وجود

... loading ...

وجود

وقت کہاں بہتا ہے؟

پیر 16 مئی 2022 وقت کہاں بہتا ہے؟

کوئی مانے یا نہ مانے، عمران خان سیاست کا اولین محرک اور موضوع بن چکے ۔ حالات کے تیور عمران خان کے اقدامات سے بننے بگڑنے لگے ہیں۔ طاقت کے رائج مراکز میں اس نئے رجحان نے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے۔ وقت ایک اور سمت میں بہتا ہے۔ مگر طاقت کے مراکز حالات پر پرانی روش سے گرفت رکھنے کو کوشاں ہیں۔ طاقت کی نفسیات ہی کچھ ایسی ہے کہ وہ روشِ کہنہ پر اڑی رہتی ہے اور وقت آگے نکل جاتا ہے۔ کیا وہ لمحۂ مسعود آن پہنچا، جب رائج فارمولے ٹوٹنے لگتے ہیں، اور نئے رجحانات تشکیل پاتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست ایسے ہی نئے دور کی چاپ سن رہی ہے۔ نئے تشکیلی دور کے محرکات، پرانے رجحانات سے تصادم آشنا ہوتے ہیں۔ اس کی کوئی تہذیب نہیں ہوتی، یہ اپنی ہی نفسیات کے ساتھ ایک ہڑبونگ مچاتے ہیں۔ یہ نئے رجحانات کی تشکیل سے پہلے کا عبوری دور ہوتا ہے۔ پاکستان اُسی عبوری دور سے گزررہا ہے۔ جہاں طاقت رکھنے والے گروہ ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔ دوست ، دشمن بن رہے ہیںا ور دشمن دوست ۔
طاقت کے مراکز پہاڑ ایسی غلطیاں کرچکے۔ پاکستان کی پوری تاریخ میں حریف اور حلیف وقت کے ساتھ بدلے، جسے حب الوطنی اور قومی مفاد کے مقدس الفاظ سے ملفوف کیا گیا۔ اب سچ تو یہ ہے کہ ان کا کوئی دوست نہیں۔شیخ سعد ی سے کسی نے کہا: میرا کوئی دوست نہیں؟ شیخ سعدی نے جواب نہیں سوال کیا: یہ بتاؤ تم کسی کے دوست ہو؟شیخ سعدی کے اس سوال کے آئینے میں ہم سب اپنے چہرے دیکھ سکتے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سیاست میں کوئی کسی کے ساتھ نہیں، سب سیاست کررہے ہیں۔ عمران حکومت کے خاتمے نے طاقت کے مراکز کے لیے غیر متوقع نتائج پیدا کردیے۔ یہ سوچا نہیں گیا تھا کہ مقبولیت کی غیر متوقع لہر ایسے شخص کے لیے اُٹھے گی جو ساڑھے تین برس کی نامقبول حکومت کے بعد نکالا گیا ہو۔ طاقت کے مراکز عمران خان کے متعلق غلط اندازے رکھتے تھے۔ ایک غلطی تو یہ ہوئی کہ عمران خان کے متعلق یہ نہیں سوچا گیا تھا کہ وہ دباؤ میں زیادہ بھرپور طریقے سے بروئے کار آتا ہے۔ دوسرے یہ کہ پاکستان میں امریکا مخالف جذبات کا درست ادراک امریکی غلاموں کو آج تک ہوا ہی نہیں۔ اگر امریکا مخالف جذبات کو حقیقی اور غیر سیاسی طور پر منظم کردیا جائے تو پاکستان میں انقلاب کو، کوئی طاقت بھی اپنی پوری طاقت استعمال کرنے کے باوجود بھی نہیں روک سکتی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس حقیقی صورتِ حال کے باوجود طاقت کے مراکز امریکا کے محور سے نکلنے کو تیار نہیں۔ امریکا کے ساتھ ان کے روابط کی” گہرائی”اس قدر خطرناک ہوچکی ہے کہ یہ مقامی انداز وتیورتک بھول چکے ہیں۔ ان کے انداز وتیور بھی مقامی سیاست میں”امریکی” ہوچکے ہیں۔ امریکی ناقابل یقین ہوتے ہیں،وعدوں اور انسانی قدروں کا لحاظ نہیں کرتے۔ اپنا الّوسیدھا کرنے کے لیے کسی بھی حد کو پھلانگ لیتے ہیں۔ اپنے مکروہ اہداف حاصل کرنے کے لیے مذہب سمیت ہر چیز کا استعمال کرتے ہیں۔ سوویت یونین کے خلاف مجاہدین کو استعمال کرنا تھا تو اُن کے لیے مذہبی لٹریچر تیار کرایا، اُنہیں امریکا کی جنگ آزادی کے ہیروز کے ہم پلہ قرار دیا۔ جب نوگیا رہ کے بعد اُنہیں ایک دوسری جنگ درکار تھی تو مذہب کے خلاف دہشت گردی کا بیانیہ استعمال کیا۔ اُنہیں انتہاپسند، وحشی اور گنوار قرار دیا ۔ روشن خیالی اور جدیدیت کی پھُلجڑیاں چھوڑیں۔ پاکستان کے امریکی محور میں پالیسیاں رکھنے کے مظاہر بھی اسی طرح سامنے آئے۔
سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل ضیاء الحق تھے۔ جب دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مذہب کے ساتھ افغانستان کو نشانے پرلیا گیا تو یہاں فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف تھے۔ ایک کے لیے مردِ مومن مردِ حق کے نعرے لگتے، اور دوسرا سر پر گلاس رکھ کر رقص کرتے ہوئے ویڈیو بنواتااور شرم کا کوئی احساس تک کہیں نظر نہ آتا۔ دونوں ادوار میں طاقت کے مراکز میں پاکستانی دانشور بھی الگ الگ قسم کے گھومتے گھامتے دکھائی دیتے۔ پہلے کے ہاں ایسے لوگ مدعو ہوتے جو مذہب کے قریب دکھائی دیتے اور دائیں بازو کے نظریات کے حامل سمجھے جاتے۔ دوسرے کے ہاں ایسے دانشورپسند کیے گئے جن کی راتیں مدہوش ہوتیں اور جن کے دن خمار آلود گزرتے۔ ستم ظریفی دیکھیے ! جنرل ضیاء کے دور میں ان پر پاکستان مخالف اور بھارت سے تال میل رکھنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے اور یہی جنرل پرویز مشرف کے دور میںپسندیدہ قرار دیے گئے اور پہلے والے حب الوطنی کے چیلنج سے گزرے۔ یہ سب کچھ اتنی بار ہو چکا ہے کہ اب کسی کو بھی، کسی چیز کا اعتبار نہیں رہا۔پاکستان میں طاقت کے مراکز میں پالیسی سطح پر افراد اور نظریات کے یہ گہرے اور متضاد دائرے دراصل امریکی محور میں ہونے اور رہنے کے باعث پیدا ہوئے۔ امریکا تو ایک الگ ملک تھا، مگر ہم یہاں ایک قوم تھے اور ہماری ایک خاص بودوباش ہے۔ امریکا بطور ریاست ایک ریاست سے معاملہ کرتے ہوئے الگ الگ کھیل کھیلنے سے کیوں ہچکچائے گا؟ مگر ہم اس گندے اور گھناؤنے کھیل میں امریکی پیروی کے اندر دوست ، دشمن بنالیتے ہیں اور دشمن دوست۔ چنانچہ چند برسوں میںیہ دائرہ پھر گھومتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب سب ذات اور اعتبارِ ذات کے درمیان ہچکولے کھارہے ہیں۔ کوئی کسی پر بھروسا نہیں کرتا اور کسی کے پاس بھی کسی پر بھروسا کرنے کا کوئی جواز باقی بھی نہیں رہا۔
اس تناظر میں اب پاکستانی سیاست کے حالیہ اُتار چڑھاؤ کا ایک جائزہ لیںتو نہایت بھیانک تصویر سامنے آتی ہے۔ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی ڈارلنگ کے طور پر اُبھرے۔ اُنہیں ایک ”پراجیکٹ” قرار دیاگیا جس کی ایک ”شیلف لائف” بھی متعین کرلی گئی۔ انسان، روبوٹ تو نہیں ہوتے، اُن کی حرکت مشینی نہیں ہوتی۔ وہ سوئچ آن اور سوئچ آف کی طرح کھل بند نہیں ہوتے۔ انسانی حرکت کی ایک نفسیات ہوتی ہے۔ اُن کے اندر ایک جذباتی تحریک ہوتی ہے۔ اُنہیںہاں اور ناں کے ساتھ نہیں چلایا جاسکتا۔ مگر طاقت کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ وہ انسانوں کو اپنی تحویل میں رکھ کر اور اُس پر اپنی قدرتِ کاملہ جتلا کر رہتا ہے۔ یہی کچھ عمران خان کے معاملے میں بھی ہوا۔ عمران خان اس اعتبار سے نوازشریف یا زرداری قسم کے آدمی واقع نہیںہوئے۔ مگر پھر بھی طاقت کے مراکز عمران خان کو اُن کی ہی طریقوں سے قابو کرنا چاہتے ہیں جن سے زرداری اور نوازشریف قابو کیے گئے۔ بدعنوانی کے مقدمات، نیب کا دباؤ ، ایف آئی اے کی تنبیہ اور اس نوع کی دیگر حرکتیں نوازشریف اور زرداری کے معاملے میں موثر رہیں ، مگر عمران خان ایک مختلف قسم کا چیلنج ثابت ہوئے۔وہ پاکستان کے اندر عوامی پزیرائی کی ایک ایسی لہر پر سوار ہے جو ماضی میں کبھی کسی کو حاصل نہیں رہی۔ بھٹو کی پزیرائی بھی طبقاتی تھی، عمران خان اس باب میں حمایت کی تمام گروہی شکلوں سے اوپر اُٹھ گئے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ خود طاقت کے مراکز میں بھی عمران خان کی حمایت واضح طور پر سامنے آرہی ہے۔ طاقت کا مسئلہ یہ ہے کہ عورت جس طرح پورا دمی مانگتی ہے اور وہ اس میں کسی کو شریک نہیں دیکھنا چاہتی ، طاقت بھی کسی نوع کی تقسیم گوارا نہیں کرتی۔مگر عمران خان کی ہمہ گیر حمایت کا چیلنج اتنا بڑا بن کر سامنے آیا ہے کہ طاقت تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ قومی سیاست کا طلسم ٹوٹ رہا ہے۔ عمران خان اس کا اولین محرک ہے۔ پاکستان کی پوری سیاست اُن کے گرد گھوم رہی ہے۔ تمام فریق عمران خان کے اقدامات کے جبر میں رہنے پر مجبور ہیں۔ عمران خان نے حکومت ملنے سے پہلے تک ردِ عمل اور حزب اختلاف کی سیاست کی تھی۔ حکومت سے نکالے جانے کے بعد اب وہ اقدامی اور ریاستی سیاست کررہے ہیں۔ جبکہ باقی تمام قوتیں اُن کی اقدامی سیاست کے ردِ عمل میں اپنی جوابی سیاست کررہی ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، عمران خان سیاست کا اولین محرک اور موضوع بن چکے ۔ حالات کے تیور عمران خان کے اقدامات سے بننے بگڑنے لگے ہیں۔ طاقت کے رائج مراکز میں اس نئے رجحان نے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے۔
٭٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
خودکشی کے مترادف وجود منگل 28 جون 2022
خودکشی کے مترادف

لال قلعہ کاقیدی وجود پیر 27 جون 2022
لال قلعہ کاقیدی

بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ، پیپلزپارٹی نے اپنے نام کیسے کیا؟ وجود پیر 27 جون 2022
بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ، پیپلزپارٹی نے اپنے نام کیسے کیا؟

کوئی نہیں ساتھی قبرکا وجود جمعه 24 جون 2022
کوئی نہیں ساتھی قبرکا

اسمارٹ صرف فون ہوتا ہے وجود جمعه 24 جون 2022
اسمارٹ صرف فون ہوتا ہے

جمہوریت نہیں مہاپاپ وجود منگل 21 جون 2022
جمہوریت نہیں مہاپاپ

اشتہار

تہذیبی جنگ
یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ وجود جمعرات 16 جون 2022
یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ

گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا وجود منگل 14 جون 2022
گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج

بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر وجود منگل 07 جون 2022
بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر

گستاخانہ بیان پر بی جے پی ترجمان کو پولیس نے طلب کرلیا وجود منگل 07 جون 2022
گستاخانہ بیان پر بی جے پی ترجمان کو پولیس نے طلب کرلیا

اشتہار

بھارت
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت وجود اتوار 19 جون 2022
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت

سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری وجود جمعرات 09 جون 2022
سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج
افغانستان
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان وجود بدھ 25 مئی 2022
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان

خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان وجود پیر 23 مئی 2022
خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان

سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا وجود پیر 23 مئی 2022
سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا

بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے وجود جمعرات 09 جون 2022
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے

چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل وجود منگل 24 مئی 2022
چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل

گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام وجود اتوار 22 مئی 2022
گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام