وجود

... loading ...

وجود

پرانے پاکستان کے بعد پرانے کراچی کی واپسی؟

جمعرات 12 مئی 2022 پرانے پاکستان کے بعد پرانے کراچی کی واپسی؟

 

افلاطون نے ایک بار کہا تھا کہ ’’سیاست میں حصہ نہ لینے کی ایک سزا یہ ہے کہ آخرِ کار آپ سے کمتر لوگ آپ پر راج کرنے لگتے ہیں‘‘۔لیکن کراچی کے باسیوں کا سب سے بڑا المیہ اور دُکھ یہ رہاہے کہ انہوں نے قیام پاکستان سے لے کر آج تک سیاست میں بھرپور انداز میں حصہ لیا ،مگر پھر بھی کراچی پر راج ہمیشہ سے کمتر لوگوں کا ہی رہا۔بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ کراچی نے جس سیاسی رہنما کو بھی اپنے بھرپور عوامی مینڈیٹ سے نوازا، اُسی رہنما نے اِس شہر پری تمثال کوبنیادی عوامی سہولیات مہیا کر کے اَمن و آشتی کا گہوارہ بنانے کے بجائے بدامنی ، انارکی اور قتل و غارت گری کے اندوہناک تحفے دیئے ۔ سوائے ایک دو استثنائی صورتوں کہ جب کراچی کا انتظام و انصرام نعمت اللہ خان یا مصطفی کمال جیسے کسی عوام دوست سیاست دان کے رہین منت رہاتھا۔آج کل خبریں گرم ہیں کہ کراچی ایک بار پھر اُن ہی لوگوں کے حوالے کیا جارہا ہے ،کہ چند برس قبل جن کے استبدادی پنجوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اہلیانِ کراچی کو بازیاب کروایا تھا۔
آپ بھی پڑھیئے اور اپنا سر دھنئے کہ نئی وفاقی حکومت نے ایم کیو ایم کی رہنما نسرین جلیل کو گورنر سندھ نامزد کردیا ہے اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے نسرین جلیل کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی سمری صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھیج دی گئی ہے، جسے بہر حال جلد یا بدیر منظور کرہی لیا جائے گا۔ یوں سابق ڈپٹی مئیرکراچی، نسرین جلیل صاحبہ سندھ کے 34ویں گورنرکی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گی۔وہ سندھ کی دوسری خاتون گورنرہونگی اس سے قبل بیگم رعنا لیاقت علی خان 15فروری 1973تا 28فروری 1976سندھ میں گورنر کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے چکی ہیں۔یاد رہے کہ نسرین جلیل کی سیاسی شناخت ایم کیوایم سے زیادہ بانی ایم کیو ایم کے ساتھ اُن کی غیر مشروط سیاسی وفاداری ہے ۔ بظاہر دنیا دکھاوے کے لیے کو ایم کیو ایم کے ساتھ لندن کے بجائے پاکستان کا لاحقہ جڑ چکا ہے مگر نسرین جلیل کا شمار اُن چند نادر و نایاب رہنماؤں میں ہوتا ہے ،جنہیں آج بھی بانی ایم کیو ایم کا معتمد خاص سمجھا جاتا ہے ۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ سیاسی حلقوں میں نسرین جلیل کے گورنر سندھ بنائے جانے کی خبر کو لندن کی ایک بڑی سیاسی کامیابی کے طور پر دیکھا جارہاہے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نسرین جلیل لاہورمیں پیداہوئیں مگرزندگی کا کم و بیش بیشترحصہ کراچی ہی میں گزرا ہے، وہ دو مرتبہ سینیٹ کی رُکن منتخب ہو چکی ہیں ۔2002 میں نسرین جلیل نے این اے 250سے عام انتخابات میں حصّہ لیا، لیکن کامیابی حاصل نہ کر سکیں اور بدترین شکست سے دوچار ہوئیں۔ تاہم، نسرین جلیل نے 2012 میں سینیٹ کے انتخابات میں بھر پور کامیابی حاصل کرلی تھی۔وہ متحدہ قومی موومنٹ کی ڈپٹی کنوینر اور اکنامک اینڈ فنانس ریونیو اور پرائیوٹائزیشن سمیت سینیٹ کی کئی کمیٹیوں کی چیئر پرسن بھی رہیں۔ایم کیو ایم کے خلاف کراچی میں آپریشن کے آغاز کے دوران نسرین جلیل کو بھی گرفتار کیا گیا تھااور اُن پر مقدمہ چلانے کے بعد3سال کی سزا کاٹنے کے لیے جیل بھیج دیا گیاتھا۔ بعد ازاں 6ماہ کی اسیری کے بعد انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا، مگر اس دوران سینیٹ کے چیئرمین کی جانب سے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر وہ سینیٹ کے اجلاس میں شرکت کرنے لگیں۔نسرین جلیل پہلی مرتبہ1994 اور دوسری مرتبہ 2012ء میں سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کی چیئر پرسن بنیں اور اسی حیثیت میں بالخصوص خواتین کے حقوق کے لیے پارلیمانی پلیٹ فارم پر اپنی خدمات سرانجام دے چکی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی جانب سے ایم کیو ایم کی رہنما نسرین جلیل صاحبہ کو گورنر سندھ بنائے جانے کی سمری بھیجنے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’کرائم منسٹر نے نسرین جلیل کا نام سندھ کے نئے گورنر کے طور پر تجویز کیا ہے ، جن محترمہ نے 18 جون 2015 کو انڈین ہائی کمیشن کو خط لکھا اور پاکستان کے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے خلاف تعاون مانگاتھا،اور ہمیں دکھ اس بات کا ہے کہ کراچی میں جو گند سکیورٹی اداروں نے بڑی محنت سے صاف کیا تھا وہ واپس آرہا ہے‘‘۔بظاہر فواد چوہدری کی جانب سے دیا گیایہ ایک سیاسی بیان ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے سوا کچھ اور نہیں۔ کیونکہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام کروانے کے عوض پاکستان تحریک انصاف نے بھی ایم کیوایم کو اُن کی مرضی کے عین مطابق کسی بھی شخص کو سندھ کا گورنر بنانے کی پیشکش کی تھی ۔ یعنی اگر ایم کیوایم تحریک عد اعتماد ناکام بنانے کے لیے متحدہ اپوزیشن کے بجائے تحریک انصاف کی پیشکش کو قبول کرلیتی تو شاید آج تحریک انصاف نسرین جلیل کو گورنر سندھ کا منصب ہدیہ تبریک کے طور پر پیش کررہی ہوتی ۔
بہرکیف تحریک انصاف کے سیاسی تحفظات اور بیان بازی سے قطع نظریہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ گورنر سندھ کے آئینی عہدے پر نسرین جلیل کی تعیناتی وفاقی حکومت کا ایک ایسا غیر مقبول سیاسی فیصلہ ہے ،جس پر صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی نہیں بلکہ کراچی کی عوام بھی شدید مضطرب دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ کسی بھی صوبے کا گورنر فقط ایک آئینی سربراہ ہوتا ہے اور اس کے پاس انتظامی اختیارات نہ ہونے کے برابر ہی ہوتے ہیں اور ویسے بھی پاکستان پیپلزپارٹی کے طاقت ور وزیراعلیٰ کی موجودگی میں کسی دوسری سیاسی جماعت کا گورنر سندھ اگر چاہے بھی تو اپنے پَر پرُزے نہیں نکال سکتا۔ اس لیے نسرین جلیل کے گورنر سندھ بن جانے سے سندھ کے سیاسی منظر نامہ میں کوئی بڑی جوہری تبدیلی کی توقع اور اُمید تو خیر کسی کو بھی نہیں ہوگی ۔مگر اُس کے باوجود نسرین جلیل صاحبہ کے گورنر سندھ کے منصب کے فائز ہونے کی مصدقہ خبر سننے کے بعد عام لوگوںکے ذہنوں میں یہ سوال ضرور پنپنے لگا ہے کہ کیا پرانے پاکستان کے ساتھ پرانے کراچی اور پرانی ایم کیو ایم کا تاریک دور بھی واپس لائے جانے کی تیاری کی جاچکی ہے؟۔
٭٭٭٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
خون کی بارش وجود جمعه 20 مئی 2022
خون کی بارش

پہلے اور اب وجود جمعه 20 مئی 2022
پہلے اور اب

انتخاب کرلیں وجود بدھ 18 مئی 2022
انتخاب کرلیں

کام کی باتیں۔۔ وجود بدھ 18 مئی 2022
کام کی باتیں۔۔

باغی اوربغاوت وجود منگل 17 مئی 2022
باغی اوربغاوت

وقت کہاں بہتا ہے؟ وجود پیر 16 مئی 2022
وقت کہاں بہتا ہے؟

اشتہار

تہذیبی جنگ
وفاقی شرعی عدالت کا 19سال بعد فیصلہ ، سود کے لیے سہولت کاری کرنے والے تمام قوانین ، شقیں غیرشرعی قرار وجود جمعرات 28 اپریل 2022
وفاقی شرعی عدالت کا 19سال بعد فیصلہ ، سود کے لیے سہولت کاری کرنے والے تمام قوانین ، شقیں غیرشرعی قرار

بھارتی معروف سماجی کارکن سبری مالا نے اسلام قبول کرلیا، نام فاطمہ سبریمالا رکھ لیا وجود منگل 26 اپریل 2022
بھارتی معروف سماجی کارکن سبری مالا نے اسلام قبول کرلیا، نام فاطمہ سبریمالا رکھ لیا

موبائل فون فلسطینیوں کا بندوق سے زیادہ طاقتور ہتھیار بن گیا وجود هفته 23 اپریل 2022
موبائل فون فلسطینیوں کا بندوق سے زیادہ طاقتور ہتھیار بن گیا

سپریم لیڈر لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے حامی ہیں،سینئر طالبان رکن وجود پیر 18 اپریل 2022
سپریم لیڈر لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے حامی ہیں،سینئر طالبان رکن

سوئیڈن میں قران پاک کی بے حرمتی کے اعلان پر احتجاج وجود اتوار 17 اپریل 2022
سوئیڈن میں قران پاک کی بے حرمتی کے اعلان پر احتجاج

ایمن الظواہری کی نئی ویڈیو،اللہ اکبرکا نعرہ لگانے والی بھارتی لڑکی کی تعریف وجود بدھ 06 اپریل 2022
ایمن الظواہری کی نئی ویڈیو،اللہ اکبرکا نعرہ لگانے والی بھارتی لڑکی کی تعریف

اشتہار

بھارت
بھارتی عدالت کے ہاتھوں انصاف کا قتل، یاسین ملک بغاوت، وطن دشمنی اور دہشت گردی کے مجرم قرار وجود جمعرات 19 مئی 2022
بھارتی عدالت کے ہاتھوں انصاف کا قتل، یاسین ملک بغاوت، وطن دشمنی اور دہشت گردی کے مجرم قرار

بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت

بھارتی ایجنسی کا داؤد ابراہیم کے دو قریبی ساتھیوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ وجود هفته 14 مئی 2022
بھارتی ایجنسی کا داؤد ابراہیم کے دو قریبی ساتھیوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

بھارتی سپریم کورٹ نے حکومت کو غداری کے قانون کے تحت مقدمات کے انداج سے روک دیا وجود جمعرات 12 مئی 2022
بھارتی سپریم کورٹ نے حکومت کو غداری کے قانون کے تحت مقدمات کے انداج سے روک دیا
افغانستان
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت

طالبان کا پہلا سالانہ بجٹ پیش،50 کروڑ ڈالر خسارے کی پیشن گوئی وجود پیر 16 مئی 2022
طالبان کا پہلا سالانہ بجٹ  پیش،50 کروڑ ڈالر خسارے کی پیشن گوئی

پنج شیر میں امارت اسلامیہ کے مخالفین نے ہتھیار ڈال دیے وجود جمعرات 12 مئی 2022
پنج شیر میں امارت اسلامیہ کے مخالفین نے ہتھیار ڈال دیے

طالبان مخالف فورسز کا وادی پنج شیر کے 3 اضلاع پر قبضے کا دعویٰ وجود اتوار 08 مئی 2022
طالبان مخالف فورسز کا وادی پنج شیر کے 3 اضلاع پر قبضے کا دعویٰ
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
آسٹریلین کرکٹ لیجنڈ اینڈریو سائمنڈز کار حادثے میں ہلاک وجود اتوار 15 مئی 2022
آسٹریلین کرکٹ لیجنڈ اینڈریو سائمنڈز کار حادثے میں ہلاک

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان 73 سال کی عمر میں انتقال کرگئے وجود هفته 14 مئی 2022
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان 73 سال کی عمر میں انتقال کرگئے

سیاست سے قطعاً کوئی تعلق نہیں، مولانا طارق جمیل وجود پیر 09 مئی 2022
سیاست سے قطعاً کوئی تعلق نہیں، مولانا طارق جمیل

مزاح کے بے تاج بادشاہ معین اختر کو مداحوں سے بچھڑے 11برس بیت گئے وجود جمعه 22 اپریل 2022
مزاح کے بے تاج بادشاہ معین اختر کو مداحوں سے بچھڑے 11برس بیت گئے