وجود

... loading ...

وجود

حاجی کی ربڑی

جمعه 02 دسمبر 2022 حاجی کی ربڑی

دوستو،حیدرآباد میں حاجی کی ربڑی بہت ہی مشہور ہے، اتنی مشہور ہے کہ اب حیدرآباد میں ہر دوسری دکان والا’’حاجی ‘‘ ہوگیا ہے۔۔اتنے سارے حاجیوں میں اصل حاجی کون سا ہے اس کا علم حیدرآباد سے باہر والوںکوہرگز نہیں ہوسکتا ۔۔اسی طرح ایک اور حاجی حیدرآباد کے علاوہ بھی بہت مشہور تھا۔۔ جب اس کی ریٹائرمنٹ ہوئی تو کسی نے بہت ہی خوب صورت جملہ کہا کہ۔۔ چھ سال تک حاجی کی ربڑی کھائی اب حافظ کا سوہن حلوہ کھائیں۔۔کچھ عرصہ قبل تک گھڑی کا بہت شور مچاہوا تھا جو ’’چھڑی‘‘ پر جاکر لگتا ہے ختم ہوگیا۔۔
حیدرآباد کے پکا قلعہ شاہی بازار میں قیام پاکستان کے ایک سال بعد قائم ہونے والی حاجی ربڑی کی دکان کے مالک محمد نوید شیخ صاحب ہیں، ان کا خاندان بھارتی شہر ریواڑی میں رہتا تھا جہاں ان کے پردادا حاجی بشیرالدین نے یہ ربڑی بنانا شروع کی۔ تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان سندھ کے شہر حیدرآباد آگیا، جہاں 1948 میں پردادا نے یہ دکان قائم کی۔اپنے دادا اور والد کے بعد محمد نوید شیخ یہ دکان چلانے والی چوتھی پیڑھی سے ہیں۔ان کے مطابق حاجی ربڑی کی دکان پر بکنے والی ربڑی بنانے کے لیے روزانہ تقریباً 40 سے 50 من دودھ آتا ہے۔ حاجی ربڑی کی ایک دکان پکا قلعہ شاہی بازار حیدرآباد جب کہ دوسری برانچ کراچی فیڈرل بی ایریا میں واقع ہے۔
اسی طرح ملتان شہر کا روایتی سوہن حلوہ پاکستان بھر مقبول ہے اور سوغات کے طور پر جانا جاتا ہے۔ شہر میں کئی دکانیں یہ حلوہ تیار کرتیں ہیں جن میں سے حافظ کا سوہن حلوہ خاصا مقبول ہے اور کئی دکانیں اس نام سے یہ حلوہ فروخت کر رہی ہیں۔اگر آم گرمیوں کا تحفہ ہے تو سوہن حلوہ سردیوں کی سوغات سمجھی جاتی ہے۔مقامی روایت کے مطابق یہ خاص قسم کا حلوہ جسے اب سب ملتانی سوہن حلوہ کہتے ہیں پہلی بار ’’سوہن ‘‘نے تیار کیا تھا۔ سوہن ملتان کا ایک ہندو حلوائی تھا اور انواع و اقسام کی مٹھائیاں تیار کرتا تھا۔ ایک دن مٹھائی کے لیے منگوایا جانے والا دودھ پھٹ گیا اور بجائے دودھ کو ضائع کرنے کے سوہن نے تجرباتی طور پر دودھ کو کڑاہی میں ڈال کر آگ پر رکھ دیا۔ جوں جوں دودھ گاڑھا ہوتا گیا سوہن اس میں چمچ ہلاتا گیا۔ دودھ کو مزید گاڑھا کرنے کے لیے سوہن نے اس میں گندم کے آٹے کی کچھ مقدار بھی شامل کر دی۔جب سوہن نے اپنی نئی مٹھائی کو چکھا تواس منفرد مٹھائی کا ذائقہ اسے بہت لذیذ لگا۔ لیکن سوہن کو یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ نئی مٹھائی اس قدر لذیذ بھی ہو سکتی ہے۔ اس نے راہ چلتے لوگوں میں نئی مٹھائی بانٹنی شروع کر دی۔ سوہن نے اتفاقاً بن جانے والی یہ مٹھائی اس وقت باقاعدہ طور پر بنانا شروع کر دی جب لوگ آکر اس سے وہی حلوہ دوبارہ کھلانے کا تقاضا کرنے لگے۔ سوہن کا حلوہ چند دنوں میں شہر بھر میں مشہور ہو گیا اور حاکم شہر دیوان’’ ساون مل‘‘ کے دربار میں حاضر ہو کر سوہن نے یہ نئی سوغات پیش کی تو شہر کے گورنر کی پسندیدگی کے بعد اس مٹھائی کی طلب کہیں اور زیادہ ہو گئی۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دیوان ساون مل جو کہ اٹھارہ سو اکیس میں راجہ رنجیت سنگھ کی طرف سے ملتان کا گورنر بنا کے بھیجا گیا، سوہن حلوے کا ’’موجد‘‘ ہے۔ تاہم اس مؤقف کے حامل لوگوں سے اختلاف کرنے والوں کا کہنا ہے کہ سوہن حلوہ صدیوں پرانی سوغات ہے۔ دیوان، جو کہ انواع و اقسام کے کھانوں کا شوقین تھا، کے محل میں سوہن حلوہ تیار تو بڑی مقدار میں ہوتا تھا لیکن پہلی بار سوہن حلوے کی تیاری دیوان ساون مل کے محل میں نہیں ہوئی تھی۔موجودہ سوہن حلوے پر بات کی جائے تو ملتانی سوہن حلوہ 1930 کے اوائل میں بننا شروع ہوا،اور سب سے پہلے شخص جن کو سوہن حلوہ بنانے کی وجہ سے شہرت ملی وہ’’ حافظ احمد دین ‘‘تھے۔ حافظ احمد دین صاحب قرآن کریم پڑھاتے تھے اور اپنے شاگردوں کے لیے سوہن حلوہ بناتے تھے۔ آہستہ آہستہ یہ سلسلہ آگے بڑھتا گیا اور وہ سوہن حلوہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی بنانے لگے۔ اور پھر یہ انکا روز گار بن گیا۔وقت کے ساتھ سوہن حلوہ ملتان سے منسوب ہوتا گیا اور پھر اس کو بنانے، بیچنے اور دیگر ممالک میں برآمد کرنے میں جدت آتی گئی۔ 1945 میں حافظ کا سوہن حلوہ ایک منفرد برانڈ بن گیا اور اس کاروبار کو نئی جہتیں اس وقت ملی جب حافظ حبیب الرحمن نے اپنے سسر سے 1963 میں سوہن حلوہ کا کاروبار لیا اور اسے پورے ملک اور بیرونِ ملک میں متعارف کروایا گیا۔ سوہن حلوہ اپنی لذت اور شہرت کی منزلیں طے کر تا رہا 1993 اور 1997 میں دو دفعہ امریکن کوالٹی ایوارڈ ملا۔ اب حافظ کا سوہن حلوہ بنانے والوں کی چوتھی نسل اس کاروبار کو سنبھال چکی ہے۔
یعنی اگر حاجی کی ربڑی اور سوہن حلوے کی بات کی جائے تو دونوں کو متعارف کرانے والوں کی چوتھی نسل یہ کام کررہی ہے۔۔ لیکن قیام پاکستان کو پچھتر برس ہوچکے۔۔اس دوران جتنی بھی نسلوں نے ہوش سنبھالا سب کو اس حقیقت کا اچھی طرح سے علم ہوگیا کہ ، یہاں کسی بھی وزیراعظم نے اپنی مدت پوری نہیں کی۔۔اب اسے بدقسمتی کہیں یا کوئی اور نام دے لیں۔۔لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہاں گھڑی سے زیادہ چھڑی چلتی ہے، ویسے بھی مشہور کہاوت ہے کہ ۔۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔۔ اس لئے مملکت خداداد کو ایسی بھینس سمجھ لیا جائے جو صرف لاٹھی والوں کی ہی ہے۔۔ویسے بھی پاکستان واحد ملک ہے جس میں لوگ اس وجہ سے ناراض ہوتے ہیں کہ ۔۔ ساڈے نال مشورہ نئیں کیتا۔۔۔ جب مشورہ مانگوتو کہتے ہیں۔۔ تیری مرضی اے جیویں مرضی کرلے۔۔یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ شوہر چاہے کتنا ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ، ڈگری ہولڈر یا کسی اعلیٰ عہدے پر فائز کیوں نہ ہو۔۔جب بیوی نے کہہ دیا کہ آپ نہیں سمجھ سکتے تو آپ نہیں سمجھ سکتے، مزید بحث بیکار ہے بس بات ختم۔۔۔یہی حال لاٹھی والوں کا ہے، جب انہوں نے ایک بار کہہ دیا کہ ۔۔آپ سمجھ نہیں سکتے تو پھر مزید بحث بیکار ہے،بس بات ختم۔۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔تعلقات نہیں حالات ٹھیک کریں، تعلقات خود ہی ٹھیک ہوجائیں گے۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
تصور نو کانفرنس وجود جمعه 27 جنوری 2023
تصور نو کانفرنس

