وجود

... loading ...

وجود

لال قلعہ کاقیدی

جمعرات 27 جنوری 2022 لال قلعہ کاقیدی

دوپہرکا وقت ہونے کو تھا شہرکی تمام بڑی مارکیٹیں بندتھیںرابرٹ مائیکل نے پریشان ہوکرپوچھا کیا آج سٹرائیک ہے؟ میں نے نفی میں سرہلایاتو اس نے ایک نیا سوال کرڈالا ”توپھریہ دکانیں کیوں بند ہیں؟
میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا وہ کچھ بڑبڑایا
میں نے پوچھ ہی لیا کہ اب کیا پریشانی ہے ؟
اس نے پریشانی کے عالم میں اضطراب سے کہا”یار میری تو فلائیٹ نکل جائے گی ابھی شاپنگ میںنے شروع بھی نہیں کی یار دوست ،اہلیہ ،بچے ناراض ہو جائیں گے کہ پاکستان سے ہمارے لیے کوئی گفٹ کیوں نہیں لائے؟
میں نے اس کی باتیں سن کر ایک آہ بھری اور کہا کیا بتائیں ہم فیشن زدہ ہوگئے ہیں
”فیشن زدہ ۔۔اس کے لہجے میں حیرت تھی
” تم دوپہرکے وقت دکانیں کھولنے کو فیشن کہتے ہو رابرٹ مائیکل نے اس اندازسے کہا جیسے وہ کاٹ کھانے کے درپے ہو تمہارا مذہب کو صبح صادق اٹھنے کاحکم دیتاہے پھر تم مسلمانوںنے اپنے اوپریہ نحوست کیوں سوارکررکھی ہے؟کیاتم نہیں جانتے پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے پورے یورپ امریکا جاپان آسٹریلیا اور سنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، اسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہو میں نے مشاہدہ کیا ہے تمہارے ملک میں ڈیوٹی کاوقت9بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے تک بھی نہیں آتے ! آجکل چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ اور دوپہر ساڑھے گیارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے اور تم طوائفوںکی طرح راتوںکوجاگتے ہو اور دن کا سونا معمول ہے
”یار رابرٹ مائیکل نے میرے کندھے پر زور سے ہاتھ مارکرکہاتم بربادہورہے ہو اور مطلق احساس بھی نہیں اب میں سمجھا پاکستان ترقی کیوںنہیں کررہا؟
میں نے شرمندگی سے سرجھکالیا میں سوچنے لگا ہم تباہ ہورہے ہیں تو یقینا تباہی ایک دن میں نہیں آ جاتی میری نگاہوںکے سامنے تاریخ کے ا وراق فلم کی مانندگردش کرنے لگے یہ 1850ء کا زمانہ ہے دلی میں صبح کے ساڑھے تین بجے کاوقت ہوگا کہ سول لائن میں بگل بج اٹھا ہے پچاس سالہ کپتان رابرٹ اور اس کے اٹھارہ سالہ لیفٹیننٹ ہینری کی پھرتی دیدنی تھی وہ آنکھیں ملتے ہوئے اپنے بستروں سے اٹھ بیٹھے انہی پر موقوف نہیں ایک دو گھنٹوں کے اندر اندر طلوع آفتاب کے قریب انگریز سویلین بھی بیدار ہو کر ورزش کر رہے تھے انگریز عورتیں گھوڑ سواری کو نکل جاتیں سات بجے انگریز مجسٹریٹ دفتروں میں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں جبکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا سفیر سر تھامس مٹکاف دوپہر تک کام کا اکثر حصہ ختم کر چکا ہے کوتوالی اور شاہی دربار کے خطوں کا جواب دیا جا چکا ہے بہادر شاہ ظفر کے تازہ ترین حالات کا تجزیہ آگرہ اور کلکتہ بھیج دیا گیا ہ دن کے ایک بجے سر مٹکاف بگھی پر سوار ہو کر لنچ کرنے کیلئے گھر کی طرف چل پڑا ہے یہ ان سب کا روزانہ کا معمول تھا ادھر وقت لال قلعہ کے شاہی محل میں ”صبح” کی چہل پہل شروع ہو رہی تھی ظل الہی کے محل میں صبح صادق کے وقت مشاعرہ ختم ہوا تھا جس کے بعد ظلِ الٰہی آخری مغل فرمانروا بہادرشاہ ظفر اور ان کے درجنوں عمائدین اپنی خواب گاہوں کو گئے تھے۔ اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اور دہلی کے برطانوی حصے میں دوپہر کے لنچ کا وقت ایک ہی تھا۔ ہزاروںشہزادوں کا بٹیربازی، مرغ بازی، کبوتر باز اور مینڈھوں کی لڑائی کا وقت بھی وہی تھا ، 1725ء کے لگ بھگ برطانیہ سے نوجوان انگریز کلکتہ، ہگلی اور مدراس کی بندرگاہوں پر اترتے چلے گئے برسات کے موسم میں مچھر وںکی بہتات اور گندے پانی کے باعث ملیریا سے اوسطاً دو انگریز روزانہ مرنے لگے ہیں انگریزان دنوں بھارت کو موت کی وادی کہنے لگے اس کے باوجودایک بھی گورا بھارت کو چھوڑکربرطانیہ واپس نہیں گیا کیونکہ ان کے نزدیک سونے کی چڑیا پر اپنا تسلط جمانا تھا مقاصدکے حصول کے لئے قربانیاں ناگزیرتھیں اس دوران لارڈ کلائیو پہروں گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ،مختلف علاقوںکاوزٹ کرکے حالات کا جائزہ لیتا،تجارتی سرگرمیوںکی معلومات حاصل کرتا،انگریزوںکے مفادات کے لئے ملاقاتیں کرتا اس نے دل ہی دل میں ہندوستان پر تسلط قائم کرنے کے لئے ایک مربوط سسٹم تشکیل دیدیا جس سے سونے کی چڑیا برطانوی سامراج کی ایک کالونی میں تبدیل ہوگئی۔
یقینااللہ کانظام کسی کیلئے نہیں بدلتا انسان جوکچھ بولتاہے بالآخراسے وہی کاٹنا پڑتاہے یہی مکافات ِعمل ہے یہ قانون ِ فطرت ہے کسی کی محنت رائیگاں نہیں جاتی جو جتنی محنت کریگا تو وہ اتناہی کامیاب ہوگا عیسائی،مسلم،سکھ ،ہندو یاپھر آتش پرست سب کے سب اللہ کے سسٹم کے تابع ہیں عیسائی ورکر تھامسن میٹکاف صبح سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا، بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو ناکام رہے گا۔اب واضح ہوا کہ بہادر شاہ ظفر کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے اس کے سامنے کیوں پیش کئے گئے،انہیں اپنے ہی وطن میں قبر کیلئے2گز زمین کی جگہ کیوں نہ ملی یہ کتنا بڑاالمیہ ہے آخری مغل تاجدا رکی بچی کھچی نسل کے لوگ بھیک مانگتے پھرتے ہیں کیوں؟ آخرکیونکر وہ وقت کے ساتھ نہیں چلے انہوںنے وقت کوضائع کیا اور پھر وقت نے انہیں زمانے کی ٹھوکروں کے حوالے کرکے ضائع کردیا صبح تاخیر سے بیدار ہو نے والوںکے لیے یہ ایک لمحہ ٔ فکریہ ہے ۔
آپ غورکریں کہ غزوہ ٔبدر میں اللہ نے قطاراندرقطار فرشتے نصرت کے لیے اتارے تھے کیوں؟ اس جنگ کی حکمت ِ عملی پر تدبرکی ضرورت ہے جنگ سے پہلے ہی مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کے آخری نبی ۖ رات بھر یا تو پالیسی بناتے رہے یا پھر سجدے میں پڑے اللہ کے حضور دعا کرتے رہے !
حیرت ہوتی ہے ان دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اسکا بال بیکا نہیں کرسکتا کیا سلطنتِ خدا داد پاکستان اللہ کی تھی اور کیا سلطنت خداداد میسور(ٹیپو سلطان کی سلطنت ) اللہ کی نہیں تھی۔ کیا کئی براعظموںپرپھیلی سلطنت ِ عثمانیہ قائم رہی یا بھارت میں مختلف ادوارمیں قائم ہونے والے صدیوںپرمحیط مغلیہ ،غوری،غزنوی حکومتیں کیوں قائم نہ رہ سکیں حالانکہ ان حکومتوںمیں تو انصاف کا بول بالا بھی تھا حقیقت یہ ہے جو سلطنت،شخصیت یا ادارے فطرت کے اصولوں پر قائم نہیں رہتے انہیں کوئی معجزہ ہی بچاسکتاہے ۔ بھارت،پاکستان،بنگلہ دیش پر ہی موقوف نہیں یہ ہر ملک اور خطے کی بات ہے آج ہم اپنے اردگردکے ماحول کودیکھیں اور سوچیں کہ جس جس ملک کے ووٹر ذہنی غلام ہوں، پیر غنڈے ہوں،مذہب کے ٹھیکیدار جاہل،دانشور منافق ہوں، ڈاکٹر بے ایمان ہوں، بیشتر سیاستدان لٹیرے ، اور پولیس میں ڈاکو ہوں، کچہری بیٹھک ہو، ججز انصاف فروش ہوں، لکھاری خوشامدی ہوں، اداکار بھانڈ ہوں، ٹی وی چینل پر مسخرے ہوں، تاجر بے ایمان اور سود خور ہوں، دکاندار چور ہوں، عوام بے حس اور حکمران بے حس ہوں اور جہاں تین سال کے معصوم بچوں سے پچاس سال تک کی عورتوں کا ریپ عام ہو اور مجرموں کو سیاسی دباؤ میں آکر چھوڑ دیا جائے۔ وہاں رحمتیں کیسے نازل ہوسکتی ہیں؟ اوریہ معاشرے کیسے پنپ سکتے ہیں وہاں بیماریاں،وبائیں،بارشوںکی افراط،قحط اورزلزلے نہ آئیں تو پھرکیاہوگا قدرت کی وارننگ کے باوجود لوگ ٹس سے مس نہ ہوں ان کو تباہی سے کوئی نہیںبچاسکتا۔
آج یہ جان کر دل دکھتاہے کہ مرکزی صوبوں حکومتوںکے دفاتر ،کاروباری مرکز یا نیم سرکاری ادارے ، ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے،، کتنے وزیر کتنے سیکرٹری کتنے انجینئر کتنے ڈاکٹر کتنے پولیس افسر کتنے ڈی سی یا کلرک وقت پر ڈیوٹی پر آتے ہیں؟ ہم ہڈحرام،بدمزاج،نکھٹو،رشوت خور اور انسانیت سے عاری افسروں اور ان کے ماتحتوںکی فوج ظفرموج کے نخرے اٹھا اٹھا کر تنگ آچکے ہیں
کیا اس قوم کے تباہ وبرباد ہونے میں کوئی شک ہے جن کے دلوں میںاپنے ہی ہم وطنوں کے لیے صلہ رحمی نہ ہو سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لیے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ جس کا راتوںکو دیر سے سونا اور دوپہر سے پہلے بیدار ہونا معمول ہواور پھر وہ اس پر فخر بھی کرے کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے یہ بات پتھرپہ لکیر ہے جو بھی کام دوپہر کو زوال کے وقت شروع کیاجائے وہ زوال ہی کی طرف جائے گا کبھی بھی اس میں برکت اور ترقی نہیں ہو گی اور یہ مت سوچا کریں کہ میں صبح صبح اٹھ کر کام پر جاؤں گا تو اس وقت لوگ سو رہے ہونگے میرے پاس گاہک کدھر سے آئے گا گاہک اور رزق اللہ رب العزت بھیجتے ہیں اور اللہ وہاںسے رزق دینے پر قادرہے جو انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا ورنہ ان میں لال قلعہ کے قیدیوںمیں کوئی فرق نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
خون کی بارش وجود جمعه 20 مئی 2022
خون کی بارش

پہلے اور اب وجود جمعه 20 مئی 2022
پہلے اور اب

انتخاب کرلیں وجود بدھ 18 مئی 2022
انتخاب کرلیں

کام کی باتیں۔۔ وجود بدھ 18 مئی 2022
کام کی باتیں۔۔

باغی اوربغاوت وجود منگل 17 مئی 2022
باغی اوربغاوت

وقت کہاں بہتا ہے؟ وجود پیر 16 مئی 2022
وقت کہاں بہتا ہے؟

اشتہار

تہذیبی جنگ
وفاقی شرعی عدالت کا 19سال بعد فیصلہ ، سود کے لیے سہولت کاری کرنے والے تمام قوانین ، شقیں غیرشرعی قرار وجود جمعرات 28 اپریل 2022
وفاقی شرعی عدالت کا 19سال بعد فیصلہ ، سود کے لیے سہولت کاری کرنے والے تمام قوانین ، شقیں غیرشرعی قرار

بھارتی معروف سماجی کارکن سبری مالا نے اسلام قبول کرلیا، نام فاطمہ سبریمالا رکھ لیا وجود منگل 26 اپریل 2022
بھارتی معروف سماجی کارکن سبری مالا نے اسلام قبول کرلیا، نام فاطمہ سبریمالا رکھ لیا

موبائل فون فلسطینیوں کا بندوق سے زیادہ طاقتور ہتھیار بن گیا وجود هفته 23 اپریل 2022
موبائل فون فلسطینیوں کا بندوق سے زیادہ طاقتور ہتھیار بن گیا

سپریم لیڈر لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے حامی ہیں،سینئر طالبان رکن وجود پیر 18 اپریل 2022
سپریم لیڈر لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے حامی ہیں،سینئر طالبان رکن

سوئیڈن میں قران پاک کی بے حرمتی کے اعلان پر احتجاج وجود اتوار 17 اپریل 2022
سوئیڈن میں قران پاک کی بے حرمتی کے اعلان پر احتجاج

ایمن الظواہری کی نئی ویڈیو،اللہ اکبرکا نعرہ لگانے والی بھارتی لڑکی کی تعریف وجود بدھ 06 اپریل 2022
ایمن الظواہری کی نئی ویڈیو،اللہ اکبرکا نعرہ لگانے والی بھارتی لڑکی کی تعریف

اشتہار

بھارت
بھارتی عدالت کے ہاتھوں انصاف کا قتل، یاسین ملک بغاوت، وطن دشمنی اور دہشت گردی کے مجرم قرار وجود جمعرات 19 مئی 2022
بھارتی عدالت کے ہاتھوں انصاف کا قتل، یاسین ملک بغاوت، وطن دشمنی اور دہشت گردی کے مجرم قرار

بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت

بھارتی ایجنسی کا داؤد ابراہیم کے دو قریبی ساتھیوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ وجود هفته 14 مئی 2022
بھارتی ایجنسی کا داؤد ابراہیم کے دو قریبی ساتھیوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

بھارتی سپریم کورٹ نے حکومت کو غداری کے قانون کے تحت مقدمات کے انداج سے روک دیا وجود جمعرات 12 مئی 2022
بھارتی سپریم کورٹ نے حکومت کو غداری کے قانون کے تحت مقدمات کے انداج سے روک دیا
افغانستان
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت

طالبان کا پہلا سالانہ بجٹ پیش،50 کروڑ ڈالر خسارے کی پیشن گوئی وجود پیر 16 مئی 2022
طالبان کا پہلا سالانہ بجٹ  پیش،50 کروڑ ڈالر خسارے کی پیشن گوئی

پنج شیر میں امارت اسلامیہ کے مخالفین نے ہتھیار ڈال دیے وجود جمعرات 12 مئی 2022
پنج شیر میں امارت اسلامیہ کے مخالفین نے ہتھیار ڈال دیے

طالبان مخالف فورسز کا وادی پنج شیر کے 3 اضلاع پر قبضے کا دعویٰ وجود اتوار 08 مئی 2022
طالبان مخالف فورسز کا وادی پنج شیر کے 3 اضلاع پر قبضے کا دعویٰ
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
آسٹریلین کرکٹ لیجنڈ اینڈریو سائمنڈز کار حادثے میں ہلاک وجود اتوار 15 مئی 2022
آسٹریلین کرکٹ لیجنڈ اینڈریو سائمنڈز کار حادثے میں ہلاک

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان 73 سال کی عمر میں انتقال کرگئے وجود هفته 14 مئی 2022
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان 73 سال کی عمر میں انتقال کرگئے

سیاست سے قطعاً کوئی تعلق نہیں، مولانا طارق جمیل وجود پیر 09 مئی 2022
سیاست سے قطعاً کوئی تعلق نہیں، مولانا طارق جمیل

مزاح کے بے تاج بادشاہ معین اختر کو مداحوں سے بچھڑے 11برس بیت گئے وجود جمعه 22 اپریل 2022
مزاح کے بے تاج بادشاہ معین اختر کو مداحوں سے بچھڑے 11برس بیت گئے