وجود

... loading ...

وجود

غیر ضروری اور پرتعیش اشیا کی درآمدات پرپابندی

جمعرات 19 مئی 2022 غیر ضروری اور پرتعیش اشیا کی درآمدات پرپابندی

وفاقی حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے، معیشت کو مضبوط بنانے اور درآمدات پر ملکی انحصار کم کرنے کیلئے پرتعیش اور غیر ضروری اشیا کی درآمدات پر پابندی عائد کردی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگ زیب نے اس بات کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں آج جو مہنگائی ہے اس کی وجہ سابق وزیراعظم عمران خان کا عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) سے کیا گیا معاہدہ ہے، جس پر ان کی حکومت کے دستخط ہیں ، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کے اندر اس وقت عوامی حکومت ہے اور جس کے اندر وفاق کی تمام اکائیاں اور تمام صوبوں کی نمائندگی موجود ہے۔ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کی معیشت 4 سال میں جس جگہ پہنچائی گئی، جس طرح پاکستان کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا، معیشت کو تباہ اور مہنگائی کی شرح کو بڑھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں 1947 سے لے کر2018 تک حکومتوں نے جتنا قرضہ لیا گیا اور جتنا گزشتہ 4 سال میں قرض لیا گیا وہ اس کا 80 فیصد بنتا ہے۔وزیراطلاعات نے کہا کہ قرض 25 ہزار سے 43 ہزار ارب کردیا گیا ہے، غذائی مہنگائی جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں 2.3 فیصد پر تھی لیکن آج وہ لوگ سوال کر رہے ہیں جنہوں نے غذائی مہنگائی کو 16 فیصد پر پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان 2018 میں ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہوگیا اور ترقی کی شرح 6 فیصد پر پہنچی تھی، جس کو پہلے منفی کیا گیا اور 4 سال ہچکولے کھاتی رہی۔ان کا کہنا تھا کہ 4 سال ایک امپورٹڈ حکومت، امپورٹڈ کابینہ، امپورٹڈ مشیر اور امپورٹڈ ترجمان کی حکومت تھی تو پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں ترقی کی شرح 6 فیصد تھی تو اس وقت سی پیک، 11 ہزارمیگاواٹ بجلی کے منصوبے لگ رہے تھے، منصوبوں کی مشینری آئی تھی اور اس وقت ڈالر مستحکم تھا لیکن سیاسی عدم استحکام مچا کر 3 دفعہ کے منتخب وزیراعظم کو اقامے کے اوپر نکالا گیا تو ڈالر 105 روپے پر تھا اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت گئی تو ڈالر 115 روپے پر تھا۔مریم اورنگ زیب نے کہا کہ آج جو سازشی کنٹینر پر کھڑے ہو کر 4 ہفتوں کی حکومت سے سوال کرتے ہیں ان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور تھوڑی شرم کرنی چاہیے کہ ڈالر 189 میں ان کی حکومت میں گیا۔ان کا کہنا تھا کہ قومی خزانے کی جو بدحالی ہے وہ آپ کے دور میں ہوئی، جب عدم اعتماد کی کامیابی تھی تو اس وقت 193 پر انٹربینک پر ڈالر تھا، تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ حکومت اوروزیراعظم نے آئی ایم ایف عمران خان کے دستخط شدہ معاہدے پر ملا۔انہوں نے کہا کہ یہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر پچھلی حکومت نے دستخط کیے، عمران خان نے ان شرائط پر دستخط کیے، جس کی وجہ سے آج پاکستان میں مہنگائی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جتنا بیس لائن معاہدہ ہے اور شرائط طے شدہ ہیں، اس پر عمران خان کی حکومت کے دستخط ہیں اور وہ لوگ جو صبح، دوپہر اور شام ملکی معیشت پر سوال اٹھا رہے ہیں، ان پر عمران خان نے خود اعتماد نہیں کیا۔وزیراطلاعات نے کہا کہ اسد عمر کو عمران خان نے ایک دن میں دو دو مرتبہ وزارت دے کر تبدیل کی گئی، ہر روز وزیرخزانہ بدلا جاتا تھا اور آج وہی لوگ دوسروں پر معیشت کا سوال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نوازشریف کی واحد حکومت نے جس نے پاکستان کی تاریخ میں آئی ایم ایف کے پروگرام کو 2015 میں مکمل کیا تھا اور ملک کے اندر معاشی پالیسیوں کو آزادانہ طور پر چلانے کے لیے اور مختلف منصوبے متعارف کروا کر 2018 میں پاکستان کو ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ(ن) کے منشور میں مہنگائی کم کرنا ہے اور یہ جو 90 دن میں کرپشن ختم کرنے آئے تھے انہوں نے کرپشن کے ذریعے پاکستان میں مہنگائی میں اضافہ کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کارٹیلز، مافیاز اور امپورٹڈ حکومت نے 4 سال پاکستان کے عوام کو لوٹا، اس کے بعد جتنے امپورٹ ہو کر آئے تھے اور سب ایکسپورٹ ہو کر پاکستان سے باہر چلے گئے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ اب ایک معاشی منصوبے کے ذریعے، جس کے ذریعے بیرونی قرضوں پر