وجود

... loading ...

وجود

جوڈیشل کمپلیکس پیشی پر ہنگامہ آرائی، عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج

اتوار 19 مارچ 2023 جوڈیشل کمپلیکس پیشی پر ہنگامہ آرائی، عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج

توشہ خانہ کیس میں پیشی کیلئے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی گزشتہ روز جوڈیشل کمپلیکس آمد کے موقع پر پارٹی کارکنان کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے الزام میں سابق وزیراعظم کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ایس ایچ او تھانہ رمنا ملک راشد احمد کی مدعیت میں اسلام آباد کے تھانہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) میں درج مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ (1997) کی دفعہ 7 سمیت تعزیرات پاکستان کی دفعہ 148، 149، 186، 353، 380، 395، 427، 435، 440 اور دفعہ 506 شامل کی گئی ہیں۔ مقدمے میں علی امین گنڈاپور، حماد اظہر، خرم نواز، امجد نیازی، اسد عمر، عامرکیانی، فرخ حبیب سمیت پی ٹی آئی کے متعدد اہم رہنماؤں اور کارکنان کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں جوڈیشل کمپلیکس کو نقصان پہنچانے میں ملوث 18 افراد، جوڈیشل کمپلیکس کے پارکنگ ایریا کو نقصان پہنچانے اور آگ لگانے میں ملوث 22 افراد اور پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر زخمی کرنے میں ملوث 19 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا کہ ان میں سے کچھ افراد کے پاس سے پتھر، لائٹر اور پیٹرول سے بھری بوتلیں برآمد ہوئی ہیں۔ ایف آئی آر میں ایس ایچ او ملک راشد احمد نے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں پی ٹی آئی سربراہ عمران خان نے 17 دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ مل کر نافذ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی اور سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ایس ایچ او ملک راشد احمد نے ایف آئی آر میں دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کارکنان پتھروں سے لیس تھے جو انہوں نے ڈھوک کشمیریاں پولیس اسٹیشن کی چیک پوسٹ پر پھینکے اور چیک پوسٹ پر لگے بیریئرز اور خیموں کو جلا دیا۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ہجوم نے جوڈیشل کمپلیکس کو چاروں اطراف سے گھیر لیا، اس کے مرکزی دروازے کو توڑ دیا اور پھر عمارت پر پتھراؤ کیا جس سے اس کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے ایک اور گروپ نے جوڈیشل کمپلیکس کی پارکنگ میں 16 سرکاری گاڑیوں، پولیس کی گاڑیوں اور 4 موٹر سائیکلوں کو آگ لگا دی، انہوں نے پولیس کی گاڑ سے 9 ایم ایم پستول، 20 ہزار روپے اور ایک وائرلیس سیٹ بھی چْرا لیا۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں سے 8 اینٹی رائٹ کٹس چھین لیں، پولیس اہلکاروں کو لاٹھیوں سے مارا اور ان پر پتھراؤ کیا۔پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے سیف سٹی کی فوٹیج شناخت کے لیے نادرا کو بھجوادی ہیں، ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد کی شناخت کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ دریں اثنا اسلام آباد پولیس نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔اسلام آباد پولیس کی جانب سے ایک ٹوئٹ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی چیئرمین سابق وزیراعظم عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس پیشی پر مشتعل کارکنوں کی اسلام آباد کیپیٹل پولیس اور دیگر معاون فورسز کے اہلکاروں پر پتھراؤ سے 52 اہلکار زخمی ہوئے، علاوہ ازیں اسلام آباد پولیس کی 12 اور پنجاب پولیس و ایف سی کی 3 گاڑیوں کو نقصان پہنچا جن میں سے اسلام آباد پولیس کی 4 گاڑیاں مکمل طور پر جل گئیں۔ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ آئی جی اسلام آباد نے اس مد میں ہونے والے نقصان کا جلد از جلد تخمینہ لگانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ایک علیحدہ ٹوئٹ میں پولیس نے آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان کی جوڈیشل کمپلیکس کے دورے کی تصاویر شیئر کیں جہاں انہوں نے مختلف فورسز کے اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کی خدمات کو سراہا۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے، کسی بھی شرپسند عناصر کو قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ، مظاہروں میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان توشہ خانہ کیس کی سماعت میں پیشی کیلئے جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پہنچے تو اسلام آباد پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے دوران 25 افراد زخمی ہوگئے جبکہ موٹر سائیکلوں سمیت 30 گاڑیوں اور ایک پولیس چوکی کو نذر آتش کردیا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پرتشدد جھڑپوں کے دوران پولیس اور پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے ایک دوسریکو پیچھے دھکیلنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، پی ٹی آئی نے پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگانے کے لیے پٹرول بموں کے ساتھ ساتھ پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔جوڈیشل کمپلیکس پر ہجوم پی ٹی آئی قیادت کی کال پر اکٹھا ہوا تھا جنہوں نے کارکنان کو جوڈیشل کمپلیکس پہنچنے کی کال دینے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا۔امن و امان کو برقرار رکھنے اور ہجوم کو جوڈیشل کمپلیکس تک پہنچنے سے روکنے کے لیے تقریباً 4 ہزار پولیس اہلکار (جن میں 700 ایف سی اور ایک ہزار پنجاب پولیس کے اہلکار بھی شامل تھے) کمپلیکس کے اندر اور اس کے اطراف میں تعینات کیے گئے تھے۔علاوہ ازیں جوڈیشل کمپلیکس سے ملحقہ سروس روڈ پر بھی کنٹینرز لگا دیے گئے تھے، علاقے کو گھیرے میں لینے کے لیے خاردار تاریں اور رکاوٹیں بھی لگائی گئی تھیں، پولیس اہلکاروں سمیت اینٹی رائٹس ٹیم کو بھی جوڈیشل کمپلیکس میں تعینات کیا گیا تھا۔جھڑپوں کے دوران دارالحکومت انتظامیہ نے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی بھی نافذ کر دی تھی، 25 پولیس اہلکار اور 5 شہریوں سمیت تقریباً 30 زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، شام 6 بجے کے قریب عمران خان جوڈیشل کمپلیکس سے واپس روانہ ہوگئے تھے لیکن ان کے جانے کے بعد آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت تک جوڈیشل کمپلیکس کا ماحول میدان جنگ بنا رہا۔پولیس کے پی آر او نے کہا کہ پولیس اور پی ٹی آئی کے درمیان ایک معاہدہ طے ہوا تھا کہ عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس آمد کے دوران اسلام آباد کا امن و امان متاثر نہیں ہونا چاہیے، تاہم پی ٹی آئی کارکنان نے انتشار کی صورتحال پیدا کی اور پولیس پر حملہ کیا۔پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ انتشار پھیلانے میں ملوث پی ٹی آئی کے متعدد کارکنان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مضامین
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا وجود اتوار 25 جنوری 2026
ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا

بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس وجود اتوار 25 جنوری 2026
بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس

ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر