وجود

... loading ...

وجود
وجود

15؍مارچ:عالمی اسلاموفوبیا مخالف دن

جمعرات 16 مارچ 2023 15؍مارچ:عالمی اسلاموفوبیا مخالف دن

ڈاکٹر سلیم خان
۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امسال پہلی بار عالمی سطح پرپندرہ مارچ کو دنیا بھر میں اسلامو فوبیا کے خلاف دن منایا جا رہا ہے ۔ اس کا مقصد دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت اور تشدد آمیز دہشت گردانہ کارروائیوں کو روکنے کی کوشش کرنا ہے ۔ جس طرح ویلنٹائن ڈے کا اہتمام محبت میں اضافہ نہیں کرتا اسی طرح یہ دن بھی نفرت میں کمی نہیں کرسکے گا پھربھی اس کے اندر یہ اعتراف موجود ہے کہ دنیا بھر میں امت مسلمہ کے خلاف نفرت انگیزی کی نت نئی مہمات جاری و ساری ہیں ۔ گیارہ ستمبر کے بعد عالمی سطح پر پوری ملت کو دہشت گرد بناکر پیش کیا گیا اور اس کی وجہ دین اسلام میں تصورِ جہاد بتائی گئی۔ یہ جھوٹ قوم پرستی اور فسطائیت کی ضرورت تھی۔ سوویت یونین کا اشتراکی نظریہ اسلام سمیت تمام مذاہب کا دشمن تھا لیکن مغربی استعماریت نے اپنی ساری توجہ اس کی جانب مبذول کررکھی تھی۔ اس کے انتشارنے مغرب کو ایک نئے دشمن کی تلاش پر مجبور کردیا کیونکہ قوم پرستی کی اپنوں سے محبت اور دوسروں کے نفرت پر قائم ہوتی ہے جبکہ فسطائیت کا سارا دارومدار نفرت ہی پر ہے ۔ اس ضرورت کو اسلام و مسلمانوں سے پورا کیا گیا اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی مسماری نے عملی مخالفت کی وجہ جواز بھی فراہم کردی ۔
ماحول سازی کی غرض سے امسال تین دن قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسلامو فوبیا سے نمٹنے کی خاطرعالمی دن کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کی تقریب منعقد ہوئی ۔ اس موقع پر اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے دنیا بھر میں مسلم سماج کے خلاف نفرت کے تباہ کن نتائج کو اجاگر کرکے تعصب اور تشدد کے سد باب کی عالمی کوششوں میں اضافے پر زور دیا ۔ اپنے خطاب میں لنڈا تھامس نے لگ بھگ چار سال قبل نیوزی لینڈ کی دو مساجد اور چرچ کے اندر ایک مسلح شخص کاخوفناک حملہ یاد دلایا جس کی اندھا دھندفائرنگ سے 51 مسلمان شہیداور چالیس زخمی ہو گئے تھے ۔ لنڈا کے مطابق یہ ہولناک واقعہ پوری مسلم امت کے خلاف ایک حملہ اور اسلاموفوبیا کے مہلک نتائج کا عکاس تھا ۔ اس اندوہناک سانحہ کے تین سال بعد اقوام متحدہ نے 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کے خلاف بین الاقوامی دن قرار دے کرایک عالمی ادارے نے انسانی حقوق اور مذہب کی یکساں آزادی کو فروغ دینے کا عزم کیا ۔ اس موقع پر یہ باضابطہ تسلیم کیا گیا کہ مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔
اسلامو فوبیا کی ایک بڑی مثال برما کی فوج کے روہنگیا سماج کے خلاف قتل عام اور انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب ہے کیونکہ ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے ۔امریکی سفیر نے اس کو تسلیم کرنے کے ساتھ چینی حکومت کے ذریعہ سنکیانگ میں اکثریتی ایغور باشندوں اور دوسرے نسلی و مذہبی اقلیتوں کے خلاف قتل عام اور جرائم کی ارتکاب کابھی ذکرکیا۔لنڈا تھامس نے بین الاقوامی برادری کو ان مظالم کی مسلسل مذمت اور جواب دہی کا مطالبہ کرنے کی تلقین کی ۔ امریکی سفیر نے اپنے ملک کے اندر اور دنیا بھر میں ہر قسم کی نفرت اور عدم برداشت کو جڑ سے اکھاڑنے کا عزم کیا ۔ صدر بائیڈن کے ذریعہ تعصب اور نسل پرستی کے خلاف ’ یونائیٹڈ وی اسٹینڈ‘ کے عنوان سے سربراہی اجلاس کی میزبانی اور ایک انٹر ایجنسی گروپ قائم کرکے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور مذہبی تعصب کے سد باب کی کوششوں کا حوالہ دیا ۔انہوں نے رمضان کے مقدس مہینے کی تیاری کے ساتھ تعصب اور تشدد روکنے کی اپنی کوششوں کو دوگنا کرکے یہ امید ظاہر کی کہ اگلے سال اسلامو فوبیا کے بین الاقوامی دن تک دنیا پہلے سے زیادہ پر امن، روادار اور منصفانہ ہو گی ۔
پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے زیر صدارت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس اجلاس کا اہتمام پاکستان اور او آئی سی کی شراکت سے کیا گیا۔ بلاول نے اس دن کا مقصد اسلامو فوبیا کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ، باہمی احترام اور افہام و تفہیم کی ترویج اور حالات کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کے عزم کو تقویت دینابتایا۔ان کے مطابق دین اسلام اعتدال، رواداری ، مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کے عقائد اور ثقافتوں کے احترام کا درس دیتا ہے ۔پچھلے سال، 193 رکنی اسمبلی نے قرارداد 76/254 منظور کرکے 15 مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن قرار دینے کی توثیق کی تھی تاکہ دنیا میں دوسری سب سے بڑی اسلامی برادری کے تئیں بعض ممالک میں بڑھتی ہوئی نفرت، امتیازی سلوک اور تشدد کے واقعات پر قابو پانے کے لیے ’اینٹی اسلامو فوبیا ڈے ‘ کا اعلان کیا جائے ۔ ان میں ظاہر ہے ہندوستان سرِ فہرست ہے ۔اس تجویز کی منظوری کے وقت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا تھاکہ دنیا بھر میں تقریباً 2؍ ارب مسلمان آباد ہیں اور وہ اپنے تمام تنوع میں انسانیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “تاہم، انہیں اکثر محض اپنے عقیدے کی وجہ سے تعصب سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔اس کے علاوہ، مسلم خواتین کو بھی ان کی جنس، نسل اور عقیدے کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ گوٹیرس نے کہاتھا کہ مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے ۔ دنیا کے کئی حصوں میں مسلمانوں کو ’اسلامو فوبیا‘ کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے ۔ان کے مطابق یہ سبھی کا اسلامو فوبیا کے خلاف کھڑے ہونا ضروری ہے ۔ انہوں نے ہر کسی کو ’جنونی‘ سمجھنے کے بجائے ’فوبیا‘ کے خاتمے پر اصرار کیا۔ گوٹیرس نے کہا تھا کہ یہ نسلی قوم پرستی، نونازی سفید فام بالادستی کے نظریات، اور مسلمانوں، یہودیوں، کچھ اقلیتی عیسائی برادریوں سمیت کمزور آبادیوں کو نشانہ بنانے والے تشدد کا ایک حصہ ہے ۔ تعصب سبھی کو تباہ کردے گا۔ اس کے خلاف سینہ سپر ہونا سب پر فرض ہے اس لیے تعصب کے خلاف اپنے دفاع کو مضبوط کرنا چاہئے ۔مذہبی مقامات کی حفاظت کے لئے ایک پلان آف ایکشن پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے سماجی ہم آہنگی میں سیاسی، ثقافتی اور اقتصادی سرمایہ کاری کو بڑھانے اور انٹرنیٹ پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے والی نفرت سے نمٹنے کے لئے کام کرنے پر زور دیا۔
دنیا بھر میں سب سے زیادہ مسلمان انڈونیشیا میں رہتے ہیں اور اس کے بعد ہندوستان کا نمبر آتا ہے اس لیے ہونا تو یہ چاہیے تھا، اسلامو فوبیا مخالف دن کی حکومتِ ہند زور و شور سے تائید کرتی لیکن چونکہ چور کی داڑھی میں تنکا تھا، اس لیے مودی سرکار اس کی مخالفت پر اتر آئی ۔ اس کی دلیل یہ تھی کہ اس قرارداد کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ ایک مذہبی پلیٹ فارم میں تبدیل ہو سکتا ہے اور دیگر مذاہب کے سلسلے میں بھی قراردادیں آ سکتی ہیں لہٰذا اس اس کو مثال نہیں بنانا چاہیے ۔ ملک میں ہندوتوا کی بنیاد پر سیاست اور عالمی سطح پر مذہب کی مخالفت بی جے پی کے دوغلے پن کا بینّ ثبوت تھا ۔ تنظیم اسلامی تعاون کے 57 رکن ممالک کے علاوہ چین اور روس سمیت آٹھ دیگر ممالک کے تائید سے منظور ہونے والی قرارداد کی مخالفت حکومت ہند کا ایک شرمناک عمل تھا ۔