انحصار کم ہو اور ملک کے اندر ایسے مالی انتظامات کیے جائیں، اس کے لیے ایک مکمل منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ وزیراعظم ہے جس کو ڈالر کی قیمت میں اضافہ ٹی وی سے پتہ نہیں چلتا، جو صبح اٹھ کر یہ نہیں کہتا ہے کہ آج ڈالر کی قیمت کیا ہے تو مجھے ٹی وی سے پتہ چلی، یہ وزیراعظم پاکستان کے عوام کی مشکل کے سدباب کے لیے دن رات کام کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کل یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ تمام غیرضروری لگژری اشیا کی درآمدات پر پابندی لگائی جارہی ہے، تمام وہ اشیا جو عام عوام کے استعمال میں نہیں ہیں اور جنہیں غیرضروری اشیا کہا جاتا ہے، ان کی درآمد پر مکمل پابندی لگادیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میں کھانے کی اشیا، تزئین و آرائش کی تمام اشیا اور تمام امپورٹڈ گاڑیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج ملک ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے، ملک کے اندر 4 سال جو معاشی دہشت گردی کی گئی ہے اس کے لیے تمام اقدامات کیے جارہے ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ ملک کے اندر ہنگامی صورت حال ہے، اس وقت پاکستانیوں کو ایک معاشی منصوبے کے تحت قربانی دینی پڑے گی اور یہ تمام چیزیں دو مہینوں کے لیے ہیں، جو اس کا غیرملکی ذخائر پر فوری اثر پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ سالانہ ان تمام چیزوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ 6 ارب ڈالر کا اثر پڑے گا، اولین ترجیح درآمدات پر جو انحصار پر اس کو کم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات سے متعلق معاشی پالیسی متعارف کروائی جارہی ہے، اس سے مقامی صنعت کاروں کو فائدہ ہوگا، مقامی سطح پر تیار ہونے والی صارفین کی اشیا کے استعمال میں اضافہ ہوگا، مقامی صنعت ترقی کرے گی، اس سے قمای سطح پر روزگار ملے گا، گزشتہ 4 سال میں 60 لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے، تمام امپورٹڈ کابینہ، ترجمان اور مشیر جن کو یہاں نوکریاں دی گئیں، اب ان کی شکلیں بھی نظر نہیں آتیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے غیرملکی زرمبادلہ اور ڈالر کی قیمت میں استحکام آئے گا، کرنٹ اکاونٹ خسارہ اور ملک کا قرضوں پر انحصار بھی کم ہوگا۔ جن اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے ا ن میںگاڑیاں،موبائل فونز،گھریلو مصنوعات،ڈرائی فروٹ،فروٹس،کراکری کے تمام آئٹمز،پرائیویٹ ہتھیار،جوتے،لائٹنگ کی اشیا،ڈیکوریشن کی چیزیں،سینیٹری ویئر،دروازے،ونڈو فریم،فش،فروزن فوڈز،کارپٹ،ٹشو پیپر،فرنیچر،میک اپ،شیمپو،کنفیکشنری،میٹرس،سلیپنگ بیگز،ہیٹر،سن گلاسز،آئس کریم،سگریٹ،چمڑا،چاکلیٹ،موسیقی کے آلات شامل ہیں،انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر ایک خاص طبقے کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایک ٹولا مسلط تھا اور ان کی معاشی دہشت گردی تھی لیکن موجودہ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر ان آئٹمز کی درآمد پر پابندی عائد کر کے اقدامات کیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی 4 سال کی حکومت وفاق اور خیبرپختونخوا میں 9 سال حکومت رہی اور ان 9 برسوں میں احتساب کمیشن اور نیب کے تمام کیسز پر تالا اور ایسا احتساب جس میں عمران خان کا نام آتا تھا، جو آج بھی خیبرپختونخوا کا ہیلی کاپٹر استعمال کر رہے ہیں، اس ہیلی کاپٹر کیس کو تالا لگایا۔سابق وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی، بلین ٹری سونامی پر تالا اور 4 سال مسلط رہنے والی حکومت آج کہتی ہے کہ مہنگائی کیوں ہوئی تو عمران خان صاحب 2.3 فیصد سے 16 فیصد مہنگائی آپ نے کی، تاریخی قرض، معاشی دہشت گردی اور اپنی سیاست کے لیے بغیر فنڈ سبسڈی آپ نے دی۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت میں اگر تعریف میں کمی آتی تھی تو وزیرخزانہ بدل دیا جاتا تھا، جب فرح گوگی کے پاس پیسوں کی کم بوری آتی تھی تو پنجاب کے اندر تقرری اور تبادلہ کیا جاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی، وزیراعظم روز یہ کہتا تھا کہ ٹماٹر ، آلو اور چینی کی قیمت ٹھیک کرنے اور سستا کرنے نہیں آیا، چینی کو برآمد کیا اور پھر درآمد کیا جس کی وجہ سے چینی 120 روپے کلو تک گئی۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ الیکشن کرانا پاکستان کے اندر حکومت پاکستان کا کام ہے، اس وقت الیکشن وہ کرائیں گے جو ملک اور عوام کو ریلیف دینا جانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ہمارا ہے