وجود

... loading ...

وجود

جارحانہ رویہ درگزر کرنا چاہتا ہوں، مگر صبر کی بھی ایک حد ہے، آرمی چیف

بدھ 23 نومبر 2022 جارحانہ رویہ درگزر کرنا چاہتا ہوں، مگر صبر کی بھی ایک حد ہے، آرمی چیف

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجو ہ نے کہا ہے کہ سابق مشرقی پاکستان فوجی نہیں، سیاسی ناکامی تھی، سیاست میں فوج کی مداخلت غیر آئینی ہے، ایک جعلی اور جھوٹا بیانیہ بنا کر ملک میں ہیجان کی کیفیت پیدا کی گئی، اب اسی جھوٹے بیانیے سے راہ فرار اختیار کی جارہی ہے، پچھلے سال فروری میں فوج نے بڑی سوچ و بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ آئندہ فوج کسی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی، یقین دلاتا ہوں ہم اس پر سختی سے کاربند ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے، اس آئینی عمل کا خیر مقدم کرنے کی بجائے کئی حلقوں نے فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بناکر بہت غیر مناسب اور غیر شائستہ زبان کا استعمال کیا، فوج پر تنقید عوام اور سیاسی پارٹیوں کا حق ہے ،الفاظ کے چناؤ اور استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے ،دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہندوستانی فوج کرتی ہے ،ان کی عوام کم و بیش ہی ان کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے، اس کے برعکس ہماری فوج جو دن رات قوم کی خدمت میں مصروف رہتی ہے گاہے بگاہے تنقید کا نشانہ بنتی ہے، فوج کی قیادت کچھ بھی کر سکتی ہے لیکن کبھی بھی ملک کے مفاد کے خلاف نہیں جا سکتی ہے، جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ فوج اور عوام میں دراڑ ڈال دیں گے وہ ہمیشہ ناکام ہوں گے، امید ہے ہماری سیاسی پارٹیاں بھی اپنے رویے پر نظر ثانی کریں گی، یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں ہر ادارے، سیاسی پارٹی اور سول سوسائٹی سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں، ہمیں ان غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور آگے بڑھنا چاہیے ، 2018کے عام انتخابات میں بعض پارٹیوں نے آر ٹی ایس کے بیٹھنے کو بہانہ بنا کر جیتی ہوئی پارٹی کو سلیکٹڈ کا لقب دیا گیا اور 2022میں اعتماد کا ووٹ کھونے کے بعد ایک پارٹی نے دوسری پارٹی کو امپورٹڈ کا لقب دیا، ہمیں اس رویے کو رد کرنا ہوگا، پاکستان آج سنگین معاشی مشکلات کا شکار ہے اور کوئی بھی ایک پارٹی پاکستان کو اس معاشی بحران سے نکال نہیں سکتی، اس کیلئے سیاسی استحکام لازم ہے، اب وقت آگیا ہے تمام سٹیک ہولڈرز اپنی ذاتی انا کو ایک طرف رکھتے ہوئے ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں اور آگے بڑھیں اور پاکستان کو اس بحران سے نکالیں،آج ہمارے شہروں اور دیہاتوں میں جو امن ہے، اس کے پیچھے ہمارے ہزاروں شہدا کی قربانیاں ہیں جن کو کبھی نہیں بھلایا جاسکتا، شہداء ہمارے ہیرو ہیں، قوم کو ان پر فخر ہونا چاہیے۔ بدھ کو جی ایچ کیو میں یوم دفاع و شہدا کی مناسبت سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ آج آپ سے یوم شہداء کی تقریب سے بطور آرمی چیف آخری مرتبہ خطاب کر رہا ہوں، مجھے فخر ہے کہ 6 سال اس فوج کا سپہ سالار رہا۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا بنیادی کام ملک کی جغرافیائی حدود کی حفاظت کرنا ہے تاہم پاک فوج ہمیشہ اپنی استطاعت سے بڑھ کر اپنی قوم کی خدمت میں پیش پیش رہتی ہے، ریکوڈک کا معاملہ ہو یا کارکے کا جرمانہ، فیٹف کے نقصان ہوں یا ملک کو وائٹ لسٹ سے ملانا یا فاٹا کا انضمام کرنا، بارڈر پر باڑ لگانا ہو یا قطر سے سستی گیس مہیا کرانا یا دوست ملکوں سے قرض کا اجرا