وجود

... loading ...

وجود

دلچسپ تحقیقات

بدھ 03 اگست 2022 دلچسپ تحقیقات

دوستو،اخبارات میں اکثر ٹیشن دینے والی خبریں ہی پڑھنے کو ملتی ہیں۔۔ لیکن ہم آپ کے لیے کچھ ایسی خبریں بھی کھوج نکالتے ہیں جنہیں پڑھ کر نہ صرف آپ کی معلومات میں اضافہ ہوسکے بلکہ آپ دوسروں کو بھی بتاسکیں۔۔ ایسی خبریں اخبارات میں عام طور پر نظر نہیں آتیں۔۔ اس کے لیے تھوڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔لیکن ہم آپ کو پکی پکائی دینے کے لیے بیٹھے ہیں۔۔چنانچہ آپ بے فکر رہیں، آئندہ بھی آپ کو اسی طرح کی دلچسپ خبریں اور تحقیقات شیئر ضرور کیا کریں گے۔۔
اکثر گھروں میں موجود یو پی ایس کی بیٹری سال میں کم از کم ایک بار ضرور تبدیل کرنی پڑتی ہے ،لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایئر کنڈیشنر سے نکلنے والا پانی بیٹری کی عمر بڑھا سکتا ہے۔اے سی سے نکلنے والا پانی اتنا صاف ستھرا ہوتا ہے کہ اسے یو پی ایس بیٹری کے لیے بہترین دوا تک قرار دیا جاتا ہے۔ کراچی میں بیٹریوں کی فروخت اور مرمت سے وابستہ کئی دکاندار ایئرکنڈیشنر کے پانی کو باقاعدگی سے خرید کر استعمال بھی کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایئر کنڈیشنر کا پانی استعمال کرنے پر بیٹری اپنی اوسط عمر سے تقریباً دو یا تین ماہ تک زیادہ کام کرتی ہے، چاہے وہ یو پی ایس میں نصب ہو یا پھر کسی گاڑی میں لگی ہو۔یہ پانی دراصل ہوا میں موجود آبی بخارات کے ٹھنڈا ہو کر مائع حالت میں تبدیل ہونے کی وجہ سے بنتا ہے اور اسی بنا پر بہت خالص بھی ہوتا ہے۔ اگر اسے احتیاط سے جمع کرلیا جائے تو یہ بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔
سائنسدانوں نے موٹاپے اور روشنی کے درمیان ایک دلچسپ تعلق دریافت کر لیا۔ سائنسدانوں نے اس نئی تحقیق کے بعد لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ موٹاپے سے بچنا اور سلم اسمارٹ رہنا چاہتے ہیں تو سونے سے قبل اپنا فون، ٹی وی اور تمام بتیاں بند کر دیں اور ماسک پہن کر سویا کریں کیونکہ زیادہ روشنی سے سامنا آپ کو موٹاپے کا شکار کر سکتا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ بالخصوص نیند سے قبل اور نیند کے دوران جو لوگ روشنی کی زد میں رہتے ہیں ان کے موٹاپے کا شکار ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس تحقیقاتی سروے میں معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ سونے سے قبل روشنی کی زد میں رہتے ہیں ان میں سے 40.7فیصد موٹاپے کا شکار تھے۔ اس کے برعکس جس گروپ کے لوگ سونے سے قبل روشنی کی زد میں نہیں رہتے تھے ان میں موٹاپے کی شرح صرف 26.7فیصد پائی گئی۔یہ تحقیق امریکی ریاست الینوائس کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے ماہرین کی طرف سے کی گئی ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کا کہنا تھاکہ موٹاپے اور روشنی کے اس تعلق میں نیند سے پہلے کے پانچ گھنٹے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں ہمیں بالخصوص کسی بھی طرح کی اسکرین کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے اور حتی الامکان دیگر مصنوعی روشنی سے بھی بچنا چاہیے۔
غیر منافع بخش عالمی ٹوائلٹ آرگنائزیشن کے مطابق، لوگ روزانہ اوسطاً چھ سے آٹھ بار ٹوائلٹ استعمال کرتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تقریباً تین سال باتھ روم میں گزار تے ہیں۔ چین میں مقیم ایک دستاویزی فلم کے ڈائریکٹر نے اس رپورٹ سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اکثر خواتین کو جاپان میں خواتین کے بیت الخلاء کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے دیکھتے ہیں۔میں نے سنا ہے کہ اگر عورتوں کے بیت الخلاء کی تعداد مردوں کے مقابلے میں تین گنا ہو تو یہ برابر ہوگا۔ا یک چینی برانڈ اسٹور کے انٹیریئر ڈیزائنرکاکہنا ہے کہ وہ جو اسٹورز ڈیزائن کرتے ہیں ان میں مردوں کے بیت الخلاء کے مقابلے میں خواتین کے کیوبیکلز تقریباً دو زیادہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، میں ہمیشہ شاپنگ مالز میں گھومتے ہوئے خواتین کے بیت الخلاء کے قریب لمبی لائنیں دیکھتا ہوں۔ اس کے علاوہ، خواتین کو مردوں کی نسبت زیادہ وقت لگتا ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین اوسطاً 249 سیکنڈ کے لیے بیت الخلاء استعمال کرتی ہیں، جو مردوں کے 170 سیکنڈز سے کہیں زیادہ ہے۔۔ سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی کے پروفیسر نے کہا کہ منصوبہ بندی کرتے وقت خواتین کی حیاتیاتی ضروریات کو مدِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ خواتین کیوبیکلز کو شامل کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ کچھ بڑے پیمانے پر اجتماعی جگہوں جیسے کہ پارکس اور تھیٹر میں، بیت الخلاء جانے والے مردوں اور عورتوں کا تناسب تقریباً 1 سے 4 ہے۔
جینز ایک مقبول ترین پہناوا ہے جو صدیوں سے مغرب میں پہنا جا رہا تھا اور اب پوری دنیا میں اسے پسند کیا جاتا ہے۔ جینز کی جیبوں کے کناروں پردھاتی اسٹڈ (Stud)لگے ہوتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ان اسٹڈز کو کہتے کیا ہیںاور ان کا مصرف کیا ہے؟ ایک یورپی اخبار کے مطابق ان اسٹڈز کو ’Rivets‘ کہا جاتا ہے جن کا ایک اہم مصرف ہے۔ یہ اسٹڈز 1873میں گلوبل جین کمپنی لیوی سٹراس اینڈ کمپنی کے بانیان جیکب ڈیویس اور لیوی سٹراس نے ایجاد کیے تھے۔رپورٹ کے مطابق یہ سٹڈز جینز پر تمام ایسی جگہوں پر لگائے جاتے ہیں جہاں دباؤ پڑتا ہے اوران کے پھٹنے یا ادھڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے، جیسا کہ جیبیں۔ جب ہم جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو ان کے دونوں کناروں پر دباؤ پڑتا ہے اوران کی سلائی ادھڑنے کا خدشہ ہوتا ہے چنانچہ ایسی جگہوں پر جیکب اور لیوی نے یہ ا سٹڈز لگانے شروع کیے تھے تاکہ جینز کی جیبیں اور دیگر ایسی جگہیں مضبوط رہیں۔رپورٹ کے مطابق انRivetsکا حق سند ایجاد لیوی سٹراس اینڈ کمپنی کے پاس ہے، جس کا ذکر انہوں نے کمپنی کی ویب سائٹ پر بھی کر رکھا ہے۔
امریکا میں لوگوں کی کاروں کے شیشے توڑ کر قیمتی اشیا لے جانے کی وارداتیں بڑھنے پر عوام نے ایک دلچسپ نسخہ آزمایا ہے۔ پارکنگ میں وہ اب گاڑیوں کے دروازے لاک کرنے کی بجائے انہیں کھلا چھوڑ دیتے ہیں ۔اس سے نقب زنوں کو یہ پیغام پہنچتا ہے کہ کار میں کوئی قیمتی شے نہیں جس کے لیے تکلف کیا جائے۔ ورنہ اس سے قبل بند گاڑیوں کے شیشے توڑ کر چور اندر جھانکتے ہیں اور بسا اوقات کچھ نہ ملنے کی صورت میں بھی شیشے کا نقصان ضرور ہوجاتا ہے۔سان فرانسسکو، آک لینڈ اور بے ایریا کے رہائشی افراد اس پریشانی سے بچنے کے لیے اپنی گاڑیاں پارک کرتے وقت ڈکی کھول دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اندر موجود قیمتی سامان سمیٹ کر لے جاتے ہیں۔ اس طرح کھلی گاڑیوں کا مطلب چوروں کو یہ پیغام دینا ہے کہ اندر کچھ بھی نہیں اور کار میں گھسنا بے کار ہوگا۔ تاہم بعض افراد نے اسے عوامی بے بسی قرار دیا ہے کہ لوگ اپنی کاروں کے دروازوں پر لگے قیمتی شیشوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے یہ اہم قدم اٹھانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔تاہم پولیس نے عوام کو ایسا کرنے سے خبردار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق چور اسے دعوت نامہ بھی سمجھ سکتے ہیں۔پولیس کے مطابق چور کچھ نہ پاکر ٹائر، بیٹری اور اندر لگے ساؤنڈ سسٹم کو چراسکتے ہیں۔ سان فرانسسکو اور ملحق علاقوں میں شیشہ توڑ چوری کی وارداتوں میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔کسی کو اندر سے مارنا ہوتو اسے نظرانداز کرتے رہو، کورونا کو ہم نے ایسے ہی مارا ہے۔۔خوش رہیں اور خوشیاںبانٹیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
بلوچستان، مزید بارشیں، تباہ کاریاں، خراب حکمرانی وجود جمعه 19 اگست 2022
بلوچستان، مزید بارشیں، تباہ کاریاں، خراب حکمرانی

ڈیپ فیک وجود جمعه 19 اگست 2022
ڈیپ فیک

ملعون سلمان رشدی ، ایک غازی کے نشانے پر وجود جمعرات 18 اگست 2022
ملعون سلمان رشدی ، ایک غازی کے نشانے پر

سور۔یلا۔۔ وجود بدھ 17 اگست 2022
سور۔یلا۔۔

سوشل میڈیا ایک بہت بڑا دھوکاہے وجود بدھ 17 اگست 2022
سوشل میڈیا ایک بہت بڑا دھوکاہے

میثاقِ معیشت کی تجویز وجود بدھ 17 اگست 2022
میثاقِ معیشت کی تجویز

اشتہار

تہذیبی جنگ
ملعون سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ملزم ہادی مطر کی ایران سے تعلق کی تردید وجود جمعرات 18 اگست 2022
ملعون سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ملزم ہادی مطر کی ایران سے تعلق کی تردید

یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ وجود جمعرات 16 جون 2022
یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ

گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا وجود منگل 14 جون 2022
گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج

بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر وجود منگل 07 جون 2022
بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر

اشتہار

بھارت
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت وجود اتوار 19 جون 2022
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت

سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری وجود جمعرات 09 جون 2022
سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج
افغانستان
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان وجود بدھ 25 مئی 2022
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان

خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان وجود پیر 23 مئی 2022
خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان

سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا وجود پیر 23 مئی 2022
سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا

بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے وجود جمعرات 09 جون 2022
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے

چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل وجود منگل 24 مئی 2022
چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل

گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام وجود اتوار 22 مئی 2022
گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام