وجود

... loading ...

وجود

بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ، پیپلزپارٹی نے اپنے نام کیسے کیا؟

پیر 27 جون 2022 بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ، پیپلزپارٹی نے اپنے نام کیسے کیا؟

 

ویسے تو اپوزیشن جماعتیں ہمیشہ سے ہی سندھ حکومت پر یہ سنگین الزام عائد کرتی آئی ہیں کہ وہ صوبہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہیں ہونے دیتی ،لیکن اِس بار معاملہ ذرا مختلف ہی نہیں بلکہ بہت دلچسپ بھی تھا۔یعنی جب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے تحت صوبہ سندھ کے 4 ڈویژنز کے 14 اضلاع میں 26 جون کو بلدیاتی انتخاب کروانے کا حتمی شیڈول جاری کیا، تو اپوزیشن کی تمام جماعتیں بشمول پاکستان پیپلزپارٹی نے سندھ ہائی کورٹ میں بلدیاتی انتخابات فوری طور پر رکوانے کیلئے درخواست دائر کردی اور تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے دائر کی گئی مذکورہ، درخواست میں معزز عدالت سے استدعا کی گئی کہ’’ بلدیاتی قانون میں نئی ترامیم اورپرانے حلقوں میں نئی حلقہ بندیاں ہونے تک صوبہ بھر میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے فوری احکامات صادر کردیے جائیں۔‘‘
واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں ،تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے خلاف ایک متفقہ قانونی موقف اختیار کرلینے کے بعد اکثر سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے یہ ہی تھی کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ ملتوی ہوجائے گا۔جبکہ اپوزیشن جماعتیں بھی بلدیاتی انتخابات ملتو ی ہونے کے ممکنہ عدالتی فیصلہ کے پیش نظر بڑی بے دلی کے ساتھ انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی تھیں۔ مگر حیران کن طور پر سندھ ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن پاکستان نے ، بلدیاتی انتخابات مقررہ وقت پر کروانے کے اپنے موقف کا موثر انداز میں دفاع کیا اور بالآخر، معزز عدالت نے انتخاب سے صرف دو ،روز قبل بلدیاتی انتخابات کے التوا سے متعلق تمام درخواستیں خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق بلدیاتی انتخابات کروانے کی اجازت دے دی۔
چونکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے سوا ، اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات ملتوی ہوجانے کا پختہ یقین کیئے بیٹھی تھیں ۔ لہٰذا ،معزز عدالت کا صوبہ میںبلدیاتی انتخابات مقررہ وقت پر کروانے کا غیر متوقع فیصلہ اپوزیشن جماعتوں کے بلدیاتی اُمیدواروں پر بجلی بن کر گرا ، اور وہ یہ فیصلہ سُن کر جب تک ووٹ مانگنے کیلئے اپنے اپنے حلقوں میں نکلتے ،تب تک رات کے 12 بج چکے تھے اور قانونی طور پر انتخابی مہم جوئی کا ’’آخری وقت ‘‘ ختم ہوچکا تھا۔ اَب اِسے آپ اپوزیشن جماعتوں کی سستی و کاہلی کہیں یا پھر سیاسی کورچشمی ۔مگر سچ یہ ہی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پی پی پی مخالف کوئی ایک بھی سیاسی جماعت ، سندھ کے چار ڈویژنز میں سے کسی ایک بھی ڈویژن میں کہیںبھی پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرتی ہوئی دکھائی نہیں دی۔حالانکہ ماضی قریب میں سکھر ، نواب شاہ اور میرپور خاص کے شہری علاقوں میں ایم کیوا یم اور پاکستان تحریک انصاف ،بلدیاتی انتخابات میں پیپلزپارٹی کی بہت بڑی اور طاقت ور حریف رہ چکی ہیں ۔ خاص طور پر سابق صدر پاکستان، جناب آصف علی زرداری کے آبائی شہر نواب شاہ کی بیشتر شہری یونین کونسلوں پر پیپلزپارٹی کو ایم کیو ایم کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے ۔لیکن اِس مرتبہ کے بلدیاتی انتخاب میں پیپلزپارٹی نے اپنے مخالفین کے لیے نہ تو انتخابی میدان چھوڑا ،اور نہ ہی گھوڑے ۔
جی ہاں !گزشتہ بلدیاتی انتخاب میں نواب شاہ شہرکی جن یونین کونسلوں میں ایم کیو ایم کے جن اُمیدواروں نے بھی پیپلزپارٹی کے اُمیدواروں کو ہرایا تھا ،اس بار اُن بلدیاتی اُمیدواروں کی بڑی اکثریت نے ایم کیو ایم چھوڑ کر نہ صرف پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی بلکہ اُسی یونین کونسل میں وہ، پیپلزپارٹی کی طرف سے بطور بلدیاتی اُمیدوار، چیئر مین اور یونین کونسلر کا انتخاب بھی لڑرہے تھے۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ رواں، بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم کے’’ ھیوی ویٹ‘‘ کہلائے جانے والے کم و بیش تمام اُمیدوار پیپلزپارٹی کو پیارے ہوگئے۔اس کے بعد تھوڑی بہت اُمید پاکستان تحریک انصاف کے نامزد کردہ بلدیاتی اُمیدواروں سے تھی کہ شاید وہ نواب شاہ ،شہر کی یونین کونسلوں میں پیپلزپارٹی کے بلدیاتی اُمیدواروں کا انتخابی میدان میں مقابلہ کرکے پیپلزپارٹی کے خلاف وہ کردار ادا کرسکے جو کبھی ایم کیو ایم ادا کیا کرتی تھی۔ مگر افسوس پاکستان تحریک انصاف کے مہرے بھی بلدیاتی انتخابات کی شطرنج میں پیپلزپارٹی کی سیاسی چالوں کا مقابلہ نہ کرسکے اور کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی کھیل میں مات کھا بیٹھے۔
پیپلزپارٹی کو پہلی اور سب سے بڑی کامیابی اُس وقت حاصل ہوئی جب نواب شاہ شہر کی یونین کونسل 2 سے چیئرمین کے لیئے نامزد پاکستان تحریک انصاف کے اُمیدوار سردار مومن خان ، اپنے پورے پینل سمیت پیپلزپارٹی کے اُمیدوار کے حق میں دست بردار ہوگئے ۔ یاد رہے کہ سردار مومن خان کو پاکستان تحریک انصاف کا تعلقہ نواب شاہ میں سب سے مضبوط ترین بلدیاتی اُمیدوار تصور کیا جارہاتھا۔ کیونکہ موصوف کا شمار نہ صرف پختون برادری کی متحرک ترین سیاسی شخصیات میں ہوتا ہے بلکہ سردار مومن خان ،دھرتی لطیف ویلفیئر آرگنائزیشن کے صدر ہونے کے ساتھ ساتھ ، ماضی میں پختون ویلفیئر ٹرسٹ کے اہم ترین عہدیدار بھی رہے ہیں ۔ سردار مومومن خان کو پی ٹی آئی سے پیپلزپارٹی میں لانے میں کلیدی کردار ،سٹی صدر پیپلزپارٹی ،خان بہادر بھٹی اور لویہ جرگہ ،نواب شاہ کے صدر نورخان عرف ترکے خان نے ادا کیا ۔
دوسری جانب نواب شاہ شہر کی یونین کونسل 6 سے چیئرمین کے لیئے نامزد پی ٹی آئی کے ایک اور اُمیدوار عمران خان بھی انتخاب سے چند روز قبل مذکورہ حلقہ میں پی پی پی اُمیدوار کے حق میں دست بردار ہوگئے ۔یاد رہے کہ انہیں بھی پیپلزپارٹی میں لانے والے خان بہادر بھٹی ہی تھے۔ علاوہ ازیں دیگر کئی یونین کونسلوں سے چیئر مین، وائس چیئرمین اور کونسلر کا انتخاب لڑنے والے مختلف سیاسی جماعتوں کے بے شمار اُمیدواروں کو بھی پی پی پی کی مقامی قیادت اپنے حق میں دست بردار کروانے میں کامیاب ہوگئی ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ صورت حال کسی ایک خاص ضلع ،تحصیل ،تعلقہ یا یونین کونسل میں ہی نہیں تھی ، بلکہ وہ تمام 14 اضلاع جہاں جہاں پہلے مرحلے میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے ،اُن سب میں پیپلزپارٹی نے بلدیاتی انتخاب جیتنے کیلئے اپنی اِسی موثر سیاسی حکمت عملی سے استفادہ کیا ۔
دراصل پیپلزپارٹی نے بلدیاتی انتخابات میں بھرپور تیاری،زبردست سیاسی حکمت عملی اور کامل یکسوئی کے ساتھ حصہ لیا۔جبکہ پی پی پی کی حریف سیاسی جماعتیں انتخاب کے آخری دن تک اِسی مخمصے اور وہم کا شکار رہیں کہ ’’سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ ملتوی ہوجائے گا‘‘۔چونکہ پیپلزپارٹی کے علاوہ کسی بھی سیاسی جماعت نے بلدیاتی انتخابات کو سنجیدگی سے نہیں لیا ۔لہٰذا،بلدیاتی انتخابات کا پہلا معرکہ مکمل طور پر پیپلزپارٹی کے نام رہا اور یوں پی پی پی 14 ،اضلاع میں چیئر مین ، وائس چیئرمین اور کونسلرز کی بیشتر نشستیںجیتنے میں کامیاب رہی ۔
٭٭٭٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بلوچستان، مزید بارشیں، تباہ کاریاں، خراب حکمرانی وجود جمعه 19 اگست 2022
بلوچستان، مزید بارشیں، تباہ کاریاں، خراب حکمرانی

ڈیپ فیک وجود جمعه 19 اگست 2022
ڈیپ فیک

ملعون سلمان رشدی ، ایک غازی کے نشانے پر وجود جمعرات 18 اگست 2022
ملعون سلمان رشدی ، ایک غازی کے نشانے پر

سور۔یلا۔۔ وجود بدھ 17 اگست 2022
سور۔یلا۔۔

سوشل میڈیا ایک بہت بڑا دھوکاہے وجود بدھ 17 اگست 2022
سوشل میڈیا ایک بہت بڑا دھوکاہے

میثاقِ معیشت کی تجویز وجود بدھ 17 اگست 2022
میثاقِ معیشت کی تجویز

اشتہار

تہذیبی جنگ
ملعون سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ملزم ہادی مطر کی ایران سے تعلق کی تردید وجود جمعرات 18 اگست 2022
ملعون سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ملزم ہادی مطر کی ایران سے تعلق کی تردید

یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ وجود جمعرات 16 جون 2022
یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ

گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا وجود منگل 14 جون 2022
گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج

بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر وجود منگل 07 جون 2022
بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر

اشتہار

بھارت
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت وجود اتوار 19 جون 2022
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت

سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری وجود جمعرات 09 جون 2022
سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج
افغانستان
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان وجود بدھ 25 مئی 2022
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان

خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان وجود پیر 23 مئی 2022
خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان

سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا وجود پیر 23 مئی 2022
سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا

بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے وجود جمعرات 09 جون 2022
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے

چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل وجود منگل 24 مئی 2022
چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل

گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام وجود اتوار 22 مئی 2022
گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام