وجود

... loading ...

وجود

ازخود نوٹس، سپریم کورٹ نے ہائی پروفائل مقدمات میں تبادلے اور تقرریاں روک دیں

جمعرات 19 مئی 2022 ازخود نوٹس، سپریم کورٹ نے ہائی پروفائل مقدمات میں تبادلے اور تقرریاں روک دیں

سپریم کورٹ آف پاکستان نے تفتیشی اداروں میں حکومتی اداروں کی مداخلت کے مبینہ تاثر کے حوالے سے ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے ہائی پروفائل کیسز، خصوصی عدالت اور نیب کیسز میں تقرریوں اور تبادلوں سے تاحکم ثانی روک دیا۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ اسپیشل جج سینٹرل اور احتساب عدالت کے ججز کو تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ عدالت وفاقی حکومت سے گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران پراسیکیوشن اور تفتیش کے محکمہ میں ہونے والی تقرروتبادلوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں اور کہا ہے کہ بتایا جائے کس بنیاد پر اور کن، کن لوگوں کے تقروتبادلے کیے گئے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی او رجسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل بینچ نے ازخود نوٹس پر سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی کو ہدایت کی کہ وہ جج کا نوٹ پڑھیں جس پر ازخود نوٹس لیا گیا جبکہ عدالت نے پراسیکیوشن کو ہائی پروفائل کیسز واپس لینے کے حوالے سے کوئی بھی درخواست دینے سے بھی روک دیا ہے۔ عدالت نے احتساب اور دیگر عدالتوں میں ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ سیل کرکے نیب اور اسپیشل جج سینٹرل ججزکے کمنٹس کے ساتھ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ٹرائل کورٹ کا ریکارڈ نہیں، تفتیشی اور استغاثہ کا ریکارڈ سیل کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ چھ ہفتے میں جن افراد کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے ان کی فہرست دیں۔ ای سی ایل پر نام ڈالنے اور نکالنے کا طریقہ کار بدلا ہے عدالت کے سامنے رکھیں۔ عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین نیب اور سیکریٹری داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جوابات طلب کرلیے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ نیب اور ایف آئی اے کے پراسیکیوٹرز سمیت تمام متعلقہ افسران تحریری جواب دیں، تمام متعلقہ افسران اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا جواب دیں۔ بتایا جائے کیسز میں تفتیشی افسران کے تقرر وتبادلے کس بنیاد پر کیے گئے؟ شہباز شریف، حمزہ شہباز کے کیسزمیں تفتیشی افسران کے تبادلے کس بنیاد پر ہوئے؟ عدالت نے ازخود نوٹس پر مزید سماعت 27 مئی تک ملتوی کردی۔ عدالت نے کہا کہ میڈیا رپورٹس ہیں کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف چار نیب مقدمات کا ریکارڈ غائب ہو گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس پر عدالت کو تشویش ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کا مقصد کسی کو شرمندہ یا شرمسار کرنا نہیں ہے بلکہ صرف جو جوڈیشل کریمنل سسٹم ہے اس کے اوپر عوام کا اعتماد برقرار رہے اور اس کو عدالت مجروح نہیں ہونے دے گی اور اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوٹس لیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل25، آرٹیکل25-A، آرٹیکل10، آرٹیکل10-A اورآرٹیکل4 کی عملدآری چاہتے ہیں،کریمنل جسٹس سسٹم کی شفافیت اور ساکھ کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، عدالتی کارروائی کا مقصد کسی کو بھی ملزم ٹھرانا نہیں بلکہ پاکستانی عوام جنہیں آئین پاکستان کے اندر تحفظ دیا گیا انہیں تحفظ کا احساس دلانا ہے اورکسی بھی ہائی پروفائل کو اپنی من مانی کرنے سے روکنا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے حوالے سے ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ ججز کو تنقید کا نشانا نہ بنایا جائے بلکہ عدالت کے فیصلوں پر کوئی بھی نقطہ نظر دیا جاسکتا ہے، عدالت تنقید سے نہ تو خوفزدہ ہے اور نہ ہی ہمیں کسی کی تعریف چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مختلف افسران کے تبادلوں کی خبر ملی، ڈی جی ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی اور ڈائریکٹر ایف آئی اے محمد رضوان کا تبادلہ کیا گیا، دونوں متعدد بار عدالت میں پیش ہوتے رہے اور ان کی کارکردگی کے بارے میں جانتے ہیں وہ اچھے افسران تھے، ان کو تبدیل کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹر رضوان کو بھی تبدیل کردیا گیا ،انہیں بعد میں ہارٹ اٹیک ہوا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وجوہات جاننا چاہتے ہیں کہ جو اعلیٰ حکام ہیں اور جو حکومتی شخصیات کے کیسز ہیں ان میں شامل تفتیشی افسران اور پراسیکیوشن کے تبادلے کیوں ہو رہے ہیں اور وہ کیسز سننے سے منع کیوں کررہے ہیں۔ جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت میں تحریری درخواست دی اور بتایا کہ انہیں پیش نہ ہونے کا کہا گیا کہ جو بندہ وزیراعلی/وزیراعظم بننے والا ہے اس کے مقدمہ میں پیش نہ ہو۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بظاہر یہ ٹارگٹڈ ٹرانسفر پوسٹنگ کی گئیں، اس پر تشویش ہے، اس لیے چیف جسٹس نے سوموٹو نوٹس لیا آپ تعاون کریں۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے جواب دیا کہ ایف آئی اے کے پاس ان تبدیلیوں کی کوئی معقول وجہ ہوگی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سسٹم کو اندرونی اور بیرونی خطرات لاحق ہیں، ہائی پروفائل کیسز میں تبادلوں اورتقرریوں پر تشویش ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ای سی ایل کی پالیسی کے حوالے سے بھی جاننا چاہتے ہیں، جاننا چاہتے ہیں کہ کس طریقہ کار سے ای سی ایل میں موجود افراد کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے؟ کوئی رائے نہیں دے رہے، صرف حقائق جاننا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اخباری خبروں کے مطابق ای سی ایل پالیسی بدلنے سے تین ہزار سے زائد لوگ مستفید ہوں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان معاملات پر تشویش ہے، ان معاملات سے قانون کی حکمرانی پر اثر پڑ رہا ہے، امن اور اعتماد معاشرے میں برقراررکھنا آئین کے تحت سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کو برقراررکھنا ہے۔ چیف جسٹس نے مختلف اخباری تراشوں کا حوالہ دیا اور کہا ان رپورٹس سے ہمیں پتا چلا ہے اور ہم مہینوں سے یہ صورتحال دیکھ رہے ہیں ، ہمارے سسٹم کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، اس طرح کی سرگرمیوں سے خطرہ ہے، اس لیے اس پر جواب دیا جائے چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ ایف آئی اے لاہور کی عدالت میں پراسیکیوٹر کو تبدیل کردیا گیا، ڈی جی ایف آئی اے نے تفتیشی افسر کو کہا کہ نئے بننے والے وزیر اعلیٰ کے کیس میں پیش نہ ہونا، پراسیکیوشن برانچ اورتفتیش کے عمل میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے، پراسیکیوشن افسران کو ہٹانے کی وجوہات جاننا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین نیب اور سیکریٹری داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے چاروں صوبوں کے پراسیکیوٹر جنرلز ،چاروں صوبوں کے نیب اور ایف آئی اے کے ہیڈ آف پراسیکیوشن ، نیب کے چاروں ریجنل ڈائریکٹر جنرلز کو نوٹس جاری کیا ہے اور کہا کہ 18مئی 2022کو عدالت کا جو حکم ہے ان تمام باتوں کے اوپر متعلقہ مواد اور میٹریل کے حوالے سے جواب داخل کریں جبکہ تمام تفتیشی افسران جن کی تقرریاں اور تبادلے کیے گئے ہیں ان کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔


متعلقہ خبریں


18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل وجود - جمعه 12 جون 2026

اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ وجود - جمعه 12 جون 2026

صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

مضامین
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج وجود هفته 13 جون 2026
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج

بصارت سے آگے کا سفر وجود جمعه 12 جون 2026
بصارت سے آگے کا سفر

امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات وجود جمعه 12 جون 2026
امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات

ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟ وجود جمعه 12 جون 2026
ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟

آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر