... loading ...
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے معاملے پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان میں شدید جھڑپیں ہوئیں جس کی وجہ سے زمان پارک اور کینال روڈ میدان جنگ بنا رہا، پولیس کی جانب سے واٹر کینن کا استعمال اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی جبکہ تحریک انصاف کے کارکنان نے شدید پتھراؤ کیا جس سے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کرانے کے لیے آنے والے ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد پولیس شہزاد بخاری سمیت 14 اہلکار شدید زخمی ہو گئے جبکہ تحریک انصاف کے کئی کارکنان بھی زخمی ہوئے، آنسو گیس کی شیلنگ سے زرتاج گل سمیت کئی خواتین کی حالت غیر ہو گئی، پولیس نے قانون ہاتھ میں لینے والے کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا، پولیس اور کارکنوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا، جھرپوں کے دوران ڈنڈا بردار کارکنان کے حملوں اور شدید پتھراؤ کی وجہ سے پولیس کو پیچھے ہٹنا پڑا، پولیس کی جانب سے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے فائر کیے گئے کئی شیلز عمران خان کی رہائش گاہ کے اندر بھی گرے، حالات قابو میں نہ آنے پر لاہور کے مختلف تھانوں اور پولیس لائنز سے مزید نفری طلب کر لی گئی، زمان پارک میں پولیس کی کارروائی کے خلاف تحریک انصاف کی کال پر صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت ملک بھر میں کارکنان باہر نکل آئے اور مرکزی شاہراؤں کو ٹریفک کے لیے بند کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، کئی مقامات پر کارکنوں نے ٹائروں کو آگ لگا ئی اور کئی مقامات پر دھرنے دے کر احتجاج کیا جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ تفصیلات کے مطابق بکتر بند گاڑی کے عمران خان کی رہائش گاہ پہنچنے کی اطلاع پر لاہور کے مختلف علاقوں سے تحریک انصاف کے رہنما اور کارکنان فوری زمان پارک پہنچ گئے اور اسی دوران اسلام آباد پولیس ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد بخاری کی قیادت میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کرانے کیلئے پہنچ گئی جسے پنجاب پولیس کی بھاری نفری کی معاونت بھی حاصل تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کینال روڈ اور زمان پارک پر کارکنوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ پولیس کی جانب سے دو افسروں نے گرفتاری کا نوٹس وصول کرانے کے لیے ہاتھ میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جو نوٹس وصول کرانے کے لیے پولیس کی نفری کے ہمراہ زمان پارک کی طرف جا رہے تھے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا جس کے جواب میں پولیس کی جانب سے پہلے مرحلے میں کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کااستعمال کیا گیا۔ کارکنان نے پیچھے ہٹنے کے بعد پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا اور اس دوران غلیلوں کا استعمال بھی کیا گیا جس کی وجہ سے پولیس اہلکار پیچھے ہٹ گئے تاہم کئی اہلکار پتھر لگنے سے زخمی ہوئے۔ پولیس کی طرف سے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا جس سے کارکن منتشر ہو گئے اور پولیس نے ایک مرتبہ پھر زمان پارک میں عمران خان کی رہائش گاہ کی طرف پیش قدمی کی۔ عمران خان کی رہائش گاہ کے قریب پہنچنے پر وہاں پہلے سے چھپے ہوئے کارکنوں نے پولیس پر اچانک پتھراؤ اور ڈنڈوں سے شدید حملہ کر دیا جس سے پولیس اہلکاروں کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا اور انہوں نے پیچھے کی طرف دوڑ لگا دی، شدید پتھراؤ سے ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد پولیس شہزاد بخاری سمیت 14 اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس اہلکار ڈی آئی جی شہزاد بخاری کو سہارا دے کر ایمبولینس تک لائے جس کے بعد انہیں طبی امداد کے لیے فوری سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا، دیگر اہلکاروں کو بھی ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کی شیلنگ اور جوابی پتھراؤ سے تحریک انصاف کے کئی کارکنان بھی زخمی ہوئے جبکہ آنسو گیس کی شیلنگ سے تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل سمیت کئی کارکنوں کی حالت غیر ہو گئی۔ آنسو گیس کی شیلنگ سے متاثرہ کارکنان پانی سے اپنی آنکھیں دھوتے رہے۔ پولیس کی جانب سے کارکنان پر فائر کئے گئے آنسو گیس کے کئی شیلز عمران خان کی رہائش گاہ کے اندر بھی گرے ۔عمران خان کی رہائش گاہ کے ملازمین ملازمین گھر کے اندر گرنے والے شیلز کو ناکارہ کرنے کے لیے پر پائپ سے اور بالٹیوں سے پانی ڈالتے رہے۔ پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان میں شدید جھرپوں کی وجہ سے زمان پارک کے رہائشی اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے جو آنسو گیس کی شیلنگ سے بری طرح متاثر ہوئے۔ پی ٹی آئی کارکنان کے مسلسل حملوں اور منتشر نہ ہونے کی وجہ سے پولیس نے زمان پارک کو چاروں طرف سے گھیر لیا جبکہ مختلف تھانوں اور پولیس لائنز سے بھی مزید نفری طلب کر لی گئی۔ پولیس کی طرف سے کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے وقفے وقفے سے آنسو گیس کی شیلنگ کی جاتی رہی جس کے جواب میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کا سلسلہ جاری رہا۔ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ اور ڈی آئی جی آپریشنز بھی زمان پارک پہنچ گئے جبکہ اسلام آباد پولیس کے ایس پی رانا حسین طاہر بھی لاہور پہنچ گئے۔ پولیس کی جانب سے پتھراؤ کرنے والے کئی کارکنان کو حراست میں بھی لے کر قیدیوں کی وینز میں بٹھا لیا گیا۔ پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی وجہ سے زمان پارک اور اطراف کی آبادیوں کے رہائشی بھی بری طرح متاثر ہوئے جبکہ کئی راہ گیر بھی آنسو گیس کی شیلنگ کی زد میں آ گئے۔تحریک انصاف کی مرکزی رہنما مسرت جمشید چیمہ کے مطابق زمان پارک کے اطراف میں انٹر نیٹ سروس معطل کر دی گئی ۔ زمان پارک میں موجود پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر کارکنان کو زمان پارک پہنچنے کی کال دی جاتی رہی جبکہ ملک بھر میں کارکنان کو اپنے شہروں میں احتجاج کی کال بھی دے دی گئی جس کے بعد لاہور، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں احتجاج شروع کر دیا گیا، کارکنا ن نے ٹائروں کو آگ لگا کر مرکزی شاہراؤں کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا جبکہ کئی مقامات پر دھرنا دیا گیا جس سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ رہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت کی کال پر کارکنوں نے لاہور میں لبرٹی چوک ، جیل روڈ اورمال روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ خوف و ہراس کی وجہ سے کئی مقامات پر تاجروں نے کاروبار بند کر دیے اور گھروں کو واپس روانہ ہو گئے۔ پی ٹی آئی کی کال پر شیخوپورہ میں جناح پارک ، یاددگار چوک، گوجرانوالہ میں جی ٹی روڈ، سیالکوٹ میں فوارہ چوک، گوجرہ ٹوبہ روڈ، ڈسکہ اور سمبڑیال چوک، نارووال گکھڑ بائی پاس، گوجرانوالہ چندا قلعہ چوک، مین راہوالی جی ٹی روڈ، ننکانہ صاحب میں بیری والا چوک ،حافظ آباد میں گجرات مانگامنڈی روڈ ڈیال چوک،خانیوال،رحیم یار خان، بہاولنگر سٹی چوک، کوئٹہ چمن شاہراہ، گلگت بلتستان، سکھر، کراچی میں 15 مقامات، اسلام آباد میں بارہ کہو، پشاور، مردان، لکی مروت، فیصل آباد، چار سدہ فاروق اعظم چوک،راولپنڈی میں مری روڈ، کمیٹی چوک ،لیاقت باغ ، کچہری چوک، فیض آباد میں احتجاج کیا گیا۔ پی ٹی آئی کارکنان نے احتجاج کے دوران ٹائر بھی جلائے اور دھرنے بھی دیے جس سے مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک جام ہو نے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ عوام اپنی اپنی منزل پر پہنچنے کے لیے متبادل راستے تلاش کرتے رہے۔
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...