کرانا ہو، کووڈ کا مقابلہ یا ٹڈی دل کا خاتمہ، سیلاب کے دوران امدادی کارروائی ہو، فوج نے ہمیشہ اپنے مینڈیٹ سے بڑھ کر قوم کی خدمت کی ہے اور انشااللہ کرتی رہے گی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کاموں کے باوجود فوج اپنے بنیادی کام اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے سے کبھی غافل نہیں ہوگی، آپ جانتے ہیں کہ آج ہمارے شہروں اور دیہاتوں میں جو امن ہے، اس کے پیچھے ہمارے ہزاروں شہدا کی قربانیاں ہیں جن کو کبھی نہیں بھلایا جاسکتا کیوں کہ جو قومیں اپنے شہدا کو بھول جاتی ہیں وہ قومیں مٹ جایا کرتی ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ میں آج ایک ایسے موضوع پر بھی بات کرنا چاہتا ہوں جس پر عموماً لوگ بات کرنے سے گریز کرتے ہیں اور یہ بات 1971 میں ہماری فوج کی سابقہ مشرقی پاکستان میں کارکردگی سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہاں پرکچھ حقائق درست کرنا چاہتا ہوں،سب سے پہلے سابقہ مشرقی پاکستان ایک فوجی نہیں بلکہ ایک سیاسی ناکامی تھی۔ انہوں نے کہاکہ لڑنے والے فوجیوں کی تعداد 92 ہزار نہیں صرف 34 ہزار تھی، باقی لوگ مختلف گورنمنٹس کے ڈپارٹمنٹس کے تھے اور ان 34 ہزار لوگوں کا مقابلہ ڈھائی لاکھ انڈین آرمی، دو لاکھ تربیت یافتہ مکتی باہنی سے تھا لیکن اس کے باوجود ہماری فوج بہت بہادری سے لڑی اور بے مثال قربانیاں پیش کیں جس کا اعتراف خود سابق بھارتی آرمی چیف فیلڈ مارشل مانیکشا نے بھی کیا۔ انہوں نے کہاکہ ان بہادر غازیوں اور شہیدوں کی قربانیوں کا آج تک قوم نے اعتراف نہیں کیا جو کہ ایک بہت بڑی زیادتی ہے۔ آرمی چیف جنرل باجوہ نے کہا کہ میں اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان تمام غازیوں اور شہیددوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور پیش کرتا رہوں گا، وہ ہمارے ہیرو ہیں اور قوم کو ان پر فخر ہونا چاہیے۔ آرمی چیف نے کہا کہ آخر میں کچھ باتیں سیاسی صورتحال کے حوالے سے کرنا چاہوں گا، میں کافی سالوں سے اس بات پر غور کر رہا تھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہندوستانی فوج کرتی ہے تاہم ان کی عوام کم و بیش ہی ان کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے، اس کے برعکس ہماری فوج جو دن رات قوم کی خدمت میں مصروف رہتی ہے گاہے بگاہے تنقید کا نشانہ بنتی ہے۔ میرے نزدیک اس کی بڑی وجہ 70 سال سے فوج کی مختلف صورتوں میں سیاست میں مداخلت ہے جو کہ غیر آئینی ہے، اس لیے پچھلے سال فروری میں فوج نے بڑی سوچ و بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ آئندہ فوج کسی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس پر سختی سے کاربند ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے تاہم اس آئینی عمل کا خیر مقدم کرنے کے بجائے کئی حلقوں نے فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بنا کر بہت غیر مناسب اور غیر شائستہ زبان کا استعمال کیا، فوج پر تنقید عوام اور سیاسی پارٹیوں کا حق ہے لیکن الفاظ کے چناؤ اور استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید نے کہا کہ ایک جعلی اور جھوٹا بیانیہ بنا کر ملک میں ہیجان کی کیفیت پیدا کی گئی اور ابھی اسی جھوٹے بیانیے سے راہ فرار اختیار کی جارہی ہے، سول ملٹری لیڈرشپ کو غیر مناسب القابات سے پکارا گیا، میں آپ کو واضح کردینا چاہتا ہوں فوج کی قیادت کچھ بھی کرسکتی ہے لیکن کبھی بھی ملک کے مفاد کے خلاف نہیں جاسکتی ہے۔ بیرونی سازش کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باوجوہ نے کہا کہ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں ایک بیرونی سازش ہو اور آرمڈ فورسز ہاتھ پر ہاتھ دھری بیٹھی رہیں گی؟ یہ ناممکن ہے بلکہ یہ گناہ کبیرہ ہے اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ فوج اور عوام میں دراڑ ڈال دیں گے وہ بھی ہمیشہ ناکام ہوں گے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ فوج کی قیادت کے پاس اس نامناسب یلغار کا جواب دینے کیلئے بہت سے مواقع اور وسائل موجود تھے تاہم فوج نے ملک کے وسیع تر مفاد میں حوصلے کا مظاہرہ کیا اور کوئی بھی منفی بیان دینے سے اجتناب کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سب کو ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اس صبر کی بھی ایک حد ہے، میں اپنے اور فوج کیخلاف اس نامناسب اور جارحانہ رویے کو درگزر کرکے آگے بڑھنا چاہتا ہوں کیوں کہ پاکستان ہم سب سے افضل ہے، افراد اور پارٹیاں تو آتی جاتی رہتی ہیں لیکن پاکستان انشا اللہ ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید نے کہا کہ فوج نے تو اپنا کتھارسس شروع کردیا ہے، مجھے امید ہے کہ ہماری سیاسی پارٹیاں بھی اپنے رویے پر نظر ثانی کریں گی، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں ہر ادارے، سیاسی پارٹی اور سول سوسائٹی سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں، ہمیں ان غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور آگے بڑھنا چاہیے، میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان آج سنگین معاشی مشکلات کا شکار ہے اور کوئی بھی ایک پارٹی پاکستان کو اس معاشی بحران سے نکال نہیں سکتی، اس کے لیے سیاسی استحکام لازم ہے، اب وقت آگیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اپنی ذاتی انا کو ایک طرف رکھتے ہوئے ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں اور آگے بڑھیں اور پاکستان کو اس بحران سے نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں جمہوریت کی روح کو سمجھتے ہوئے اور عدم برداشت کی فضا کو ختم کرتے ہوئے پاکستان میں ایک سچا جمہوری کلچر اپنانا ہے۔2018کے عام انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات میں بعض پارٹیوں نے آر ٹی ایس کے بیٹھنے کو بہانہ بنا کر جیتی ہوئی پارٹی کو سلیکٹڈ کا لقب دیا اور 2022 میں اعتماد کا ووٹ کھونے کے بعد ایک پارٹی نے دوسری پارٹی کو امپورٹڈ کا لقب دیا، ہمیں اس رویے کو رد کرنا ہوگا، ہار جیت سیاست کا حصہ ہے، ہر پارٹی کو اپنی فتح اور شکست کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا تاکہ اگلے الیکشن میں ایک امپورٹڈ یا سلیکٹڈ گورنمنٹ کے بجائے الیکٹڈ گورنمنٹ آئے۔ جمہوریت حوصلہ برداشت اور عوام کی رائے عامہ کے احترام کا نام ہے، اگر پاکستان نے آگے بڑھنا ہے تو ہمیں عدم برداشت اور میں نہ مانوں کے رویے کو ترک کرنا ہوگا، ہمارے لیے پاکستان نعمت خداوندی ہے، ہمارا وجود اس کی سلامتی اور بقا سے وابستہ ہے، اس کی آزادی اور استحکام کیلئے شہدا نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، ہمیں ان پر فخر ہے۔ شہدا کے لواحقین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس تقریب میں آکر اس تقریب کو رونق بخشی۔انہوں نے کہا کہ مادر وطن کی حفاظت اور سالمیت ہمارا اولین فرض ہے اور رہے گا جس کو نبھانے کیلئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔قبل ازیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یادگار شہدا پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی بھی کی۔ تقریب میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران کی شریک ہیں، اس کے علاوہ تقریب میں شہدا کے لواحقین اور غازی بھی شریک ہوئے۔


متعلقہ خبریں


ایم کیو ایم پراپرٹیز کیس، مصطفی عزیز آبادی، قاسم رضا نے گواہی ریکارڈ کرا دی وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

متحدہ قومی موومنٹ پراپرٹیز کیس میں مصطفی عزیز آبادی اور قاسم رضا نے عدالت میں گواہی ریکارڈ کرا دی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے وکیل نے مصطفی عزیز آبادی اور قاسم رضا سے کمپیوٹرز اور ریکارڈنگ سسٹم کے بارے میں سوالات کیے۔ وکیل نے استفسار کیا کہ کیا مقدمے کی سماعت سے قبل جان بوجھ کر اہم ش...

ایم کیو ایم پراپرٹیز کیس، مصطفی عزیز آبادی، قاسم رضا نے گواہی ریکارڈ کرا دی

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کی تیاریاں تیز کر دیں وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

اپریل 2022 میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہونے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بار بار الیکشن کے مطالبے اور موجودہ حکومت کی طرف سے مطالبے کو نظر انداز کے باوجود الیکشن کمیشن آف پاکستان(ای سی پی) نے آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر ...

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کی تیاریاں تیز کر دیں

ایرانی حکام کا مظاہروں میں 200 افراد کی ہلاکت کا اعتراف وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

سرکاری حکام نے ایران میں جاری مظاہروں میں 200 افراد بشمول سیکیورٹی فورسز کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے جبکہ صدر ابراہیم رئیسی نے موجودہ نظام کا دفاع کرتے ہوئے ایران کو انسانی حقوق اور آزادی کا ضامن قرار دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ ...

ایرانی حکام کا مظاہروں میں 200 افراد کی ہلاکت کا اعتراف

عمران خان نے سندھ کے ارکان اسمبلی کو استعفوں سے روک دیا وجود - هفته 03 دسمبر 2022

عمران خان نے پی ٹی آئی اراکین سندھ اسمبلی کو استعفے جمع کرانے سے یروک دیا۔تحریک انصاف سندھ کے صدر علی حیدر زیدی کی قیادت میں سندھ کی پارلیمانی پارٹی نے لاہور میں چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران قائدِ حزبِ اختلاف حلیم عادل شیخ اور سندھ اسمبلی میں پارلیمانی رہنما خرم...

عمران خان نے سندھ کے ارکان اسمبلی کو استعفوں سے روک دیا

جنرل باجوہ نے دُہرا کھیل کھیلا، توسیع دے کر بہت بڑی غلطی کی، عمران خان وجود - هفته 03 دسمبر 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جنرل (ر) باجوہ کو توسیع دے کر بہت بڑی غلطی کی تھی، فوج میں کبھی کسی کو توسیع نہیں ملنی چاہیے، آئندہ سال مارچ یا اس مہینے کے آخر تک الیکشن کیلئے تیار ہیں تو اسمبلیاں تحلیل کرنے سے رک جاتے ہیں، ہم مارچ سے آگے ن...

جنرل باجوہ نے دُہرا کھیل کھیلا، توسیع دے کر بہت بڑی غلطی کی، عمران خان

عام انتخابات کی تاریخ دیں، ورنہ اسی ماہ اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے، عمران خان وجود - هفته 03 دسمبر 2022

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر اتحادی حکومت انتخابات کی بات پر آئی تو ٹھیک ہے، ورنہ ہم اسی ماہ اسمبلیاں تحلیل کر کے انتخابات کی طرف بڑھیں گے۔ پشاور میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے...

عام انتخابات کی تاریخ دیں، ورنہ اسی ماہ اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے، عمران خان

پنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کی جانب سے بھی رنز کا انبار، بابر نے بھی سنچری داغ دی وجود - هفته 03 دسمبر 2022

راولپنڈی ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف پہلی اننگز میں عبد اللہ اور امام الحق کے بعد بابر اعظم نے بھی سنچری بنا دی۔ تفصیلات کے مطابق پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستان نے اپنی پہلی نامکمل اننگز کا آغاز 181 رنز بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے کیا، ...

پنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کی جانب سے بھی رنز کا انبار، بابر نے بھی سنچری داغ دی

پاکستان ہیپا ٹائٹس سی کے سب سے زیادہ مریضوں والا ملک بن گیا وجود - هفته 03 دسمبر 2022

چین اور بھارت سے بھی آگے نکلتے ہوئے اب پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے سب سے زیادہ مریضوں والا ملک بن چکا ہے جبکہ ہر دس میں سے ایک فرد ہیپاٹائٹس کی کسی نہ کسی کیفیت میں گرفتار ہے۔ڈاکٹروں اور عوامی صحت کے ماہرین نے زور دے کر کہا کہ اس ضمن میں پی سی آر ٹیسٹ کو فروغ دیا جائے تاکہ ہیپاٹائٹس ...

پاکستان ہیپا ٹائٹس سی کے سب سے زیادہ مریضوں والا ملک بن گیا

ایم کیو ایم نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کے لیے عبدالوسیم کا نام دے دیا وجود - هفته 03 دسمبر 2022

ایم کیو ایم نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کے لیے عبدالوسیم کا نام دے دیا، وزیراعلیٰ  سندھ نے لیڈرشپ سے بات کرکے جواب دینے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات میں اہم کیو ایم نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کے لیے محمد وسیم کا نام دے دیا۔ ایم کیوایم نے مطالبہ...

ایم کیو ایم نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کے لیے عبدالوسیم کا نام دے دیا

پیپلزپارٹی کے رہنما وقار مہدی بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہو گئے وجود - هفته 03 دسمبر 2022

وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وقار مہدی کے مقابلے میں اپنے امیدوار کے کاغذات واپس لے لیے۔ کراچی میں الیکشن کمیشن کے باہر سعید غنی اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر شاہ نے کہا کہ وقار مہدی بلامقابلہ منتخب سینیٹ...

پیپلزپارٹی کے رہنما وقار مہدی بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہو گئے

مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ چاک کر دیا وجود - هفته 03 دسمبر 2022

پی ای ڈبلیو ریسرچ کی رپورٹ نے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرتے ہوئے اسے سوشل ہاسٹیلٹی انڈیکس میں شام، افغانستان اور مالی سے بھی بدتر قرار دے دیا۔ ریسرچ کے مطابق گورنمنٹ ریسٹرکشن انڈیکس میں بھارت کا اسکور 10 میں سے 9.4 ہے، بھارت نے اقلیتوں پر سنگین مظالم ڈھائے۔ رپورٹ کے مطابق مودی را...

مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ  چاک کر دیا

پانچ ماہ میں پیٹرول، ڈیزل کی فروخت 20 فیصد گر گئی، رپورٹ وجود - هفته 03 دسمبر 2022

رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ جولائی تا نومبر 2023 کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پچھلے پانچ ماہ میں مجموعی طور پر77 لاکھ ٹن پیٹرول، فرنس آئل اور ڈیزل فروخت ہوا جو 2022 کے96 لاکھ ٹن کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہے، آئل کمپن...

پانچ ماہ میں پیٹرول، ڈیزل کی فروخت 20 فیصد گر گئی، رپورٹ

مضامین
عمرکومعاف کردیں وجود اتوار 04 دسمبر 2022
عمرکومعاف کردیں

ٹرمپ اور مفتے۔۔ وجود اتوار 04 دسمبر 2022
ٹرمپ اور مفتے۔۔

اب ایک اور عمران آرہا ہے وجود هفته 03 دسمبر 2022
اب ایک اور عمران آرہا ہے

ثمربار یا بے ثمر دورہ وجود هفته 03 دسمبر 2022
ثمربار یا بے ثمر دورہ

حاجی کی ربڑی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
حاجی کی ربڑی

پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی وجود جمعرات 01 دسمبر 2022
پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی

اشتہار

تہذیبی جنگ
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا وجود جمعه 02 دسمبر 2022
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا

برطانیا میں سب سے تیز پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا وجود بدھ 30 نومبر 2022
برطانیا میں سب سے تیز  پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا

اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا وجود پیر 21 نومبر 2022
اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا

استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا وجود جمعه 18 نومبر 2022
استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا

ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا وجود اتوار 13 نومبر 2022
ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا

فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت وجود منگل 08 نومبر 2022
فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت

اشتہار

شخصیات
موت کیا ایک لفظِ بے معنی جس کو مارا حیات نے مارا وجود هفته 03 دسمبر 2022
موت کیا ایک لفظِ بے معنی               جس کو مارا حیات نے مارا

ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے وجود بدھ 30 نومبر 2022
ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے

معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے وجود پیر 28 نومبر 2022
معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے
بھارت
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ چاک کر دیا وجود هفته 03 دسمبر 2022
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ  چاک کر دیا

بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی وجود هفته 26 نومبر 2022
بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی

پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس وجود پیر 21 نومبر 2022
پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس

بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے وجود اتوار 20 نومبر 2022
بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے
افغانستان
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی

افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی وجود بدھ 30 نومبر 2022
افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی

حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ وجود منگل 29 نومبر 2022
حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ
ادبیات
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد وجود هفته 26 نومبر 2022
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد

مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار