وجود

... loading ...

وجود

جنرل باجوہ نے دُہرا کھیل کھیلا، توسیع دے کر بہت بڑی غلطی کی، عمران خان

هفته 03 دسمبر 2022 جنرل باجوہ نے دُہرا کھیل کھیلا، توسیع دے کر بہت بڑی غلطی کی، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جنرل (ر) باجوہ کو توسیع دے کر بہت بڑی غلطی کی تھی، فوج میں کبھی کسی کو توسیع نہیں ملنی چاہیے، آئندہ سال مارچ یا اس مہینے کے آخر تک الیکشن کیلئے تیار ہیں تو اسمبلیاں تحلیل کرنے سے رک جاتے ہیں، ہم مارچ سے آگے نہیں جائیں گے، اگر مارچ کا نہ مانے تو اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے۔ نجی ٹی وی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ میری حکومت جانے کے بعد تمام ایکسپوز ہو گئے ہیں، عزت اور ذلت اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، سابق آرمی چیف جنرل (ر) باجوہ نے بہت بڑی ڈبل گیم کھیلی ہے، اصولی طور پر جب نکالا گیا تو مجھے ذلیل ہو جانا چاہیے تھا، اللہ نے مجھے وہ عزت دی جو میں تصور نہیں کر سکتا تھا، شریف خاندان کو 40 سال سے جانتا ہوں، دو خاندان والے باہر سے آتے ہیں ملک میں واردات کرتے ہیں اور پھر باہر چلے جاتے ہیں، شریف فیملی مشکل پڑنے پر باہر بھاگ جاتے ہیں اور ایان آر او لیکر واپس آ جاتے ہیں، پاک فوج واحد ادارہ ہے جو ان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ میرا مقصد یہ ہے ملک میں انصاف اور قانون کی حکمرانی ہو، مفتاح کہہ رہا ہے اسحاق ڈار ملک کو ڈیفالٹ کی طرف لیکر جا رہا ہے، ان دو خاندانوں کے آنے کے بعد پاکستان سب سے پیچھے چلا گیا، ان کو لانے والے سب سے بڑے قصور وار ہیں، ملک پر ان چوروں کو مسلط کرنے والے اصل ذمہ دار ہیں، دوبارہ اقتدار میں آ کر انہوں نے چوری شروع کر دی اورکیسز معاف کروا لیے ہیں، ملک مقروض ہو رہا ہے اور آخر میں انہوں نے باہر بھاگ جانا ہے، ہم نے دونوں اسمبلیاں تحلیل کر کے الیکشن کروانے ہیں، میری سب سے بڑی کمزوری ہے کہ میں لوگوں پر اعتبار کر لیتا ہوں، جو بھی جنرل باجوہ کہتا تھا میں بھروسہ کر لیتا تھا، بھرسوہ کر لیا تھا میرے اور اسٹیبلشمنٹ کے مفادات ایک ہیں کہ ملک بچانا ہے، پتہ ہی نہیں چلا کہ کس طرح مجھے دھوکا دیا گیا اور جھوٹ بولا گیا، آخری دنوں میں مجھے آئی بی کی رپورٹ آئی کہ گیم چل رہی ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھے پوری گیم کا پتہ چلا گیا کہ نواز شریف سے ان کی بات چل رہی ہے، جنرل فیض کو ہٹانے کے بعد ان کی گیم چل پڑی تھی، جب بھی جنرل باجوہ سے گیم سے متعلق پوچھا وہ کہتے تھے ہم تسلسل چاہتے ہیں، جنرل باجوہ کو کہا اتحادی کہتے ہیں کہ فوج چاہتی ہے ہم ادھر چلے جائیں، جنرل باجو کو کہا آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم نیوٹرل ہیں، سارے اتحادیوں نے دبے دبے لفظوں میں کہا کہ فوج کہتی ہے ادھر چلے جا، نیب ان کے ہی کنٹرول میں تھی، حیران تھا کہ مجھے کہہ رہے ہیں کچھ نہیں ہے اور ادھر اور سنگل دے رہے ہیں، میں نے کہا تھا سیاسی عدم استحکام آگیا تو معیشت نہیںسنبھلے گی، میں نے کہا یہ چور تو معیشت کو بالکل نہیں سنبھال سکیں گے، شوکت ترین کو ان کے پاس بھیجا وہ دو گھنٹے تک بریفنگ دیتا رہا، شوکت ترین کو بھی کہا گیا بے فکر رہیں حکومت برقرار رہے گی، میں نے انہیں کہا کہ مجھے بتا دیں آپ کس طرف ہیں؟ میں نے کہا گر آپ دوسری طرف ہیں تو میری کوئی اور حکمت عملی ہے، مارچ یا اس کے آخر تک الیکشن کے لیے تیار ہیں تو رک جاتے ہیں، ہم مارچ سے آگے نہیں جائیں گے، اگر مارچ کا نہ مانے تو اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے، ہم 66 فیصد پاکستان میں الیکشن کروانے جا رہے ہیں، اگر یہ چاہتے ہیں ہم الیکشن کی تاریخ پر مذاکرات کر سکتے ہیں، بجٹ کے بعد الیکشن کا سوال پیدا نہیں ہوتا، شریف خاندان کو 40 سال سے جانتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ فیصلہ کرنے میں حکومت کو کیا دیر لگنی ہے،ہمارا فیصلہ ہو گیا ہے، پرویز الہی ہمارے ساتھ کھڑے ہیں ان سے طویل مشاورت ہو چکی ہے، پرویز الہی نے مجھے اختیار دیا ہے جب چاہیں اسمبلی تحلیل کر دیں، سمجھاتا رہا جب تک طاقتور کو قانون کے نیچے نہیں لائیں گے ملک آگے نہیں جائے گا، نیب میرے پاس نہیں ان کے کنٹرول میں تھا، ادارے والے لوگ کرپشن کو برا سمجھتے نہیں تھے،جنرل باجوہ کو توسیع دے کر بہت بڑی غلطی کی تھی، فوج میں کبھی کسی کو توسیع نہیں ملنی چاہیے، ہم نئے نئے اقتدار میں آئے تھے، مسائل بہت تھے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین نے لکھا کہ سینیٹر اعظم سواتی کے ساتھ بھرپور جبر و تشدد پر قوم حیرت و صدمے کی شکار ہے، یہ سب کس جرم کی پاداش میں کیا جارہا ہے؟ کیا یہ سب سخت زبان استعمال کرنے اور سوال اٹھانے پر کیا جارہا ہے؟۔انہوں نے مزید لکھا کہ پاکستان، خاص طور پر ہماری فوج کے بارے میں منفی تاثر ابھر رہا ہے، موجودہ امپورٹڈ سرکار کو تو محض کٹھ پتلی راج ہی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔سابق وزیراعظم نے لکھا کہ امید تھی نئی عسکری قیادت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میڈیا اور صحافیوں کیخلاف جنرل(ر)باجوہ کے فسطائی ہتھکنڈوں سے خود کو الگ کر لے گی، عارض قلب میں مبتلا 74 سالہ سینیٹرسواتی کو فورا رہا کیا جائے۔عمران خان نے لکھا کہ سینیٹر اعظم سواتی نے ایسا کوئی جرم نہیں کیا کہ ذہنی وجسمانی اذیت کے مستحق ٹھہریں، ان کیخلاف انتقام پر مبنی اقدامات سے ہماری فوج کی ساکھ پر حرف آتا ہے۔دوسری طرف سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک اور بیان میں انہوں نے ایک ویڈیو شیئر کی جس کے کیپشن میں لکھا تھا کہ 2021 میں نظر آنے والا لال سہارنہ نیشنل پارک اور 2022 کے تازہ ترین مناظر۔سابق وزیراعظم نے لکھا کہ عالمی سطح پر داد سمیٹنے والے ہمارے دس ارب درختوں کے منصوبے کے تحت ماحولیاتی تغیرات سے نمٹنے کیلئے ایک سبز انقلاب وقوع پزیر ہو رہا ہے۔


متعلقہ خبریں


بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

مضامین
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود اتوار 01 فروری 2026
انقلاب کی پہلی شرط

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے! وجود اتوار 01 فروری 2026
پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے!

نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر