وجود

... loading ...

وجود

تحریک انصاف کی ریلی نکالنے کی کوشش، پولیس سے جھڑپیں ، گرفتاریاں

بدھ 08 مارچ 2023 تحریک انصاف کی ریلی نکالنے کی کوشش، پولیس سے جھڑپیں ، گرفتاریاں

پنجاب حکومت نے سات روز کے لئے دفعہ 144کا نفاذ کرتے ہوئے جلسے جلوسوں اور ریلیوں پر پابندی عائد کر دی، پولیس نے پابندی کے باوجود تحریک انصاف کی جانب سے ریلی نکالنے کی کوشش ناکام بنا دی، پولیس اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں جھڑپیں ہوئیں جس سے کینال روڈ اور زمان پارک کے باہر کا علاقہ میدان جنگ بنا رہا، پولیس کی طرف سے مشتعل کارکنوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، قانون ہاتھ میں لینے والے کئی کارکنان کو موقع سے حراست میں لے کر قیدیوں کی وینز میں بٹھا لیا گیا، زمان پارک کی طرف جانے والے راستوں سمیت دیگر شاہراہوں کو کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے ملحقہ شاہراہوں پر دبائو بڑھنے سے ٹریفک جام رہی اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، تحریک انصاف نے ریلی نکالنے کی کوئی صورت نظر نہ آنے پر باضابطہ طور پر ریلی کو ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کارکنوں کو پر امن طور پر گھروں کو واپس جانے کے احکامات جاری کر دئیے جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے پنجاب اور خیبرپختونخوا ہ میں انتخابات کرانے کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی نے انتخابی مہم شروع کی تو کس قانون کے تحت پنجاب کی نگران حکومت نے پولیس تشدد کیا ،پنجاب کی نگران حکومت نے کس قانون کے تحت اور سپریم کورٹ کی توہین کرتے ہوئے ہماری طے شدہ ریلی کو روکنے کے لیے نہتے کارکنان پر پولیس تشدد کرایا ۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے بدھ کے روز زمان پارک سے داتا دربار تک عدلیہ بچائو ریلی نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم ریلی کے آغاز سے قبل ہی نگران حکومت کی طرف سے پنجاب میں سات روز کے لئے دفعہ 144کا نفاذ کر کے جلسے جلوسوں اور ریلیوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ پولیس کی بھاری نفری زمان پارک ، کینال روڈ اور دیگر مقامات پر تعینات کر دی گئی جبکہ پولیس کی طرف سے زمان پارک جانے والے تمام راستوں کو کنٹینرز اور بیرئیرز لگا کر بند کر دیا گیا ۔ تحریک انصاف کے کارکنان ریلیوں کی صورت میں زمان پارک جانے کے لئے پہنچے تاہم انہیں کینال روڈ اور دگیر مقامات سے آگے جانے سے روک دیا گیا ۔ اس دوران پولیس اور کارکنوں میں جھڑپیں شروع ہو گئیں ،پولیس کے مبینہ بیان کے مطابق کارکنوں کی طرف سے پولیس پر پتھرائو کیا گیا ۔ پولیس کی طرف سے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینین کا استعمال کیا گیا جبکہ پولیس نے کارکنوں پر لاٹھی چارج بھی کیا ۔ پی ٹی آئی کے مطابق پولیس کی جانب سے ڈنڈے برسا کر کئی گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دئیے گئے ، پولیس اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے کینال روڈ کا ایک حصہ میدان جنگ بنا رہا ۔پولیس کی طرف سے قانون کو ہاتھ میں لینے والے کئی کارکنوں کو موقع سے حراست میں لے کر انہیں قیدیوں کی گاڑیوں میں بٹھا دیا گیا ۔ پولیس کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے کارکنان ایک جگہ اکٹھے نہ ہو سکے اور ریلی نہ نکالی جا سکی اور حالات کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی کی جانب سے باضابطہ طور پر ریلی نہ نکالنے کا اعلان کرتے ہوئے ریلی ملتوی کردی گئی اور کارکنوں سے کہا گیا کہ وہ پر امن طور پر اپنے گھروں کو واپس روانہ ہو جائیں ۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی آمد اور پولیس کی رکاوٹوں کی وجہ سے مال روڈ ، کینال روڈ سمیت دیگر شاہراہوں پر ٹریفک کا شدید دبائو رہا جس کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں ، عوام اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے متبادل راستوں کی تلاش میں نظر آئے ۔ شام کے وقت زمان پارک کے اطراف میں جمع ہونے والے کارکنوں کا بھی پولیس سے شدید تصادم ہوا جس کے بعد پولیس کی طرف سے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی ۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس کی طرف سے بھی پولیس پر جوابی پتھراؤ کیا گیا ، جھڑپ کے دوران کئی لوگ زخمی بھی ہوئے جبکہ شیلنگ سے مرد و خواتین بری طرح متاثر ہوئے اور آنکھوں میں پانی کا چھڑکائو کرتے رہے ۔ عمران خان کی رہائشگاہ کے اطراف میں پولیس اور کارکنوں میں ہونے والی جھڑپوں سے اطراف میں واقعہ رہائشی بھی بری طرح متاثر ہوئے اور خوف و ہراس کی فضارہی ۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نگران حکومت اور پولیس کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت کا کام صرف صاف اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانا ہے، لیکن یہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ قانونی کی حکمرانی، آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے، سب سے بڑھ کر ایک بار جب سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اب یہ جنگل کا قانون ہے۔انتخابات کا اعلان ہونے کے بعد ہمیں کس قانون کے تحت انتخابی مہم سے روکا گیا اور ہمارے نہتے کارکنوں پر تشدد کیا گیا ۔ پی ٹی آئی کی طرف سے ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے ان کی انتخابی مہم ریلی کی کوریج پر پابندی عائد کردی ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ پنجاب میں سیاسی اجتماعات پر پابندی فسطائی حکومت کا نیا ہتھیار ہے، سامراجی قوتیں ہمیشہ عوام سے خوفزدہ رہی ہیں، پاکستان کے عوام نے اپنے حقوق کے لیے ہمیشہ لڑائی لڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حق سے دست بردار نہیں ہوں گے، اس فاشسٹ حکومت کے خلاف جدوجہد میں مزید تیزی آئے گی۔حماد اظہر نے مسرت جمشید چیمہ اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اور اقدام عمران خان کے خوف کے باعث کیا گیا،تمام راستوں کو بند کردیا گیا اور ہمارے جھنڈوں اور دیگر اشتہاری سامان کو ضبط کیا گیا، ہمارے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔انہوںنے کہا کہ کارکن پر امن رہیں کیونکہ رانا ثنااللہ لاشیں چاہتا ہے، رانا ثنااللہ خون چاہتا ہے، یہ بدکار، بددیانت رجیم خون چاہتی ہے تاکہ اس خون کو بنیاد بنا کر پاکستان میں جمہوریت کو معطل کیا جائے۔انہوںنے کہا کہ کارکن پر امن رہیں، چیف جسٹس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس فیصلے کا از خود نوٹس لیں،نگران حکومت میں مارشل لا سے زیادہ بری صورتحال ہے،نگراں حکومت الیکشن سے متعلقہ سرگرمیاں روک رہی ہے، اطلاع ہے کارکنوں پر تیزاب ملا پانی پھینکا گیا،ہماری کئی خواتین کارکنوں کو اس پانی کی وجہ سے ہسپتال جانا پڑا، حکومت کے اوسان خطا ہوچکے ہیں۔انہوںنے کہا کہ امید ہے اعلی عدلیہ سب کچھ دیکھ رہی ہو گی ان کے احکامات کو روندا جارہا ہے، پولیس والوں سے پوچھیں، ان کے دل بھی ہمارے ساتھ ہیں، حماد اظہر نے کہا کہ ریلی تو شروع نہیں ہوئی اور ان کی کانپیں ٹانگ گئیں، محسن نقوی اور گلو بٹوں نے مل کر پرامن انتخابی مہم پر کریک ڈائون کیا۔انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ لاہور میں مارشل لا ء سے بد تر دور دیکھا گیا، خواتین پر لاٹھیاں برسائیں گئیں، شہریوں کی گاڑیاں توڑی گئیں،30 اپریل کو الیکشن ہے، الیکشن سے پہلے انتخابی سرگرمیاں تو ہوں گی، عمران خان کی تقاریر نشر کرنے پر غیرقانونی پابندی لگائی گئی۔نگران حکومت کے دور میں انتخابی سرگرمیاں روکنے کے لئے تشدد کیا گیا، حکومت میں بیٹھے لوگ آج کسی کو اپنی شکل نہیں دکھا سکتے،پوری دنیا میں آج جمہوریت کا بدترین چہرہ دکھایا گیا، اس کا احتساب ہوگا، آج جو خون بہایا گیا اس کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پرامن ریلی سے امپورٹڈ حکمران ڈر گئے ہیں خواتین پر پتھرا ئوکیا گیا ،پرامن مظاہرین پر شیلنگ کی گئی۔انہوں نے کہا کہ پرامن کارکنازن کو تشدد کا نشانہ بنا کر گرفتار کیا گیا پولیس کی وردی میں گلو بٹوں نے گاڑیوں کے شیشے توڑے ہیں۔یاسمین راشد نے کہا کہ نگراں حکومت کی ایما ء پر پرامن ریلی کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، نام نہاد حکمرانوں کا اصل چہرہ پنجاب کے عوام نے دیکھ لیا ہے، انہیں ایک ایک ظلم کا حساب دینا پڑے گا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے کہا ہے کہ ایک طرف انتخابات کا شیڈول آ چکا ہے، دوسری جانب 22 کروڑ عوام کے لیڈر کو ریلی کی اجازت نہیں دی جا رہی۔لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، فاشسٹ، امپورٹڈ حکومت ملک میں خون ریزی چاہتی ہے، ان کا راولپنڈی میں بھی خون ریزی کا پلان تھا۔فرخ حبیب نے کہا کہ انہوں نے پولیس کے ذریعے گلوکریسی کرائی، پولیس کے ذریعے ریاستی جبر کرایا، پولیس نے ڈنڈوں سے لوگوں کی گاڑیوں کے شیشے توڑے۔انہوںنے کہا کہ انتخابی شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے، اب عمران خان کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا، راجن پور کے انتخاب میں سب کی آنکھیں کھل چکی ہیں، حکومت نے 11 ماہ کے اندر عوام کا بھرکس نکال دیا ہے۔فرخ حبیب نے کہا کہ کارکن پرامن رہیں، ان کی سازش کا شکار نہیں ہونا، یہ تصادم کے ذریعے لاشیں گرا کر انتخابات کو ملتوی کرانا چاہتے ہیں، نواز شریف کے لندن پلان کو ہم نے کامیاب نہیں ہونے دینا۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین پر تشدد کیا گیا۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر