... loading ...
توشہ خانہ کیس میں پیشی کیلئے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی گزشتہ روز جوڈیشل کمپلیکس آمد کے موقع پر پارٹی کارکنان کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے الزام میں سابق وزیراعظم کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ایس ایچ او تھانہ رمنا ملک راشد احمد کی مدعیت میں اسلام آباد کے تھانہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) میں درج مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ (1997) کی دفعہ 7 سمیت تعزیرات پاکستان کی دفعہ 148، 149، 186، 353، 380، 395، 427، 435، 440 اور دفعہ 506 شامل کی گئی ہیں۔ مقدمے میں علی امین گنڈاپور، حماد اظہر، خرم نواز، امجد نیازی، اسد عمر، عامرکیانی، فرخ حبیب سمیت پی ٹی آئی کے متعدد اہم رہنماؤں اور کارکنان کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں جوڈیشل کمپلیکس کو نقصان پہنچانے میں ملوث 18 افراد، جوڈیشل کمپلیکس کے پارکنگ ایریا کو نقصان پہنچانے اور آگ لگانے میں ملوث 22 افراد اور پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر زخمی کرنے میں ملوث 19 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا کہ ان میں سے کچھ افراد کے پاس سے پتھر، لائٹر اور پیٹرول سے بھری بوتلیں برآمد ہوئی ہیں۔ ایف آئی آر میں ایس ایچ او ملک راشد احمد نے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں پی ٹی آئی سربراہ عمران خان نے 17 دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ مل کر نافذ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی اور سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ایس ایچ او ملک راشد احمد نے ایف آئی آر میں دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کارکنان پتھروں سے لیس تھے جو انہوں نے ڈھوک کشمیریاں پولیس اسٹیشن کی چیک پوسٹ پر پھینکے اور چیک پوسٹ پر لگے بیریئرز اور خیموں کو جلا دیا۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ہجوم نے جوڈیشل کمپلیکس کو چاروں اطراف سے گھیر لیا، اس کے مرکزی دروازے کو توڑ دیا اور پھر عمارت پر پتھراؤ کیا جس سے اس کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے ایک اور گروپ نے جوڈیشل کمپلیکس کی پارکنگ میں 16 سرکاری گاڑیوں، پولیس کی گاڑیوں اور 4 موٹر سائیکلوں کو آگ لگا دی، انہوں نے پولیس کی گاڑ سے 9 ایم ایم پستول، 20 ہزار روپے اور ایک وائرلیس سیٹ بھی چْرا لیا۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں سے 8 اینٹی رائٹ کٹس چھین لیں، پولیس اہلکاروں کو لاٹھیوں سے مارا اور ان پر پتھراؤ کیا۔پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے سیف سٹی کی فوٹیج شناخت کے لیے نادرا کو بھجوادی ہیں، ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد کی شناخت کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ دریں اثنا اسلام آباد پولیس نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔اسلام آباد پولیس کی جانب سے ایک ٹوئٹ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی چیئرمین سابق وزیراعظم عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس پیشی پر مشتعل کارکنوں کی اسلام آباد کیپیٹل پولیس اور دیگر معاون فورسز کے اہلکاروں پر پتھراؤ سے 52 اہلکار زخمی ہوئے، علاوہ ازیں اسلام آباد پولیس کی 12 اور پنجاب پولیس و ایف سی کی 3 گاڑیوں کو نقصان پہنچا جن میں سے اسلام آباد پولیس کی 4 گاڑیاں مکمل طور پر جل گئیں۔ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ آئی جی اسلام آباد نے اس مد میں ہونے والے نقصان کا جلد از جلد تخمینہ لگانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ایک علیحدہ ٹوئٹ میں پولیس نے آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان کی جوڈیشل کمپلیکس کے دورے کی تصاویر شیئر کیں جہاں انہوں نے مختلف فورسز کے اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کی خدمات کو سراہا۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے، کسی بھی شرپسند عناصر کو قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ، مظاہروں میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان توشہ خانہ کیس کی سماعت میں پیشی کیلئے جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پہنچے تو اسلام آباد پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے دوران 25 افراد زخمی ہوگئے جبکہ موٹر سائیکلوں سمیت 30 گاڑیوں اور ایک پولیس چوکی کو نذر آتش کردیا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پرتشدد جھڑپوں کے دوران پولیس اور پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے ایک دوسریکو پیچھے دھکیلنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، پی ٹی آئی نے پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگانے کے لیے پٹرول بموں کے ساتھ ساتھ پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔جوڈیشل کمپلیکس پر ہجوم پی ٹی آئی قیادت کی کال پر اکٹھا ہوا تھا جنہوں نے کارکنان کو جوڈیشل کمپلیکس پہنچنے کی کال دینے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا۔امن و امان کو برقرار رکھنے اور ہجوم کو جوڈیشل کمپلیکس تک پہنچنے سے روکنے کے لیے تقریباً 4 ہزار پولیس اہلکار (جن میں 700 ایف سی اور ایک ہزار پنجاب پولیس کے اہلکار بھی شامل تھے) کمپلیکس کے اندر اور اس کے اطراف میں تعینات کیے گئے تھے۔علاوہ ازیں جوڈیشل کمپلیکس سے ملحقہ سروس روڈ پر بھی کنٹینرز لگا دیے گئے تھے، علاقے کو گھیرے میں لینے کے لیے خاردار تاریں اور رکاوٹیں بھی لگائی گئی تھیں، پولیس اہلکاروں سمیت اینٹی رائٹس ٹیم کو بھی جوڈیشل کمپلیکس میں تعینات کیا گیا تھا۔جھڑپوں کے دوران دارالحکومت انتظامیہ نے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی بھی نافذ کر دی تھی، 25 پولیس اہلکار اور 5 شہریوں سمیت تقریباً 30 زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، شام 6 بجے کے قریب عمران خان جوڈیشل کمپلیکس سے واپس روانہ ہوگئے تھے لیکن ان کے جانے کے بعد آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت تک جوڈیشل کمپلیکس کا ماحول میدان جنگ بنا رہا۔پولیس کے پی آر او نے کہا کہ پولیس اور پی ٹی آئی کے درمیان ایک معاہدہ طے ہوا تھا کہ عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس آمد کے دوران اسلام آباد کا امن و امان متاثر نہیں ہونا چاہیے، تاہم پی ٹی آئی کارکنان نے انتشار کی صورتحال پیدا کی اور پولیس پر حملہ کیا۔پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ انتشار پھیلانے میں ملوث پی ٹی آئی کے متعدد کارکنان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
دھماکا اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد بند کی گئی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا،دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی اس کا اثر مرکزی دوحا تک محسوس کیا گیا، وزیر توانائیقطر ہمارے 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن کا تعلق بھارت، پاکستان سے ہے، 66 افراد زخمی ہوئے ،راس...
کلائمٹ سپورٹ لیوی میں 50فیصد اضافہ ،عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں پٹرولیم لیوی بڑی رکاوٹ بن گئی،مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ایران امریکا جنگ بندی کے بعدپیٹرول 299روپے 58پیسے فی لیٹرمقرر،نئے بجٹ میں لیوی کا ہدف بڑھا کر پیٹرولیم قیمتوںکی مد می...
وفاقی حکومت نے یوم عاشور کے موقع پر 2 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا سرکاری ملازمین 4 چھٹیوں سے مستفید ہوں گے، باضابطہ نوٹیفکیشن جاری وفاقی حکومت نے یوم عاشور کے موقع پر 2 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہ...
اسپیکر باقر قالیباف اور ایران کی قیادت خطے میں امن کیلئے مخلص ہے، شہبازشریف پاک امریکا تعلقات وقت کیساتھ مزید مضبوط اور گہرے ہوئے،صحافیوں سے گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن پسند شخصیت ہیں، اسپیکر باقر قالیباف اور ایران کی قیادت خطے میں امن کیل...
حکومت نے مذاکرات کی بات کی لیکن بات چیت شروع نہیں ہوئی،سابق اسپیکر قومی اسمبلی ہم جمہوریت، آزاد الیکشن کمیشن، لیول پلیئنگ فیلڈ چاہتے ہیں،پی ٹی آئی رہنماکی میڈیا سے گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کی بات کی لیکن بات چیت شروع نہیں ہوئی۔...
سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...
انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...
تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...
تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...
ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...
شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...