... loading ...
حال ہی میں میڈیا میں تاریخ کی ایک کتاب جدلیہ الرواق کے کافی چرچے ہیں۔ اس کتاب میں جزیرہ نما عرب میں مساجد کی تعمیر کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کتاب میں مسجد حرام کے مختلف ادوار میں ہونے والی تعمیر اور توسیع پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ خاص طور پرمسجد حرام کی عثمانی دور میں ہونے والی تعمیر اور توسیع کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ تاہم اس کتاب میں دور عثمانی میں مسجد حرام کی تعمیر کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں موجود باطل خیالات اور من گھڑت کہانیوں کا بھی رد کیا گیا ہے۔مسجد حرام کی ترک عثمانی دور میں ہونے والی توسیع و تعمیر کو فروغ دینے کے لیے جدلیات، فرضی اور بے بنیاد حربوں کا سہارا لیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مسجدِ حرام کا حصہ بننے والی راہداریوں کی تعمیر خلافتِ راشدہ کے دور سے شروع ہوئی اور عباسی خلافت میں ان راہ داریوں کی تعمیر مکمل شکل تک پہنچی۔ جہاں تک عثمانی خلافت کا زمانہ ہے تو اس میں مسجد حرام اور اس کی راہ داریوں میں کوئی قابل ذکر توسیع نہیں ہوئی اور نہ ہی عثمانی خلافت میں مسجد حرام کے مرکزی حصے میں توسیع کی گئی۔ صرف مسجد میں ضروری مرمت کے کام کی حد تک اس دور میں کام ہوتا رہا ہے۔ یحیی محمود بن جنید کی تصنیف کردہ کتاب جدلیہ الرواق کو دار الغرب الاسلامی پبلیکیشن نے شائع کیا ۔ کتاب میں مسجد حرام کی توسیع اور اس کے مختلف حصوں کی تعمیرکے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کی تاریخی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ مسجد حرام کی تعمیرکا آغاز خلافتِ راشدہ کے دور میں ہوا اورعباسی دور میں اس نے حتمی شکل اختیار کی۔ مسجد حرام کا جو ڈیزائن عباسی خلافت تک مکمل ہوا وہ موجودہ سعودی مملکت کے قیام تک قائم رہا۔ آل سعود کے دور حکومت میں مسجد حرام کی تعمیر اور توسیع کو خصوصی توجہ حاصل ہوئی۔ اگرچہ ماضی میں کئی سلاطین اور حکمرانوں نے مسجد حرام کی دیکھ بھال میں اپنا اپنا کردار ادا کیا مگر اس کی جو شکل اور ڈیزائن خلیفہ مہدی کے دور میں تھا وہ چلتا رہا۔ 984ھ میں ترک سلطان سلیم اور اس کے بیٹے سلطان مراد کے دور میں مسجد حرام میں کوئی خاص توسیع نہیں ہوئی البتہ انہوں نے مسجد حرام کے بوسیدہ ہونے والے حصوں کی مرمت کرائی اور حرم مکی کی تزئین کرائی گئی۔ مسجد کی اونچی دیواروں کی وجہ سے اس کے ستون کم زور ہوگئے تھے۔ ان کی دوبارہ تعمیر بھی ترک دور میں عمل میں لائی گئی اور لکڑی کی چھت کی جگہ گنبد بھی ترکوں نے بنوائے۔ مسجد حرام کی تشکیل اسلام کی تاریخ میں کئی مراحل سے گزری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں یہ خانہ کعبہ کے ارد گرد جگہ پر تھی۔ پھر عمر ابن الخطاب اور عثمان ابن عفان رضی اللہ عنمہا نے اسے وسیع کیا اور عبداللہ ابن زبیر کے دور حکومت میں اس کی دیکھ بھال کی گئی اور اسے اموی دور میں خلیفہ عبدالملک ابن مروان کے ہاتھوں تیار کیا گیا۔ اس کے بیٹے الولید اور عباسی خلیفہ ابو جعفر نے اس میں اضافہ کیا۔ یہاں تک کہ عباسی خلیفہ مہدی کے دور میں مسجد حرام میں بڑی توسیع کی گئی اور مسجد کا رقبہ دُگنا کیا گیا۔ عباسیوں نے اس کے بعد معمولی اضافہ کیا لیکن عظیم الشان مسجد کا فن تعمیر اور اس کی شکل، طرز تعمیر اور تعمیراتی کردار چودھویں صدی ہجری کے وسط تک مہدی کے دور میں جو تھا اسی پر قائم رہا۔ ابن جبیر کی تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ عباسی طرز تعمیر المہدی ساتویں صدی ہجری تک مربوط رہا۔ اس بات کی نشاندہی مشہور سیاح ابن بطوطہ کی بیان کردہ تفصیل سے بھی ہوتا ہے۔ ابن بطوطہ کا کہنا تھا کہ مسجد حرام نویں صدی ہجری تک اپنے پرانے ڈھانچے پر قائم رہی۔ دسویں صدی ھجری میں عثمانی ترکوں نے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ ان کے دور میں صرف تزئین و آرائش اور بحالی و مرمت کا کچھ کام ہوا۔
صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...
عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...
مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...
کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...
جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...
پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...
اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...
پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...
موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...
عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...
ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...
آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...