ہندوستانی سفیر کا کہنا تھا کہ یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں باالخصوص ہندو، بودھ اور سکھوں کے لیے بھی خوف کے ماحول میں اضافہ کے ثبوت موجود ہیں ۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہندو ہردیہ سمراٹ مودی جی کیا کررہے ہیں؟ اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن منانے پر ہندوستانی سفیر نے سوال اٹھایا کہ پہلے سے ہی 22؍ اگست کو مذہب کے نام پر قتل کیے جانے والوں کی یاد میں دن منایا جاتا ہے جبکہ 16 نومبر کو بین الاقوامی یوم رواداری کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ ایسے میں اسلاموفوبیا کے خلاف بین الاقوامی دن منانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے اپنے منہ میاں مٹھو بنتے ہوئے ہندوستان کی مذہبی تکثیریت پر فخر جتاتے ہوئے کہا کہ اس ملک نے مذہب کے نام پر زیادتی کا شکار ہونے والوں کو ہمیشہ پناہ دی ہے ۔یہ سراسر جھوٹ ہے کیونکہ ہندوستان پڑوسی ممالک کے مسلمان تو کجا چین اور سری لنکا کے بودھوں اور برما کے ہندووں کو پناہ دینے کا بھی روادار نہیں ہے ۔اپنے ملک میں جھوٹ بولنے کے عادی اب اقوام متحدہ میں بھی کذب گوئی کرنے لگے ہیں ۔
اقوام متحدہ میں ہندوستانی سفیر ٹی ایس تریمورتی نے پہلے تو اسلامو فوبیا کے خلاف دن کی مخالفت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو مذہبی معاملات سے دور رہنے کا مشورہ دیا لیکن جب اسے ٹھکرا دیا گیا تو پینترا بدل کر کہنے لگے کہ فوبیا کو صرف تین ابراہیمی مذاہب یعنی اسلام، مسیحیت اور یہودیت تک محدود نہ کیا جائے بلکہ دیگر مذاہب بالخصوص ہندو، بودھ اور سکھ فوبیا یعنی منافرت کو بھی تسلیم کیا جائے ۔ یہ بات ا نہوں نے نئی دہلی میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ بعض مذہبی فوبیا کو اجاگر کرنا حالیہ برسوں میں ایک اہم رجحان بن گیا ہے ۔ان کو شکایت تھی کہ،’’اقوام متحدہ نے حالیہ برسوں میں اسلاموفوبیا، مسیحی فوبیا اور سامیت دشمنی کے رویوں کے حوالے سے خاصا کام کیا ہے ، یہ تینوں ابراہیمی مذاہب ہیں۔ ان کا ذکر انسداد دہشت گردی کے حوالے سے عالمی لائحہ عمل میں بھی موجود ہے لیکن دنیا کے دیگر بڑے مذاہب کے خلاف بھی فوبیا، منافرت یا تعصب بڑھ رہا ہے اور دنیا کو انہیں بھی تسلیم کرناچاہیے ۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر ہندوستان میں گجرات فساد نہ ہوتا، ہجومی تشدد کی وارداتیں عام نہ ہوتیں اور دھرم سنسد میں مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے کھلے عام نہ ابھارا جاتا تو شاید اسلاموفوبیا کا خطرہ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آپاتا۔ اس لیے ہندوستانی سفیر کی مخالفت دراصل ان کے احساسِ جرم کی غماز تھی۔ اسلاموفوبیا کا دن تو آتا جاتا رہے گا لیکن اسلام کے پیغام محبت سے اس کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت کا خاتمہ باگزیر ہے بقول جگر مراد آبادی
ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
مسلمان کب بیدارہوں گے ؟ وجود جمعه 19 اپریل 2024
مسلمان کب بیدارہوں گے ؟

عام آدمی پارٹی کا سیاسی بحران وجود جمعه 19 اپریل 2024
عام آدمی پارٹی کا سیاسی بحران

مودی سرکار کے ہاتھوں اقلیتوں کا قتل عام وجود جمعه 19 اپریل 2024
مودی سرکار کے ہاتھوں اقلیتوں کا قتل عام

وائرل زدہ معاشرہ وجود جمعرات 18 اپریل 2024
وائرل زدہ معاشرہ

ملکہ ہانس اور وارث شاہ وجود جمعرات 18 اپریل 2024
ملکہ ہانس اور وارث شاہ

اشتہار

تجزیے
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے! وجود جمعه 23 فروری 2024
گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر