف کوئی نمائشی ہی کارروائی کی جاتی سیکڑوں نہیں بلکہ درجنوں ہی صحیح جعلی معذوروں اور ہٹے کٹے بھکاریوں کو کم از کم رمضان کے دوران ہی پابند سلاسل کردیاجاتاتو شاید شہریوں کو ان بھکاریوں کی طوفان بدتمیزی کا اتنا زیادہ سامنا نہ کرنا پڑتا، یہ صحیح ہے کہ ہماری انتظامیہ اور پولیس کے پاس بہت بکھیڑے ہیں لیکن جب حکومت باقاعدہ اعلان کر رہی ہے کہ بھیک جرم ہے تو پھر اس کے سد باب کے لیے بھی کچھ تو کرنا چاہئے۔
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...
اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...
صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...
ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...
9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...
سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحما...
فریقین نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں اجلاس سے خطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن، علاقائی استحکام ...
کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں سروسز عوامی سہولت کیلئے جمعہ کو کھلی رہیں گی ملک بھر میں اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دییگئے،ہفتہ اتوار کھلے رہیں گے توانائی بچت مہم کے دور ان کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسح...
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...