... loading ...
ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سمیت تمام ملزمان پر16ارب روپے کی مبینہ منی لانڈرنگ کے کیس میں فوری فرد جرم عائد کرنے کی مخالفت کردی ۔ اسپیشل پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے عدالت سے استدعا کی کہ سلمان شہباز سمیت تین اشتہاری ملزمان کے خلاف پہلے ضابطے کی کارروائی کرکے پھر فرد جرم عائد کی جائے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ پراسکیوشن چار ماہ کیوں خاموش رہی، کیا ملزمان کو فائدہ پہنچانا تھا ۔ عدالت نے ایف آئی اے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ ہفتہ کے روز اسپیشل جج سینٹرل اعجاز حسن اعوان نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان کے خلاف 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے اور اپنی حاضری مکمل کرائی۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کی عدالت آمد کے موقع پر بد نظمی دیکھی گئی۔ جج اسپیشل کورٹ سینٹرل نے کہا کہ وہ جب اندر آرہے تھے تو دیکھا کہ سکیورٹی اہلکار کس طرح گلے پڑے ہوئے ہیں، اگر یہ سکیورٹی ہے تو اللہ ہی حافظ ہے، وہ گاڑی میں بیٹھے تھے تو سکیورٹی والے ان کے گارڈ کے گلے پڑ گئے۔ عدالت نے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو طلب کر لیا جس پر عدالتی اہلکار نے کہا کہ عدالت کا پیغام دونوں پولیس افسران کو دیا ہے لیکن وہ اندر آنے کو تیار نہیں۔ جج اعجاز حسن اعوان نے کہا کہ پولیس والوں کے یہ حالات ہیں، عدالت کا حکم نہیں مان رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن ملزمان کو سیکورٹی اہلکار اندر نہیں آنے دے رہے، ان کی طرف سے وکلا درخواست دے دیں۔ سکیورٹی کے معاملہ پر جج نے کہا کہ تحریری طور پر بتائیں کہ کس نے جج کی گاڑی روکی۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے بھی بتایا کہ ان کا راستہ بھی روکا گیا۔ عدالت نے شہباز شریف سے استفسار کیا یہ کیسی سکیورٹی ہے کہ سائلین کا داخلہ بند کر دیا گیا؟ ایسا تو کبھی نہیں دیکھا جو حالات اس عدالت کے باہر ہوگئے۔ عدالت نے فوری سکیورٹی انچارج کو طلب کرلیا۔ شہباز شریف نے عدالت کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جناب میں اس سارے معاملے کو دیکھتا ہوں۔ دوران سماعت شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت نے اب تک چالان میں اشتہاری ملزمان کو ضابطہ کی کارروائی کے بعد اشتہاری قرار نہیں دیا۔ اس پر جج نے کہا کہ اشتہاری قراردینے کا آرڈر جاری کررکھا ہے۔ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 2008 سے 2018 تک مبینہ جرم کا الزام لگایا گیا، واقعہ کی ایف آئی آر بلا جواز تاخیر سے درج کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ چالان جمع کراتے ہوئے استغاثہ نے کئی چیزیں ختم کر دیں۔ اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ مقدمے کے 3 اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں پراسیکیوشن کی طرف سے پیش ہوا ہوں، چالان میں اشتہاری ملزموں کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی جائے۔ اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ کوئی بھی ایسا قانونی نکتہ چھوڑنے پر ملزم فائدہ لے سکتے ہیں، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ 4 ماہ پراسیکیوشن کیوں خاموش رہی ہے؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نے سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مقدمے میں 3 ملزمان اشتہاری ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے، سلمان شہباز، مقصود اور طاہر نقوی کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کی جائے، جس پر جج اعجاز حسن اعوان نے کہا کہ یہ ملزمان تو مجسٹریٹ کی عدالت سے اشتہاری ہو چکے ہیں۔ اسپیشل پراسیکیوٹر نے یہ بھی کہا کہ یہ درخواست ریکارڈ پر آ گئی ہے، عدالت مناسب حکم جاری کر دے۔ پراسیکیوٹر نے گزارش کی کہ عدالت نے تاحال چالان میں ملزموں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد اشتہاری نہیں کیا، اگر اس کیس کو ایسے ہی لے کر چلیں گے تو آگے جا کر ملزمان کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مقدمے میں جن 14 اکاؤنٹس سے لین دین کا ذکر ہوا وہ سب بینکنگ چینل سے ہوئیں، اس کیس میں بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا، ملزمان نے بغیر ثبوت کے بدنامی برداشت کی، لگتا ہے ایف آئی آر نیٹ فلیکس سے متاثر ہو کر لکھی گئی، یہ ایک فلمی ایف آئی آر ہے۔سماعت کے دوران وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ 2008 سے 2018 کے دوران الزامات لگائے گئے، بہت سے الزامات کو پراسیکیوشن ٹیم نے چالان میں ختم کر دیا، کہا گیا فیک کمپنیوں کے ذریعے معاملات کو چلایا گیا، کہا گیا ایک اکاؤنٹ میں 2 ارب سے زائد کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، ایف آئی آر اور چالان میں زمین آسمان کا فرق ہے، شہباز شریف کے خلاف تحقیقات کی سربراہی سابق مشیر احتساب نے کی۔ عدالت نے سلمان شہباز سمیت دیگر کو اشتہاری قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ دوران سماعت وزیر اعظم شہبا ز شریف روسٹرم پر آگئے اور بیان دیا کہ عدالت کا وقار ہے اس لیے وہ آئے ہیں کہ قانون کی حکمرانی ہو۔ ا نہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کے کہنے پر برطانیہ کی ٹیم نے ان کے خلاف تحقیقات کیں، جس میں وہ بے قصور ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ 2004 میں پاکستان آیا تھا اگر میرے پاس حرام کا پیسہ ہوتا تو پاکستان کیوں آتا۔ میں نے قوم کے اربوں روپے بچائے۔ نیب اور این سی اے نے تحقیقات کیں، میں ان کا رشتہ دار تو نہیں تھا، این سی اے نے پونے دو سال کی تحقیقات میں میرے خلا ف ایک دھیلے کی کرپشن نہیں نکالی۔ خدانخواستہ اگر میں نے کرپشن کی ہوتی تو میں اس عدالت کے سامنے نہ ہوتا۔ این سی اے نے پونے دوسال تحقیقات کیں کچھ بھی نہیں ملا۔ شہباز شریف نے عدالت میں بیان دیا کہ میرے خلاف لندن کرائم ایجنسی نے تحقیقات کیں، دبئی ، فرانس ، سوئٹزر لینڈ میں بھی میرے خلاف پونے دو سال تحقیقات کرائی گئیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ میرے تمام اثاثے ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہیں، تحقیقات میں کرپشن کا ایک روپیہ بھی ثابت نہیں ہوسکا، برطانیہ میں رہا، کشکول تو نہیں اٹھانا تھا، وہاں کاروبار کیا، میرے خلاف کرپشن کے سیاسی کیسز بنائے گئے۔عدالت نے سلیمان شہباز سمیت دیگر کو اشتہاری قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...
ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...
جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...
میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...
آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...
بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...
محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...