وجود

... loading ...

وجود
منگل 21 اپریل 2026

ازخود نوٹس، سپریم کورٹ نے ہائی پروفائل مقدمات میں تبادلے اور تقرریاں روک دیں

جمعرات 19 مئی 2022 ازخود نوٹس، سپریم کورٹ نے ہائی پروفائل مقدمات میں تبادلے اور تقرریاں روک دیں

سپریم کورٹ آف پاکستان نے تفتیشی اداروں میں حکومتی اداروں کی مداخلت کے مبینہ تاثر کے حوالے سے ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے ہائی پروفائل کیسز، خصوصی عدالت اور نیب کیسز میں تقرریوں اور تبادلوں سے تاحکم ثانی روک دیا۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ اسپیشل جج سینٹرل اور احتساب عدالت کے ججز کو تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ عدالت وفاقی حکومت سے گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران پراسیکیوشن اور تفتیش کے محکمہ میں ہونے والی تقرروتبادلوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں اور کہا ہے کہ بتایا جائے کس بنیاد پر اور کن، کن لوگوں کے تقروتبادلے کیے گئے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی او رجسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل بینچ نے ازخود نوٹس پر سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی کو ہدایت کی کہ وہ جج کا نوٹ پڑھیں جس پر ازخود نوٹس لیا گیا جبکہ عدالت نے پراسیکیوشن کو ہائی پروفائل کیسز واپس لینے کے حوالے سے کوئی بھی درخواست دینے سے بھی روک دیا ہے۔ عدالت نے احتساب اور دیگر عدالتوں میں ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ سیل کرکے نیب اور اسپیشل جج سینٹرل ججزکے کمنٹس کے ساتھ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ٹرائل کورٹ کا ریکارڈ نہیں، تفتیشی اور استغاثہ کا ریکارڈ سیل کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ چھ ہفتے میں جن افراد کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے ان کی فہرست دیں۔ ای سی ایل پر نام ڈالنے اور نکالنے کا طریقہ کار بدلا ہے عدالت کے سامنے رکھیں۔ عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین نیب اور سیکریٹری داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جوابات طلب کرلیے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ نیب اور ایف آئی اے کے پراسیکیوٹرز سمیت تمام متعلقہ افسران تحریری جواب دیں، تمام متعلقہ افسران اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا جواب دیں۔ بتایا جائے کیسز میں تفتیشی افسران کے تقرر وتبادلے کس بنیاد پر کیے گئے؟ شہباز شریف، حمزہ شہباز کے کیسزمیں تفتیشی افسران کے تبادلے کس بنیاد پر ہوئے؟ عدالت نے ازخود نوٹس پر مزید سماعت 27 مئی تک ملتوی کردی۔ عدالت نے کہا کہ میڈیا رپورٹس ہیں کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف چار نیب مقدمات کا ریکارڈ غائب ہو گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس پر عدالت کو تشویش ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کا مقصد کسی کو شرمندہ یا شرمسار کرنا نہیں ہے بلکہ صرف جو جوڈیشل کریمنل سسٹم ہے اس کے اوپر عوام کا اعتماد برقرار رہے اور اس کو عدالت مجروح نہیں ہونے دے گی اور اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوٹس لیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل25، آرٹیکل25-A، آرٹیکل10، آرٹیکل10-A اورآرٹیکل4 کی عملدآری چاہتے ہیں،کریمنل جسٹس سسٹم کی شفافیت اور ساکھ کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، عدالتی کارروائی کا مقصد کسی کو بھی ملزم ٹھرانا نہیں بلکہ پاکستانی عوام جنہیں آئین پاکستان کے اندر تحفظ دیا گیا انہیں تحفظ کا احساس دلانا ہے اورکسی بھی ہائی پروفائل کو اپنی من مانی کرنے سے روکنا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے حوالے سے ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ ججز کو تنقید کا نشانا نہ بنایا جائے بلکہ عدالت کے فیصلوں پر کوئی بھی نقطہ نظر دیا جاسکتا ہے، عدالت تنقید سے نہ تو خوفزدہ ہے اور نہ ہی ہمیں کسی کی تعریف چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مختلف افسران کے تبادلوں کی خبر ملی، ڈی جی ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی اور ڈائریکٹر ایف آئی اے محمد رضوان کا تبادلہ کیا گیا، دونوں متعدد بار عدالت میں پیش ہوتے رہے اور ان کی کارکردگی کے بارے میں جانتے ہیں وہ اچھے افسران تھے، ان کو تبدیل کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹر رضوان کو بھی تبدیل کردیا گیا ،انہیں بعد میں ہارٹ اٹیک ہوا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وجوہات جاننا چاہتے ہیں کہ جو اعلیٰ حکام ہیں اور جو حکومتی شخصیات کے کیسز ہیں ان میں شامل تفتیشی افسران اور پراسیکیوشن کے تبادلے کیوں ہو رہے ہیں اور وہ کیسز سننے سے منع کیوں کررہے ہیں۔ جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت میں تحریری درخواست دی اور بتایا کہ انہیں پیش نہ ہونے کا کہا گیا کہ جو بندہ وزیراعلی/وزیراعظم بننے والا ہے اس کے مقدمہ میں پیش نہ ہو۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بظاہر یہ ٹارگٹڈ ٹرانسفر پوسٹنگ کی گئیں، اس پر تشویش ہے، اس لیے چیف جسٹس نے سوموٹو نوٹس لیا آپ تعاون کریں۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے جواب دیا کہ ایف آئی اے کے پاس ان تبدیلیوں کی کوئی معقول وجہ ہوگی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سسٹم کو اندرونی اور بیرونی خطرات لاحق ہیں، ہائی پروفائل کیسز میں تبادلوں اورتقرریوں پر تشویش ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ای سی ایل کی پالیسی کے حوالے سے بھی جاننا چاہتے ہیں، جاننا چاہتے ہیں کہ کس طریقہ کار سے ای سی ایل میں موجود افراد کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے؟ کوئی رائے نہیں دے رہے، صرف حقائق جاننا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اخباری خبروں کے مطابق ای سی ایل پالیسی بدلنے سے تین ہزار سے زائد لوگ مستفید ہوں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان معاملات پر تشویش ہے، ان معاملات سے قانون کی حکمرانی پر اثر پڑ رہا ہے، امن اور اعتماد معاشرے میں برقراررکھنا آئین کے تحت سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کو برقراررکھنا ہے۔ چیف جسٹس نے مختلف اخباری تراشوں کا حوالہ دیا اور کہا ان رپورٹس سے ہمیں پتا چلا ہے اور ہم مہینوں سے یہ صورتحال دیکھ رہے ہیں ، ہمارے سسٹم کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، اس طرح کی سرگرمیوں سے خطرہ ہے، اس لیے اس پر جواب دیا جائے چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ ایف آئی اے لاہور کی عدالت میں پراسیکیوٹر کو تبدیل کردیا گیا، ڈی جی ایف آئی اے نے تفتیشی افسر کو کہا کہ نئے بننے والے وزیر اعلیٰ کے کیس میں پیش نہ ہونا، پراسیکیوشن برانچ اورتفتیش کے عمل میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے، پراسیکیوشن افسران کو ہٹانے کی وجوہات جاننا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین نیب اور سیکریٹری داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے چاروں صوبوں کے پراسیکیوٹر جنرلز ،چاروں صوبوں کے نیب اور ایف آئی اے کے ہیڈ آف پراسیکیوشن ، نیب کے چاروں ریجنل ڈائریکٹر جنرلز کو نوٹس جاری کیا ہے اور کہا کہ 18مئی 2022کو عدالت کا جو حکم ہے ان تمام باتوں کے اوپر متعلقہ مواد اور میٹریل کے حوالے سے جواب داخل کریں جبکہ تمام تفتیشی افسران جن کی تقرریاں اور تبادلے کیے گئے ہیں ان کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔


متعلقہ خبریں


جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

مضامین
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار وجود منگل 21 اپریل 2026
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

انسان ہونا آسان نہیں! وجود منگل 21 اپریل 2026
انسان ہونا آسان نہیں!

مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ وجود منگل 21 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ

آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر