... loading ...
خود کو امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی یا اس سے منسلک ایجنسیوں کے موجودہ یا سابق ملازمین کہنے والے 300 سے زیادہ لوگوں کے دائیں بازو کے انتہا پسند گروپ کے رجسٹرڈ کارکن ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اوتھ کیپرز نامی گروپ ایک حکومت مخالف ملیشیا ہے جس کے رہنماؤں کو امریکی حکومت کے خلاف پرتشدد مظاہرے کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی جس کے ساتھ ان 300 سے زیادہ لوگوں کی وابستگی کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اوتھ کیپرز میں سے دو تہائی سابق فوجی یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار ہیں اور ان افراد میں سے ہر دسواں شخص آن ڈیوٹی اہلکار ہے۔ انتہا پسند گروپ کے بانی ایلمر اسٹیورٹ روڈز اور دیگر رہنما صدر جو بائیڈن کو حلف اٹھانے سے روکنے کے ارادے سے امریکی کانگریس پر جنوری 2021 میں کیے گئے حملے میں حصہ لینے کے الزام میں بھی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) کی رپورٹ کے مطابق اوتھ کیپرز میں ایک وہ اہلکار بھی شامل ہے جو یو ایس سیکرٹ سروس میں 20 سال تک بطور خصوصی ایجنٹ شامل تھا جس نے 2 صدور کے ساتھ سیکیورٹی کے فرائض انجام دیے۔ رپورٹ کے مطابق ان افراد میں ایک وہ شخص بھی شامل تھا جس نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ حاضر سروس سپروائزری بارڈر پیٹرول ایجنٹ ہے جب کہ ایک دوسرے شخص نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن ہیڈ کوارٹر کے آئی ٹی شعبے میں آن ڈیوٹی ملازم ہے۔ اوتھ کیپرز روسٹر کے مطابق اس کے واجبات ادا کرنے والے 306 ممبران نے خود کو ڈی ایچ ایس سے منسلک ہوتے ہوئے رجسٹرڈ کرایا جب کہ ان میں سے 21 افراد شامل تھے جنہوں نے کہا کہ جب ان کے نام روسٹر میں شامل کیے گئے تو وہ ایجنسی کے لیے کام کر رہے تھے۔ ان رجسٹرڈ افراد میں سے 184 نے اپنی شناخت کوسٹ گارڈ میں خدمات انجام دینے والے اہلکار کے طور پر کرائی، 67 لوگوں نے خود کو ڈی ایچ ایس، 40 نے کسٹمز، بارڈر پروٹیکشن یا بارڈر پیٹرول، 11 نے امیگریشن، کسٹمز انفورسمنٹ اور 7 افراد نے یو ایس سیکرٹ سروس کے اہلکار کے طور پر متعارف کرایا۔ ہاس ہوم لینڈ سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ بینی تھامسن نے آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے انکشافات پریشان کن ہیں حکومت کے اندر انتہا پسندی ہمیشہ تشویش ناک ہوتی ہے لیکن اس سے بھی زیادہ تشویشناک اور الارمنگ صورتحال اس وقت ہوتی ہے جب کہ یہ انتہا پسندی قانون نافذ کرنے والے اداروں یا ایسے محکموں سے ہو جن کا تعلق قومی سلامتی سے منسلک ہے۔ ڈی ایچ ایس کو 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد بنایا گیا تھا، اس محکمے کے تحت کام کرنے والی مختلف ایجنسیوں میں 2 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ ملازمین اور اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں۔ نسل پرستی کے خلاف کرنے والی والے گروپ سدرن پاورٹی لا سینٹر نے آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ کو بتایا کہ اوتھ کیپرز نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے ہزاروں حاضر سروس، سابق امریکی فوجی اور قانون نافذ کرنے والے ملازمین کو بھرتی کیا ہے۔ اوتھ کیپرز کے مرکزی رہنما نے 2009 میں بلاگ پوسٹ لکھا تھا کہ اندر کے لوگ اندرون خانہ ہونے والے واقعات بے نقاب کرنے کے لیے معلومات فراہم کر سکتے ہیں اور کر تے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ہر وقت وفاقی افسران سے بہت کچھ معلومات مل رہی ہیں۔
امریکا کو اپنی جنگ ختم کرنے کیلئے ایران سے ڈیل کرنے کی ضرورت نہیں، اگر وہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو اچھا ہوگا، رجیم چینج امریکاکا مقصد نہیں تھا،ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے2سے 3ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اپنی جنگ ...
امریکی صدر کے بیانات سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، دنیا میں کوئی بھی امریکی سفارت کاری پر اعتماد نہیں کر سکتا، مجتبیٰ خامنہ ای صحت مند ہیں،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا انٹرویو ایران کی جانب سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی کی درخواست کا دعوی مسترد کر دیاگیا۔ترجمان ایرانی وز...
کیا کابینہ کی جانب سے ایسی کسی فورس کی تشکیل کی اجازت دی گئی ہے، وفاقی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو،سماعت کے دوران عدالت کا استفسار سزا یافتہ انسان کیلئے ایسی فورس نہیں بننی چاہیے، سنجیدہ قانونی سوالات اٹھتے ہیں،رہائی فورس کی تشکیل قانون اور آئینی ح...
843 دکان داروں کو فی کس 5 لاکھ، 11 کیسز پر فیصلہ ہونا باقی، وزیراعلیٰ کو بریفنگ پلازہ پر کام جلد شروع کیا جائے،متاثرہ تاجروں کیلئے مالی امداد کیلئے 600 ملین مختص سانحہ گل پلازا میں جاں بحق ہوئے افراد میں سے 61 خاندانوں کو فی کیس ایک کروڑ روپے معاوضہ دیدیا گیا 11 کیسز پر فیصلہ...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی رہائی فورس لانچ ہونے سے پہلے ہی فلاپ ہو گئی پی ٹی آئی نے اپنے ہی وزیر اعلیٰ کے عمران رہائی فورس کے منصوبے کو مسترد کر دیا،ذرائع بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا ملاقات ؟ تحریک انصاف اپنے ہی مطالبات پر تقسیم کا شکار ہوُگئی، وزیر اعلیٰ خیبر ...
زرداری،شہباز ،وزیرداخلہ ودیگر کا دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر فورسز کو خراج تحسین حکومت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پر عزم ہے،صدر،وزیراعظم صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف،وزیرداخلہ محسن نقوی ودیگر نے خیبرپختونخواہ میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں پر ...
پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا خدشہ،نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ، اگلے بجٹ کے ٹیکس ہدف میں 16 سو ارب روپے اضافے کی تجویز،ذرائع ایف بی آر اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح صفر،چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے کی ...
برطانیہ سمیت وہ ممالک جو ایران کیخلاف جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور جیٹ فیول حاصل نہیں کرپارہے آئل امریکا سے خریدیں یا ہمت کرکے آبنائے ہرمز جائیں اور آئل حاصل کرلیں آپ کو اب خود لڑنا سیکھنا ہوگا،ایران کو تباہ کر دیا اور مشکل مرحلہ مکمل ہو چکا ہے،فرانس نے ایران کے قصائی کے حوالے...
جنید اکبر خان کی زیرصدارتخیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم تنظیمی اجلاس سہیل آفریدی نے اجلاس کے شرکاء کو صوبے کو درپیش اہم معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت نے تنظیمی استحکام، موجودہ سیاسی صورتحال اور بانی چیٔرمین عمران خان کی رہائی کے لیے جا...
علیمہ کی ہدایت پر فیصل ترکئی، عاقب اللہ کو کابینہ میں شامل کرنے پر اختلافات کی وجہ بنے مختلف نجی محافل میں ان تقرریوں کے حوالے سے پارٹی کے اندر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت میں چند ماہ قبل تک عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل...
صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...
ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...