بے سہارا ملکی معیشت کا سہارا کون بنے گا؟ وجود جمعرات 26 جنوری 2023
بے سہارا ملکی معیشت کا سہارا کون بنے گا؟

ملک! ہائے میرا ملک!! وجود بدھ 25 جنوری 2023
ملک! ہائے میرا ملک!!

بھارت کی دولت امیروں کے قبضے میں وجود بدھ 25 جنوری 2023
بھارت کی دولت امیروں کے قبضے میں

جعلی مقابلے سے جعلی انصاف تک! وجود منگل 24 جنوری 2023
جعلی مقابلے سے جعلی انصاف تک!

کراچی پر قبضے کا کھیل ؟ وجود پیر 23 جنوری 2023
کراچی پر قبضے کا کھیل ؟

اشتہار

تہذیبی جنگ
کینیڈا میں پہلی بار مشیر برائے اینٹی اسلامو فوبیا کی تقرری وجود جمعه 27 جنوری 2023
کینیڈا میں پہلی بار مشیر برائے اینٹی اسلامو فوبیا کی تقرری

اسلامو فوبیا میں مبتلا انتہا پسندوں کی حرکت کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، سوئیڈن وجود جمعه 27 جنوری 2023
اسلامو فوبیا میں مبتلا انتہا پسندوں کی حرکت کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، سوئیڈن

سڑک چوڑی کرنے کا بہانہ، بھارت میں ایک اورتاریخی مسجد شہید وجود پیر 16 جنوری 2023
سڑک چوڑی کرنے کا بہانہ، بھارت میں ایک اورتاریخی مسجد شہید

رابطہ عالم اسلامی اور کلاک ٹاورز انتظامیہ میں سائنسی و ثقافتی تعاون کا معاہدہ وجود اتوار 08 جنوری 2023
رابطہ عالم اسلامی اور کلاک ٹاورز انتظامیہ میں سائنسی و ثقافتی تعاون کا معاہدہ

نیدرلینڈز، سال 2022 میں محمد دوسرا سب سے زیادہ مقبول نام رہا وجود اتوار 08 جنوری 2023
نیدرلینڈز، سال 2022 میں محمد دوسرا سب سے زیادہ مقبول نام رہا

بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار وجود منگل 06 دسمبر 2022
بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار

اشتہار

شخصیات
جماعت اسلامی کے بانی مولانا سیّد مودودی کی بیٹی انتقال کر گئیں وجود پیر 16 جنوری 2023
جماعت اسلامی کے بانی مولانا سیّد مودودی کی بیٹی انتقال کر گئیں

اردو کے ممتاز شاعر احمد فراز کا یوم ولادت وجود جمعرات 12 جنوری 2023
اردو کے ممتاز شاعر احمد فراز کا یوم ولادت

حکیم محمد سعید کو ہمارے قومی شعور نے طاق نسیاں پر رکھ دیا! وجود پیر 09 جنوری 2023
حکیم محمد سعید کو ہمارے قومی شعور نے طاق نسیاں پر رکھ دیا!
بھارت
مودی پر بنائی گئی دستاویزی فلم روکنے کی کوشش، امریکا کا موقف سامنے آ گیا وجود جمعرات 26 جنوری 2023
مودی پر بنائی گئی دستاویزی فلم روکنے کی کوشش، امریکا کا موقف سامنے آ گیا

مقبوضہ کشمیر میں راہول گاندھی کی آمد سے قبل دھماکا، ہلاکتوں کا خدشہ وجود اتوار 22 جنوری 2023
مقبوضہ کشمیر میں راہول گاندھی کی آمد سے قبل دھماکا، ہلاکتوں کا خدشہ

بھارت کی 1 فیصد اشرافیہ ملک کی 40 فیصد سے زائد دولت کی مالک وجود منگل 17 جنوری 2023
بھارت کی 1 فیصد اشرافیہ ملک کی 40 فیصد سے زائد دولت کی مالک

خلیجی اخبار نے آزادی صحافت کا گلا گھوٹنے کے مودی سرکار کے اقدامات پر آواز اٹھا دی وجود پیر 09 جنوری 2023
خلیجی اخبار نے آزادی صحافت کا گلا گھوٹنے کے مودی سرکار کے اقدامات پر آواز اٹھا دی
افغانستان
پاکستانی سفارت خانے پر حملے میں ملوث داعش کا ایک گروہ کارروائی کے دوران مارا گیا،ذبیح اللہ مجاہد وجود جمعرات 05 جنوری 2023
پاکستانی سفارت خانے پر حملے میں ملوث داعش کا ایک گروہ  کارروائی کے دوران مارا گیا،ذبیح اللہ مجاہد

طالبان کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے بعد خواتین کی ملازمت پر بھی پابندی وجود اتوار 25 دسمبر 2022
طالبان کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے بعد خواتین کی ملازمت پر بھی پابندی

طلبا کے احتجاج پر طالبان نے ایک ہفتے کے لیے یونی ورسٹیاں بند کر دیں وجود اتوار 25 دسمبر 2022
طلبا کے احتجاج پر طالبان نے ایک ہفتے کے لیے یونی ورسٹیاں بند کر دیں
ادبیات
اردو کے ممتاز شاعر احمد فراز کا یوم ولادت وجود جمعرات 12 جنوری 2023
اردو کے ممتاز شاعر احمد فراز کا یوم ولادت

کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد وجود هفته 26 نومبر 2022
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد

مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع