... loading ...
پیٹرولیم مصنوعات، گیس اور بجلی کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے پہلے ہی مشکلات کا شکار شہری سبزیوں اور اشیائے ضروریہ کی سرکاری اور ریٹیل قیمتوں میں پائے جانے والے بڑے فرق پر بحث و تکرار کرتے نظر آنے لگے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اگر کمشنر کراچی کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ سبزیوں کے یومیہ ہول سیل اور ریٹیل ریٹس کو ایک معیار قرار دیا جائے، یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ فہرست کو ریٹیلرز اور ہول سیلرز دونوں کی جانب سے غیر حقیقی قرار دیا جا چکا ہے، تو بھی سپر ہائی وے پر واقع سبزی منڈی کے ہول سیل کے نرخوں اور شہر کے مختلف علاقوں کی ریٹیل مارکیٹوں میں رائج قیمتوں میں بہت بڑا اور واضح فرق نظر آتا ہے۔ شہر میں ایک بھی ریٹیلر اپنی دُکان پر سرکاری پرائس لسٹ نہیں رکھتا جس کا مطلب ہے کہ سرکاری لسٹ صرف کمشنر کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ یہاں یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ شہر میں پرائس لسٹ کی تقسیم اور اس پر عمل درآمد جانچنے کے لیے کوئی طریقہ کار نہ ہونے کے باوجود شہری حکومت وقتا فوقتا ریٹیلر کی جانب سے کی جانے والی منافع خوری کو کنٹرول کرنے کا کریڈٹ لیتی ہے۔ اگر کوئی خریدار اپنے اسمارٹ فون پر پرائس لسٹ کسی ریٹیلر کو دکھاتا ہے تو وہ جواب دیتا ہے کہ کمشنر کے ریٹ مارکیٹ میں نافذ نہیں ہیں اور اس ریٹ پر فروخت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ریٹیلرز کا استدلال ہے کہ کمشنر کراچی اور ان کی ٹیم پہلے ان نرخوں پر سبزیوں کی دستیابی کو یقینی بنائیں اور پھر ہمیں زائد قیمتوں پر فروخت کرنے پر پکڑیں۔ ٹھیلوں پر سبزی بیچنے والے دُکانداروں سے زیادہ قیمت وصول کرتے ہیں جبکہ وہ قیمتوں میں صارفین کی نقل و حرکت کی لاگت کو شامل کرتے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں مختلف علاقوں میں رہنے والے صارفین سبزیوں کے نرخوں پر جھگڑتے نظر آتے ہیں۔ ایک صارف کا کہنا ہے کہ اس نے اچھے معیار کی پیاز 200 روپے فی کلو خریدی ہے جب کہ دوسرے صارفین نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے یہی پیاز 180 روپے فی کلو کے حساب سے خریدی تاہم حکومت کی جانب سے پیاز کا ہول سیل ریٹ 140 روپے فی کلو ہے اور ریٹیل ریٹ 143 روپے فی کلو ہے۔ ایک گاہک نے بتایا کہ اس نے پرانا آلو 70 سے 80 روپے فی کلو خریدا جبکہ ایک اور خریدار نے کہا کہ اس نے 60 روپے فی کلو کے حساب سے خریدا۔ آلو کا سرکاری ہول سیل ریٹ 43 روپے اور ریٹیل ریٹ 46 روپے فی کلو ہے، نیا آلو 120 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے جب کہ اس کے سرکاری ہول سیل اور ریٹیل ریٹ 83 روپے اور 86 روپے فی کلو ہیں جب کہ کچھ خریدار 130 سے 140 روپے فی کلو تک ادا کرتے ہیں۔ قیمتوں میں اس بڑے اور واضح فرق کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ کمشنر آفس مارکیٹ کی حقیقتوں کو جانچنے میں دلچسپی نہیں لیتا۔ قیمتوں کو چیک کرنے کیلئے مقرر کیے گئے سرکاری افسران کی تعداد بہت کم ہے جس کی وجہ سے ڈیلرز، صارفین کو لوٹنے کی جانب راغب ہوتے ہیں۔ صارفین کیلئے کم قیمتوں میں اچھے معیار کی اشیا تلاش کرنا بھی ایک مشکل کام ہے جب کہ ریٹیلرز کا کہنا ہے کہ 2 سے 3 اقسام کی سبزیاں مختلف قیمتوں پر مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ کراچی ہول سیلرز اینڈ گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین روف ابراہیم نے کہا کہ کمشنر کی جانب سے روزانہ گروسری پرائس لسٹ کا اجرا گزشتہ 3 برسوں سے معطل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آفیشل پرائس لسٹ کی غیر موجودگی میں آپ کے پاس زائد قیمت وصول کرنے پر ریٹیلر پر جرمانہ عائد کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ۔انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران صرف تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں، صارفین کے مفاد کا تحفظ نہیں کر رہے، کمشنر کو ہول سیلرز اور ریٹیلرز کے ساتھ میٹنگ کے بعد ہر 15 روز بعد پرائس لسٹ جاری کرنی چاہیے۔
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...