وجود

... loading ...

وجود

عمران خان کا ملک بھر میں احتجاجی تحریک جلد چلانے کا اعلان

جمعرات 09 جون 2022 عمران خان کا ملک بھر میں  احتجاجی تحریک  جلد چلانے کا اعلان

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمارا ملک جس طرف جا رہا ہے، اس کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ ان کو اس لیے ہم پر مسلط کیا گیا تاکہ ہمارا ملک کمزور ہو، سازش کرنے والے چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور پاک فوج کمزور ہو، کچھ دنوں میں ملک بھر میں احتجاجی تحریک کا اعلان کرنے جا رہا ہوں۔ بدھ کے روز تحریک انصاف کی نیشنل کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ چوروں کا ٹولہ ایک ساتھ اکٹھا ہو گیا ہے، لیکن عوام آپ کے ساتھ ہیں، جو شخص ان کی ٹکٹ لینے کے لیے لائن میں کھڑا ہے اس کو اپوزیشن لیڈر بنا دیا گیا، ایک نا جائز کام کو جائز بنانے کے لیے تمام حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، دنیا میں کہیں بھی ملزم قاضی نہیں بن سکتا، دنیا میں کہیں ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنے کیسز خود ختم کروائے، ایف آئی اے کو انہوں نے تباہ کرکے رکھ دیا، حمزہ شہباز نے ایف آئی اے کے انتقال کرنے والے افسر ڈاکٹر رضوان کو دھمکیاں دیں کہ تم ہوتے کون ہو مجھے پوچھنے والے جب کہ ایف آئی اے کے ایک اور تفتیشی افسر کو ہارٹ اٹیک ہوچکا ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ان کو اس لیے ہم پر مسلط کیا گیا تاکہ ہمارا ملک کمزور ہو، سازش کرنے والے چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور پاک فوج کمزور ہو، حکومت کو اگلا الیکشن جتوانے کیلئے ابھی سے تیاری کی جارہی ہے، الیکشن کمیشن پر کسی کو اعتبار نہیں، یہ لوگ اپنی پسند کی حلقہ بندیاں کررہے ہیں،ملک بھر میں احتجاجی تحریک کا اعلان کرنے جا رہا ہوں،چند روزمیں ملک گیراحتجاج کی کال دوں گا، جو ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج ہوگا،عوام تیاری رکھیں، سپریم کورٹ سے ہمارے کیس کا فیصلہ ہوتے ہی کال دوں گا، سیاست نہیں اپنے ملک کی آزادی کے لیے جہاد لڑرہے ہیں ۔ شہباز حکومت کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ عالمی سازش سے ہماری حکومت ہٹائی گئی، امریکا کے پالتو اوپر آکر بیٹھے ہیں، اس کی اجازت کے بغیر یہ کبھی کوئی کام نہیں کریں گے، ان کے اربوں روپے باہر پڑے ہیں، یہ ان کیخلاف کبھی اسٹینڈ نہیں لیں گے، میری حکومت ختم ہوتے ہی اسرائیل اور بھارت میں خوشیاں منائی گئیں، دونوں پارٹیوں کے سربراہوں کے اربوں ڈالربیرون ملک پڑے ہیں، ان کوڈرہے کہیں امریکا ناراض ہو کر ان کے اکانٹ منجمد نہ کر دے، امریکا نے زرداری، نوازشریف دور میں 400 ڈرون حملے کیے، ایک دفعہ انہوں نے ڈرون حملوں کی مذمت نہیں کی، کیا وجہ ہے شہبازشریف کے آنے سے بھارت اور اسرائیل کوخوشی ہوئی، ان کوپتا ہے شہبازشریف فارن ایجنڈے کے تحت چلیں گے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کے دو بڑے مسئلے ہیں پہلا لوڈشیڈنگ اور دوسرا پانی کا، پیٹرول پر چار روپے بڑھے تو بلاول نے مہنگائی مارچ کیا،جبکہ آج 30، 30 روپے قیمت بڑھ رہی ہے، ہم نے ساڑھے تین سال میں 55 روپے پٹرول مہنگا کیا، جبکہ انہوں نے آتے ہی 60 روپے بڑھادیا، ان کا مقصد مہنگائی نہیں بلکہ اپنے کرپشن کیسزختم کروانا تھا، ہم نے تو کسی کو نہیں روکا، ہم نے فیک نیوز کے علاوہ کسی چیز کو نہیں روکا، مثبت تنقید قوم کا اثاثہ ہوتی ہے، چار صحافیوں کے خلاف مقدمات بنائے گئے انہیں سلیوٹ پیش کرتا ہوں۔ صحافی اچھے اور برے ہوتے ہیں، 4 اینکرز قوم کا اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں معیشت چھ فیصد پر گروتھ کررہی تھی، کورونا کے باوجود معاشی حالات بہترہورہے تھے، آج وہی اکانومی تیزی سے نیچے کی طرف جارہی ہے، ملکی تاریخ میں اتنی مہنگائی کبھی نہیں دیکھی، انہوں نے 45 فیصد گیس کو مہنگا کر دیا ہے، دوماہ میں تاریخی مہنگائی کر دی ہے، ان کا مقصد مہنگائی کم کرنا نہیں تھا، یہ چور کو اقتدارمیں رہ کر تمام اداروں کی تباہی کریں گے، چیئرمین نیب اپنا لگوا کراپنے کیسزختم کروائیں گے، دنیا میں کبھی ملزم کیسے جج بن سکتا ہے، کرپٹ شخص کو آئی جی اسلام آباد لگا دیا گیا ہے، ان لوگوں کو کرپٹ سسٹم کوآگے بڑھانے کے لیے لگایا گیا ہے، امریکا کا مقصد اپنے پالتوؤں کو اقتدارمیں لانا تھا، ہم نے روس کے ساتھ سستا تیل کے لیے مذاکرات کرلیے تھے، روس سے جیسے واپس آئے انہوں نے عدم اعتماد پیش کر دی، اگران کوواقعی مہنگائی کی فکرہوتی توروس سے سستا تیل لیتے، وزیرخزانہ کہتا ہے روس ہمیں آ کر سستے تیل کی آفردے، یہ امریکا کی اجازت کے بغیرکچھ نہیں کریں گے۔ عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت نے 50 سال بعد ڈیمز بنانا شروع کیے، موڈیزنے پاکستان کی ریٹنگ کومنفی کردیا ہے، چیئرمین واپڈا کے جانے سے واپڈا کی ریٹنگ مائنس میں چلی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ لانگ مارچ میں رکن پنجاب اسمبلی آسیہ کی بہت زبردست پرفارمنس رہی، تمام خواتین نے شیلنگ کا مقابلہ کیا، خراج تحسین پیش کرتا ہوں، اسلام میں خواتین کی بہت زیادہ عزت ہے، کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پولیس بے دردی سے خواتین، بچوں پر شیلنگ کرے گی، افسوس مارشل لا کے علاوہ کبھی جمہوریت کے اندر پولیس کا ایسا رویہ نہیں دیکھا،جیسا پولیس نے 25 مئی کو کیا۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ہم نے پہلے پارٹی الیکشن کروائے اس میں بہت مسائل رہے، دوسری مرتبہ بھی پارٹی الیکشن کا سسٹم صحیح طرح نہیں بنا، ہمیں جب بھی موقع ملا ہم پارٹی میں انتخابات کروائیں گے تاکہ پارٹی میں میرٹ ہو،وعدہ ہے پارٹی میں الیکشن کرا کر میرٹ لائیں گے،پارٹی میں فاسٹ ٹریک الیکشن وقت کی ضرورت تھی، اس سے بھی بہتر پارٹی میں الیکشن کرائیں گے، ہمیشہ سے کوشش رہی تحریک انصاف ایک ادارہ بنے گی،فیملی پارٹیوں کی وجہ سے ملک میں جمہوریت نہیں بڑھی، فیملی پارٹیوں میں دوخاندان ہیں، پچھلے 60 سالوں میں فوج اور دو خاندانوں نے حکمرانی کی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ وہ الیکشن نہیں جو ہم چاہتے تھے، مجبوری میں یہ الیکشن کرائے گئے، اس کے باوجود ہماری پارٹی میں اپوزیشن قومی اسمبلی میں موجود اپوزیشن سے بہتر ہے جس کے قائد راجا ریاض ہیں، جب 26 سال قبل پارٹی بنائی تو یہ سوچ کر بنائی تھی کہ یہ پارٹی ایک مثالی ادارہ بنے گی، یہ جماعت دیگر جماعتوں سے مختلف ایک سیاسی پارٹی بنے گی، پاکستان میں سیاسی پارٹیز نہیں، خاندانی جماعتیں ہیں، اس خاندانی سیاست کی وجہ سے ہماری جمہوریت نے ترقی نہیں کی، ہمارے ملک میں موجود سیاسی جماعتوں میں میرٹ نہیں ہے، جمہوریت کے نام پر جاگیردارانہ نظام رائج ہے، ہم نے 2 تجربے کیے، ایک تجربہ 2013 کے الیکشن سے قبل کیا جس میں ہمیں بہت مشکلات آئیں، کیونکہ ملک میں جماعتوں کے اندر الیکشن کی کوئی مثال نہیں تھی، پھر ہم نے دوسرا تجربہ کیا، پورا الیکشن سیل بنایا، بڑے فنڈز مختص کیے، موبائل فون کے ذریعے الیکشن کرانے کی کوشش کی مگر بد قسمتی سے سسٹم بن نہیں سکا، پارٹی میں الیکشن کرانے کے میرٹ کا جمہوری نظام لانا ہے، جمہوریت میں میرٹ ہوتی ہے، بادشاہت میں نہیں، اس کے لیے ہمیں انتخابی اصلاحات کرنی ہوں گی۔


متعلقہ خبریں


اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 11 اپریل 2026

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پ...

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی وجود - هفته 11 اپریل 2026

حزب اللہ طبی گاڑیوں،سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طب...

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

مضامین
دربار انڈسٹری وجود هفته 11 اپریل 2026
دربار انڈسٹری

برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی وجود هفته 11 اپریل 2026
برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی

پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات وجود هفته 11 اپریل 2026
پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات

کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین وجود هفته 11 اپریل 2026
کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین

ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر