وجود

... loading ...

وجود

لِز ٹرس برطانوی تاریخ کی مختصر ترین دورانیہ کی وزیراعظم بن گئیں

جمعه 21 اکتوبر 2022 لِز ٹرس برطانوی تاریخ کی مختصر ترین دورانیہ کی وزیراعظم بن گئیں

اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہوں، برطانیہ کی نئی وزیر اعظم لز ٹرس نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے دو ماہ کے اندر ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئی۔ اپنی سرکاری رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے شاہ چارلس کو بتا دیا ہے کہ وہ حکمران جماعت، کنزرویٹو پارٹی کی سربراہی سے مستعفی ہو رہی ہیں۔ انھوں نے وزارت عظمی ‘شدید معاشی اور بین الاقوامی عدم استحکام، کے دنوں میں سنبھالی تھی، تاہم ‘میں سمجھتی ہوں کہ میں اس وہ وعدے یا مینڈیٹ پورا نہیں کر سکتی جس کے لیے کنزرویٹو پارٹی نے مجھے منتخب کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ایک عرصے تک پیچھے رکھا گیا اور ان کی جماعت نے اس چیز کو ‘بدلنے کا مینڈیٹ’ دیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے توانائی کے بِلوں میں کمی کی اور نیشنل انشورنس میں بھی رعایت دی اور ‘کم ٹیکس اور زیادہ ترقی’ کی سوچ کو فروغ دیا۔ لِز ٹرس نے تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورت حال میں، میں اس مینڈیٹ کو پورا نہیں کر سکتی جس کے لیے مجھے پارٹی نے منتخب کیا تھا۔ لِز ٹرس وزارت عظمی پر محض 45 دن تک فائز رہیں، جو کہ برطانیہ کی تاریخ میں کسی بھی وزیر اعظم کی مختصر ترین مدت ہے۔ ان کے بعد سابق وزایر اعظم جارج کینِنگ آتے ہیں جو 119 دن تک وزیراعظم رہنے کے بعد سنہ 1827 میں وفات پاگئے تھے۔ لِز ٹرس کی مشکلات اس وقت شروع ہو گئی تھیں جب 23 ستمبر کو ان کے منتخب کردہ پہلے وزیر خزانہ کواسکی کوارٹِنگ نے مِنی بجٹ پیش کیا تو برطانیہ کے بازار حصص اور معیشت میں کھلبلی مچ گئی۔ اس کے بعد سے کنزرویٹِو پارٹی میں بے چینی بڑھنے لگی جس نے جلد ہی پارلیمانی پارٹی میں غم و غصے کی شکل اختیار کر لی اور ان کے جماعت کے لیے لِز ٹرس کا دفاع مشکل تر ہوتا گیا۔ لِز ٹرس کی جانب سے مستعفی ہونے کے اعلان کے فو را بعد حزب اختلاف کی بڑی جماعت، لیبر پارٹی کے سربراہ کیئر سٹارمر نے ‘فورا’ نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ لِز ٹرس کے استعفے کے اعلان پر عالمی رہنمائوں کی جانب سے بھی رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ فراسن کے صدر ایمینوئل میکراں نے کہا کہ برطانیہ کے لیے یہ اہم ہے کہ وہ ‘جس قدر جلد ممکن ہو مستحکم’ ہو جائے۔ یورپی یونین کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے برسلز پہنچنے پر ان کا کہنا تھا کہ قطع نظر دوسری چیزوں کے ہمارے لیے جلد از جلد استحکام سب سے زیادہ مقدم ہے۔ میری الزبتھ ٹرس سنہ 1975 میں آکسفورڈ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ریاضی کے پروفیسر اور والدہ ایک نرس تھیں اور لز کے مطابق وہ ‘بائیں بازو’ نظریات کے حامی تھے۔ عالمی میڈیا سے بات کرتے ہوئے، ان کے بھائی نے کہا کہ ان کے گھر والوں کو بورڈ گیمز کھیلنے میں مزہ آتا تھا، لیکن لز ٹرس جب چھوٹی تھیں تو انہیں ہارنے سے نفرت تھی اور اگر انہیں لگتا کہ وہ ہار جائیں گی تو وہ کھیل چھوڑ کر چلی جاتی تھیں۔ سکول کی تعلیم کے بعد لز ٹرس نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں انہوں نے فلسفہ، سیاست اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی اور طالب علمی کے دور سے ہی سیاست میں سرگرم رہیں، ابتدا میں وہ برطانوی سیاسی جماعت لبرل ڈیموکریٹس کے لیے سرگرم تھیں۔ سنہ 1994 میں لبرل ڈیموکریٹس کی جانب سے منعقد کی گئی کانفرنس میں انہوں نے بادشاہت کے نظام کے خاتمے کے حق میں بات کی، برائٹن میں ہونے والی اس کانفرنس میں انہوں نے مندوبین سے کہا کہ ہم لبرل ڈیموکریٹس سب کو موقع دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم یہ نہیں مانتے کہ کچھ لوگ حکومت کرنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔ سنہ 2021 میں 46 سال کی عمر میں انھوں نے حکومت کے سب سے سینئر عہدوں میں سے ایک پر وزیرِ خارجہ کا عہدہ سنبھالا۔ اس عہدے میں انھوں نے بریگزٹ کے بعد یورپی یونین اور برطانیہ کے معاہدے کے کچھ حصوں کو ختم کر کے، شمالی آئرلینڈ پروٹوکول کے پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ان کے اس اقدام پر یورپی یونین نے شدید تنقید کی۔ انھوں نے دو برطانوی ایرانی شہریوں کی رہائی کو یقینی بنایا جنھیں ایران میں قید کر لیا گیا تھا۔اور جب فروری میں روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو انھوں نے سخت موقف اختیار کیا اور اس بات پر اصرار کیا کہ ولادیمیر پیوتن کی تمام افواج کو یوکرین سے نکال باہر کیا جائے۔ انھیں یوکرائن میں لڑنے کے خواہشمند برطانوی لوگوں کی پشت پناہی کرنے پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔


متعلقہ خبریں


8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 03 فروری 2026

ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی وجود - منگل 03 فروری 2026

دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب وجود - منگل 03 فروری 2026

14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار

سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں،وزیر اعظم وجود - منگل 03 فروری 2026

آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...

سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں،وزیر اعظم

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی وجود - پیر 02 فروری 2026

گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار وجود - پیر 02 فروری 2026

کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید وجود - پیر 02 فروری 2026

بچے اور خواتین شامل،رہائشی عمارتوں، خیموں، پناہ گاہوں ، پولیس اسٹیشن نشانہ بن گیا خواتین پولیس اہلکار بھی شامل،اسرائیل اور حماس میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ،ذرائع اسرائیلی فضائی حملوں میں ہفتے کے روز غزہ میں کم از کم 32 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین ک...

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

مضامین
خون اور رنگ وجود منگل 03 فروری 2026
خون اور رنگ

سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل وجود منگل 03 فروری 2026
سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل

گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں وجود پیر 02 فروری 2026
بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر