وجود

... loading ...

وجود

وزیر اعلیٰ پنجاب کے پاس 24 گھنٹے 186 اراکین کی حمایت ہونی چاہیے، لاہور ہائیکورٹ

بدھ 11 جنوری 2023 وزیر اعلیٰ پنجاب کے پاس 24 گھنٹے 186 اراکین کی حمایت ہونی چاہیے، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ  نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے پاس 24 گھنٹے 186 اراکین کی حمایت ہونی چاہیے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ ان کے پاس اکثریت نہ ہو اور وہ ایوان چلائیں۔ جبکہ جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا ہے کہ گورنر، وزیر اعلیٰ کو اعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتے ہیں، اراکین اسمبلی کو ہی فیصلہ کرنا ہے کہ کون وزیر اعلیٰ رہ سکتا ہے۔ اگر وزیر اعلیٰ پنجاب اعتماد کا ووٹ لیں تو گورنر پنجاب اپنا نوٹیفکیشن واپس لینے کو تیار ہیں۔ اسمبلی کو خود ہی طے کرنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کو اعتماد حاصل ہے کہ نہیں۔ عدالتی فیصلے کو گزرے 20 دن ہو گئے ابھی تک اعتماد کے ووٹ کا کیوں نہیں سوچا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ کے وکیل سینیٹر بیرسٹر سیدعلی ظفر نے گورنر پنجاب انجینئر میاں محمد بلیغ الرحمان کے وکیل کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے عدالت سے معاملہ کا میرٹ پر فیصلہ کرنے کی استدعا کی ہے۔ اس پر عدالت نے بیرسٹر علی ظفر کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے دلائل دیں، ہم درخواست کا میرٹ پر فیصلہ کر دیتے ہیں۔ گورنر پنجاب کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کو اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر ڈی نوٹیفائی کرنے کے حوالے سے جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں جسٹس چودھری محمد اقبال، جسٹس طارق سلیم شیخ، جسٹس مزمل اختر شبیر اور جسٹس عاصم حفیظ پرمشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان، (ن)لیگ کے اراکین پنجاب رانا مشہود احمد خان، خلیل طاہر سندھ اوردیگر (ن) لیگی رہنما بھی عدالت میں موجود تھے۔ جبکہ اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان ایڈووکیٹ اورایڈووکیٹ جنرل آف پنجاب احمد اویس ایڈووکیٹ کے علاوہ گورنر پنجاب کے وکیل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس عابدعزیز شیخ کا کہنا تھا کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر کیس کو سنیں گے۔ جبکہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان ایڈوکیٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کر دیا۔ اٹانی جنرل کا کہنا تھا کہ یہ درخواست سرے سے ہی قابل سماعت نہیں ہے، عدالت اسے ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کرے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ گورنر کو کوئی فیصلہ کرتے ہوے وجوہات دینا ضروری نہیں۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ گورنر کے کہنے پر وزیر اعلیٰ کا اعتماد کا ووٹ لینا ضروری ہے، یہ گورنر کا اختیار ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہیں۔ اس پر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ یہ تحریری طور پر کچھ نہیں لائے۔ اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے سے تو کسی نے نہیں روکا، تحریر کی کیا ضرورت ہے۔ جسٹس عاصم حفیظ کا کہنا تھا کہ سیاسی کشیدگی جاری ہے، ہم نے اتفاق رائے سے عدم اعتما د کے ووٹ کی ہدایت کی تھی لیکن اس پر عمل نہیں ہوا، آئین پاکستان کے تحت اعتماد کے ووٹ کے لیے کم از کم تین روز ضروری ہیں۔ بیرسٹر سید علی ظفر کا کہنا تھا کہ کل سے اپنے دلائل کا آغاز کر دوں گا۔ اس پر عدالت نے قرار دیا کہ کل سے نہیں ابھی دلائل شروع کریں۔ گورنر پنجاب کے وکیل کا دوران سماعت کہنا تھا کہ گزشتہ سماعت سے آج تک کافی وقت گزر گیا ہے لیکن اعتماد کا ووٹ نہیں لیا گیا، یہ انکی بدنیتی ظاہر کو کرتا ہے، عدالت اعتماد کا ووٹ لینے کا وقت مقرر فرما دے۔ جسٹس عاصم حفیظ کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کو یہ لائن کراس کرنا پڑے گی۔ جسٹس عابد عزیز شیخ کا کہنا تھا کہ گورنر کے وکیل نے آفر دی ہے کہ اعتماد کا ووٹ لیں ۔عدالت نے پرویز الہٰی کے وکیل سے استفسار یا کہ آپ بتائیں اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کتنے دن کا وقت آپ کے لیے مناسب ہو گا۔ جسٹس عابد عزیز شیخ کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب کے وکیل نے کیا آفر دی تھی۔ اس پر گورنر پنجاب کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہم نے آفر دی تھی کہ دو سے تین دنوں میں اعتماد کا ووٹ لیں مگر انہوں نے ہماری آفر نظر انداز کر دی۔ وکلاء کے دلائل سننے کے بعد جسٹس عابد عزیز شیخ کا کہنا تھا کہ کہ اگر اتفاق رائے نہیں ہے تو ہم کیس کا فیصلہ میرٹ پر کریں گے۔ بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ہم اعتماد کا ووٹ لینے کی بجائے قانون کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں۔ بیرسٹر علی ظفرکا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ گورنر پنجاب نے غیر آئینی طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو ڈی نوٹیفائی کیا اس درخواست پر پہلے فیصلہ ہو جائے۔ جسٹس عابد عزیز شیخ کا کہنا تھا کہ ہم تواس معاملہ پر متفقہ فیصلہ کر چکے تھے کہ آپ اعتماد کا ووٹ لے لیں تو بات ختم لیکن آپ یہ آفر قبول نہیں کر رہے تو پھر ہم اس درخواست کا میرٹ پر فیصلہ کریں گے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگر آج بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کے وکیل گورنر کی جانب سے دی گئی آفر کو قبول کرتے ہیں تو پھر ہم مناسب وقت کا تعین کر لیتے ہیں جس کے بعد گورنر پنجاب کے حکم پر وزیر اعلیٰ پنجاب اعتماد کا ووٹ لے۔ بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے کیس کا فیصلہ میرٹ پر کرنے کی استدعا کے بعد عدالتی حکم پر بیرسٹر علی ظفر نے میرٹ پر دلائل کا آغاز کر دیا۔ بیرسٹر سید علی ظفر کا کہنا تھا کہ گورنر نے اعتماد کے ووٹ کیلیے مناسب وجوہات نہیں دیں، اگر اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے آئینی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے تو ہمیں اعتماد کا ووٹ لینے میں کوئی عار نہیں تھی، اگر چھانگا مانگا کی صورتحال بنانی ہے تو پھر اس پر ہمیں اعتراض ہے۔ بیرسٹر علی ظفرکا کہنا تھا کہ پارلیمانی جمہوریت میں پارلیمانی پارٹی اپنے قائد کی ہدایات پر عمل کرتی ہے، لیکن جب وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہوا تھا تواس وقت دپٹی اسپیکر نے پارٹی سربراہ کی ہدایات پر انحصار کرتے ہوئے فیصلہ کیا تھا اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے 10 ووٹ مسترد کر دیے گئے تھے۔


متعلقہ خبریں


مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

مضامین
شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر