وجود

... loading ...

وجود
وجود

منی بجٹ منظور، اپوزیشن کا شدید احتجاج، نعرے بازی

جمعه 14 جنوری 2022 منی بجٹ منظور، اپوزیشن کا شدید احتجاج، نعرے بازی

قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے شدید احتجاج اور اسپیکر ڈائس کے گھیراؤ اور شدید نعرے بازی کے باوجود منی بجٹ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے اپوزیشن کی پیش کر دہ ترامیم کثرت رائے سے مسترد کردیں،حکومت نے بل کی شق 3 میں تبدیلیاں کی ہیں جس کے تحت چھوٹی دکانوں پر روٹی، چپاتیاں، شیرمال، نان، ورمیسیلی، بن اور پاپوں پر ٹیکس نہیں لگے گا، پہلی سطح کے ریٹیلر ٹیئر ون ریٹیلرز، ریستورنٹ، فوڈ چینز اور مٹھائی کی دکانوں پر ان اشیا کی فروخت پر ٹیکس عائد کیا جائیگا،1800 سی سی گھریلو اور ہائبرڈ اور گھریلو کاروں پر 8.5 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا، 1801 سے 2500 سی سی ہائبرڈ گاڑیوں پر 12.75 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا ، درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر 12.5 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔دودھ کے 200 گرام کارٹن پر کوئی جنرل سیلز ٹیکس نہیں لگایا جائے گا جبکہ 500 روپے سے زائد کے فارمولا دودھ پر 17 فیصد جی ایس ٹی عائد کیا جائے گا،ترامیم کے تحت درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس بھی پانچ فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیا گیا ہے، تمام درآمدی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی یکساں رہے گی جبکہ اپوزیشن نے منی بجٹ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ میں ترمیم کی منظوری کے دور ان شدید احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر ڈائس کا گھیرائو کر کے نعرے بازی کی،

اپوزیشن ارکان وزیراعظم اور اسپیکر روسٹرم کے سامنے کھڑے ہوئے تو سیکورٹی اہلکاروں نے وزیراعظم کے گرد حصار بنالیاتاہم اپوزیشن اراکین نے نعرے بازی کا سلسلہ جاری رکھا۔جمعرات کو اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا جہاں وزیراعظم عمران خان، قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور بلاول بھٹو سمیت دیگر شریک ہوئے۔وزیراعظم عمران خان آئے تو ایوان میں حکومتی اراکین نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا گیا البتہ اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرزے بازی کی گئی۔فنانس بل میں ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے حوالے سے قوانین میں کچھ ترمیم کی گئی ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل 2021 30 دسمبر کو پیش کیا گیا تھا اور ان بلوں کا مقصد آئی ایم ایف کی سفارشات کو پورا کرنا ہے۔اسٹیٹ بینک بل پر ووٹنگ بھی اجلاس کیلئے جاری کردہ 64 نکاتی ایجنڈے کا حصہ تھی جو شام 4 بجے کے قریب شروع ہوا۔اپوزیشن کی جانب سے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، محسن داوڈ اور نوید قمر نے ترامیم پیش کیں۔ترامیم کے حق میں 150 اور اس کی مخالفت میں 168 ووٹ پڑے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شوکت ترین نے ضمنی بجٹ پیش کیا ہے، اس کی ضرورت پیش کیوں آئی، پاکستان کی تاریخ میں اتنے زیادہ ضمنی ٹیکسز کسی ضمنی بجٹ میں آج تک پیش نہیں کیے گئے۔انہوںنے کہاکہ فنانس بل پاس کرائے ہوئے 6 مہینے ہوئے ہیں، کیا آپ کے سرمایے میں کمی آئی ہے یا اخراجات میں اضافہ ہوا ہے کہ عوام پر اضافی بوجھ لاد رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ نہ بتائیں کہ کون سی چیزیں مہنگی ہوں گی بس یہ بتادیں کہ کون سی چیزیں مہنگی نہیں ہوں گی کیونکہ اس بل کے بعد مزید مہنگائی آئے گی، پیٹرول بھی 4 روپے ماہانہ بڑھ رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ بجلی کے بل بھی بڑھ رہے ہیں، 4 روپے 60 پیسے کا اضافی فیول ایڈجسٹمنٹ بھی اضافہ اس لیے ہے کہ ہم گیس نہیں لی اور تیل سے مہنگی بجلی بنا رہے ہیں۔وزیرستان سے رکن اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ ہمیں جب ضم کیا جا رہا تھا تو وعدے ہمارے ساتھ کیے گئے تھے وہ ابھی تک پورے نہیں کیے گئے، فنڈز میں بھی صوبائی حکومت خرد برد کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ترمیم میں مطالبہ کیا ہے جو ہمارے معمول کی تجارت ہوتی تھی وہ ڈسٹرب ہوگئی ہے، پاکـافغان سرحد پر قائم کسٹم ہاؤسز ہیں ان کو سیٹل ضلعوں پر لے جائیں کیونکہ ضم ہونے سے پہلے ایسا ہی تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے کہا کہ ہم نے یہ ترمیم پاکستان میں کاروبار اور صنعتی ریل پیل کو بڑھانے کے لیے تجویز کی ہے، کسٹمز ایکٹ پہلے بینک گارنٹی دی جاتی تھی لیکن اب اس کی جگہ کارپویٹ گارنٹی مانگ رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ امپورٹر کے کیش فلو پر اثر پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ پرانا نظام ہی رہنے دیتے تو بہتر تھا، ہم جانتے ہیں کہ آپ درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتے ہیں تاہم اس قسم کی درآمدات خام مال اس پر اثر ڈالے گا لہٰذا حکومت اس سے دستبردار ہونے پر نظرثانی کرے۔وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ شاہد خان عباسی اور دیگر اراکین نے پوچھا کہ یہ بل کیوں لے کر آ رہے ہیں تو میں انہیں یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں جب آئی ایم ایف سے مذاکرات کررہا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ آپ ان پٹ اور آؤٹ پْٹ کو میں توازن لائیں، اگر آپ نہیں کرینگے تو جی ایس ٹی پورا نہیں ہو گا، ہم اس کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ آج ہماری 18 سے 20 ٹریلین کی ریٹیل سیلز ہیں، اس میں سے صرف ساڑھے تین ٹریلین کو دستاویزی شکل دی جاتی ہے، جب بھی دستاویزی شکل دینے کی بات کی جاتی ہے تو شدید واویلا مچ جاتا ہے کیونکہ سب نے بندر بانٹ کی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ 343ارب میں سے 280ارب ری فنڈ ہوجانا ہے اور بقیہ صرف 71 ارب رہ جاتا ہے تو یہ ٹیکس کا طوفان نہیں بلکہ اس کو دستاویزی شکل دینا ہے تاہم اس سے سب بھاگتے ہیں کیونکہ ان کی آمدن کو دستاویزی شکل دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں آمدن اور کھپت پر ٹیکس لگایا جاتا ہے لیکن یہاں انکم پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا اور وہ اس لیے نہیں ہورہا کیونکہ یہ ٹیکس نیٹ میں نہیں آ رہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ انہوں نے کیا طوفان مچایا ہوا ہے کہ غریب کو کیا ہو جائے گا، یہ دودھ اور ڈبل کی بات کررہے ہیں لیکن ہم نے ان پر سے ٹیکس ختم کردیا ہے، ہماری حکومت تو صرف تین سال سے ہے، پچھلے 70سال سے کیا ہوا ہے، جی ڈی پی کی مناسبت سے ٹیکس کب 18 سے 19فیصد پر گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ جب تک ہم ٹیکس کو 18 سے 19 فیصد نہیں کریں گے اس وقت تک چھ سے آٹھ شرح نمو نہیں دکھا سکتے، یہ سب جانتے ہیں لیکن شتر مرغ بنے ہوئے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہوں نے جو ترمیم متعارف کرائی ہے اس میں خام تیل اور درآمدی اشیا پر متعلقہ ٹیکس لگا دیا گیا ہے، میرا وزیر خزانہ سے سوال ہے کہ کیا انہوں نے یہ بات مان لی ہے؟ انہوں نے خود کہا کہ وہ کچھ ٹیکس واپس لے رہے ہیں۔بلاول بھٹو زر داری نے کہا کہ شوکت ترین کہتے ہیں کہ ماضی کی حکومتوں نے معاملات کو مزید خراب کیا حالانکہ وہ پہلے ملک کے وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔انہوںنے کہاکہ شوکت ترین نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ منی بجٹ پر شور و غل کیوں ہے، ہم ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ کراچی کی سڑکوں پر جائیں اور لوگوں سے ان کی معاشی صورتحال کے بارے میں پوچھیں۔پاکستان پیپلز پارٹی چیئرمین نے کہا کہ کراچی کے کچھ اراکین اسمبلی نے ترامیم پیش کیں اور منی بجٹ پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا، انہوں نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ فنانس بل کو مسترد کریں اور ملک کو معاشی صورتحال سے نکالنے کے لیے اپوزیشن کا ساتھ دیں۔بلاول کے خطاب کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت ملک کی معاشی خودمختاری اور قومی سلامتی کو قربان کر رہی ہے حالانکہ وہ تقریباً 13 بار آئی ایم ایف کے پاس گئے، تو کیا انہوں نے ہر بار ہماری معاشی خودمختاری کو ختم کیا؟۔اس بات پر بلاول بھٹو نے ایک بار پھر وفاقی وزیر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جو وعدے کیے تھے ان سے پیچھے نہیں ہٹے، لیکن نہ وزیر خزانہ اور نہ ہی وزیر اعظم اپنے وعدوں پر قائم رہتے ہیں، تین سال سے زائد ہو چکے ہیں اور اگلا سال الیکشن کا ہے، یہ وقت تو الیکشن سے قبل عوام کو اپنی کامیابیاں دھکانے کا تھا۔انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ آپ کی کامیابی کیا ہے؟ دی اکانومسٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کا چوتھا مہنگا ترین ملک ہے، خطے میں سب سے مہنگا ہے، مہنگائی دوہرے ہندسوں تک پہنچ گئی ہے اور قرض اور جی ڈی پی کا تناسب بھی بڑھ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ کچھ ہے جو نیا پاکستان نے ہمیں دیا ہے۔اس کے بعد فنانس بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع ہوا تاہم اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے اسے مسترد کردیا گیا۔احسن اقبال اور اسپیکر اسد قیصر میں ایوان میں گنتی کے معاملے پر بحث ہوئی لیکن اسپیکر قومی اسمبلی نے دوبارہ گنتی کرانے سے انکار کردیا۔احسن اقبال دیگر اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو ووٹنگ کی بنیاد پر مسترد کردیا گیا البتہ وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کردہ ترمیم منظور کر لی گئیں۔مسلم لیگ(ن) کے رانا تنویر نے ووٹنگ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر ترمیم کا معاملہ مختلف ہے، ہر ایک نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس ترمیم پر ووٹ دیتے ہیں یا نہیں۔سابق اسپیکر ایاز صادق نے بھی ووٹنگ نہ کرناے پر اعتراض کیا جس پر اسپیکر نے جواب دیا کہ آپ کے دور کا ریکارڈ بھی نکال لیں گے تاہم وزیر دفاع پرویز خٹک نے ایاز صادق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ اسپیکر تھے تو آپ نے کئی مرتبہ ووٹنگ کو بلڈوز کیا لہٰذا اسپیکر صاحب آپ رولنگ دیں، ان کا کام وقت ضائع کرنا ہے، اس کے جواب میں ایاز صادق نے ریکارڈ نکالنے کا مشورہ دیا۔اپوزیشن کے مطالبے پر دوبارہ ووٹنگ کی گئی تو 146 اراکین نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا اور 163 نے ترمیم کے خلاف ووٹ دیا لہٰذا اپوزیشن کی ترمیم مسترد کردی۔اس موقع پر مسلم لیگ(ن) کے رہنما رانا تنویر نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بنیاد ٹھیک کررہے ہیں لیکن یہ کیسی بنیاد ٹھیک کررہے ہیں جو اپوزیشن اور حکومت دونوں میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہی۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ اپنے محکموں سے چوری اور سرحدوں پر ہونے والی کرپشن ختم کردیں تو اتنا ریونیو اکٹھا ہو گا کہ پچھلے ٹیکس ختم کرنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا، اگر آپ ادھر توجہ دیتے تو منی بجٹ کی قیادت ڈھانے کی ضرورت نہ پڑتی۔دریں اثنا مجوزہ بل میں حکومت کی ترامیم کو ایوان نے منظور کرلیا۔حکومت نے بل کی شق 3 میں تبدیلیاں کی ہیں جس کے تحت چھوٹی دکانوں پر روٹی، چپاتیاں، شیرمال، نان، ورمیسیلی، بن اور پاپوں پر ٹیکس نہیں لگے گا، پہلی سطح کے ریٹیلر ٹیئر ون ریٹیلرز، ریستورنٹ، فوڈ چینز اور مٹھائی کی دکانوں پر ان اشیا کی فروخت پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔1800 سی سی گھریلو اور ہائبرڈ اور گھریلو کاروں پر 8.5 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا، 1801 سے 2500 سی سی ہائبرڈ گاڑیوں پر 12.75 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا جبکہ درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر 12.5 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔دودھ کے 200 گرام کارٹن پر کوئی جنرل سیلز ٹیکس نہیں لگایا جائے گا جبکہ 500 روپے سے زائد کے فارمولا دودھ پر 17 فیصد جی ایس ٹی عائد کیا جائے گا۔ترامیم کے تحت درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس بھی پانچ فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیا گیا ہے، تمام درآمدی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی یکساں رہے گی۔مقامی طور پر تیار کی جانے والی 1300 سی سی گاڑیوں پر 2.5 فیصد ڈیوٹی ہوگی جو پہلے تجویز کردہ 5 فیصد سے کم ہے، مقامی طور پر تیار کی جانے والی 1300 سے 2000 سی سی کاروں پر ڈیوٹی بھی 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دی گئی۔2100 سی سی سے زیادہ مقامی طور پر تیار ہونے والی کاروں پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے اجلاس میں فنانس سپلیمنٹری بل(منی بجٹ) کو منظور کر لیا گیا۔اجلاس کے دور ان مالیاتی بل کی منظوری کے بعد وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا بل پیش ہوتے ہی مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال نے کہا کہ اسپیکر صاحب! سٹیٹ بینک بل کی منظوری سے ملکی خودمختاری داؤ پر لگانے والوں میں آپ کا نام بھی لیا جائے گا، پاکستان کے عوام کی نظریں آپ پر ہیں، میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں کہ اس بل کو منظور نہ ہونے دیں، ہم سٹیٹ بینک کی خودمختاری کا سودا نہیں ہونے دیں گے۔پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نوید قمر نے کہا کہ اگر سٹیٹ بینک ترمیمی بل ملک کے مفاد میں ہے تو اسے رات کی تاریکی میں کیوں منظور کیا جارہا ہے؟ ہم اپنا معیشت کا پورا نظام تبدیل کرنے جارہے ہیں اور ملکی سلامتی کو داؤ پر لگانے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک ابھی سال میں چار مرتبہ رپورٹ دیتا ہے لیکن اس بل کی منظوری کے بعد سٹیٹ بینک سے پالیسی پر کوئی سوال نہیں کیا جا سکے گا جب کہ ہم ہنگامی صورتحال میں سٹیٹ بینک سے قرض نہیں لے سکیں گے، اس طرح حکومت کا کردار مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہتے، گورنر کا اختیار اور تنخواہ پاکستان کے حساب سے ہونی چاہیے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سٹیٹ بینک ہماری پارلیمنٹ اور عدلیہ کو نہیں بیرونی اداروں کو جواب دہ ہوگا اور دشمن کو اس صورتحال کا فائدہ ہوگا، ہمارا ایٹمی پروگرام کل بھی ان کے نشانے پر تھا آج بھی ان کے نشانے پر ہے۔وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ اداروں کو خودمختار کرنا پی ٹی آئی کا منشور تھا، سٹیٹ بینک بورڈ آف گورنرز کے ذریعے چلایا جائے گا، حکومت کے پاس سٹیٹ بینک چلانے کی پوری اتھارٹی ہوگی، پچھلی حکومتوں نے ساڑھے سات ٹریلین کے نوٹ چھاپے لیکن آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ اب ایسا نہیں ہوگا۔شوکت ترین نے کہا کہ ہم نے اڑھائی سال سے سٹیٹ بینک سے قرض نہیں لیا، ہم سٹیٹ بینک کو خودمختاری دینا چاہتے ہیں، سٹیٹ بینک کو جو بورڈ آف گورنرز چلائے گا اس کی تعیناتی ہم کریں گے تاہم وزیرخزانہ شوکت ترین کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ میں ترمیم پیش کر دہ اپوزیشن کے احتجاج اور نعروں کے گونج کے دوران منظور کرلی گئی۔ اس دور ان اپوزیشن نے ایک بار پھر ووٹنگ کو چیلنج کیا مگر ڈپٹی اسپیکر نے ووٹنگ پر گنتی کروانے سے انکار کردیا جس پراپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر ڈائس کا گھیرائو کر کے نعرے بازی کی،اپوزیشن ارکان وزیراعظم اور اسپیکر روسٹرم کے سامنے کھڑے ہوئے تو سیکورٹی اہلکاروں نے وزیراعظم کے گرد حصار بنالیاتاہم اپوزیشن اراکین نے نعرے بازی کا سلسلہ جاری رکھا،حکومتی رکن فہیم خان نے آغا رفیع سے پلے کارڈ چھین کر پھاڑ دیا۔اجلاس کے دور ان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل ،اسلام آباد ہیلتھ کیئر مینجمنٹ اتھارٹی بل 2021 ،سرکاری حصول انضباطی اتھارٹی بل 2021بھی منظور کرلیا گیا اجلاس کے دور ان اوگرا ترمیمی بل 2021 کثرتِ رائے سے منظور کرلیا ۔ بعد ازاں اپوزیشن ارکان کی جانب سے قانون کی منظوری کے دوران کورم کورم کی آوازیں آئیں تاہم ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اپوزیشن کی بات توجہ نہیں دی اور اجلاس کی کارروائی جاری رکھی ۔


متعلقہ خبریں


شہزاد اکبر کے استعفے کی وجہ وزیراعظم کی ناراضی تھی، ذرائع وجود - منگل 25 جنوری 2022

وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی وجہ سامنے آگئی جس کے مطابق شہزاد اکبر کے استعفے کی وجہ وزیراعظم کی ناراضی تھی۔ ذرائع کے مطابق کچھ روزقبل وزیراعظم نے شہزاد اکبر سے عدالتوں میں مقدمات کی تفصیلات مانگیں، شہزاد اکبر نے جو تفصیلات وزیراعظم کو دیں وہ نامکمل تھیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ اور دستاویزات میں واضح فرق تھا، وزیراعظم کو بتائی گئی مقدمات کی ٹائم لائنز میں بھی فرق تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدم...

شہزاد اکبر کے استعفے کی وجہ وزیراعظم کی ناراضی تھی، ذرائع

نیب،ایف آئی اے کی نیشنل انشورنس کمپنی کے افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز وجود - منگل 25 جنوری 2022

نیب، ایف آئی اے، وزارت خزانہ، وزارت کامرس، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ایکشن میں آتے ہی نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) افسران میں کھلبلی مچ گئی۔ اپنی مبینہ غیر قانونی تقرریوں، بھرتیوں، ترقیوں، بد عنوانیوں، خلاف ضابطہ اقدامات جیسے ایشوز پر پردہ ڈالنے اور تحقیقات سے بچاؤ کے لیے راستے تلاش کرنا شروع کر دیے۔ این آئی سی ایل کے اندرونی ذرائع کے مطابق نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ کے ملازمین نے ادارے میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں، غیر قانونی اعلیٰ سطحی بھرتیوں، خلاف ضابطہ من پس...

نیب،ایف آئی اے کی نیشنل انشورنس کمپنی کے افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز

سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود - منگل 25 جنوری 2022

سعودی عرب میں طلاق کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ سامنے آیا ہے، سعودی عرب میں ہر گھنٹے طلاق کے سات واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے بتایا کہ 2022 میں، طلاق کے کیسز میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، ملک میں ہر گھنٹے 7 طلاقیں ہو رہی ہیں۔ اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2020 کے آخری چند مہینوں میں 57 ہزار 500 سے زیادہ طلاق کے کیسز ریکارڈ کیے گئے، جو 2019 کے مقابلے میں 12 اعشاریہ 7 فیصد زیادہ ہیں۔ جنرل اتھارٹی برائے شماریات ...

سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

برطانوی وزیراعظم کا سابق مسلمان وزیر کی جانب سے مذہبی تعصب کی شکایت پر تحقیقات کا حکم وجود - منگل 25 جنوری 2022

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے مسلمان جونئیر وزیر نصرت غنی کی جانب سے اسلام سے تعصب کی بنا پر نوکری سے فارغ کئے جانے کے الزامات کی تحقیقات کاحکم دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کے دفتر 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ برطانوی صدر نے کابینہ کو نصرت غنی کے الزامات پر تحقیقات کروانے کا حکم دیا ہے۔بیان میں مزید بتایا گیا کہ برطانوی وزیر اعظم نے جولائی 2020 میں نصرت غنی سے ملاقات میں ان الزامات کے بارے میں بات چیت کی تھی۔ڈائوننگ سٹریٹ ...

برطانوی وزیراعظم کا سابق مسلمان وزیر کی جانب سے مذہبی تعصب کی شکایت پر تحقیقات کا حکم

حکومت کا نوازشریف کی واپسی کا بیان حلفی دینے پر شہباز شریف کو خط لکھنے کا فیصلہ وجود - پیر 24 جنوری 2022

اٹارنی جنرل آفس نے نواز شریف کی واپسی کا بیان حلفی دینے پر شہباز شریف کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خط میں لاہور ہائیکورٹ میں دی گئی گارنٹی کا حوالہ دیا جائے گا اور شہبازشریف کو لاہور ہائیکورٹ میں دیئے گئے بیان حلفی پر عمل درآمد کی تلقین کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق شہبازشریف کو بیان حلفی پر عملدرآمد کے لیے مخصوص وقت بھی دیا جائے گا اور عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی کا انتباہ کیا جائے گا۔

حکومت کا نوازشریف کی واپسی کا بیان حلفی دینے پر شہباز شریف کو خط لکھنے کا فیصلہ

وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے استعفیٰ دیدیا وجود - پیر 24 جنوری 2022

وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ اور احتساب شہزاد اکبر نے استعفیٰ دے دیا۔ پیر کو ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر نے استعفیٰ دیے جانے کی تصدیق کی۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ میں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم عمران خان کو بھیج دیا ہے اور امید ہے عمران خان کی زیر قیادت احتساب کا عمل جاری رہے گا۔ ذرائع کے مطابق شہزاد اکبر نے وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے البتہ ان کے مشیر برائے داخلہ کے حوالے سے صورتحال ابھی واضح نہیں۔ ذرائع کے مطابق 18 جنوری کو کابی...

وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے استعفیٰ دیدیا

پاکستان سمیت دنیا بھر میں تعلیم کا عالمی دن منایا گیا وجود - پیر 24 جنوری 2022

پاکستان سمیت دنیا بھر میں 24جنوری کوتعلیم کے عالمی دن کے طور پر منایا جارہا ہے،اقوام متحدہ کے مطابق صوبہ سندھ میں 52 فیصد بچے جن میں سے 58 فیصد لڑکیاں ہیں، تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں جبکہ پاکستان میں اسکول جانے سے محروم بچوں کی تعداد 2 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 3 دسمبر 2018 کو ایک قرارداد منظور کی تھی جس کے تحت ہر سال 24 جنوری کا دن تعلیم سے منسوب کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے عالمی منشور برائے انسانی حقوق کی شق نمبر 26 کے تحت علم حاصل کرنے کو ہر انس...

پاکستان سمیت دنیا بھر میں تعلیم کا عالمی دن منایا گیا

حیسکول پیٹرولیم کمپنی کی 54 ارب روپے سے زائدمنی لانڈرنگ کا انکشاف وجود - پیر 24 جنوری 2022

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے حیسکول پیٹرولیم کمپنی کی 54 ارب روپے سے زیادہ منی لانڈرنگ کا انکشاف کیا ہے۔ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق حیسکول میں منی لانڈرنگ اور مالیاتی فراڈ پر 30 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، یہ مقدمہ، بینک ڈیفالٹ،مالیاتی فراڈ،منی لانڈرنگ کی انکوائری میں شواہد سامنے آنے پر درج کیا گیا۔ ایف آئی اے کے مطابق مقدمے میں قومی بینک کے دو سابق صدور اور حاضر افسران کو شامل کیا گیا ہے جبکہ ایک ملزم کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے تاہم دیگر کی گرفتاری کیلئے چ...

حیسکول پیٹرولیم کمپنی کی 54 ارب روپے سے زائدمنی لانڈرنگ کا انکشاف

ہنڈااورکِیا کمپنی نے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا وجود - پیر 24 جنوری 2022

وفاقی حکومت کی جانب سے گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی(ایف ای ڈی) 2.5 فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد تک کیے جانے کے بعد کِیا لکی موٹرز اور ہنڈا نے اپنی متعدد گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔ہنڈا کے ایک ڈیلر نے بتایاکہ ہنڈا گاڑیوں کی نئی قیمتوں کا اطلاق 21 جنوری سے ہوچکا ہے۔ نئی قیمتوں کا طلاق 21 جنوری سے پہلے کیے گئے تمام جزوی اور مکمل ادائیگی کے آرڈرز پر بھی لاگو ہوگا جبکہ کِیا کمپنی نے نئی قیمتوں کا اطلاق 16 جنوری سے کردیا ہے۔ ہنڈا اور کِیا کمپنی نے قیمتوں میں کم ازکم 77 ہزار روپ...

ہنڈااورکِیا کمپنی نے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

کراچی میں یخ بستہ ہوائیں ، درجہ حرارت سنگل ڈیجٹ میں آگیا وجود - پیر 24 جنوری 2022

شہر قائد میں یخ بستہ ہواؤں سے سردی کی شدت میں اضافے ہوگیا اور درجہ حرارت سنگل ڈیجٹ میں آگیا، پیرکی صبح کم سے کم درجہ حرارت 9 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں رات گئے یخ بستہ ہوائوں سے موسم مزید سرد ہوگیا اور درجہ حرارت9 ڈگری تک گر گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں سرد اور خشک ہوائیں چلنا شروع ہوگئیں ، ہوا میں نمی کا تناسب 57 فیصد ہے جبکہ آٹھ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24گھنٹوں کے دوران مطلع صاف اور رات میں موس...

کراچی میں یخ بستہ ہوائیں ، درجہ حرارت سنگل ڈیجٹ میں آگیا

پنجاب کی جیلوں میں ایڈز کے سینکڑوں مریضوں کی موجودگی کا انکشاف وجود - پیر 24 جنوری 2022

پنجاب کی جیلوں میں قید ملزمان کا ایڈز جیسی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ نجی ٹی وی نے ذروائع کے حوالے سے بتایاکہ ہیپاٹائٹس بی اور سی میں مبتلا قیدیوں کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ گئی ہے۔ محکمہ جیل خانہ جات پنجاب کی رپورٹ کے مطابق اس وقت 42 جیلوں میں ایڈز جیسے خطرناک مرض میں مبتلا قیدیوں کی تعداد 272 ہے۔ پنجاب کی تمام جیلوں میں ہیپاٹائٹس بی کے مرض میں مبتلا قیدیوں کی تعداد 137 جبکہ ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا قیدیوں کی تعداد 517 ہے۔ اسی طرح شوگر اور دیگر امراض میں م...

پنجاب کی جیلوں میں ایڈز کے سینکڑوں مریضوں کی موجودگی کا انکشاف

پاکستان کی چین کو برآمدات ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی وجود - پیر 24 جنوری 2022

2021 کے دوران پاکستان کی چین کو برآمدات کا حجم ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز آف چائنہ (جی اے سی سی) کے جاری کردہ باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں پاکستان اور چین کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 27 ارب 82 کروڑ ڈالر رہا۔پاکستان نے 2021 کے دوران چین کو 3 ارب 58 کروڑ ڈالرز سے زائد کی اشیا برآمد کی ہیں جوکہ 2020 کے مقابلے میں 69 فیصد زیادہ ہے۔2020 کے دوران چین نے پاکستان سے 2 ارب 12 کروڑ ڈالرز سے زائد کی اشیا درآمد کی تھیں۔اعداد و شمار کے ...

پاکستان کی چین کو برآمدات ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

مضامین
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

خود کو بدلیں وجود پیر 24 جنوری 2022
خود کو بدلیں

تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل وجود هفته 22 جنوری 2022
تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل

دھرنے،احتجاج اور مظاہرے وجود هفته 22 جنوری 2022
دھرنے،احتجاج اور مظاہرے

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی وجود جمعه 21 جنوری 2022
تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی

بلوچستان میں نئی سیاسی بساط وجود جمعه 21 جنوری 2022
بلوچستان میں نئی سیاسی بساط

کورونا،بھنگ اور جادو وجود جمعه 21 جنوری 2022
کورونا،بھنگ اور جادو

ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟

قومی سلامتی پالیسی اور خطرات وجود بدھ 19 جنوری 2022
قومی سلامتی پالیسی اور خطرات

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر وجود جمعرات 20 جنوری 2022
بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر

بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا وجود بدھ 19 جنوری 2022
بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا

سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل وجود منگل 18 جنوری 2022
سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)