کہ پاکستان کے اندر الیکشن کب ہوں گے، روئیں، چیخیں یا پیٹیں، اگر آپ کو الیکشن کرانا ہوتا تو عدم اعتماد سے پہلے کرادیتے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر مقصد الیکشن کا ہوتا تو اسمبلیاں تحلیل کرتے مگر آپ کو پتہ یا خیال تھا کہ اتحادیوں کے پاوں پڑیں گے اور آپ کے مطابق جو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو تھا اس کے پاں پڑیں گے تو اتحادی آپ کے ساتھ رہیں گے، اسی لیے آپ اس اقتدار کے ساتھ چمٹے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کرانے کا اعلان مسلم لیگ (ن)، اتحادی حکومت اور جماعتوں کا ہوگا اور جب دل کرے گا الیکشن کرائیں گے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان صبح، دوپہر اور شام عدالتوں کو دھمکیاں دیتے رہے، آپ نے عدالتوں کو کہا رات کو کیوں کھلیں، عدالتیں آئینی شکنی اور پارلیمان پر حملہ کرنے کے خلاف کھلیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے دو تین ہفتے سپریم کورٹ کو دھمکی دو اور اس کے بعد جب آپ کے حق میں فیصلے آئیں تو سب ٹھیک ہے لیکن جب کوئی ایسا آئی جو چند گھنٹوں کے لیے آپ کو خوشیاں منانے کے لیے کافی ہو تو آپ اس طرح کی باتیں کریں، ان کا کہنا تھا یہ سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے ہیں اور معزز ججز نے یہ فیصلے خود دیئے ہیں کہ نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے لئے استعمال کیا جاتا رہا، نیب کی جتنی کاروائی ہے وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، یہ خواجہ محمد سعد رفیق کے کیس کا فیصلہ موجود ہے، فیصلے میں واضح طور پر کیا گیا ہے کہ نیب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور نیب کے اندر جو نیب گردی کی جاتی ہے وہ ہم نے چار سال دیکھا کہ وزیر اعلان کرتے تھے اور اگلے روز نیب ان کو گرفتار کرتا تھا جن کے بارے میں وزیر اعلان کرتے تھے۔ نیب تو نیب، نیازی گٹھ جوڑ، عمران خان کاذیلی ادارہ تھا، اوراس کے بارے میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے موجود ہیں کہ یہ کس طرح استعمال کیا جاتا رہا اور اس کے حوالہ سے یہ بھی کہا گیا کہ قانون سازی بھی ہونی چاہیئے ، میرے خیال میں گزشتہ حکومت نے چھ نیب ترمیمی آرڈیننس نکلالے اور جو آخری آرڈیننس ہے وہ بھی دو جون کو غالباً ختم ہو رہا ہے جس میں موجودہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع ختم ہورہی ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کا انٹرویو موجود ہے کہ کس طرح اداروں کو استعمال کر کے اور ان اداروں کے سربراہان کو استعمال کر کے اور ان پر دبائو ڈال کرسیاسی مخالفین کے خلاف یہ کیسز بنائے گئے، ہماری قانونی ٹیم اس پر مشاورت کررہی ہے ، سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوٹس لیا ہے ہم اپنا مئوقف بھی پیش کریں گے اور ایگزیکٹو کی کاروائی کے حوالہ سے بھی انفارمیشن مانگی گئی ہے وہ سپریم کورٹ کے آگے ہم پیش کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام جانتے ہیں اگر کسی کے پاس معاشی پلان ہے، اگر عوام کو بے روزگاری، مہنگائی اور اس معاشی تکلیف سے کوئی نکال سکتا ہے تو وہ موجودہ حکومت ہے۔وزیراطلاعات نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ وزیراعظم ان تمام چیزوں کو سستا کرنے آیا ہے، مہنگائی کرنے کے بہت آسان فیصلے ہوتے ہیں لیکن چیزوں کو سستا کرنے کے لیے دن رات محنت کرنا پڑتی ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ جتنا شور کریں اور دھمال ڈالیں پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ آپ کا مقصد انتشار پھیلانا، ملک میں افراتفری پھیلانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 4 سال قبل بھی کنٹینر پر چڑھے رہے جہاں سول نافرمانی کی کالیں دیں، بل جلائے، پولیس والوں کے سر پھاڑے، 4 سال حکومت میں رہ کر آئینی اور ریاستی ادارے استعمال کر کے اپوزیشن اور میڈیا کے اوپر اپنی طاقت کا استعمال کرکے جیل میں ڈالا۔انہوں نے کہا کہ آپ صبح، دوپہر اور شام دوسروں کو چور کہہ کر اپنی چوری، نالائقی اور نااہلی سے نظر نہیں ہٹا سکتے، آپ اپنی فرنٹ مین فرح گوگی اور شہزاد اکبر کی چوری اور ڈاکے سے نظر نہیں ہٹواسکتے ہیں۔مریم اورنگزیب نے سابق وزیراعظم کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ توشہ خانہ کی چوری سے نظر نہیں ہٹواسکتے، ملک کے اندر معاشی تباہی، مہنگائی، بے روزگاری اور قرضے کا بوجھ آپ کا دیا ہوا ہے، جس کا گند ہم صاف کر رہے ہیں، وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف ایک یا دو روز میں قوم سے مفصل خطاب کریں گے۔


متعلقہ خبریں


عمران خان نے نوجوانوں کو ٹائیگر فورس میں شمولیت کی دعوت دے دی وجود - منگل 28 جون 2022

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان عمران خان نے نوجوانوں کو ٹائیگر فورس میں شمولیت کی دعوت دیتے ہوئے Tigerforce.com.pk ویب سائیٹ لانچ کر دی۔ اپنے بیان میں سابق وزیر اعظم نے کہاکہ اپنی ٹائیگر فورس، خواتین اور نوجوانوں سے مخاطب ہوں،ہمارا ملک جس موڑ پر کھڑا ہے وہاں آپ کی ضرورت ہے۔ انہوںن...

عمران خان نے نوجوانوں کو ٹائیگر فورس میں شمولیت کی دعوت دے دی

سندھ حکومت کا صوبے میں 11ہزاربنداسکول کھولنے کا فیصلہ وجود - منگل 28 جون 2022

سندھ کے وزیر تعلیم وثقافت سید سردارشاہ نے کہاہے کہ ہمارے11 ہزار اسکولز جو بند تھے وہ یکم اگست سے کھل جائیں گے،وہاں اساتذہ کی کمی تھی اس لیے بند تھے،بچوں کو اسکولوں میں رکھنا چاہتے ہیں، ایک دن مختص کیا جائے جس میں ایجوکیشن پر ایک روڈ میپ بنائیں، پیپلز پارٹی نے تمام اضلاع میں بلدیا...

سندھ حکومت کا صوبے میں 11ہزاربنداسکول کھولنے کا فیصلہ

فرانس نے پاکستان کے ذمہ قرض 6 سال کیلئے موخر کردیا وجود - منگل 28 جون 2022

پاکستان اور فرانس نے پاکستان کے ذمہ واجب الادا 107 ملین ڈالرز قرض کی واپسی کی مدت توسیع کیلئے معاہدے پر دستخط کرلیے۔ پاکستان اور فرانس نے گروپ جی 20 کے قرضہ معطل کرنے کے اقدام (ڈی ایس ایس آئی ) کے تحت پاکستان کے ذمہ واجب الادا 107 ملین ڈالر کے قرضہ کو معطل کرنے کے معاہدے پر دستخ...

فرانس نے پاکستان کے ذمہ قرض 6 سال کیلئے موخر کردیا

جیالو کمر کس لو! آئندہ بھی کامیابی تمہاری منتظر ہے،آصف زرداری وجود - منگل 28 جون 2022

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخی کامیابی پر عوام سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کامیابی درحقیقت عوام کی کامیابی ہے۔اپنے جاری کردہ بیان میں پیپلز پارٹی کے صدر نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات م...

جیالو کمر کس لو! آئندہ بھی کامیابی تمہاری منتظر ہے،آصف زرداری

متحدہ کادھاندلی کے ثبوت الیکشن کمیشن لے جانے کا فیصلہ وجود - منگل 28 جون 2022

سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان نے دھاندلی، تصادم اور بے ضابطگیوں کی تفصیلات ثبوت کے ساتھ الیکشن کمیشن لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ایم کیوایم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیاتی الیکشن میں دن بھر جو کچھ ہوا سب الیکشن کمیشن کے سامنے رکھا جائے گا، بیلٹ پیپرز پر غلط ...

متحدہ کادھاندلی کے ثبوت الیکشن کمیشن لے جانے کا فیصلہ

کراچی میں 4سے 14 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ، شہری بلبلا اُٹھے وجود - منگل 28 جون 2022

شہرقائد میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، شدید گرمی میں 4 سے 14 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہری پریشان ہوگئے ہیں۔شہر قائد کے مختلف علاقوں جن میں کھارادر، لیاری، نیاآباد، کورنگی، اورنگی، لانڈھی، سرجانی ٹائون، قائدآباد، قیوم آباد اور کیماڑی میں طویل لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔اس کے علاوہ ...

کراچی میں 4سے 14 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ، شہری بلبلا اُٹھے

کراچی میں پیپلز بس سروس کا آغاز، 240 بسیں چلائی جائیں گی وجود - منگل 28 جون 2022

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہر قائد کے لیے پیپلزبس سروس منصوبے کا افتتاح کردیا۔سندھ حکومت بالآخر 14 سال بعد کراچی کے شہریوں کے لئے بسیں چلانے میں کامیاب ہوگئی۔ صوبائی حکومت کے منصوبے کے تحت کراچی میں 7 مختلف روٹس پر کْل 240 بسیں چلائی جائیں گی۔ اس سلسلے ...

کراچی میں پیپلز بس سروس کا آغاز، 240 بسیں چلائی جائیں گی

ایس ایس پی تھرپارکر کاعہدہ خطرے میں پڑ گیا وجود - منگل 28 جون 2022

رپورٹ :شاہنواز خاصخیلی تھرپارکر کے صوبائی حلقے ننگرپارکر میں انتخابی کشیدگی بڑھ گئی، ایم پی اے قاسم سراج سومرو غیر محفوظ، ایس ایس پی تھرپارکر کا عہدہ خطرے میں پڑ گیا، ننگرپارکر سے واپسی پر قاسم سراج پر مبینہ حملے کے کوشش، ایس ایچ او جہانگرو نے حملے کے الزام کو رد کردیا، امن امان ...

ایس ایس پی تھرپارکر کاعہدہ خطرے میں پڑ گیا

محکمہ لائیو اسٹاک سندھ ،کروڑوں کی اسکیمیں غیر معیاری ہونے کا انکشاف وجود - منگل 28 جون 2022

محکمہ لائیو اسٹاک سندھ کی کروڑوں روپے کی اسکیمیں غیر معیاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے،ڈی جی نذیر کلہوڑو کے ماتحت کئی اضلاع میں جانوروں کی افزائش کے پائلٹ پروجیکٹ بھی ناکام ہوگئے، منصوبوں میں کرپشن کا خدشہ۔ جرأت کی خصوصی رپورٹ کے مطابق محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز نے تھرپارکر میں کیٹ...

محکمہ لائیو اسٹاک سندھ ،کروڑوں کی اسکیمیں غیر معیاری ہونے کا انکشاف

پیپلزپارٹی نے میرپورخاص کی میئر شپ ایم کیو ایم سے چھین لی وجود - منگل 28 جون 2022

رپورٹ :شاہنواز خاصخیلی سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ، پیپلزپارٹی نے میرپورخاص میونسپل کارپوریشن کی میئر شپ ایم کیو ایم سے چھین لی، فنکشنل لیگ کو سانگھڑ اور عمرکوٹ میں شکست، ننگرپارکر میں پیپلزپارٹی کے باغی رہنما غنی کھوسو نے پیپلزپارٹی سے ٹاؤن کمیٹی ننگر پارکر اور تین ...

پیپلزپارٹی نے میرپورخاص کی میئر شپ ایم کیو ایم سے چھین لی

بلدیہ حیدرآباد‘اسسٹنٹ ڈائریکٹر فیاض کلیار نے تجاوزات کو دھندہ بنا لیا وجود - منگل 28 جون 2022

رپورٹ :علی نواز بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر انکروچمنٹ فیاض کلیار نے تجاوزات کو دھندہ بنا لیا، ڈائریکٹر کے پروٹوکول لیلئے، گاڑی سمیت پیٹرول کی مراعات، ٹیکسیشن افسر لطیف کا اضافی چارج سے بھی نواز دیا گیا، ڈائریکٹر سید عاصم جعفری مفلوج، تفصیلات کے مطابق بلدیہ اعلیٰ حیدرآ...

بلدیہ حیدرآباد‘اسسٹنٹ ڈائریکٹر فیاض کلیار نے تجاوزات کو دھندہ بنا لیا

سپر ٹیکس پروڈکٹ پر نہیں صرف کمپنی پر لاگو ہوگا،مفتاح اسماعیل وجود - منگل 28 جون 2022

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے کچھ معاملات پر باتیں چل رہی ہیں، جو ایک دو روز تک تک مکمل ہو جائیں گی اور اگلے ہفتے تک معاہدہ ہو جائے گا۔ایک انٹرویومیں وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے جو سپر ٹیکس لگایا ہے وہ کسی پراڈکٹ پر نہیں کمپنی پر...

سپر ٹیکس پروڈکٹ پر نہیں صرف کمپنی پر لاگو ہوگا،مفتاح اسماعیل

مضامین
خودکشی کے مترادف وجود منگل 28 جون 2022
خودکشی کے مترادف

لال قلعہ کاقیدی وجود پیر 27 جون 2022
لال قلعہ کاقیدی

بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ، پیپلزپارٹی نے اپنے نام کیسے کیا؟ وجود پیر 27 جون 2022
بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ، پیپلزپارٹی نے اپنے نام کیسے کیا؟

کوئی نہیں ساتھی قبرکا وجود جمعه 24 جون 2022
کوئی نہیں ساتھی قبرکا

اسمارٹ صرف فون ہوتا ہے وجود جمعه 24 جون 2022
اسمارٹ صرف فون ہوتا ہے

جمہوریت نہیں مہاپاپ وجود منگل 21 جون 2022
جمہوریت نہیں مہاپاپ

اشتہار

تہذیبی جنگ
یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ وجود جمعرات 16 جون 2022
یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ

گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا وجود منگل 14 جون 2022
گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج

بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر وجود منگل 07 جون 2022
بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر

گستاخانہ بیان پر بی جے پی ترجمان کو پولیس نے طلب کرلیا وجود منگل 07 جون 2022
گستاخانہ بیان پر بی جے پی ترجمان کو پولیس نے طلب کرلیا

اشتہار

بھارت
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت وجود اتوار 19 جون 2022
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت

سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری وجود جمعرات 09 جون 2022
سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج
افغانستان
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان وجود بدھ 25 مئی 2022
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان

خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان وجود پیر 23 مئی 2022
خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان

سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا وجود پیر 23 مئی 2022
سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا

بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے وجود جمعرات 09 جون 2022
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے

چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل وجود منگل 24 مئی 2022
چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل

گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام وجود اتوار 22 مئی 2022
گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام