وجود

... loading ...

وجود
وجود

خانہ فرہنگ ایران میں ایک نشست

جمعه 12 اگست 2022 خانہ فرہنگ ایران میں ایک نشست

کوئٹہ میں قائم اسلامی جمہوریہ ایران کے خانہ فرہنگ میں ماہ جولائی کی دو تاریخ کو’’ رائے عامہ اور سماجی معیارات کی تشکیل میں ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کا کردار ‘‘کے عنوان سے گفتگو کا اہتمام کیا گیا تھا۔ کوئٹہ کے صحافیوں، ادیب دانشوروں کو دعوت دی گئی تھی۔ کوئٹہ پریس کلب کے صدر،برادرم عبدالخالق رند کی دعوت پر راقم بھی شریک ہوا۔ بات رکھنے کا موقع بھی دیا گیا۔ کوئٹہ میں قائم ایرانی قونصل خانے کے قونصل جنرل حسن درویش وند نے صدارت کی۔ خانہ فرہنگ کے ڈائریکٹر جنرل آقائے واقفی کا خطاب ابتدائی تھا۔ تقاریر میں میں ترتیب اور مراتب کا خیال ملحوظ نہ تھا۔ موضوع کا حق بھی ادا نہ ہوسکا۔بہر حال نشست کا مقصد دونوں برادر و ہمسائیہ ممالک کے درمیان ہم آہنگی ، مختلف شعبوں کے اندر ارتباط اور پیشرفت کی فضاء بنانا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے توسط سے مشترکات کی ضرورت و اہمیت کو آگے بڑھانے کی کاوش تھی۔ ایران کئی حوالوں سے قابل تقلید ہے۔ خصوصاً ایرانی انقلاب بیسوی صدی کا عظیم واقعی ہے۔ جہاں ایرانی عوام امام خمینی کی قیادت میں زبردست جدوجہد کے بعد واشنگٹن ، لندن اور تل ابیب کے زیر اثر و حفاظت ساٹھ سالہ استبدادی شاہی نظام سے چھٹکارا پا کر استقلال حاصل کیا۔ کمیونسٹ روس ایران میں تودہ پارٹی کے ذریعے اشتراکی نظام کا خواہشمند تھا۔ شاہ کے خلاف تحریک میں فدائین خلق اور تودہ پارٹی نظام و اقتدار اپنے حق میں لینے کی کو ششوںمیں تھی۔ تودہ پارٹی کو انقلاب سے پہلے کے ایام میں اسلحہ اکٹھا کرنے میں لگی ر ہی ،مسلح کارروائیوں کی منصوبہ بندی پیش نظر تھیں۔ جبکہ در حقیقت ایران کے عوام کی اکثریت امام خمینی کی قیادت میں جمع تھی۔ امام کی تحاریر و تقاریر اور ابلاغ کے محدود ذرائع شاہی سرمائے سے چلنے والے ابلاغ کے تمام جدید ذرائع کی چلنے نہ دی۔ شاہ کی حکومت میں امریکی ، برطانوی سفارتخانوں سمیت فوجی اور جاسوسی کے ادارے پورے ایران میں سرگرم تھے۔حال خودمختاری کا یہ تھا کہ نیٹو کے سابق سربراہ امریکی فوجی’’ جنرل ہائزز‘‘ 1979میں ایران داخل ہوا تھا۔مگر شاہ اس کی فوج اور جاسوسی کے ادارے بے خبر تھے۔ خبر ہوئی بھی تو یہ جنرل ایران میں اپنے مشن کے تحت فعال رہا۔
ایران میں اسرائیل کا سفارتخانہ قائم نہیں تھا، پر مخفی طور ایران میں جاسوس موجودتھے۔ ’’اوری دو برائی ‘‘جو اسرائیلی موساد کا اہم عہدیدار تھا ،خفیہ طور اسرائیلی سفیر کا کردار نبھا رہا تھا۔ امریکا اور برطانیا پیش ازیں ایران کے منتخب وزیراعظم ڈاکٹرمصدق کی حکومت گرا نے میں کا میاب ہوے تھے۔ اب شاہ کی حکومت کو تقویت دینے میں سر جوڑ کر منصوبہ بندی کررہے تھے۔سامراجی مدد کے باوجود شاہ کے ہاتھوں سے اقتدار کی بھاگیں چھوٹتی رہیں،کنٹرول دن بدن کمزور ہوتا گیا۔کئی وزراء اعظم تبدیل کیے گئے۔ حتیٰ کہ کچھ عرصہ کے لیے فوجی حکومت کا گر بھی استعمال کیا۔ طاقت کا استعمال تو روز اول ہورہا تھا۔ امام نے عوام سے فوجی شور و غوغاسے ڈرنے اور اس کی پرواہ نہ کرنے کی ہدایت کی، کہا کہ یہ ٹینک، توپ اور مشین گنیں زنگ آلود ہیں،آپ کا اور آپ کی تحریک کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ ’’جنرل ہائزر‘‘ ایران میں موجود ہی تھے کہ امریکی صدر کارٹرکے قومی سلامتی کے مشیر’’ برزنسکی ‘‘بھی تہران پہنچ گئے تھے۔جنہوں نے ایرانی فوج کے جنرلوں کو اقتدار ہاتھ میں لینے کی شہ و ترغیب د ینے کی سازشوں پر کام شروع کردیا۔امریکا ایران کی تیل کی صنعت بھی فوج کی تحویل میں دینا چاہتا تھا۔مگر ایرانی جنرل اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ عوام، ایران کی سڑکوں پر ہیں جو دندان تک جدید اسلحہ سے لیس فوج کے مقابلہ میں سینہ تان کرکھڑے تھے۔ ایران کی سات لاکھ سے زائد فوج اُس وقت مسلم دنیا کی بڑی اور منظم فوج سمجھی جاتی تھی۔جو دنیا کی جدید اسلحہ کی حامل تھی۔چناں چہ خواہش کے باوجود اسے اقتدار پر قبضہ کی ہمت نہ ہو سکی۔کیوں کہ فوج کو انجام کا ادراک تھا۔امام خمینی کا ’’شاہ کو جانا ہوگا‘‘ کا نعرہ مقبول ہوتا گیا یہاں تک کہ شاہ ملک چھوڑفرار ہوگئے۔فوجیوں نے خوف سے وردیاں اْتار پھینک دیں۔شاہ کے جانے کے فورا بعد امام تہران کی سڑکوں پر اپنے عوام کے درمیان پہنچ گئے۔خاندانی حکومت اور نظام زمین بوس ہوا۔تب سے اس وقت تک ایران سامراجی مالی، معاشی جھکڑ بندیوں کا مقابلہ کررہا ہے۔ آزادی خود مختاری اور استقلال کا دفاع کررہا ہے۔
بلا شبہ پاکستان اور ایران کے صحافی اور ادیب اور دانشور طبقہ ، تجارت، معاشی، اسلامی، تاریخی، تہذیبی، سماجی اور تجارتی و ثقافتی ربط و ارتقا میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہاں افغانستان کی نئی حکومت کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی علاقائی ضرورت ہے کہ یہ تینوں ممالک کئی حوالوں سے مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔تجارت کے لحاظ سے کئی اشیاء اور اجناس کے تبادلے میں مزید وسعت لائی جاسکتی ہے۔ بلوچستان کے سرحدی اضلاع کے عوام کے معاش اور روزگار کا انحصار تقریباً ایران پر ہے۔ ایران بلوچستان کے سرحدی اضلاع کو104میگا واٹ بجلی بھی فراہم کرر ہاہے۔ گزشتہ جولائی میں پاکستان کا مزید100میگا واٹ بجلی فراہمی کا معاہدہ ہوا جو ساحلی ضلع گوادر کو دی جائے گی۔ایران بلوچستان کو مزید بجلی دینے کو بھی تیار ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان نوے کی دہائی میں گیس پائپ لائن کا اہم معاہدہ ہوا تھا جو تاحال التوا کا شکار ہے۔ جس میں پاکستان کی طرف سے پیشرفت نہیں یوسکی ہے۔ ایران نے اپنی جانب سے پاکستان کی سرحد تک900کلومیٹر پائپ لائن معاہدے کے بعد شروع کرکے مکمل کرلیا ہے۔ ایران نے ثالثی عدالت سے رجوع کرکے پاکستان کو تاخیر اور عملدرآمد نہ کرنے پر نوٹس بجھوایا تھا۔پاکستان اگرچہ تاخیر اور عدم پیشرفت کا جواز ایران پر عالمی پابندیاں سمجھتا ہے۔ مگر یہ پہلو پہلے مدنظر رکھتے ہوئے پہلے ہی معاہدہ نہ کیا جاتا۔ یقینا عالمی پابندیوں کے برعکس اپنے مفاد کے حصول کی گنجائش نکالنے کی تدبیر ہونی چاہیے۔ حالانکہ پاکستان کو قدرتی گیس کی ضرورت بھی ہے۔ بھارت نے اپنی ضروریات اور دوسرے مقاصد کی خاطر خود کو تہران سے جوڑے کھا ہے۔ یہ نہیں دیکھا ہے کہ کون ناراض ہوتا ہے یا کس نے ایران پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں ۔ علی الخصوص بلوچستان اور اس کے سرحدی منطقوں کے لوگ تجارتی اور معاشی طور ایران سے مربوط ہیں ،روزگار کا انحصار ایران پر ہے۔حکومتی سطح پر مزید کئی تجارتی اور معاشی فوائد اور آسانیاں مہیا ہوسکتی ہیں۔ باہمی تعاون اورآمدورفت اور تجارت کو مزید فروغ مل سکتا ہے۔ چیمبر آف کامرس قدرے فعال ہے۔چناں چہ صحافی اور اہل قلم با لیاقت و استعداد ہوں تو نہ صرف اس تناظر میں بلکہ بعض دوسرے مسائل بارے بھی اچھا اور رہنما کردار نبھا سکتے ہیں۔ جو دونوں ممالک کے مابین بد اعتمادی کا باعث بنے ہیں۔گویا گفتگو کے عنوان کے ساتھ ’’سوال دیگر ،جواب دیگر‘‘ والا معاملہ ہوا۔ قونصل جنرل حسن وند نے البتہ اپنے خطاب میں موضوع کا احاطہ کرنے کی کوشش کی۔ توجہ دلائی کہ میڈیا کے مختلف ذرائع مشترکات پر لکھے بولے اور ترویج کا کام کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
دوستوں سے ریاکی بات نہ کر وجود اتوار 02 اکتوبر 2022
دوستوں سے ریاکی بات نہ کر

چالیں اور گھاتیں وجود هفته 01 اکتوبر 2022
چالیں اور گھاتیں

ایران میں پرتشدد مظاہروں کے سلگتے ہوئے انگارے وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
ایران میں پرتشدد مظاہروں کے سلگتے ہوئے انگارے

وزیرِ اعظم کا گھر غیر محفوظ تو محفوظ ہے کیا ؟ وجود بدھ 28 ستمبر 2022
وزیرِ اعظم کا گھر غیر محفوظ تو محفوظ ہے کیا ؟

بلوچستان ،کابینہ میں ردو بدل کی باتیں وجود بدھ 28 ستمبر 2022
بلوچستان ،کابینہ میں ردو بدل کی باتیں

چند ان کہی کہانیاں وجود منگل 27 ستمبر 2022
چند ان  کہی کہانیاں

اشتہار

تہذیبی جنگ
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی

پاک بھارت میچ کے باعث ہندو مسلم کشیدگی برمنگھم تک پہنچ گئی وجود بدھ 21 ستمبر 2022
پاک بھارت میچ کے باعث ہندو مسلم کشیدگی برمنگھم تک پہنچ گئی

برلن میں مسلم کمیونٹی کو ناموافق حالات کا سامنا ہے، جرمن حکومت کے پینل کا اعتراف وجود پیر 19 ستمبر 2022
برلن میں مسلم کمیونٹی کو ناموافق حالات کا سامنا ہے، جرمن حکومت کے پینل کا اعتراف

بھارت:مسلمان طلبا سے پڑھائی کا حق چھین لیا گیا، 17 ہزار طالبات اسکول چھوڑنے پر مجبور وجود جمعه 16 ستمبر 2022
بھارت:مسلمان طلبا سے پڑھائی کا حق  چھین لیا گیا، 17 ہزار طالبات اسکول چھوڑنے پر مجبور

بے روزگاری کا خوف، بھارتی مسلمان شناخت تبدیل کرنے لگے وجود اتوار 11 ستمبر 2022
بے روزگاری کا خوف، بھارتی مسلمان شناخت تبدیل کرنے لگے

نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کو 21 برس بیت گئے وجود اتوار 11 ستمبر 2022
نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کو 21 برس بیت گئے

اشتہار

بھارت
تمام خواتین کو اسقاط حمل کا اختیار ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا اپنے ہی فیصلے کے خلاف فیصلہ وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
تمام خواتین کو اسقاط حمل کا اختیار ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا اپنے ہی فیصلے کے خلاف فیصلہ

مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی

جھوٹے ٹوئٹر اکاؤنٹس:امریکی یونیورسٹی اسٹین فورڈ نے بھارت کو بے نقاب کردیا وجود جمعه 23 ستمبر 2022
جھوٹے ٹوئٹر اکاؤنٹس:امریکی یونیورسٹی اسٹین فورڈ نے بھارت کو بے نقاب کردیا

بھارت، ریپ کے بعد جلائی گئی دلت لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی وجود بدھ 21 ستمبر 2022
بھارت، ریپ کے بعد جلائی گئی دلت لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی
افغانستان
افغا ن طالبان حکومت کا پہلا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ وجود بدھ 28 ستمبر 2022
افغا ن طالبان حکومت کا پہلا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ

قتل کی دھمکی کے ساتھ ملا برادر کو ان کی رہائش گاہ کی تصویر بھیجی تھی، ٹرمپ وجود هفته 24 ستمبر 2022
قتل کی دھمکی کے ساتھ ملا برادر کو ان کی رہائش گاہ کی تصویر بھیجی تھی، ٹرمپ

یو این کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر زور، طالبان نے نیا وزیر تعلیم مقرر کر دیا وجود جمعه 23 ستمبر 2022
یو این کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر زور، طالبان نے نیا وزیر تعلیم مقرر کر دیا

افغانستان کے صوبے لوگر میں سیلاب سے تباہی، 20 افراد جاں بحق وجود پیر 22 اگست 2022
افغانستان کے صوبے لوگر میں سیلاب سے تباہی، 20 افراد جاں بحق
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
مسلم دنیا کے معروف اسکالر شیخ یوسف القرضاوی انتقال کر گئے وجود پیر 26 ستمبر 2022
مسلم دنیا کے معروف اسکالر شیخ یوسف القرضاوی انتقال کر گئے

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے وجود پیر 19 ستمبر 2022
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے

ملکہ الزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں چل بسیں وجود جمعرات 08 ستمبر 2022
ملکہ الزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں چل بسیں

عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی