وجود

... loading ...

وجود

خود کو بدلیں

پیر 24 جنوری 2022 خود کو بدلیں

اس نے کہا تھا یقینا سچ ہی تھا کہ ہم اپنے مسائل کے خود ذمہ دار ہیںکون نہیں جانتا کہ آج معاشرے میں پھیلی فرسٹریشن نے ہر شخص کو پریشان کررکھاہے اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے شعور اور لاشعور میں پھیلی لامحدود خواہشات ہیں اوپر سے مار ماری ،جھوٹ ،لالچ ، قتل و غارت،معاشرتی الجھنوںاور گھریلو مسائل نے ہرذی شعور کے اعصاب کو جنجھلا کررکھ دیاہے۔ مطالعہ کا ذوق رکھنے والوںکی کتابیں رہنمائی کرتی ہیں امام غزالیؒ کی ایک معروف کتاب ہے احیاء العلوم ۔ اس میں ایک واقعہ ذہن،دل و دماغ کو کھول کررکھ دیتا ہے۔ایک روز تنہائی تھی،موسم خوشگوار تھا، نہ جانے کیا جی میں آئی معروف صوفی بزرگ شیخ شفیق بلخیؒ نے اپنے شاگرد ِ خاص حاتمؒ سے پوچھا حاتم! تم کتنے عرصہ سے میرے ساتھ ہو ؟
حاتم نے ادب سے جواب دیا کہ مرشدبتیس برس ہوگئے ہیں !
شیخ شفیق بلخی نے پھر پوچھا بتاؤ اتنے طویل عرصے میں تم نے مجھ سے کیا سیکھا ؟
حاتم نے کہا.. جناب صرف آٹھ مسئلے
شیخ شفیق بلخی نے اپنی پیشانی پرہاتھ رکھ لیا، منہ سے بے ساختہ نکلا انا للہ وانا الیہ راجعون ۔لگتاہے میرے اوقات تیرے اوپر ضائع چلے گئے32سالوں میں تو نے صرف آٹھ مسئلے سیکھے ؟”
حاتم نے ادب سے جواب دیا استادِ محترم! سچ کہہ رہا ہوں میں آپ سے زیادہ نہیں سیکھ سکا اور جھوٹ بولنا بھی گوارا نہیں ۔
شیخ نے کہا اچھاچلو یہ بتاؤ کیا سیکھا ہے۔؟
حاتم نے کچھ دیرتوقف کے بعد آنکھیں بندکرلیں پھربڑی سنجیدگی سے کہا 1۔ میں نے مشاہدہ کیا ہے مخلوق کو بغور دیکھا تو معلوم ہوا ہر ایک کا دنیا میں کوئی نہ کوئی محبوب ہوتا ہے لیکن جب بندہ انتقال کرجاتاہے تو تدفین کے بعد وہ اپنے محبوب سے جدا ہو جاتا ہے۔ اس لیے میں نے اپنا محبوب نیکیوں کو بنا لیا کہ جب میں قبر میں جاؤں گا تو یہ میرا محبوب میرے ساتھ قبر میں رہے گا ۔ 2۔لوگوں کو دیکھا کہ کسی کے پاس قیمتی چیز ہے تو اسے سنبھال کر رکھتا ہے اور دن رات اس کی حفاظت کرتا ہے جب میں نے یہ فرمانِ الہی پڑھا جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہو جانے والا ہے.. جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے..” (سورہ النحل آیت 96) مجھے جو چیز مجھے قیمتی ہاتھ آئی اسے اللہ کی طرف پھیر دیا تا کہ اس کے پاس محفوظ ہو جائے جو کبھی ضائع نہ ہو۔
3۔میں نے جب خدا کے اس فرمان پر غور کیا.. “اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا اور نفس کو بْری خواہشات سے باز رکھا’ جنت اسی کا ٹھکانہ ہو گا.. (سورہ النازعات آیت 40) یہ حقیقت جان کرمیں نے اپنے نفس کو بْرائیوں سے لگام دی، ہرقسم کی خواہشاتِ نفسانی سے بچنے کی محنت کی ،یہاں تک کہ میرا نفس اطاعتِ الٰہی پر جم گیا اورمیں پرسکون ہوگیا ۔ 4۔ جب میں نے لوگوں کو دیکھا زیادہ تر کا رجحان ومیلان دنیاوی مال، حسب نسب، دنیاوی جاہ و منصب میں تھاپھرمیں نے بہت غورو خوض کیاتو مجھے یہ سب چیزیں ہیچ دکھائی دیں کیونکہ بڑاواضح ارشاد ِ ربانی ہے “درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ” (سور ہ الحجرات آیت 13)جس پرمیرے دل نے یہ فیصلہ کیا کہ میں بھی تقویٰ اختیار کروں تاکہ اللہ کے ہاں عزت پاؤں۔
5۔ میںنے یہ بھی دیکھا کہ لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے بدگمان رہتے ہیں، ایک دوسرے کو بْرا کہتے ہیں دوسری طرف اللہ کا فرمان دیکھا “دنیا کی زندگی میں گزر اوقات کی ذرائع تو ہم نے لوگوں کے درمیان تقسیم کیے ہیں “(سورہ الزخرف آیت 32) یعنی اللہ جسے چاہے زیادہ رزق سے نوازے جسے چاہے کم دے۔ اس لیے میںحسد کو چھوڑ کر اللہ کی تقسیم پرراضی ہوگیا کیونکہ مجھے یقین ہے کہ قسمت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے خلق ِ خدا کی عداوت ،لالچ اورتکبرسے باز آگیا۔ 6۔ میں نے محسوس کیا کہ لوگ ایک دوسرے سے سرکشی اور کشت و خون کرتے ہیں جب میں نے اللہ کی طرف رجوع کیا تو یہ حقیقت آشکارہوئی کہ “درحقیقت شیطان تمہارا دشمن ہے اس لیے تم بھی اسے اپنا دشمن سمجھو۔” (سورہ فاطر آیت 6) اسی بنا پر میں نے صرف اس اکیلے شیطان کو اپنا دشمن مان لیا اور اس بات کی کوشش کی کہ اس سے ہرممکن بچتا رہوں۔ 7۔ میں نے اکثر دیکھا لوگ روٹی کے ٹکرے کے لیے اپنے نفس کو ذلیل کر رہے ہیں جائز، ناجائز کابھی خیال نہیں رکھتے حالانکہ اللہ ہی قادرِ مطلق ہے پھر میں نے ارشادِ باری تعالیٰ پڑھا”زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو ” (سورہ ہود آیت6) یہ جان کرپھر میں ان باتوں میں مشغول ہوا جو اللہ کے حقوق میرے ذمے لگائے ہیں.. اس رزق کی طلب ترک کردی جس کاذمہ اللہ نے خود لیاہے۔ 8۔ میں نے لوگوں کو دیکھا، اکثریت کسی عارضی چیز پر بھروسہ کرتی ہے کوئی مال اسباب پر،کوئی زمین پر بھروسہ کرتا ہے، کوئی اپنی تجارت پر، کوئی اپنے پیشے پر، کوئی بدن پر، کوئی ذہنی اور علمی صلاحیتوں پر بھروسہ کیے ہوئے ہے.. میں نے خدا کی طرف رجوع کیا.. یہ ارشاد دیکھا.. “جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لیے وہ کافی ہے ” (سورہ طلاق آیت3) تو میں نے اپنے خدا پر توکل کیا.. وہی مجھے کافی ہے ۔ یہ سن کرشیخ شفیق بلخی نے اٹھ کر حاتم کو گلے لگاکرفرمایا جومیں نے تجھے سکھایا تم نے بلاشبہ اس کا حق ادا کردیا “اے میرے پیارے شاگرد حاتم! خدا تمہیں ان کی توفیق نصیب کرے.. میں نے قرآن کے علوم پر مطالعہ کیا تو ان سب کی اصل جڑ انہی آٹھ مسائل کو پایا ان پر عمل کرنے والا گویا چاروں آسمانی کتابوں کا عامل ہوگیا۔
اب اگرکوئی رہنمائی کا طالب ہی نہ ہو تو کیا کیاجاسکتاہے حاصل یہ ہے کہ کسی پرظلم نہ کریں، حقوق العبادکااحساس کرتے ہوئے حق تلفی ،جھوٹ،فریب ،ملاوٹ سے ہرممکن گریزکریں صلہ رحمی کو شعاربنائیں ۔اپنی اصلاح اور تربیت کیلئے اچھی کتابوںکا مطابعہ کرتے رہیں آج کوئی مطالعہ کا مشورہ دے ڈالے تو جواب ملتاہے کیا کریں موبائل ہی سے فرصت نہیں ملتی کیا کریں زیادہ اصرارکریں تو ایک ہی بات
تواترسے بیشتر افرادکرتے ہیں کہ جناب عوام کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں، انہیں پینے کا صاف پانی میسر نہیں ،بنیادی سہولتوںکے لئے عام آدمی پریشان ہے۔مہنگائی ،بیروزگاری، لوڈ شیڈنگ،بیماری اورغربت نے عوام کی اکثریت کا ناک میں دم کررکھاہے اور آپ کتابیں پڑھنے پرمجبورکررہے ہیں ۔یہ ساری باتیں اپنی جگہ درست ہیں لیکن پھربھی خودکو بدلنے کے لئے اپنی سوچ بدلیں اس کیلئے کچھ تو ہاتھ پائوں ماریں جس طرح اچھا گھر،بہتروسائل ضروری ہیں ،اسی طرح اچھااخلاق اوربہترین تعلیم و تربیت بھی ضروری ہے ،ورنہ یادرکھیںجہالت نسلوںکے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔


متعلقہ خبریں


مضامین
خون کی بارش وجود جمعه 20 مئی 2022
خون کی بارش

پہلے اور اب وجود جمعه 20 مئی 2022
پہلے اور اب

انتخاب کرلیں وجود بدھ 18 مئی 2022
انتخاب کرلیں

کام کی باتیں۔۔ وجود بدھ 18 مئی 2022
کام کی باتیں۔۔

باغی اوربغاوت وجود منگل 17 مئی 2022
باغی اوربغاوت

وقت کہاں بہتا ہے؟ وجود پیر 16 مئی 2022
وقت کہاں بہتا ہے؟

اشتہار

تہذیبی جنگ
وفاقی شرعی عدالت کا 19سال بعد فیصلہ ، سود کے لیے سہولت کاری کرنے والے تمام قوانین ، شقیں غیرشرعی قرار وجود جمعرات 28 اپریل 2022
وفاقی شرعی عدالت کا 19سال بعد فیصلہ ، سود کے لیے سہولت کاری کرنے والے تمام قوانین ، شقیں غیرشرعی قرار

بھارتی معروف سماجی کارکن سبری مالا نے اسلام قبول کرلیا، نام فاطمہ سبریمالا رکھ لیا وجود منگل 26 اپریل 2022
بھارتی معروف سماجی کارکن سبری مالا نے اسلام قبول کرلیا، نام فاطمہ سبریمالا رکھ لیا

موبائل فون فلسطینیوں کا بندوق سے زیادہ طاقتور ہتھیار بن گیا وجود هفته 23 اپریل 2022
موبائل فون فلسطینیوں کا بندوق سے زیادہ طاقتور ہتھیار بن گیا

سپریم لیڈر لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے حامی ہیں،سینئر طالبان رکن وجود پیر 18 اپریل 2022
سپریم لیڈر لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے حامی ہیں،سینئر طالبان رکن

سوئیڈن میں قران پاک کی بے حرمتی کے اعلان پر احتجاج وجود اتوار 17 اپریل 2022
سوئیڈن میں قران پاک کی بے حرمتی کے اعلان پر احتجاج

ایمن الظواہری کی نئی ویڈیو،اللہ اکبرکا نعرہ لگانے والی بھارتی لڑکی کی تعریف وجود بدھ 06 اپریل 2022
ایمن الظواہری کی نئی ویڈیو،اللہ اکبرکا نعرہ لگانے والی بھارتی لڑکی کی تعریف

اشتہار

بھارت
بھارتی عدالت کے ہاتھوں انصاف کا قتل، یاسین ملک بغاوت، وطن دشمنی اور دہشت گردی کے مجرم قرار وجود جمعرات 19 مئی 2022
بھارتی عدالت کے ہاتھوں انصاف کا قتل، یاسین ملک بغاوت، وطن دشمنی اور دہشت گردی کے مجرم قرار

بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت

بھارتی ایجنسی کا داؤد ابراہیم کے دو قریبی ساتھیوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ وجود هفته 14 مئی 2022
بھارتی ایجنسی کا داؤد ابراہیم کے دو قریبی ساتھیوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

بھارتی سپریم کورٹ نے حکومت کو غداری کے قانون کے تحت مقدمات کے انداج سے روک دیا وجود جمعرات 12 مئی 2022
بھارتی سپریم کورٹ نے حکومت کو غداری کے قانون کے تحت مقدمات کے انداج سے روک دیا
افغانستان
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت

طالبان کا پہلا سالانہ بجٹ پیش،50 کروڑ ڈالر خسارے کی پیشن گوئی وجود پیر 16 مئی 2022
طالبان کا پہلا سالانہ بجٹ  پیش،50 کروڑ ڈالر خسارے کی پیشن گوئی

پنج شیر میں امارت اسلامیہ کے مخالفین نے ہتھیار ڈال دیے وجود جمعرات 12 مئی 2022
پنج شیر میں امارت اسلامیہ کے مخالفین نے ہتھیار ڈال دیے

طالبان مخالف فورسز کا وادی پنج شیر کے 3 اضلاع پر قبضے کا دعویٰ وجود اتوار 08 مئی 2022
طالبان مخالف فورسز کا وادی پنج شیر کے 3 اضلاع پر قبضے کا دعویٰ
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
آسٹریلین کرکٹ لیجنڈ اینڈریو سائمنڈز کار حادثے میں ہلاک وجود اتوار 15 مئی 2022
آسٹریلین کرکٹ لیجنڈ اینڈریو سائمنڈز کار حادثے میں ہلاک

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان 73 سال کی عمر میں انتقال کرگئے وجود هفته 14 مئی 2022
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان 73 سال کی عمر میں انتقال کرگئے

سیاست سے قطعاً کوئی تعلق نہیں، مولانا طارق جمیل وجود پیر 09 مئی 2022
سیاست سے قطعاً کوئی تعلق نہیں، مولانا طارق جمیل

مزاح کے بے تاج بادشاہ معین اختر کو مداحوں سے بچھڑے 11برس بیت گئے وجود جمعه 22 اپریل 2022
مزاح کے بے تاج بادشاہ معین اختر کو مداحوں سے بچھڑے 11برس بیت گئے