وجود

... loading ...

وجود

ٹیکس دائرہ کار میں وسعت

بدھ 29 جون 2022 ٹیکس دائرہ کار میں وسعت

حکمرانوں نے جس سرعت سے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کیا ہے اِس فیصلے سے ہر طبقہ پریشان ہے جسے کسی طور عوامی فیصلہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اِس سے عام آدمی پرمالی بوجھ بڑھ گیا ہے اب پیش کیے گئے سالانہ میزانیہ کے برعکس رئیل اسٹیٹ بروکرز ،تعمیرات اور سیلونز سے وابستہ افراد تک ٹیکس کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے نیز ریسٹورنٹس کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کر لیا گیا ہے مفتاح اسمعٰیل نے اِس امر کا بھی عندیہ دیا ہے کہ چھوٹے دکانداروں اور صرافہ تنظیموں سے بھی ٹیکس کی ادائیگی کے حوالہ سے مشاورت کی جائے گی سرکاری ملازمین کی بڑی تعداد سے بھی ٹیکس وصولی کے لیے سالانہ آمدن کم کر دی گئی ہے جبکہ پروفیشنل افراد کو قابو کرنے کے لیے الگ پروگرام تشکیل دیا جا چکا ہے حکومت کا خیال ہے کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کا مقصد بیرونی قرض کی بیساکھیوں پر انحصار کم کرنا اور خودانحصاری کی طرف بڑھنا ہے لیکن عام آدمی پر بوجھ بڑھاتے ہوئے اشرافیہ کی مراعات میں کمی کرنے کی بجائے برقرار رکھی گئی ہیں اسی بناپر معاشی ماہرین متفق ہیں کہ حالیہ اقدامات سے ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانا مشکل ہے البتہ مہنگائی میں مزید اضافہ یقینی ہے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے سے ہی روزمرہ کی اشیا کے ساتھ زرعی و صنعتی خام مال کے نرخوں میں اضافہ ہو چکاہے اِن حالات میں کاشتکاری اور صنعتکاری دونوں کام جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے وجہ آمدن کم اورلاگت کا بڑھنا ہے پھر بھی یہ توقع رکھنا کہ بیرونی قرضوں پر انحصارختم ہو گا اور مزید ٹیکس نیٹ بڑھانے سے ملک کوپیروں پر کھڑا کرنے میں مدد ملے گی ایسا تصورکرنا کسی طوردرست نہیں بجلی و پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے پہلے ہی لوگ پریشان تھا اب سوچے سمجھے بغیر ٹیکس کا دائرہ بڑھانے سے زراعت و صنعت پر مُضر اثرات مرتب ہوں گے علاوہ ازیں ملک ایک فلاحی ریاست بننے کی بجائے عوام کی جیبیں خالی کرانے والی مشین بن کر رہ جائے گا گزشتہ چند برسوں سے جو ٹیکس وصولی میں اضافے کا رجحان ہے وہ بھی بغیر سوچے سمجھے کیے جانے والے اقدامات سے کم ہوگا اور وصولیاں بڑھنے کی بجائے ٹیکس چوری کا رجحان فروغ پائے گا ۔
بار بار عوام کو جتایا جارہا ہے کہ عوام کی بہتری کے لیے حکومت فوری عام انتخابات کی طرف نہیں جارہی بلکہ اِس کوشش میں ہے کہ کسی طرح معاشی مشکلات دورکی جائیں اورملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا جائے لیکن قول و فعل کا تضاد اِس قدر ہے کہ عوامی حلقے حکومتی موقف کی تائید سے قاصر ہیں وہ لوگ جو سابق حکومت سے مہنگائی کی وجہ سے ناخوش تھے وہ اب رنجیدہ نظر آتے ہیں لیکن کسی حکومتی وزیر و مشیر کی توجہ اِس رنجیدگی کی طرف دلائی جائے تو جواب میں جھٹ سابق حکومت کا طرفدار کہہ کر بات ختم کر دی جاتی ہے یہ رویہ ہر گزقابل تعریف یا تحسین نہیں بلکہ زمینی حقائق جھٹلانے کے مترادف ہے گزشتہ حکومت پر یہی الزام تھا کہ اُس نے مہنگائی میں اضافہ کیا ہے لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار کی تبدیلی سے مہنگائی کم ہوئی ہے اِس سوال کا کوئی زی شعور ہاں میں جواب نہیں دے سکتا بجلی کی قیمت میں اضافے کے باوجود عوام طویل لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلنے پر مجبور ہیں لیکن حکمران مطمئن ہیں اور اپنی پالیسیوں کو ملکی معیشت کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں ایسی بے نیازی اور بے حسی کسی طور مقبولیت میں اضافہ نہیں کر سکتی اِس لیے وزیرِ خزانہ کو چاہیے کہ عام آدمی کی جیب سے نظر ہٹائیں اور حکومت کے غیر ضروری اخراجات کم کرنے کے لیے ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کریں کیونکہ محض باتوں سے زیادہ دیر عوامی نفرت کو چھلکنے سے روکا نہیں جا سکتا۔
ساری دنیا میں ٹیکس وصولی ہوتی ہے محب الوطن اور ذمہ دارشہری بروقت ٹیکس جمع کراتے ہیں تاکہ امورِ مملکت میں کوئی رخنہ نہ آئے اسی ٹیکس کے عوض حکومتیں اپنے شہریوں کوبیرونی حملہ آوروں سے تحفظ فراہم کرتی ہیں صحت اورتعلیم کی سہولتیں دیتے ہوئے اندرونِ ملک امن و امان کو یقینی بنایاجاتا ہے یہ درست ہے کہ ریاست کی ترقی و خوشحالی کے لیے سرمائے کی بہت اہمیت ہے مگر جو ریاست وصولی پر توجہ دے لیکن فلاحی منصوبوں سے آنکھیں چرائے وہاں عوام میں اضطراب پیدا ہونا یقینی ہے یہی اضطراب بعدازاں سیاسی عدمِ استحکام کا باعث بنتا ہے کیسی ستم ظریفی ہے کہ چند لاکھ عام آدمی کو دوہزار تھما کر سمجھا جارہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کم یاکنٹرول ہوجائے گی ایسا سمجھنا کسی طور درست نہیں بلکہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے مفتاح اسمعٰیل ممکن ہے ملک کی معاشی مشکلات دور کرنے میں سنجیدہ اور مخلص ہوں مگر اُن کے اقدامات سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ وہ عوامی مشکلات دورکرنے میں بھی سنجیدہ اور مخلص ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ اُن کی ترجیحات میں عام اور غریب آدمی کی کوئی اہمیت نہیں اسی لیے خزانے کے لیے مال جمع کرنا تو اُنھیں خوب یا درہتاہے مگر نچلے طبقات کو غربت کی دلدل سے نکالنے کا فریضہ بھول جاتا ہے ٹیکس نیٹ بڑھاتے ہوئے انھوں نے تنخواہ دار طبقے کو شکنجے میں قابو کرلیا ہے لیکن مہنگائی سے پیداہونے والی مشکلات کا رتی بھر احساس نہیں کیااسی لیے بجلی اور پیٹرول میں کمی کرنے پر آمادہ نہیں حالانکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کے نرخ گر رہے ہیں مگر وزیرِ خزانہ کو یہ کمی نظر ہی نہیں آتی ایسی بے حسی ،بے نیازی اور سفاکی سے کسی طور فلاحی ریاست کا تاثر نہیں بنتا۔
عام اور غریب آدمی کی مشکلات میں اضافہ کرنے کی بجائے حکومت کو چاہیے کہ بڑے عہدوں پر براجمان شخصیات کی مراعات کم کرنے کا طریقہ کار بنائے ایسے جاگیر دار جن کی ہزاروں ایکڑ اراضی ہے اُن سے ٹیکس کی وصولی کویقینی بنایاجائے وزیر ،مشیر،اور ممبرانِ پارلیمنٹ سب صاحبِ ثروت ہیں انھیںرہائش، بجلی ،پانی،فون پیٹرول کی مفت فراہمی ختم یا کم کرنے پر بھی دھیان دے نیز یہ جو بڑے بڑے وفود غیر ملکی دوروں پر لے جانے کا رواج بن چکاہے اِسے بلکل ختم کیا جائے ٹیکس وصولی کا دائرہ کار بڑھانے سے بھی کرنے والا زیادہ اہم کام یہ ہے کہ ایف بی آر میں ایسی اصلاحات لائی جائیں جن سے ٹیکس چوری کی حوصلہ شکنی ہو افسوسناک امریہ ہے کہ ایف بی آر سے لاکھوں تنخواہ لینے والے ٹیکس چوری میںسہولت کارکاکردار ادا کرتے ہیں کرنے والے اصل کام کی بجائے حکومت کا جب سارا زور عام اورغریب آدمی کی جیب خالی کرانے پر ہو گا تو کوئی بھی شخص ایسے حکمرانوں کو دعائیں نہیں دے گا حالیہ ٹیکس نیٹ میں توسیع ایسا عمل ہے جس سے ملکی صنعت کا پہیہ جام ہوگا اور جب برآمدات ہی نہیں ہوں گی تو ملکی معیشت کیسے بہتر ہو گی ؟اِس حوالے سے بھی حکومت کو سوچنا چاہیے محض ٹیکس نیٹ میں اضافے سے فائدے کی بجائے اُلٹا نقصان کا احتمال ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
بلوچستان، مزید بارشیں، تباہ کاریاں، خراب حکمرانی وجود جمعه 19 اگست 2022
بلوچستان، مزید بارشیں، تباہ کاریاں، خراب حکمرانی

ڈیپ فیک وجود جمعه 19 اگست 2022
ڈیپ فیک

ملعون سلمان رشدی ، ایک غازی کے نشانے پر وجود جمعرات 18 اگست 2022
ملعون سلمان رشدی ، ایک غازی کے نشانے پر

سور۔یلا۔۔ وجود بدھ 17 اگست 2022
سور۔یلا۔۔

سوشل میڈیا ایک بہت بڑا دھوکاہے وجود بدھ 17 اگست 2022
سوشل میڈیا ایک بہت بڑا دھوکاہے

میثاقِ معیشت کی تجویز وجود بدھ 17 اگست 2022
میثاقِ معیشت کی تجویز

اشتہار

تہذیبی جنگ
ملعون سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ملزم ہادی مطر کی ایران سے تعلق کی تردید وجود جمعرات 18 اگست 2022
ملعون سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ملزم ہادی مطر کی ایران سے تعلق کی تردید

یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ وجود جمعرات 16 جون 2022
یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ

گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا وجود منگل 14 جون 2022
گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج

بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر وجود منگل 07 جون 2022
بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر

اشتہار

بھارت
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت وجود اتوار 19 جون 2022
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت

سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری وجود جمعرات 09 جون 2022
سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج
افغانستان
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان وجود بدھ 25 مئی 2022
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان

خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان وجود پیر 23 مئی 2022
خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان

سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا وجود پیر 23 مئی 2022
سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا

بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے وجود جمعرات 09 جون 2022
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے

چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل وجود منگل 24 مئی 2022
چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل

گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام وجود اتوار 22 مئی 2022
گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام