وجود

... loading ...

وجود

امریکا، حبیب بینک کو دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے الزام کا سامنا

جمعه 30 ستمبر 2022 امریکا، حبیب بینک کو دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے الزام کا سامنا

پاکستان کے سب سے بڑے بینک، حبیب بینک لمیٹڈ کو امریکا میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک مقدمے میں ثانوی ذمہ داریوں کے الزامات کا سامنا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق مدعی نے حبیب بینک لمیٹڈ پر القاعدہ کی دہشت گردی میں معاونت اور اس کی حوصلہ افزائی اور ان حملوں کی سازش میں اس کا ساتھ دینے کا الزام لگایا تھا جن میں 370 افراد ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔ جج لورنا جی شوفیلڈ نے ریمارکس دیے کہ بینک کو ایک ایسے فریق کے طور پر جسٹس اگینسٹ اسپانسرز آف ٹیررازم ایکٹ کے تحت لائبیلٹیز کا سامنا ہے جو دانستہ طور پر خاطر خواہ مدد فراہم کرے، یا ایسے شخص کے طور پر الزامات کا سامنا ہے جو عالمی دہشت گردی کی ایسی حرکت کرنے والے شخص کے ساتھ سازش کرتا ہے۔ بلوم برگ کی رپورٹ میں جج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تین مقدمات میں مدعی نے ‘کافی حد تک’ الزام لگایا کہ حملوں کی منصوبہ بندی ‘غیر ملکی دہشت گرد تنظیم جیسے القاعدہ، لشکر طیبہ، جیش محمد، افغان طالبان، حقانی نیٹ ورک اور تحریک طالبان پاکستان نے کی تھی۔ جج نے کہا کہ مدعی کافی حد تک الزام لگاتے ہیں کہ بینک جانتا تھا کہ اس کے صارفین القاعدہ کی دہشت گردی کی اس مہم سے جڑے ہوئے تھے جو براہ راست اور پراکسی کے ذریعے چلائی گئی جو کہ عام آگاہی کا الزام لگانے کے لیے کافی ہے۔ جج نے کہا کہ شکایات سے یہ بھی سامنے آتا ہے کہ بینک نے جان بوجھ کر اور مناسب حد تک القاعدہ اور اس کی پراکسیز کو عائد کردہ پابندیوں سے بچنے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے میں مدد دی جو کہ جان کر مدد کرنے کی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جج لورنا جی شوفیلڈ نے کہا کہ الزامات یہ دکھانے کے لیے کافی ہیں کہ حبیب بینک لمیٹڈ حملوں کی سازش میں شامل ہوا، تاہم جج نے مدعی کے بنیادی ذمہ داری کے دعووں کو مسترد کر دیا کیونکہ ایچ بی ایل کی جانب سے فراہم کردہ مبینہ بینکنگ سروسز میں سے کوئی بھی بذات خود عالمی دہشت گردی کی کارروائیاں نہیں تھیں۔ اس سے قبل 2017 میں ایچ بی ایل نے 22 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی جو کہ کسی بھی پاکستانی بینک پر عائد کردہ سب سے بڑا جرمانہ تھا، ایچ بی ایل پر یہ جرمانہ نیویارک ریگولیٹری کے مختلف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی وجہ سے عائد کیا گیا۔ ایچ بی ایل نے نیویارک میں برانچ چلانے کا اپنا لائسنس حوالے کرنے اور وہاں اپنا آپریشن بند کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا، یہ برانچ 1978 سے کام کر رہی تھی۔ اس وقت سخت الفاظ پر مشتمل جاری کردہ بیان میں ڈیپارٹمنٹ آف فنانشل سروسز نیویارک اسٹیٹ نے بینک کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ڈی ایف ایس، حبیب بینک لمیٹڈ کو فنانشل سروسز انڈسٹری کی ساکھ اور ہماری قوم کی حفاظت کو خطرے میں ڈالنے کے لیے جوابدہ ہوئے بغیر امریکا سے چھپنے نہیں دے گا۔ ایچ بی ایل کو 2007 سے 2017 کے درمیان مبینہ طور پر کی گئیں 53 الگ الگ خلاف ورزیوں پر ڈی ایف ایس کی جانب سے انفورسمنٹ ایکشن کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ دوسری جانب امریکا میں حبیب بینک لمیٹڈ کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام پر مقدمے میں ثانوی ذمہ داریوں کا سامنا کرنے کی خبریں سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں میں پھیلی بے چینی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مندی کا رجحان رہا جہاں 100 انڈیکس 421 پوائنٹس کمی کے ساتھ بند ہوا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 421 سے زائد پوائنٹس کے ساتھ 41 ہزار 14 پر بند ہوا جو کہ 1.02 فیصد کمی ہے۔ دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر انڈیکس میں 524 پوائنٹس یا 1.26 فیصد کمی رپورٹ ہوئی تھی۔ فرسٹ نیشنل ایکویٹیز لمیٹڈ کے ڈائریکٹر عامر شہزاد کا کہنا تھا کہ حبیب بینک سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ پر دباؤ ہے۔ ادھر اسٹاک مارکیٹ میں حبیب بینک کے شیئرز میں 6.11 روپے یا 7.50 فیصد کمی واقع ہوئی۔ دوسری جانب حبیب بینک نے ایک بیان میں الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں میرٹ کے برعکس قرار دیا اور کہا کہ بینک ان الزامات کا مکمل اور بھرپور طریقے سے مقابلہ کرے گا۔ بینک نے کہا کہ ثانوی ذمہ داریوں کے الزامات کا تعین قانونی عمل سے کیا جائے گا جبکہ اس معاملے میں کورٹ کی طرف سے کوئی فیصلہ نہیں سنایا گیا۔ فرسٹ نیشنل ایکویٹیز لمیٹڈ کے ڈائریکٹر عامر شہزاد نے کہا کہ یہ رول اوور ہفتہ ہے جہاں مستبقل کے کنٹریکٹس طے ہونے جارہے ہیں، جس کے دوران اسٹاک ایکسچینج عموما دباؤ میں آ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی میدان میں بھی کچھ مسائل ہیں اور سرمایہ کاروں کو تجویز دی کہ حصص سستے ہونے کے بعد خریدنے کی حکمت عملی اپنائیں۔ اسٹاک ایکسچینج کے سابق ڈائریکٹر اور اے کے وائی سیکیورٹیز کے سی ای او امین یوسف نے عامر شہزاد کی تجویز سے اتفاق کیا۔ امین یوسف نے کہا کہ یہ ہفتہ رول اوور کا ہے اور ایسے میں حبیب بینک کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے پر کیس کا سامنا کرنے کی خبر مارکیٹ کے لیے منفی اشارہ ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جب تک مثبت خبر نہیں آتی آج اور کل مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہے گا۔ امین یوسف نے کہا کہ مارکیٹ پر اثر انداز ہونے والے محرکات میں نئے وزیر خزانہ اسحق ڈار کی پالیسیاں اور زرمبادلہ کی شرح اور آمد شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک اور دیگر اداروں کی طرف سے مالی امداد کا اعلان کیا گیا تھا مگر ابھی تک زرمبادلہ کی آمد نہیں ہوئی اور زرمبادلہ کی آمد کے بعد تاثر میں بہتری آئے گی۔ عارف حبیب کارپوریشن کے ڈائریکٹر احسن محنتی نے کہا کہ انڈیکس میں مندی کا سبب ملک میں سیاسی ہلچل ہے جبکہ سرمایہ کاروں کو سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور ملک میں ڈالر بانڈز میں ریکارڈ اضافے نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔


متعلقہ خبریں


ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری وجود - بدھ 29 اپریل 2026

جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان وجود - بدھ 29 اپریل 2026

امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

یہ میزائل سسٹم جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشنل آلات سے لیس ہے،آئی ایس پی آر تجربہ کا مشاہدہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ،پاک فوج کے افسران نے کیا آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کرلیا، جو جدید ...

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آبادی کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا تو آنے والے برسوں میں ملکی وسائل کو مزید تیزی سے بہا کر لے جائے گا ہر سال 60لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور پورے خاندان کیلئے ضروری، وزیر مملکت صحت وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے 2050تک پاکستان کی آباد...

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ وجود - منگل 28 اپریل 2026

ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ وجود - منگل 28 اپریل 2026

فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ

مضامین
گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف وجود جمعه 01 مئی 2026
مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف

پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے! وجود جمعرات 30 اپریل 2026
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر