وجود

... loading ...

وجود
وجود

ڈیپ فیک

جمعه 19 اگست 2022 ڈیپ فیک

دوستو،ایک خبر کے مطابق امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لمبی اور بھرپور نیند لینے والے بچوں کے لیے بعد کی عمر میں موٹاپے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔آن لائن ریسرچ جرنل ’’سلیپ‘‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، ماہرین نے میساچیوسٹس جنرل ہاسپٹل میں 2016 سے 2018 کے درمیان پیدا ہونے والے 298 بچوں کو اس مطالعے کے لیے رجسٹر کیا۔بچوں میں سونے جاگنے کے اوقات پر نظر رکھنے کیلیے انہیں ہلکی پھلکی اسمارٹ گھڑیاں پہنائی گئیں جبکہ ان کے والدین سے کہا گیا کہ وہ بھی ان بچوں کے کھانے پینے اور سونے جاگنے کے روزمرہ معمولات کی ڈائری مرتب کریں۔اس دوران دیکھا گیا کہ جن بچوں نے شام 7 بجے سے صبح 8 بجے کے درمیان سکون کی نیند لی، آئندہ دو سے تین سال میں ان کا وزن معمول کے قریب رہا۔ماہرین کو یہ بھی معلوم ہوا کہ شام سے صبح تک کے ان مخصوص اوقات میں ہر ایک گھنٹے کی اضافی نیند کے نتیجے میں شیرخوار بچوں کے لیے موٹاپے کا امکان 26 فیصد کم ہوا۔مقالے کی شریک مصنفہ ڈاکٹر سوزین ریڈلائن کے مطابق، یہ بچوں میں نیند اور موٹاپے کے حوالے اب تک کی سب سے محتاط تحقیق بھی ہے کیونکہ اس میں صرف والدین کی فراہم کردہ معلومات پر انحصار نہیں کیا گیا بلکہ بچوں پر اسمارٹ واچز کے ذریعے بھی نظر رکھی گئی۔
سردی کے موسم میں تقریبات میں جائیں تو مردوں نے بھاری بھرکم کوٹ اور جیکٹس وغیرہ پہن رکھی ہوتی ہیں جبکہ خواتین ایسے میں بھی سردی کا کم اور اپنے فیشن کا زیادہ خیال کرتی ہیں اور ایسے ملبوسات پہنے نظر آتی ہیں جیسے انہیں سردی لگتی ہی نہ ہو۔ اب ماہرین نے بھی اس حوالے سے ایک دلچسپ انکشاف کر دیا ہے۔ دی سن کے مطابق رواں سال اگست میں برٹش جرنل آف سائیکالوجی میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ خواتین کو واقعی مردوں کی نسبت کم سردی لگتی ہے اور اس کا تعلق نفسیات سے ہوتا ہے۔ اس تحقیقاتی ٹیم کی ایک رکن روزینی فیلنگ نے اب اپنے ٹک ٹاک اکائونٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں اس حوالے سے بتایا ہے کہ خواتین کے لیے سردی لگنے سے زیادہ یہ بات اہم ہوتی ہے کہ وہ کتنی خوبصورت نظر آتی ہیں۔ ہماری تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب ہم کسی ایک چیز پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں اور اسے اولین ترجیح بنا لیتے ہیں تو ہمارے جسم کی دیگر انتہائی ضرورتیں بھی پس پشت چلی جاتی ہیں۔ یہی صورتحال خواتین اور انہیں سردی کم لگنے کے معاملے میں ہوتی ہیں۔ خواتین کے لیے پہلی ترجیح خوبصورت نظر آنا ہوتا ہے، وہ کتنی بھوکی ہیں اور انہی کتنی سردی لگتی ہے وغیرہ جیسی باتیں ان کے لیے ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کو سردی کم محسوس ہوتی ہے۔
یورپی پارلیمنٹ میں کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین پر مشتمل ایک پینل نے خبردار کیا ہے کہ جدید ’ڈِیپ فیک‘ ٹیکنالوجی مستقبل میں جمہوریت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔واضح رہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی/ آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کے شعبے میں ’ڈِیپ فیک‘ کہلانے والی ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی شخص کی بالکل اصل جیسی نقلی آواز اور ویڈیو تیار کی جاسکتی ہے۔یہ نقلی آواز اور ویڈیو اصل سے اتنی قریب ہوتی ہے کہ عوام سے لے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک کو دھوکا دے سکتی ہے۔یورپین پارلیمنٹ کیلیے یہ تفصیلی رپورٹ جرمنی کے کارلسروہے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی قیادت میں مرتب کی گئی ہے جس کی تیاری میں ہالینڈ اور جمہوریہ چیک کے تحقیقی اداروں سے وابستہ ماہرین بھی شریک رہے ہیں۔رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کے مثبت پہلوؤں کو سراہتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈِیپ فیک ٹیکنالوجی مسلسل ترقی کرتی جارہی ہے جس کی وجہ سے اصل اور نقل میں فرق کرنا بھی مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ماہرین نے اس رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مستقبل میں ڈِیپ فیک کے ذریعے ایسی جعلی ویڈیو اور آڈیو کلپس ممکن ہوں گی کہ جنہیں دنیا کا بہترین نظام بھی شناخت نہیں کر پائے گا۔یہ جعلی ویڈیو/ آڈیو کلپس عدالتی کارروائی سے لے کر انتخابات اور دوسری جمہوری کارروائیوں تک کو گمراہ کرکے غلط اور ناپسندیدہ نتائج کی راہ ہموار کرسکتی ہیں۔بہ الفاظِ دیگر، ڈِیپ فیک کی مسلسل ترقی سے پوری دنیا میں جمہوریت تک کو شدید خطرہ ہے جس کا تدارک کرنے کیلیے مناسب قانون سازی اور ضابطہ اخلاق نافذ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اس حوالے سے جب باباجی سے ان کی رائے لی گئی کہ ڈیپ فیک کے بارے میں ان کا کیا نظریہ ہے؟ تو باباجی نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے پٹاخے دار آواز نکالتے ہوئے کہا۔۔ یورپ میں تو ڈیپ فیک اب آیا ہے ہم تو برسوں سے ڈیپ فیک برداشت کررہے ہیں، ہم نے حیران ہوکر باباجی سے پوچھا۔۔وہ کیسے باباجی ؟ کیا ڈیپ فیک ٹیکنالوجی ہمارے ملک میں پہلے سے ہے؟ باباجی ہمارا سوال سن کرمسکرائے اور کہنے لگے۔۔ ملک بھر میں پھیلے ہوئے بیوٹی پارلرز کیا ہیں؟ یہ سب ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے موجد ہیں۔۔ عورتوں اور لڑکیوں کو کیا سے کیا بنادیتے ہیں؟ شوہر بھی دھوکا کھاجاتے ہیں۔۔پھر ہمارے ملک میں سیاست دان کیا ہیں؟ سارے ہی ’’ ڈیپ فیک ‘‘ ہیں، کہتے کچھ، کرتے کچھ ہیں۔۔ ان لوگوں کا ایک چہرہ عوام کے لیے ہوتا ہے ،دوسرا نجی محافل میں ہوتا ہے۔ ۔ہم نے باباجی کی باتیں سنی تو بہت غور سے لیکن سمجھ بالکل نہ آسکی کہ باباجی کہنا کیا چاہ رہے ہیں؟؟۔۔ ایک بد مست شرابی نے سر راہ ایک عور ت سے کہا ۔۔تم دنیاکی سب سے بھدی اور بد صورت عورت ہو۔۔ عورت ناک چڑھا کر بولی۔۔ اور تم دنیا کے سب سے زیادہ نشہ باز ہو۔۔ شرابی نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا۔۔ لیکن میرا نشہ تو صبح تک اتر جائیگا۔۔۔کسی نمازی نے نمازجمعہ کے بعد مولوی صاحب سے سوال کیا۔۔اگر بیگم میک اپ کر کے آپ سے پوچھے۔۔کیسی لگ رہی ہوںتو کیا جھوٹ بولنا جائز ہے؟۔۔مولوی صاحب نے نمازی کو پہلے اوپر سے نیچے تک اچھی گھورا، پھر سفید داڑھی میں انگلیوں سے خلال کرتے ہوئے مسکرائے اور کہنے لگے۔۔ شرعی حکم تو یہ ہے کہ خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، آگے آپ کی اپنی مرضی ہے۔۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔شیخ سعدی سے ایک ظالم حکمران نے کہا، مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔۔شیخ سعدی نے فرمایا! دوپہر کو دو گھنٹے سو جایا کر تاکہ عوام کو زرا دیر کو تجھ سے نجات ملے۔۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
دوستوں سے ریاکی بات نہ کر وجود اتوار 02 اکتوبر 2022
دوستوں سے ریاکی بات نہ کر

چالیں اور گھاتیں وجود هفته 01 اکتوبر 2022
چالیں اور گھاتیں

ایران میں پرتشدد مظاہروں کے سلگتے ہوئے انگارے وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
ایران میں پرتشدد مظاہروں کے سلگتے ہوئے انگارے

وزیرِ اعظم کا گھر غیر محفوظ تو محفوظ ہے کیا ؟ وجود بدھ 28 ستمبر 2022
وزیرِ اعظم کا گھر غیر محفوظ تو محفوظ ہے کیا ؟

بلوچستان ،کابینہ میں ردو بدل کی باتیں وجود بدھ 28 ستمبر 2022
بلوچستان ،کابینہ میں ردو بدل کی باتیں

چند ان کہی کہانیاں وجود منگل 27 ستمبر 2022
چند ان  کہی کہانیاں

اشتہار

تہذیبی جنگ
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی

پاک بھارت میچ کے باعث ہندو مسلم کشیدگی برمنگھم تک پہنچ گئی وجود بدھ 21 ستمبر 2022
پاک بھارت میچ کے باعث ہندو مسلم کشیدگی برمنگھم تک پہنچ گئی

برلن میں مسلم کمیونٹی کو ناموافق حالات کا سامنا ہے، جرمن حکومت کے پینل کا اعتراف وجود پیر 19 ستمبر 2022
برلن میں مسلم کمیونٹی کو ناموافق حالات کا سامنا ہے، جرمن حکومت کے پینل کا اعتراف

بھارت:مسلمان طلبا سے پڑھائی کا حق چھین لیا گیا، 17 ہزار طالبات اسکول چھوڑنے پر مجبور وجود جمعه 16 ستمبر 2022
بھارت:مسلمان طلبا سے پڑھائی کا حق  چھین لیا گیا، 17 ہزار طالبات اسکول چھوڑنے پر مجبور

بے روزگاری کا خوف، بھارتی مسلمان شناخت تبدیل کرنے لگے وجود اتوار 11 ستمبر 2022
بے روزگاری کا خوف، بھارتی مسلمان شناخت تبدیل کرنے لگے

نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کو 21 برس بیت گئے وجود اتوار 11 ستمبر 2022
نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کو 21 برس بیت گئے

اشتہار

بھارت
تمام خواتین کو اسقاط حمل کا اختیار ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا اپنے ہی فیصلے کے خلاف فیصلہ وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
تمام خواتین کو اسقاط حمل کا اختیار ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا اپنے ہی فیصلے کے خلاف فیصلہ

مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی

جھوٹے ٹوئٹر اکاؤنٹس:امریکی یونیورسٹی اسٹین فورڈ نے بھارت کو بے نقاب کردیا وجود جمعه 23 ستمبر 2022
جھوٹے ٹوئٹر اکاؤنٹس:امریکی یونیورسٹی اسٹین فورڈ نے بھارت کو بے نقاب کردیا

بھارت، ریپ کے بعد جلائی گئی دلت لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی وجود بدھ 21 ستمبر 2022
بھارت، ریپ کے بعد جلائی گئی دلت لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی
افغانستان
افغا ن طالبان حکومت کا پہلا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ وجود بدھ 28 ستمبر 2022
افغا ن طالبان حکومت کا پہلا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ

قتل کی دھمکی کے ساتھ ملا برادر کو ان کی رہائش گاہ کی تصویر بھیجی تھی، ٹرمپ وجود هفته 24 ستمبر 2022
قتل کی دھمکی کے ساتھ ملا برادر کو ان کی رہائش گاہ کی تصویر بھیجی تھی، ٹرمپ

یو این کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر زور، طالبان نے نیا وزیر تعلیم مقرر کر دیا وجود جمعه 23 ستمبر 2022
یو این کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر زور، طالبان نے نیا وزیر تعلیم مقرر کر دیا

افغانستان کے صوبے لوگر میں سیلاب سے تباہی، 20 افراد جاں بحق وجود پیر 22 اگست 2022
افغانستان کے صوبے لوگر میں سیلاب سے تباہی، 20 افراد جاں بحق
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
مسلم دنیا کے معروف اسکالر شیخ یوسف القرضاوی انتقال کر گئے وجود پیر 26 ستمبر 2022
مسلم دنیا کے معروف اسکالر شیخ یوسف القرضاوی انتقال کر گئے

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے وجود پیر 19 ستمبر 2022
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے

ملکہ الزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں چل بسیں وجود جمعرات 08 ستمبر 2022
ملکہ الزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں چل بسیں

عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی