وجود

... loading ...

وجود

عمران خان کی گرفتاری، زمان پارک میدان جنگ بن گیا، پولیس اور کارکنان میں شدید جھڑپیں

منگل 14 مارچ 2023 عمران خان کی گرفتاری، زمان پارک میدان جنگ بن گیا، پولیس اور کارکنان میں شدید جھڑپیں

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے معاملے پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان میں شدید جھڑپیں ہوئیں جس کی وجہ سے زمان پارک اور کینال روڈ میدان جنگ بنا رہا، پولیس کی جانب سے واٹر کینن کا استعمال اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی جبکہ تحریک انصاف کے کارکنان نے شدید پتھراؤ کیا جس سے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کرانے کے لیے آنے والے ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد پولیس شہزاد بخاری سمیت 14 اہلکار شدید زخمی ہو گئے جبکہ تحریک انصاف کے کئی کارکنان بھی زخمی ہوئے، آنسو گیس کی شیلنگ سے زرتاج گل سمیت کئی خواتین کی حالت غیر ہو گئی، پولیس نے قانون ہاتھ میں لینے والے کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا، پولیس اور کارکنوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا، جھرپوں کے دوران ڈنڈا بردار کارکنان کے حملوں اور شدید پتھراؤ کی وجہ سے پولیس کو پیچھے ہٹنا پڑا، پولیس کی جانب سے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے فائر کیے گئے کئی شیلز عمران خان کی رہائش گاہ کے اندر بھی گرے، حالات قابو میں نہ آنے پر لاہور کے مختلف تھانوں اور پولیس لائنز سے مزید نفری طلب کر لی گئی، زمان پارک میں پولیس کی کارروائی کے خلاف تحریک انصاف کی کال پر صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت ملک بھر میں کارکنان باہر نکل آئے اور مرکزی شاہراؤں کو ٹریفک کے لیے بند کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، کئی مقامات پر کارکنوں نے ٹائروں کو آگ لگا ئی اور کئی مقامات پر دھرنے دے کر احتجاج کیا جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ تفصیلات کے مطابق بکتر بند گاڑی کے عمران خان کی رہائش گاہ پہنچنے کی اطلاع پر لاہور کے مختلف علاقوں سے تحریک انصاف کے رہنما اور کارکنان فوری زمان پارک پہنچ گئے اور اسی دوران اسلام آباد پولیس ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد بخاری کی قیادت میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کرانے کیلئے پہنچ گئی جسے پنجاب پولیس کی بھاری نفری کی معاونت بھی حاصل تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کینال روڈ اور زمان پارک پر کارکنوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ پولیس کی جانب سے دو افسروں نے گرفتاری کا نوٹس وصول کرانے کے لیے ہاتھ میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جو نوٹس وصول کرانے کے لیے پولیس کی نفری کے ہمراہ زمان پارک کی طرف جا رہے تھے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا جس کے جواب میں پولیس کی جانب سے پہلے مرحلے میں کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کااستعمال کیا گیا۔ کارکنان نے پیچھے ہٹنے کے بعد پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا اور اس دوران غلیلوں کا استعمال بھی کیا گیا جس کی وجہ سے پولیس اہلکار پیچھے ہٹ گئے تاہم کئی اہلکار پتھر لگنے سے زخمی ہوئے۔ پولیس کی طرف سے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا جس سے کارکن منتشر ہو گئے اور پولیس نے ایک مرتبہ پھر زمان پارک میں عمران خان کی رہائش گاہ کی طرف پیش قدمی کی۔ عمران خان کی رہائش گاہ کے قریب پہنچنے پر وہاں پہلے سے چھپے ہوئے کارکنوں نے پولیس پر اچانک پتھراؤ اور ڈنڈوں سے شدید حملہ کر دیا جس سے پولیس اہلکاروں کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا اور انہوں نے پیچھے کی طرف دوڑ لگا دی، شدید پتھراؤ  سے ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد پولیس شہزاد بخاری سمیت 14 اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس اہلکار ڈی آئی جی شہزاد بخاری کو سہارا دے کر ایمبولینس تک لائے جس کے بعد انہیں طبی امداد کے لیے فوری سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا، دیگر اہلکاروں کو بھی ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کی شیلنگ اور جوابی پتھراؤ سے تحریک انصاف کے کئی کارکنان بھی زخمی ہوئے جبکہ آنسو گیس کی شیلنگ سے تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل سمیت کئی کارکنوں کی حالت غیر ہو گئی۔ آنسو گیس کی شیلنگ سے متاثرہ کارکنان پانی سے اپنی آنکھیں دھوتے رہے۔ پولیس کی جانب سے کارکنان پر فائر کئے گئے آنسو گیس کے کئی شیلز عمران خان کی رہائش گاہ کے اندر بھی گرے ۔عمران خان کی رہائش گاہ کے ملازمین ملازمین گھر کے اندر گرنے والے شیلز کو ناکارہ کرنے کے لیے پر پائپ سے اور بالٹیوں سے پانی ڈالتے رہے۔ پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان میں شدید جھرپوں کی وجہ سے زمان پارک کے رہائشی اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے جو آنسو گیس کی شیلنگ سے بری طرح متاثر ہوئے۔ پی ٹی آئی کارکنان کے مسلسل حملوں اور منتشر نہ ہونے کی وجہ سے پولیس نے زمان پارک کو چاروں طرف سے گھیر لیا جبکہ مختلف تھانوں اور پولیس لائنز سے بھی مزید نفری طلب کر لی گئی۔ پولیس کی طرف سے کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے وقفے وقفے سے آنسو گیس کی شیلنگ کی جاتی رہی جس کے جواب میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کا سلسلہ جاری رہا۔ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ اور ڈی آئی جی آپریشنز بھی زمان پارک پہنچ گئے جبکہ اسلام آباد پولیس کے ایس پی رانا حسین طاہر بھی لاہور پہنچ گئے۔ پولیس کی جانب سے پتھراؤ کرنے والے کئی کارکنان کو حراست میں بھی لے کر قیدیوں کی وینز میں بٹھا لیا گیا۔ پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی وجہ سے زمان پارک اور اطراف کی آبادیوں کے رہائشی بھی بری طرح متاثر ہوئے جبکہ کئی راہ گیر بھی آنسو گیس کی شیلنگ کی زد میں آ گئے۔تحریک انصاف کی مرکزی رہنما مسرت جمشید چیمہ کے مطابق زمان پارک کے اطراف میں انٹر نیٹ سروس معطل کر دی گئی ۔ زمان پارک میں موجود پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر کارکنان کو زمان پارک پہنچنے کی کال دی جاتی رہی جبکہ ملک بھر میں کارکنان کو اپنے شہروں میں احتجاج کی کال بھی دے دی گئی جس کے بعد لاہور، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں احتجاج شروع کر دیا گیا، کارکنا ن نے ٹائروں کو آگ لگا کر مرکزی شاہراؤں کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا جبکہ کئی مقامات پر دھرنا دیا گیا جس سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ رہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت کی کال پر کارکنوں نے لاہور میں لبرٹی چوک ، جیل روڈ اورمال روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ خوف و ہراس کی وجہ سے کئی مقامات پر تاجروں نے کاروبار بند کر دیے اور گھروں کو واپس روانہ ہو گئے۔ پی ٹی آئی کی کال پر شیخوپورہ میں جناح پارک ، یاددگار چوک، گوجرانوالہ میں جی ٹی روڈ، سیالکوٹ میں فوارہ چوک، گوجرہ ٹوبہ روڈ، ڈسکہ اور سمبڑیال چوک، نارووال گکھڑ بائی پاس، گوجرانوالہ چندا قلعہ چوک، مین راہوالی جی ٹی روڈ، ننکانہ صاحب میں بیری والا چوک ،حافظ آباد میں گجرات مانگامنڈی روڈ ڈیال چوک،خانیوال،رحیم یار خان، بہاولنگر سٹی چوک، کوئٹہ چمن شاہراہ، گلگت بلتستان، سکھر، کراچی میں 15 مقامات، اسلام آباد میں بارہ کہو، پشاور، مردان، لکی مروت، فیصل آباد، چار سدہ فاروق اعظم چوک،راولپنڈی میں مری روڈ، کمیٹی چوک ،لیاقت باغ ، کچہری چوک، فیض آباد میں احتجاج کیا گیا۔ پی ٹی آئی کارکنان نے احتجاج کے دوران ٹائر بھی جلائے اور دھرنے بھی دیے جس سے مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک جام ہو نے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ عوام اپنی اپنی منزل پر پہنچنے کے لیے متبادل راستے تلاش کرتے رہے۔


متعلقہ خبریں


محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر