وجود

... loading ...

وجود

پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ابھی ایک قدم دور ہے،حنا ربانی کھر

هفته 18 جون 2022 پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ابھی ایک قدم دور ہے،حنا ربانی کھر

وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ ہمیں ابھی سے خوشی نہیں منانی چاہیئے کیونکہ ابھی تو فیٹف کی گرے لسٹ سے پاکستان کے نکلنے کے حوالہ سے پراسیسز شروع ہوئے ہیں اور آن سائٹ وزٹ ہونا ہے، یہ کرنے کے بعد بھی ہمارا سفر تو جاری رہے گا کیونکہ ہم نے قانون سازی کو مضبوط بنانا ہے اور انتظامیہ کو مضبوط بنانا ہے۔ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے تمام ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا، پاکستان گرے لسٹ سے باہر نکلنے کیلئے ایک قدم دور ہے۔ ہم نے فیٹف کے ساتھ ہر بات چیت میں اس پر ہمیشہ زور دیا کہ فیٹف کو غیر سیاسی ، غیر جانبدار اورتکنیکی سطح پر کام کرنا چاہیئے اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ فیٹف یہ ایسے ہی اپنا کام جاری رکھے گا۔ پاکستان کے فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے سے ہماری معیشت بھی بہتر ہو گی۔ ان خیالات کااظہار حناربانی کھر نے سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کے ہمراہ ہفتہ کے روز دفترخارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے جامع اصلاحات پر عمل درآمد کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے، پہلا ایکشن پلان بہت طویل تھا لیکن یہ ایکشن پلان ہم نے مقررہ وقت سے قبل پورا کرلیا اور اس کو ایف اے ٹی ایف کے تمام اراکین نے تسلیم کیا اور پاکستان کی تیز رفتار پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف اراکین نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے اے ایم ایل اور سی ایف ٹی سے بہترین انداز میں مقابلہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ہم نے دیکھا کہ ایف اے ٹی ایف نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ پاکستان تمام تر تکنیکی بینج مارک سے نمٹا اور 2018 اور 2021 میں دیئے گئے تمام ایکشن پلانز پر کامیابی سے عمل درآمد کیا۔حنا ربانی کھر نے کہا کہ ایف اے ٹی اے نے ایکشن پلانز کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے اپنی ٹیم پاکستان بھیجے گا، میں یہ ابہام دور کرتی چلو کہ یہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے پلان کا ایک حصہ ہے جب آپ کسی بھی ملک کو گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے اتھارائز کرتے ہیں تو آپ ٹیکینکل طریقہ کار اختیار کرتے ہیں جو پہلے ہی مکمل ہوچکا ہے۔وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ حکومت ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کے دورہ پاکستان کے شیڈول پر کام کر رہا ہے دورے کی تاریخ مشترکہ گفتگو کے بعد طے کی جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے صرف ایک قدم دور ہے۔حنا ربانی کھر نے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ سال ایکشن پلانز میں کامیابی سے متعلق تین پیش رفت رپورٹس ایف اے ٹی ایف کو پیش کیں، جس میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے حاصل ہونے والی کامیابی کا حوالہ دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے اعلان کرنے میں خوشی محسوس ہورہی ہے کہ پاکستان نے ایکشن پلانز کیتمام 7 پوائنٹس پر مقررہ وقت میں کامیابی سے عمل درآمد کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم مکمل قومی اتفاقِ رائے کو اجاگر کرتے رہے ہیں، میں یقین دہانی کرواتی ہوں کہ حکومت اپنے وعدے کو پورے کرتے ہوئے قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ اس مرحلے کو آگے بڑھائے گی۔وزیر مملکت نے کہا کہ میں اس بات پر بھی زور دینا چاہتی ہوں پاکستان کا ایف اے ٹی ایف اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون ہماری معیشت کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں بہتری سے متعلق حکمتِ عملی کے مقاصد پر مبنی ہے۔حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ روکنے کے مثر اقدامات کیے، خوشی ہے فیٹف نے پاکستان کو کلیئر کردیا ہے، فیٹف نے پاکستان کی شرائط پوری کرنے کی کوششوں کو تسلیم کرلیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیٹف کا اقدام پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی کڑی ہے اور امید ہے فیٹف کے فیصلے سے پاکستان کی معیشت بہتر ہوگی۔حنا ربانی کا کہنا تھا کہ فیٹف کی ٹیم مشاورت کے بعد پاکستان آئے گی اور امید ہے اکتوبر تک گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل مکمل کرلیاجائیگا، گرے لسٹ سے نکلنے سے پاکستان کے معاشی حالات بہتر ہوں گے۔وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ فیٹف کے ساتھ پاکستان کا تعاون ہماری حکمت عملی کاحصہ ہے، ہم فیٹف حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، پاکستان کا فیٹف اور عالمی برادری سے تعاون معیشت بہتربنانیکی کوششوں کاحصہ ہے، انشااللہ جلد پاکستان گرے لسٹ سے نکل آئے گا۔حنا ربانی کھر نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ فیٹف کی شرائط مشکل تھیں اور پاکستان واحدملک ہے جسے شرائط پوری کرنے کے لیے دو ایکشن پلان پر بیک وقت عمل کرنا پڑا۔ان کا کہنا تھاکہ یہ سفر کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے ، ہمیں کوششیں جاری رکھنی ہیں اور ابھی تو گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل شروع ہوا ہے لہذا فیٹف کے معاملے پر جشن منانا قبل از وقت ہوگا، جب کسی ملک کو گرے لسٹ سے نکالا جاتا ہے تو تکنیکی ٹیم کو دورہ کرنا ہوتا ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی تیاری گزشتہ کئی برسوں پر محیط ہے اور پاکستان کے ذمہ مزید کوئی اقدامات زیر التوا نہیں، انتظامی اور عملی طور پر ہمارا سفر جاری رہیگا۔انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح گرے لسٹ میں ڈالے جانے کا ایک عمل ہے اسی طرح کسی ملک کو اس سے باہر نکالنے کا بھی ایک عمل ہے، یہ کہنا کہ بہت کچھ ہوگیا اس سے گریز کرنا چاہیے مگر یہ کہنا غلط ہے کہ ہم گرے لسٹ سے نہیں نکلے، اس وقت گرے لسٹ سے نکلنے کے عمل کا پہلا اور آخری مرحلہ شروع ہوگیا ہے، ہم اس مرحلے کے بغیر نہیں نکل سکتے کیونکہ یہ تمام عمل گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے درکارہوتا ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ اب پاکستان کے ذمہ کوئی اقدامات زیرالتوا نہیں۔ ایک ملک ہمیشہ اس عمل کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے، مگر ہم کوئی منفی بات نہیں کریں گے۔ ہم پاکستان کو آگے دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ایک سوال کے جواب میں حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ پاکستان، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کی تارخ میں وہ واحد ملک ہے جس نے دومتوازی پلانز پر عمل کیا ہے جن میں 2018اور2021پلانز شامل ہیں اوران دونوں میں 34پوائنٹس تھے جن پر عملدآمد کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہم نے کیا وہ پاکستان کے مفاد میں تھا اوراس نے پاکستان کے سسٹمز کو مضبوط کیا اور پاکستان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دکھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت دنیا کو لیگل فریم ورک کی فراہمی کے حوالہ سے ایک ماڈل ہے۔ حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ آپ کو بدترین کے لیے تیارہونا چاہیئے اورسب سے اچھے کی توقع رکھنی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کام گزشتہ کئی سال کے دوران انجام دیا گیا ہے اور جس حکومت نے اس میں جتنا حصہ ڈالا ہے ہم اس کو اس کامیابی پر اتنا حصہ دینا چاہتے ہیں۔ جن کو کریڈٹ چاہیئے ہم ان کو تمغے دینے کے لئے بھی تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی جنگ تھی کسی ایک شخص کی جنگ نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ فیٹف کے حوالے سے پی ٹی آئی دور حکومت میں جو قانون سازی ہوئی اس میں کمیٹیوں میں ہم نے اس قانون سازی کی حمایت کی تھی لیکن جب مشترکہ اجلاس میں یہ قانون سازی کروائی گئی توہمیں اس کے طریقہ کار سے اختلاف تھا اور یہ بلڈوز نہیں ہونی چاہیئے تھی۔ میں کریڈٹ اپنی ٹیم کو دوں گی اور جب میں ٹیم کہتی ہوں تو پاکستان کی ٹیم ہے اور ہم اس وقت حکومت کی نمائندگی کررہے ہیں ،میں ان سب کو کریڈٹ دوں گی جو سامنے ہیں اور جو سامنے نہیں بھی ہیں اور وہ بیک گراؤنڈ میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جو بھی کوشش ہوئی ہے اس کے حوالہ میں کوئی بھی منفی بات نہیں کروں گی۔ ان کا کہنا تھا اب سے لے کر فیٹف کی ٹیم کے آن سائٹ وزٹ تک پاکستان کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم پاکستان کو آن سائٹ وزٹ کے لئے تیار ہونا ہے کیونکہ آن سائٹ وزٹ کے دوران پاکستان کی جانب سے جو دعوے کیے گئے ہیں اور ان کو قبول کیا گیا ہے ان کا تکنیکی جائزہ لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے تمام ایکشن پلانز پر عملدرآمد کر دیا ہے اور کوئی بھی چیز زیر التواء نہیں جس پر عمل ہونا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک نہیں چاہتا کہ وہ فیٹف کی گرے لسٹ پر رہے۔ یہ پاکستان کی جیت ہے اور اسے پاکستان کی جیت ہی رہنے دینا چاہیئے۔


متعلقہ خبریں


آئی ایم ایف نے پاکستان سے مہنگائی کی جنگ چھیڑ دی،پیٹرولیم مصنوعات،سولر سسٹم پر 18 فیصدٹیکس کا مطالبہ وجود - بدھ 01 اپریل 2026

پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا خدشہ،نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ، اگلے بجٹ کے ٹیکس ہدف میں 16 سو ارب روپے اضافے کی تجویز،ذرائع ایف بی آر اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح صفر،چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے کی ...

آئی ایم ایف نے پاکستان سے مہنگائی کی جنگ چھیڑ دی،پیٹرولیم مصنوعات،سولر سسٹم پر 18 فیصدٹیکس کا مطالبہ

اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا،ٹرمپ برطانیہ، فرانس و دیگر ممالک پر برہم وجود - بدھ 01 اپریل 2026

برطانیہ سمیت وہ ممالک جو ایران کیخلاف جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور جیٹ فیول حاصل نہیں کرپارہے آئل امریکا سے خریدیں یا ہمت کرکے آبنائے ہرمز جائیں اور آئل حاصل کرلیں آپ کو اب خود لڑنا سیکھنا ہوگا،ایران کو تباہ کر دیا اور مشکل مرحلہ مکمل ہو چکا ہے،فرانس نے ایران کے قصائی کے حوالے...

اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا،ٹرمپ برطانیہ، فرانس و دیگر ممالک پر برہم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی قیادت متحرک،تحریک تیز کرنے کا اعلان وجود - بدھ 01 اپریل 2026

جنید اکبر خان کی زیرصدارتخیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم تنظیمی اجلاس سہیل آفریدی نے اجلاس کے شرکاء کو صوبے کو درپیش اہم معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت نے تنظیمی استحکام، موجودہ سیاسی صورتحال اور بانی چیٔرمین عمران خان کی رہائی کے لیے جا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی قیادت متحرک،تحریک تیز کرنے کا اعلان

خیبر پختونخوا حکومت سے علیمہ خانم کی بتدریج دوری، اختلافات کی اندرونی کہانی وجود - بدھ 01 اپریل 2026

علیمہ کی ہدایت پر فیصل ترکئی، عاقب اللہ کو کابینہ میں شامل کرنے پر اختلافات کی وجہ بنے مختلف نجی محافل میں ان تقرریوں کے حوالے سے پارٹی کے اندر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت میں چند ماہ قبل تک عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل...

خیبر پختونخوا حکومت سے علیمہ خانم کی بتدریج دوری، اختلافات کی اندرونی کہانی

صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ وجود - منگل 31 مارچ 2026

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...

صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی وجود - منگل 31 مارچ 2026

ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے وجود - منگل 31 مارچ 2026

حالیہ ایران پر امریکی فوجی حملے کی وجہ سے پینٹاگون پر بھاری مالی بوجھ آن پڑا ہے 800 سے زائد ٹوماہاک میزائلوں پر 3۔06 ارب ڈالر خرچ ہوئے،سینٹ کام ایران کیخلاف جنگ میں امریکہ نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے، اس ایک ماہ کی جنگ کے دوران اخراجات آسمان سے باتیںکرنے لگے جس کی وجہ سے یہ تاری...

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم وجود - منگل 31 مارچ 2026

خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، شہبازشریف جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے،پیغام وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ہیں، جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جان...

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی وجود - پیر 30 مارچ 2026

ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق وجود - پیر 30 مارچ 2026

پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی وجود - پیر 30 مارچ 2026

گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف وجود - پیر 30 مارچ 2026

حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف

مضامین
بھارت میں جعلی ڈگری کا دھندا وجود جمعرات 02 اپریل 2026
بھارت میں جعلی ڈگری کا دھندا

مرجھایا ہو ا دل معاشروں کو قبرستان بنا دیتا ہے! وجود جمعرات 02 اپریل 2026
مرجھایا ہو ا دل معاشروں کو قبرستان بنا دیتا ہے!

ڈالر کیوں بڑھ رہا ہے؟ وجود جمعرات 02 اپریل 2026
ڈالر کیوں بڑھ رہا ہے؟

خوشی کی حقیقی شناخت :باطن کی خوشبو اور کردار کی مٹھاس وجود جمعرات 02 اپریل 2026
خوشی کی حقیقی شناخت :باطن کی خوشبو اور کردار کی مٹھاس

تسبیح خواں وجود بدھ 01 اپریل 2026
تسبیح خواں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر