وجود

... loading ...

وجود

پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کی تمام شرائط پوری کر دیں، ایف اے ٹی ایف

هفته 18 جون 2022 پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کی تمام شرائط پوری کر دیں، ایف اے ٹی ایف

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف)نے پاکستان کے تمام عملی اقدامات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کی تمام شرائط پوری کر دیں۔تاہم آج گرے لسٹ سے نکالنے کا اعلان نہیں ہوگا، جرمنی کے دارالحکومت برلن میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے تین روزہ اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔اعلامیہ کے مطابق پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 34نکات پر عملدرآمد کر لیا ہے پاکستان نے دونوں ایکشن پلان پروقت سے پہلے عملدرآمد کیا۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کا وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا جس کے لیے کورونا کی صورتحال دیکھ کر پاکستان دورہ کیا جائے گا۔ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں صدرفیٹفر ڈاکٹر مارکس کا کہنا ہے کہ 2 سال میں 5 مرتبہ انسداد دہشت گردی اقدامات کا جائزہ لیا ،پاکستان نے دہشت گردوں مالی معاونت روکنے کیلئے بہترین اقدامات کیے جب کہ پاکستان نے انسدادمنی لانڈرنگ کیلئے بہترین پیشرفت کی ہے، انہوں نے کہاکہ ایف اے ٹی ایف کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرکے تمام اقدامات کا جائزہ لے گی، پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 34 نکال پرعملدرآمد کرلیا، رکن ممالک نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا، گزشتہ دو سال میں ہم نے 5بار انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا جائزہ لیا، پاکستان نے دونوں ایکشن پلان پر وقت سے پہلے عملدرآمد کیا۔ پاکستان کو مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ فی الحال پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں نکالا جارہا۔اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں صدر ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کو اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف ٹیم کے دورے سے مشروط کر دیا، اعلامیہ میں کہا گیا ہے ایف اے ٹی ایف شرائط کی تکمیل کی تصدیق مکمل ہونے کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جاے گا، آن سائیٹ جائزہ ٹیم کے دورے کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جاے گا، پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کے کیے تمام شرائط پوری کیں۔ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر نے پاکستان کی جانب سے کی گئی اصلاحات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے اچھا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی فنڈنگ پر موثر طریقے سے قابو پالیا ہے۔ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد کیے گئے دہشت گرد گروپوں کے سینئر رہنما اور کمانڈرز کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت کی تحقیقات میں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے ساتھ منی لانڈرنگ کی تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی میں مثبت رجحان دیکھا گیا ہے۔ایف اے ٹی ایف نے مزید بتایا کہ پاکستان نے 2021 کے ایکشن پلان پر 2021 میں وقت سے قبل ہی عمل کر لیا تھا۔ صدر نے مزید کہا کہ کورونا وبا نے دنیا بھر میں فیٹف کے اہداف کو متاثر کیا ،پاکستان کادورہ کر کے شرائط کی تکمیل کی تصدیق کی جائیگی،صدر ایف اے ٹی ایف کا کہنا تھا کہ چار روزہ اجلاس میں یوکرین پر روسی حملہ زیر بحث آیا، ایف اے ٹی ایف میں روس کا قائدانہ کردار واپس لیا جا رہا ہے، جبرالٹر کو گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے رکن ملکوں نے بہت محنت کی ہے، کورونا نے ایف اے ٹی ایف کے اہداف کو متاثر کیا، ایف اے ٹی ایف نے ڈیجیٹل مانیٹرنگ بہتر کی ہے، یہ ایف اے ٹی ایف کا اہم اجلاس تھا۔ ایف اے ٹی ایف کا چار روزہ اجلاس منگل کو جرمنی کے شہر برلن میں شروع ہوا، ایف اے ٹی ایف کے 206 ارکان اور مبصرین کی نمائندگی کرنے والے مندوبین مکمل اجلاس میں شرکت کی، مبصرین میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف)، اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور ایگمونٹ گروپ آف فنانشل انٹیلی جنس یونٹس شامل تھے۔