... loading ...
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کی رولنگ پر لیے گئے ازخود نوٹس پر سپریم کورٹ کے لارجر بینج کی سماعت منگل تک ملتوی کردی گئی جبکہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ اسپیکر آرٹیکل 5 کاحوالہ بھی دے تو تحریک عدم اعتماد مسترد نہیں کرسکتا۔کوشش ہے اس کیس کا جلد ازجلد فیصلہ کریں ۔تحریک عدم اعتمادپر ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے معاملے پر سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ جسٹس عمر عطا بندیال کی زیر سربراہی ازخود نوٹس کی سماعت کر رہا ہے۔بینچ کے دیگر ججز میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔سماعت شروع ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان روسٹرم پر پہنچے اور کہا کہ عدالت میں دو باتیں کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ عدالت کے 21 مارچ کے حکم کی جانب توجہ مبذول کرونا چاہتا ہوں، 21 مارچ کو سپریم کورٹ بار کی درخواست پر دو رکنی بینچ نے حکمنامہ جاری کیا تھا، کل پارٹی کی ہدایات نہیں لی تھی۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم پہلے درخواست گزاروں کو سننا چاہتے ہیں اور اگر آپ کوئی بیان دینا چاہتے ہیں تو دے دیں۔بابر اعوان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے 21 مارچ 2022 کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں، اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی تھی، کسی رکن اسمبلی کو آنے سے نہیں روکا جائے گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ آج ہم مناسب فیصلہ دیں گے اور سیاسی بیانات نہیں بلکہ صرف اسپیکر کی رولنگ کا جائزہ لیں گے۔بابراعوان نے کہا کہ ہم رولنگ سمیت ایک رٹ پیش کرنے کے لیے تیار ہیں اور چیئرمین عمران خان کا پیغام ہے کہ ہم الیکشن میں جانے کے لیے تیار ہیں۔چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سیاسی بات کر رہے ہیں، ہم دیکھیں گے اسپیکر کی رولنگ کی کیا قانونی حیثیت ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آج ہم مناسب حکمنامہ جاری کریں گے اور قومی اسمبلی کی کارروائی کا جائزہ لیں گے۔دوران سماعت مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت پر بوجھ نہیں بننا چاہتے لہذا باقی وکلا میری معاونت کریں گے۔اس موقع پر فاروق ایچ نائیک نے فل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی استدعا ہے کہ فل کورٹ بینچ تشکیل دیا جائے اور ایسا بینچ بنایا جائے جس میں تمام جج صاحبان شامل ہوں۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بینچ کو آئینی و قانونی نکات سے آگاہ کریں، ہم پھر جائزہ لیں گے کہ فل کورٹ بنانا چاہیے یا نہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر آپ کو پانچ ججز پر اعتراض ہے تو ہمیں بتائیں ہم چلے جاتے ہیں جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ ہمیں عدالت پر اعتماد ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ کو بینچ میں کسی پر عدم اعتماد ہے تو بتایا جائے، کسی جج پر عدم اعتماد کرنے سے بینچ اٹھ جائے گا۔اپوزیشن جماعتوں کے وکیل نے کہا کہ مجھے بینچ کے کسی رکن پر عدم اعتماد نہیں لیکن عدم اعتماد کی تحریک پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا جاسکتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ فل کورٹ بینچ کی تشکیل سے دیگر مقدمات کی سماعت میں خلل پڑتا ہے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے لیے الزام عائد کرنا لازم نہیں، عدم اعتماد کی تحریک جمع ہونے کے بعد آرڈر پیش ہونا چاہیے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ 10 مارچ کی تاریخ پر آرڈر پیش کرنے کا معاملہ غیر متعلقہ ہے۔انہوں نے کہاکہ کیا آرڈر آف دی ڈے تب جاری ہوتے ہیں جب اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہو، کیا اسپیکر کو اسمبلی اجلاس بلانا ہوتا ہے ؟ کیا 10 مارچ آڈرز آف دی ڈے جاری کرنے کا نہیں تھا؟، کیا 10 مارچ آڈرز سرکولیٹ کرنے کا دن تھا؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ جو کچھ قومی اسمبلی میں ہوا اس کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینا ہے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آٹھ مارچ کو تحریک عدم اعتماد اور اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کرائی، اسپیکر 14 دن میں اجلاس بلانے کے پابند تھے، اسپیکر نے 27 مارچ کو اجلاس بلایا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کا کیس اجلاس بروقت بلانے کا نہیں ہے۔اس موقع پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اسپیکر نے اجلاس تاخیر سے بلانے کی وجوہات بھی جاری کی تھیں البتہ وجوہات درست تھیں یا نہیں، اس پر آپ موقف دے سکتے ہیں۔اپوزیشن جماعتوں کے وکیل نے کہا کہ 14 دن گزر جانے کے بعد عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے تاخیر سے اجلاس بلایا گیا، 28 مارچ کو روٹین کے مطابق ایک رکن کے انتقال پر اجلاس ملتوی ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ 28 مارچ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کے لیے منظور کی گئی۔جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا اسپیکر اس وقت کہہ سکتا تھا کہ ووٹنگ کے لیے تحریک کو قبول نہیں کریں گے، کیا اکثریت نہ ہونے کے سبب تحریک جمع ہی نہیں ہوسکتی تھی، 100 اراکین میں سے 20 اراکین بھی کہیں ووٹنگ کرانا چاہتے ہیں، 50 انکار کرتے ہیں تو کیا ہو گا۔اس مرحلے پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کے حقائق پر آئیں، تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل بحث نہیں کرائی گئی، قوانین میں ووٹنگ سے قبل واضح بحث کا ذکر موجود ہے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسپیکر ہاوس میں قرار داد پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن عدم اعتماد پر بحث کی اجازت ہی نہیں دی گئی۔جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ اگر اسپیکر عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت نہ دیں، پھر کیا ہوگا تو فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ اسپیکر نے قرارداد کی اجازت دے کر معاملہ پر 3 اپریل تک اجلاس ملتوی کردیا تھا۔چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ براہ راست کارروائی سے پہلے عدم اعتماد پر بحث کیوں نہیں کرائی، اپوزیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہیں ہوئی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ تو ہمیں معلوم ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر کارروائی میں طریقہ کار کی خلاف ورزی کی گئی۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کارروائی کا آغاز ہوا تو سابق وزیر قانون فواد چوہدری نے مختصر بات کی، اسپیکر کی رولنگ میں بھی واضح ہے کہ قرارداد پر بحث نہیں ہوئی، شہباز شریف نے اجلاس کے روز بات کرنے کی کوشش کی لیکن بات نہ ہو سکی۔چیف جسٹس نے کہا کہ 31مارچ کو عدم اعتماد کی قرارداد پر بحث نہیں کرائی گئی، یعنی 4اپریل کو آخری دن بنتا ہے جب بحث کرکے ووٹنگ ہوسکتی تھی۔جسٹس مندوخیل نے کہا کہ کیا آرٹیکل 95 میں بحث کا ذکر ہے یا براہ راست ووٹنگ کا کہا گیا ہے جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کا ذکر رولز میں ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزیر قانون نے رولنگ مانگی تھی، اصول ہے کہ جب رولنگ مانگی جائے تو اس پر پہلے بحث ضروری ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا آرٹیکل 95 میں بحث کا ذکر ہے یا براہ راست ووٹنگ کا کہا گیا ہے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کا ذکر رولز میں ہے۔جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا ڈپٹی اسپیکر رولنگ دے سکتا ہے یا پھر سپیکر ہی رولنگ دے سکتا ہے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ قانون میں اسپیکر کا مطلب اسپیکر ہی ہے جبکہ چیئرپرسن بھی رولنگ دے سکتا ہے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ رول 28 کے تحت رولنگ صرف اسپیکر دے سکتا ہے، کیا اسپیکر اپنی رولنگ واپس لے سکتا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا 3 اپریل کا دن اجلاس تحریک پر بحث کا موقع دینے کی بجائے ووٹنگ کے لیئے مقرر کیا گیا؟، اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کے لیے کونسا دن دیا؟، تحریک عدم اعتماد پر ڈائریکٹ ووٹنگ کا دن کیسے دیا جا سکتا ہے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسپیکر نے بحث کرنے کی اجازت نہیں دی۔جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ کس رول کے تحت دی ہے؟ جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اجلاس شروع ہوا تو فواد چوہدری نے آرٹیکل 5 کے تحت خط کے حوالے سے سوال کیا، فواد چوہدری کے پوائنٹ آف آرڈر پر ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ جاری کر دی۔انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری کے پوائنٹ آف آرڈر پر بحث بھی ہو سکتی تھی، اسپیکر کو معلوم تھا کہ غیر قانونی قدم ہے اس لیے وہ موجود نہیں تھے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ رول 28 کے تحت اسپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے، اسپیکر رولنگ ایوان میں یا اپنے دفتر میں فائل پر دے سکتا ہے، کیا اسپیکر اپنی رولنگ واپس لے سکتا ہے؟۔اس پر اپوزیشن کے وکیل نے کہا کہ رولنگ واپس لینے کے حوالے سے اسمبلی رولز خاموش ہیں۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ رولنگ دینے کا اختیار صرف اسپیکر کا ہے، کسی اور کا نہیں، ڈپٹی اسپیکر رولز کے مطابق اسپیکر کی عدم موجودگی میں اجلاس کو چلاتا ہے، میرے خیال میں ڈپٹی اسپیکر کو ایسی رولنگ دینے کا اختیار نہیں تھا۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر صرف اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، قائم مقام اسپیکر کے لیے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا ہے، جس خط کا ذکر ہوا وہ اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے اپنی رولنگ کے ذریعے اپوزیشن اراکین کو غدار ڈکلیئر کر دیا ہے، اپوزیشن کے 198 ارکان پر غیرملکی سازش کا الزام لگایا گیا، 175 ارکان اپوزیشن جبکہ باقی پی ٹی آئی کے منحرف اراکین تھے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کون کس پارٹی سے تھا اس پر کیوں وقت ضائع کر رہے ہیں؟، کیا ووٹنگ کے لیے اجلاس بلا کر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ دی جا سکتی ہے؟، تحریک عدم اعتماد پر فیصلہ ووٹنگ سے ہی ہونا ہوتا ہے۔وکیل فاروق ایچ نائیک نے اسپیکر کی رولنگ عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد تین منٹ سے بھی کم وقت میں مسترد کر دی گئی۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ جذباتی گفتگو ہے، قانونی نکتے پر بات کریں، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کس طرح غیرآئینی ہے یہ بتائیں۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو عدم اعتماد مسترد کرنے کا اختیار نہیں، تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن اس کی حیثیت پر فیصلہ نہیں ہو سکتا بلکہ قانونی ہونے کا فیصلہ ووٹنگ کے لیے مقرر ہونے سے پہلے ہو سکتا ہے۔فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ رولنگ دینے سے پہلے اپوزیشن کا موقف نہیں سنا گیا، تمام اپوزیشن ارکان کو غداری کا ملزم بنا دیا گیا، جمہوریت اب تک حب الوطنی اور مذہب کے کارڈز سے باہر نہیں نکل سکی۔جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ پارٹی سے انحراف کرنے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ منحرف ارکان کے حوالے سے بھی اپنا موقف دوں گا۔جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ میں پارلیمانی کمیٹی کا بھی ذکر ہے، اپوزیشن نے جان بوجھ کر کمیٹی میں شرکت نہیں کی، پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی میں سارا معاملہ رکھا گیا تھا، اس سوال کا جواب تمام اپوزیشن جماعتوں کے وکلا نے دینا ہے۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ ہمیں بتائیں کہ اسپیکر کو کس حد تک آئینی تحفظ حاصل ہے جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ آئین میں لکھا ہوا ہے کہ اسپیکر کی اسمبلی کارروائی کے طریقہ کار پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ بین الاقوامی سازش کا کا الزام لگانے سے پہلے سنا ہی نہیں گیا، اگر سازش والی بات برقرار رہی تو مستقبل میں مشکلات ہوں گی، ہم اب تک غداری، حب الوطنی اور مذہبی معاملات سے آگے نہ نکل سکے، یہ ہماری جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمہ کو منگل تک ملتوی کر دیتے ہیں جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مقدمہ کو آج ہی مکمل کریں۔تاہم جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آج ہی دلائل سن کر فیصلہ دے دیں، یہ ممکن نہیں، تمام سیاسی جماعتوں کی رائے کا احترام ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کون سے مقام پر اسپیکر تحریک کے قانونی یاغیر قانونی ہونے پر رولنگ دے سکتاہے؟ اسپیکرکے پاس کیاکوئی اختیارات نہیں کہ وہ تحریک عدم اعتماد مسترد کرسکے؟ اسپیکر آرٹیکل 5 کاحوالہ بھی دے تو تحریک عدم اعتماد مسترد نہیں کرسکتا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 69 میں اسپیکر کو کس حد تک آئینی تحفظ حاصل ہے؟ آپ سے زیادہ ہم جلد فیصلہ کرنا چاہتے ہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آج خط لکھ کر نگراں وزیراعظم کے لیے تین تین نام مانگے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کہ عبوری حکومت کے قیام سے قبل فیصلہ کرنا ہوگا۔ سب کو سن کر فیصلہ ہوگا، منگل کو رضا ربانی اور مخدوم علی خان کے دلائل سن کر دوسرے فریقین کو سنیں گے۔چیف جسٹس نے ججز سے مشاورت کرکے کارروائی منگل تک ملتوی کر دی، عدالت اس پر منگل کو پھر بارہ بجے سماعت کرے گی۔خیال رہے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جانب سے اپوزیشن کی وزیراعظم کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد بغیر ووٹنگ مسترد کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ازخود نوٹس لیا تھا۔
سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...
مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...
پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...
خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...
ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...
ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...
فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...
خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...
400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...
افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...