برلن میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کی کارکردگی کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پاکستانی وفد کی قیادت وزیرِ مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے کی۔پاکستان نے اس بار سفارتی سطح پر ممبر ممالک کے سامنے غیر رسمی طور پر اپنی پوزیشن واضح کی، ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو 2 مرحلوں میں 34 نکات پر عمل درآمد کا کہا گیا تھا۔گزشتہ اجلاس میں پاکستان نے 34 میں سے 32 شرائط پر پہلے ہی عمل درآمد کر دیا تھا، اس مرتبہ پاکستان نے تمام 34 نکات پر عمل درآمد کردیا ہے۔علاوہ ازیں وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے پاکستانی قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کے دونوں ایکشن پلان کو مکمل قرار دے دیا ہے۔فیٹف اجلاس کے سلسلے میں جرمنی کے شہر برلن میں موجود حنا ربانی کھر نے کہا کہ بین الاقوامی برادری نے متفقہ طور پر ہماری کوششوں کو سراہا ہے، ہماری کامیابی 4 سال کے مشکل سفر کا نتیجہ ہے۔حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ پاکستان اس رفتار کو جاری رکھنے، معیشت کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے،ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ہفتہ کو وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس کی جائے گی،خیال رہے کہ 28 فروری 2008 کو پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ میں شامل گیا تھا اور اہداف حاصل کرنے کیلئے پاکستان کو ایشیا پیسیفک گروپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے کہا گیا تھا۔جون 2010 میں مثبت پیش رفت پر پاکستان کو فیٹف کی نگرانی کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا تاہم 16 فروری 2012 میں پاکستان کو دوبارہ گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا،فنانشل ایکشن ٹاسک فورس آن منی لانڈرنگ ایک عالمی ادارہ ہے جو جی 7 ممالک (امریکا، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، اٹلی، جرمنی اور جاپان) کی ایما پر بنایا گیا، اس ادارے کا مقصد ان ممالک پر نظر رکھنا اور اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہے جو دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں تعاون نہیں کرتے اور عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیے گئے دہشت گردوں کے ساتھ مالی تعاون کرتے ہیں۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے قیام کا فیصلہ 1989 میں تقریبا 33 سال قبل جی 7 ملکوں نے فرانس میں منعقدہ اجلاس میں کیا تھا، بعد ازاں جی سیون اتحاد کے ممبران کی تعداد 16 ہوئی جو اب بڑھ کر 39 ہوچکی ہے، ایف اے ٹی ایف میں 37 ممالک اور 2 علاقائی تعاون کی تنظمیں شامل ہیں۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف سے وابستہ ایشیا پیسیفک گروپ کا حصہ ہے، اس تنظیم کی براہِ راست اور بالواسطہ وسعت 180 ممالک تک ہے۔ایف اے ٹی ایف ایک ٹاسک فورس ہے جو حکومتوں نے باہمی اشتراک سے تشکیل دی ہے۔ ٹاسک فورس کے قیام کا مقصد منی لانڈرنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات تھا، امریکا میں 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد یہ ضرورت محسوس ہوئی دہشتگردی کیلئے فنڈز کی فراہمی کی بھی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے، جس کے بعد اکتوبر 2001 میں ایف اے ٹی ایف کے مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی فنانسنگ کو بھی شامل کرلیا گیا۔ اپریل 2012 میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فنانسنگ پر نظر رکھنے اور اس کی روک تھام کے اقدامات پر عملدرآمد کروانے کی ذمہ داری اسی ٹاسک فورس کے سپرد کی گئی۔ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے حوالے سے دنیا بھر میں یکساں قوانین لاگو کروانے اور ان پر عمل کی نگرانی کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔اس کی کوشش ہے کہ اس کے ہر رکن ملک میں مالیاتی قوانین کی یکساں تعریف پرعملدرآمد کیا جائے اور ان پر یکساں طور پر عمل بھی کیا جائے تاکہ دنیا میں لوٹ کھسوٹ سے حاصل ہونیوالی دولت کی نقل و حرکت کو مشکل ترین بنا دیا جائے اور لوگوں کیلئے اس قسم کی دولت رکھنا ناممکن بن جائے۔ایف اے ٹی ایف نے اپنے قیام کے پہلے 2 برسوں میں تیزی سے کام کیا اور 1990 تک تجاویز کا پہلا مسودہ تیار کیا۔ بعدازاں 1996، 2001، 2003 اور 2012 میں یہ اپنی دیگر تجاویز بھی پیش کرچکی ہے۔


متعلقہ خبریں


ایران پر نئے حملے کی تیاری، امریکی طیارے اسلحہ لے کر اسرائیل پہنچ گئے وجود - منگل 19 مئی 2026

امریکا ایران جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگے،امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی ایران جنگ دوبارہ چھڑنے کے امکان پر گفتگو ، ٹرمپ اس ہفتے قومی سلامتی ٹیم سے مشاورت کریں گے پینٹاگون نے ایران میں اہداف کا چنا ئوکرلیا، توانائی اور انفرااسٹرکچر سمیت مزید اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بن...

ایران پر نئے حملے کی تیاری، امریکی طیارے اسلحہ لے کر اسرائیل پہنچ گئے

مولانا فضل الرحمان کا ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ وجود - منگل 19 مئی 2026

عالمی حالات کو جواز بناکر مہنگائی، عام آدمی 2 وقت کی روٹی سے محروم ہوگیا، سیاستدانوں کی کمپرومائز پالیسیوں نے جمہوریت کو کمزور کیا،22 مئی کو ملکگیرمہنگائی کیخلاف احتجاجی تحریک شروعہوگی حکمران امن و امان کے قیام میں سنجیدہ نہیں،ملک میں باغیانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے،مسلح گروہ فوجی...

مولانا فضل الرحمان کا ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ

انمول پنکی کی جوڈیشل کمپلیکس میں پھر ہنگامہ آرائی وشور شرابا وجود - منگل 19 مئی 2026

تفتیشی افسر پر تشدد، دھمکیوں اور زبردستی مخصوص افراد کے نام لینے کیلئے دبائو ڈالنے کے سنگین الزامات عائد کردیئے میڈیا نمائندوں کے کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی ،صحافیوں کو دھکیل کر ملزمہ کے قریب آنے سے روکنے کی کوشش منشیات اور قتل کے مقدمات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی نے...

انمول پنکی کی جوڈیشل کمپلیکس میں پھر ہنگامہ آرائی وشور شرابا

اسرائیلی بحریہ کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا،100 سے زائد رضاکار گرفتار وجود - منگل 19 مئی 2026

فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی بھی شامل، غزہ کو امداد پہنچانے کا ایک پرامن مشن ہے اسرائیلی فورسز نے گرفتارکرلیا،وطن واپس لانا پاکستان کی ذمے داری ہے،سعدایدھی غزہ کے لیے روانہ ہونے والے امدادی مشن میں شامل پاکستان کے سماجی کارکن سعد ایدھی سمیت متعدد بین الاقوامی کارکنوں کو اسرائ...

اسرائیلی بحریہ کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا،100 سے زائد رضاکار گرفتار

صوبائی حقوق کیلئے خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت متحد،وفاق کو سخت پیغام دے دیا وجود - منگل 19 مئی 2026

پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ ظلم کر رہی ہے، آئین کے تحت خوراک کی اشیا کی نقل و حمل پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی گیس پیدا کرنیوالا صوبہ خود گیس سے محروم ہے، وزیراعلیٰ برس پڑے،سہیل آفریدی ،فیصل کریم کنڈی کی پریس کانفرنس خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت صوبائی حقوق کے معاملے پ...

صوبائی حقوق کیلئے خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت متحد،وفاق کو سخت پیغام دے دیا

بھارت کی پاکستان کو مٹانے کی دھمکی،بھارتی آرمی چیف کا بیان ذہنی دیوالیہ پن ہے،تباہی دونوں طرف ہوگی، پاک فوج وجود - پیر 18 مئی 2026

معرکہ حق میں ناکامی کے بعد بھارتی قیادت کی مایوسی کھل کر سامنے آچکی ہے،بھارت کو پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا مودی سرکار کے اشتعال انگیز بیانات خطے کو پھر بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں،اگر کسی قسم کی جغرافیائی تباہی کی...

بھارت کی پاکستان کو مٹانے کی دھمکی،بھارتی آرمی چیف کا بیان ذہنی دیوالیہ پن ہے،تباہی دونوں طرف ہوگی، پاک فوج

پیٹرول پر 5 روپے کی تاریخی کمی پر دل کر رہا ہے کہ خوشی سے ناچیں،کراچی کے عوام غصے میں وجود - پیر 18 مئی 2026

آج کل 5 روپے میں آتا کیا ہے؟ اتنے پیسے تو گھر کے چھوٹے بچے بھی پکڑنے سے انکار کر دیتے ہیں،شہری کی دہائی حکومت نے عوام پر اتنا بڑا احسان کیا ہے جیسے ساری نیکیاں ایک ساتھ ہی سمیٹ لی ہوں،شہریوں کی میڈیا سے گفتگو حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی پر عوام نے حکومت پر طنز ک...

پیٹرول پر 5 روپے کی تاریخی کمی پر دل کر رہا ہے کہ خوشی سے ناچیں،کراچی کے عوام غصے میں

انمول پنکی کو بچانے کیلئے بعض بااثر اور نامعلوم قوتیں متحرک وجود - پیر 18 مئی 2026

منشیات فروش خاتون کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا گارڈن تھانے کی فوٹیج غائب ہونے کے دعوئوں نے کیس پرسوالات کھڑے کر دیے،ذرائع مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے، جبکہ ذرائع ...

انمول پنکی کو بچانے کیلئے بعض بااثر اور نامعلوم قوتیں متحرک

پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ آئی ایم ایف کے نشانے پر وجود - اتوار 17 مئی 2026

حکومت کی آئی ایم ایف کو سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کی یقین دہانی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا متبادل پلان پیش ،بین الاقوامی مالیاتی ادارے کارئیل اسٹیٹ سیکٹر کی سخت نگرانی پر زور 27 سرکاری اداروں کی نج کاری پر پیش رفت جاری پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نج کار...

پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ آئی ایم ایف کے نشانے پر

ملک میں گولی گالی کی سیاست ،کرپشن اقربا پروری کا راج ،حافظ نعیم وجود - اتوار 17 مئی 2026

اشرافیہ، جاگیردار وڈیرے پارٹیاں بدل بدل کر قوم پر مسلط ، حکمران جماعتوں کی قسم ایک ہی ہیں کوئی جماعت عوام کو حق دینے کیلئے تیار نہیں، نوجوان مایوس نہ ہوں،بنوقابل تقریب سے خطاب امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں گولی اور گالی کی سیاست عام، تعلیم مہن...

ملک میں گولی گالی کی سیاست ،کرپشن اقربا پروری کا راج ،حافظ نعیم

قائداعظم کے اصول آج بھی ملکی پالیسی کی بنیاد ہیں،شہباز شریف وجود - اتوار 17 مئی 2026

عالمی برادری کے ساتھ مل کر پرامن، ہم آہنگ، متحد معاشرے کے قیام کیلئے پرعزم ہیں نوجوان ، مذہبی رہنما،سول سوسائٹی برداشت، ہمدردی، رواداری کو فروغ دیں،وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف نے پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم کے اصول آج بھی پ...

قائداعظم کے اصول آج بھی ملکی پالیسی کی بنیاد ہیں،شہباز شریف

، برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم وجود - اتوار 17 مئی 2026

نئی دہلی وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام امارات پر ایران کا اپنے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام برکس گروپ کے رکن ممالک ایران اور متحدہ عرب امارات کے باہمی اختلافات کے باعث برکس وزرائے خارجہ اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم...

، برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم

مضامین
آبنائے ہرمزایران کی ریڈ لائن ہے! وجود منگل 19 مئی 2026
آبنائے ہرمزایران کی ریڈ لائن ہے!

منی پور میں چار عیسائی رہنما قتل وجود منگل 19 مئی 2026
منی پور میں چار عیسائی رہنما قتل

80سال پہلے ۔۔۔۔ وجود منگل 19 مئی 2026
80سال پہلے ۔۔۔۔

شہید گنج سے کمال مولا، بھوج شالہ تک۔ایک میں قانون دوسرے میں عقیدہ غالب وجود منگل 19 مئی 2026
شہید گنج سے کمال مولا، بھوج شالہ تک۔ایک میں قانون دوسرے میں عقیدہ غالب

مشورہ نہیں۔۔۔۔ مدد !! وجود پیر 18 مئی 2026
مشورہ نہیں۔۔۔۔ مدد !!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر